متفرق مضامین

1882ء میں ظاہر ہونے والا ستارہ ‘ذُوالسِّنِیْن’

1882ء میں ظاہر ہونے والا ستارہ ‘ذُوالسِّنِیْن’

اٹھارہویں صدی کے آغاز سے ہی اسلام نہایت کسمپرسی کی حالت میں تھا اور مسلمان زبوں حال۔ کہیں عیسائیت کا زور تو کہیں لا مذہبیت کا شوراورکہیں آریہ سماج اور برہمو سماج کا اسلام اور بانی اسلام پر پے در پے حملے کرکے آفتاب اسلام کو گہنانے کی کوششیں پورے زور و شور سے جاری تھیں۔
اسلام کے لیے فکروں رنجوں اور پریشانیوں کا یہ وہ زمانہ تھا جس میں احمدیت کا سورج طلوع ہوا اور ایک عظیم الشان تحریک حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے ذریعہ منَصَّۂ شُہود پر ابھری اور آنحضور ﷺ کی پیشگوئیوں اور بیان کردہ نشانات کی روشنی میں وہ ستارہ طلوع ہوا جس کے وجود کا ذرہ ذرہ اس بات کا گواہ تھا کہ اس نے جو کچھ پایا حضرت رسول اللہﷺ کے فیض سے ہی پایا ۔ وہ آنحضورﷺ کی مدح اور عشق کے گیت گاتا ہوا آیا اور فضا اس نغمہ عشق اور اس جیسے سینکڑوں نغمات عشق سے مخمور و معطر ہو گئی؎

اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے

خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے

وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ۔ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرَاتٌ بِاَمْرِہٖ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُوْنَo (النحل:13)

ترجمہ: اور اس نے تمہارے لیے رات کو اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ او ر ستارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔ یقیناًاس میں ایسی قوم کے لیے جوعقل رکھتی ہے بہت بڑے نشانات ہیں۔(ترجمہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ )

ان اجرام فلکی کی خدمت کا ثبوت یہ ہے کہ انسان کی بقا کے لیے انسان سورج اور چاند وغیرہ کا محتاج ہے۔ اور ان کے بغیر کرۂ ارض پر اس کی حیات ممکن نہیں۔ اور اس کے علاوہ زمانے کی ابتدا سے ہی انسان وقت اور زمانے کی تعیین اور شمار کے لیے سورج اور چاند وغیرہ پر منحصر رہا ہے۔اسی طرح ستاروں کے ذریعے رات کے اندھیروں میں اور سمندروں میں راہ تلاش کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ پس یہ اجرام جسمانی امور میں مکمل طور پر انسان کی ہی خدمت پر مامور ہیں۔ بعینہٖ اسی طرح یہ تمام اجرام روحانی امور میں بھی اللہ تعالیٰ کے نشانات بن کر انسان کی راہنمائی اور ہدایت کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ اور یہ بھی ایک عظیم الشان خدمت ہے جو ان اجرام کے سپرد کی گئی ہے۔اس حوالے سے قرآن کریم نے خاص طور پر ستاروں کا ذکر فرمایا ہے کہ ستارے انسان کے لیے راہنمائی اور ہدایت کا موجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

وَ عَلٰمٰتٍ ط وَ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَo(النحل:17)

ترجمہ: اور بہت سے رہنمائی کرنے والے نشان، اور وہ ستاروں سے بھی راہنمائی لیتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا کہ

وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَھْتَدُوْا بِھَا فِیْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِo(الانعام: 98)

ترجمہ: اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو بنایا تاکہ تم ان کے ذریعے خشکی اور تری کے اندھیروں میں ہدایت پاؤ۔

پس اللہ تعالیٰ نے ان اجرام کو بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کا باعث قرار دیا ہے۔ اپنی قدیم سنت کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے مامورین کی بعثت کے وقت میں ان اجرام میں نشانات ظاہر فرماتا ہے۔ اور بعض حوادث ایسے ظاہر فرماتا ہے جس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ خدا کی خاص تقدیر حرکت میں ہے۔ مذاہب کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے بھی اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ہر زمانے میں انبیاء علیہم السلام کی تائید کے لیے خدا تعالیٰ نے آسمانی نشانات بھی ظاہر فرمائے۔اور سورج، چاند ستاروں نے بھی اپنے اپنے رنگ میں ان مامورین کی صداقت کی گواہی دی۔آنے والے مسیح موعود کے لیے آنحضورﷺ نے مختلف نشانات کے ظہور کی پیشگوئی کی تھی جن میں سورج اور چاند کو ماہ رمضان کی مقررہ تاریخوں میں گرہن لگنے کی پیشگوئی ، طاعون کے ظاہر ہونے کی پیشگوئی دجال کے ظہور کی پیشگوئی اور دیگر نشانات کے ظہور کی پیشگوئیاں ہیں جن میں سے ایک پیشگوئی ستارہ ذُوالسِّنِیْن کے ظہور کی بھی ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے مسیح موعود کے لیے ایک نشان کے طور پر ظاہر ہوناتھا۔ چنانچہ یہ تمام نشانات بشمول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان نشان 1882ءکا ذُوالسِّنِیْن ستارہ نہایت عظیم الشان رنگ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام مسیح موعود و مہدی موعود کی صداقت کے طور پر اپنے وقت مقررہ پر پورے ہوئے۔

ستارہذُوالسِّنِیْن جسےانگریزی زبان میںThe Great Comet of 1882 بھی کہا جاتا ہے عربی زبان میں اس کو درج ذیل مختلف نام دیے جاتے ہیں جو کہ اس کی PHYSICAL APPEARANCEیعنی جسمانی ساخت کے متفرق اجزاء کو واضح کرتے ہیں:

ذُوالسِّنِیْن مدتوں بعد نکلنے والا ستارہ
ذُوالسِّنَّیْن دو دانتوں والا ستارہ
ذُواللِّحْیَیْن دو داڑھیوں والا ستارہ
ذُوْ ذَنَبٍ دُمدار ستارہ
ذُوْ قَرْنٍ دو سینگوں والا

دُمدار ستارے میں اکثر حصہ برف پر مشتمل ہوتا ہے نیز خاک اور پتھر وغیرہ کا ملبہ بھی ہوتا ہے اس کے علاوہ گیسیں مثلاً methane+ammonia+carbon mono oxide+carbon dioxide وغیرہ بھی موجود ہوتی ہیں اور سورج سے دور یہ گیسیں جمی ہوئی حالت میں ہوتی ہیں۔دُمدار ستارے چند سو میٹر سے لے کر 40کلو میٹر سے کچھ اوپر سائز کے ہوتے ہیں۔ دُمدار ستارے بہت بڑی تعداد میں نظام شمسی میں پائے جاتے ہیں۔یہ سورج کے گرد بیضوی مدار (ELLIPTIC ORBIT)میں گھومتے ہیں۔ زیادہ وقت سورج سے دور ہوتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔ جب سورج کے قریب آتے ہیں تو دُمدار ستارے کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ اس چکر کے ایک سرے پر یہ سورج کے بالکل قریب سے گزرتے ہیں اور دوسری انتہا پر یہ سورج سے بہت دور نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض سورج کے گرد موجود تمام سیاروں سے بھی دور نکل جاتے ہیں اور پھر دوبارہ سورج کے بالکل قریب سے گزرتے ہیں۔جن دُمدار ستاروں کا محور چھوٹا ہوتا ہے وہ یہ محور بیس سال سے کم عرصہ میں مکمل کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو کہ یہ محور دو سو سال کے عرصہ میں پورا کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ سورج کے گرد اپنا چکر ہزاروں سالوں میں مکمل کرتے ہیں۔ جن دُمدار ستاروں کے درمیانی دور دو سو سال سے کم ہوتے ہیں ان کو SHORT PERIOD COMETS کہتے ہیں اور جن کے درمیانی دور دو سو سال سے زیادہ ہوتے ہیں ان کو LONG PERIOD COMETS کہتے ہیں۔ نظام شمسی میں موجود بے شمار دُمدار ستاروں میں سے بہت تھوڑی تعداد ہوتی ہے جسے ہم زمین سے بغیر دوربین یا دیگر آلات کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں۔بعض دُمدار ستارے سورج سے اتنا دور نکل آتے ہیں کہ وہ ہمارے نظام شمسی سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتے ہیں اور بعض سورج کے قریب سے گزرتے ہوئے ختم ہو جاتے ہیں۔ جب یہ دُمدار ستارے نظام شمسی کے اندر کے حصہ سے گزرتے ہیں تو سورج کی شعاعوں کے اثر سے ان سے بخارات اٹھتے ہیں جو کہ دُمدار ستارے کے ارد گرد ایک روشن ہالہ بناتے ہیں جسے COMA کہا جاتا ہے۔یہ ہالہ بہت بڑے حجم کا بھی ہو سکتا ہے۔اور چونکہ یہ دُمدار ستارے مستقل حرکت میں ہوتے ہیں اس لیے ان دُمدار ستاروں کے پیچھے ایک دم بن جاتی ہے جو کئی لاکھ کلومیٹر لمبی بھی ہو سکتی ہے۔بسا اوقات ایک دُمدار ستارے کی دودُمیں بھی نظر آتی ہیں۔ ایک دم اٹھنے والی گیس سے بنتی ہے اور دوسری دم دُمدار ستارے سے اٹھنے والی گرد سے بنتی ہے۔

دنیا کے ہر خطے میں آسمانی اجرام سے متعلق مختلف اعتقادات پائے جاتے ہیں۔ ان اعتقادات میں بہت تضاد پایا جاتاہے۔ لیکن دُمدار ستارے کے حوالے سے یہ بات نہایت حیران کن ہے کہ تقریباً دنیا کے ہر حصے میں ان کے متعلق پایا جانے والا اعتقادایک ہی جیسا تھا۔ خواہ وہ چین کے علم پسند لوگ ہوں، یا صحرائے عرب کے بادیہ نشین(NOMADS)۔ یورپ کی مہذب قومیں ہوں یا جزائر کے رہنے والے توہم پرست۔ ان سب نے دُمدار ستارے کو ایک ہی نظر سے دیکھا اور سمجھا۔یعنی ‘‘تباہی، بربادی، ہلاکت!!!’’۔

اس خیال کا اثر ایسا گہرا تھا کہ دُمدار ستارے کے طلوع کے لیے آج بھی جو لفظ انگلش میں استعمال کیا جاتا ہے [Apparition [àppə ríshnہے۔اس کا مطلب کسی بدروح کی آمد یا کسی ماوراءُ الطَّبعِیَاتی چیز کا ظاہر ہونا ہے۔

اسی طرح عرب کی تاریخ دیکھنے سے بھی علم ہوتا ہے کہ دُمدار ستاروں کے متعلق ان کا اعتقاد بھی کچھ الگ نہیں تھا۔آنحضرت ﷺؑ کی آمد تک بھی ان کا اعتقاد یہی تھا کہ دُمدار ستارے کسی بڑے شخص کی وفات یا پیدائش کا نشان ہوتے ہیں۔

حدیث کی ایک مستند کتاب ‘‘مَسْنَدْ احمد بن حنبل’’ میں یہ روایت مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ اپنے صحابہؓ کے ساتھ تشرف فرما تھے۔ (عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ یہ انصار صحابہؓ تھے۔)تو اسی اثناء میں ایک عظیم ستارہ جھڑا جو بہت روشن ہو گیا۔تو رسول کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ جب زمانہ جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا تو تم لوگ اس بارے میں کیا کہتے تھے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم کہا کرتے تھے کہ کوئی عظیم شخص پیدا ہوا ہے یا کوئی عظیم شخص فوت ہوا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ کسی کی موت یا زندگی کے لیے نہیں نکلتے بلکہ جب ہمارا رب کسی بات کا فیصلہ فرماتا ہے تب ان کا ظہور ہوتا ہے۔

دُمدار ستارے کی تاریخ کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ اسے ہر زمانے میں مختلف واقعات سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

ایک یورپی مصنف و محقق نے اسے یوں بیان کیا کہ:

(دُمدار ستارہ ) دنیا کے لیے قحط، طاعون اور جنگ کی علامت، بادشاہوں کے لیے موت کا نشان، مملکتوں کے لیے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا پیش خیمہ،ریاستوں کے لیے یقینی نقصان، مویشی بان کے لیے مویشیوں کی ہلاکت،کسان کے لیے غیر مفید موسم، کشتی رانی کرنے والوں کے لیے سمندری طوفان اور شہروں کے لیے خانہ جنگی کا پیغام!!!

آنے والے مسیح اور مہدی کے لیے آنحضور ﷺ نے متعدد احادیث میں ستارہ ذُوْالسِّنِیْنْ کے طلوع ہونے کو نشان قرار دیا ۔

اسی طرح ایک اور روایت میںبھی اس نشان کے ظاہر ہونے کا ذکر ان الفاظ میں درج ہے :

اَلَا وَ اِنَّ لِخُرُوْجِہٖ عَلَامَاتٌ عَشَرَۃٌ اَوَّ لُہَا طُلُوْعُ الْکَوْکَبِ ذِی الذَّنَبِ۔

ترجمہ: اور اس کے (مہدی ؑ کے) ظہور کی دس علامات ہیں جن میں سے پہلی علامت دُمدار ستارے کا طلوع ہونا ہے۔ (بِحارُ الاَنوار مؤلفہ حضرت شیخ باقِر مجلسیؒ۔ مطبوعہ دار احیاء التُّرَاث بَیْرُوت لبنان، جزء الثَّانی والخمسون(52)، ص 268، تاریخ الامام الثانی عشر، باب علامات ظہورہ ؑ من السفیانی والدجال)

احادیث میں مذکور اس نشان کا تذکرہ گاہے گاہے مختلف زمانے کے جید اور محقق علمائے کرام نے بھی کیا ہے اور اس کو مہدی ؑ کے لیے ایک اہم نشان قرار دیا ہے۔ اور ان کا اس نشان کو بیان کرنا انہیں احادیث کی روشنی میں ہے۔

چنانچہ ایک روایت میں مذکور ہے کہ:

اور ان (آخری زمانے کے علامات )میں سے یہ بھی ہے کہ دُمدار ستارہ ظاہر ہوگا۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے سلمان! جب بادشاہ دکھاوے کے لیے حج کریں گے۔ اور امیر لوگ تجارت کے لیے، اور مساکین صلح جوئی کی خاطر اور عالم لوگ دکھاوے کے لیے اور اس لیے حج کریں گے کہ لوگ ان کی باتیں کریں تو اس وقت دُمدار ستارہ ظاہر ہوگا۔

اس روایت میں بھی آنحضرت ﷺ کی زبانی مہدی و مسیح ؑ کے زمانے میں اس نشان کے ظاہر ہونے کا بعض دیگر علامات کے ساتھ ذکر ہے۔

اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے علماء نے بھی اس علامت کا ذکر اپنی کتب میں کیا ہے۔ ان میں سے قابل ذکر کتاب ‘‘حجَجُ الکِرَامَہ’’ہے جو کہ نواب صدیق حسن خان صاحب کی تصنیف ہے۔ اور اس کتاب میں انہوں نے اس علامت کا ذکر کرنے کے بعد اسلامی تاریخ کے حوالے سے مختلف سالوں میں طلوع ہونے والے دُمدار ستاروں پر تفصیلی بحث کی ہے۔

اس کے علاوہ نواب صدیق حسن خان صاحب کے صاحبزادے اور اپنے زمانے کے جید عالم جناب نور الحسن خان صاحب نے بھی اپنی کتاب ‘‘ اِقْتِرَابُ السَّاعَۃ ’’ میں اس نشان کا ذکر بایں الفاظ کیا ہے کہ

قَرْن ذِی السِّنِیْن نکلے گا۔

(اِقْتِرَابُ السَّاعَۃ۔ مطبوعہ مطبع مفید عام ، آگرہ۔ ص 67)

مندرجہ بالا حوالہ جات سے بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ اس نشان کو ہمیشہ سے ہی حضرت مسیح و مہدی ؑ کے لیے ایک اہم نشان مانا جاتا رہا ہے۔ اور ہر زمانے کے علماء نے اس نشان کا ذکر کر کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ یہ دراصل آنحضرت ﷺ کا بتایا ہوا نشان ہی ہے۔بعض علماء نے اس نشان کو بہت تفصیل سے اور کھول کر بھی بیان کیا ہے۔ ان بزرگان دین میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒ کا نام بھی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک مرید کے استفسار پر اس نشان کی تفصیل اس کو لکھ کر بھیجی۔ جو کہ ان کے مطبوعہ مکتوبات میں موجود ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

‘‘جاننا چاہیے کہ جب عباسی بادشاہ جو کہ حضرت مہدی ؑ کے ظہور کے مقدمات میں سے ہوگا خراسان پہنچے گا تو مشرق کی جانب سے دو دانتوں والی ایک شاخ طلوع ہوگی۔ اور حاشیہ میں لکھا ہے کہ یعنی نورانی ستون کہ جس کے دو سر ہوں گے ۔اور اس کا پہلا طلوع حضرت نوح ؑ کی قوم کے ہلاک ہونے کے وقت ہوا تھا۔ پھر حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں طلوع ہوا تھا۔ جب کہ ان کو کافروں نے آگ میں پھینکا تھا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے وقت ظاہر ہوا تھا۔پھر جب حضرت یحییٰ ؑ قتل ہوئے اس وقت ظاہر ہوا۔

ستارہ ذُوالسِّنِیْن قرآن کریم اور آنحضورﷺکی پیشگوئیوں کے عین مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ظہور اور آپ کی صداقت کے لیے 1882ء میں طلوع ہوا۔1882ء ہی وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مجددیت اور ماموریت کا پہلا الہام ہوا۔اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا:

يَا أَحْمَدُ، بَارَكَ اللّٰهُ فِيْك،مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَ اللّٰهَ رَمٰى. اَلَّرَحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآن، لِتُنْذِرَ قَوْماً مَا أُنْذِرَ آباؤُهُمْ، وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلَ الْمُجْرِمِيْنَ

(تذکرہ صفحہ 56الہام در سال 1882ء)

اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ جو کچھ تونے چلایا وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے صحیح معنی تجھ پر ظاہر کئے۔ تا کہ تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئےاور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائےیعنی معلوم ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر اس الہام میں خدا تعالیٰ نے اس COMET کے نشان اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے کہ یہ نشان خدا تعالیٰ نے بذات خود اے احمد علیہ السلام آپ کے لیے تمام دنیا پر ظاہر فرمایا ہے اور مزید برآں اس کی تخصیص مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى کے الفاظ سے فرمائی ہے کہ یہ پے درپے آسمان پر جو تم شہب ثاقبہ کی بوچھاڑ کا نظارہ دیکھ رہے ہو یہ تمہاری صداقت کے لیے وعدوں کے موافق خدا تعالیٰ نے آسمان پر ظاہر فرمایا ہے۔ گویا خدا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصدیق اورتائید کے لیے آسمان سے زمین پر اتر آیا تھا اور آپ کے لیے نشانات کا ایک سلسلہ خود خدا نے جاری فرما دیا تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائےیعنی معلوم ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے اور حق اور باطل میں واضح فرق ہو جائے۔ کیا یہ انسان کے بس کی بات ہے کہ وہ دعوٰی کرے اور اس کے دعوی کی تائید میں آسمان بھی نشان دکھائے اور زمین بھی۔ کیا ایسا شخص نعوذباللہ جھوٹا ہو سکتا ہے؟

چنانچہ یہ ستارہ ایک عظیم الشان نشان کی صورت میں جس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوٰی کیا آپ کے دعویٰ کی تائید اور آپ کی صداقت کے لیے ظہور پذیر ہوا اور اسے The Great Comet of 1882کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ ایک نہایت غیر معمولی دُمدار ستارہ تھا جو اپنی چمک دمک میں اپنی مثال آپ تھا۔Great Comet ایک اصطلاح ہے۔ اور یہ ہر ایسے دُمدار ستارے کو کہا جاتا ہے جو غیر معمولی روشن ہو جائے، اور ماہرین فلکیات کے حلقے سے نکل کر عام عوام میں بھی پذیرائی اور مقبولیت حاصل کر لے۔

Great Comet of 1882 ستمبر 1882ء کے آغاز میں ہی نظر آنا شروع ہو گیا تھا۔ یکم ستمبر کو اس ستارے کو Gulf Of Guinea میں Cape of Good Hope نامی مقام پر دیکھا گیا۔3؍ ستمبر 1882ء کو نیوزی لینڈ میں بھی یہ دُمدار ستارہ نظر آیا۔ اس کے بعد جلد ہی یہ ستارہ دنیا بھر کی رسد گاہوں سے دیکھا جانے لگا۔اور ماہرین فلکیات کی توجہ کا مرکز بن گیا۔اور اس وقت کے علم فلکیات کے تمام جریدے اس پر تحقیق اور نوٹس شائع کرنے لگے۔اس وقت یہ ستارہ سورج کی سمت میں اپنے محور کی انتہا کی جانب بڑھ رہا تھا۔ شروع کے دنوں میں اس کی چمک میں اضافہ ہونے لگا۔شروع کے دنوں میں اسے انگلستان کی رسد گاہوں سے بادلوں کی وجہ سے دیکھنا مشکل ہو گیا تھا۔لیکن جنوبی یورپ یعنی اٹلی اور سپین وغیرہ اور الجزائر میں اسے آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ اس دُمدار ستارے میں ماہرین فلکیات کی دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب انگلینڈ میں گھنے بادلوں کے باعث اسے دیکھنا مشکل ہو گیا تھا تو ایک ماہر فلکیات Maurice Mallet غبارے کے ذریعے سے بادلوں سے اوپر گئے تا کہ وہ اس دُمدار ستارے کا مشاہدہ کر سکیں۔پہلے تو یہ دُمدار ستارہ صرف طلوع آفتاب سے قبل نظر آتا تھا اور دن کی روشنی میں غائب ہو جاتا تھا۔ لیکن جلد ہی اس کی چمک اتنی بڑھ گئی اور یہ اتنا نمایاں ہو گیا کہ دن کے وقت جب سورج پوری طرح چمک رہا ہوتا تھا تو بھی اس کو زمین سے باآسانی دیکھا جا سکتا تھا اور اس کی چمکدار دم بھی نہایت نمایاں تھی۔17 ستمبر کو سپین میں Reus کے مقام پر لوگ یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ یہ دُمدار ستارہ اتنا روشن اور نمایاں ہو چکا تھا کہ سورج کی روشنی میں بادلوں کے پیچھے سے بھی دکھائی دے رہا تھا۔

جب یہ ستارہ اپنے محور کی انتہا یعنی سورج سے اپنے نزدیک ترین مقام کو عبور کر چکا تھا تو اس کی چمک میں کمی آنے لگی لیکن اس کے باوجود فروری 1883ء تک اس کو بغیر کسی آلے کی مدد سے دیکھا جاتا رہا۔آخری مرتبہ اسے قرطبہ ، سپین میں یکم جون 1883ء کو دیکھا گیا اور اس کے بعد یہ تاریخی دُمدار ستارہ نظر آنا بند ہو گیا۔

1882ء میں طلوع ہونے والا یہ دُمدار ستارہ اتنا غیر معمولی روشن تھا کہ اس کی چمک منفی 17 Magnitude تھی۔ یاد رہے کہ چودھویں کے چاند کا Magnitude منفی 14 ہوتا ہے۔اس لحاظ یہ سے دُمدار ستارے بدر یعنی چودھویں کے چاند سے بھی زیادہ روشن تھا۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے حدیث میں مذکور الفاظ ‘‘ہُوَ نَجْمٌ یَطْلعُ مِنَ الْمَشْرِقِ وَیُضِيْءُ لِاَھْلِ الْاَرْضِ کَاِضَاءَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْر’’کی طرف دھیان جاتا ہے۔ جس کامطلب یہ ہے کہ وہ ستارہ ایسا روشن ہوگا جیسا چودھویں کا چاند۔پس مخبر صادق آنحضرت ﷺؑ کی شان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گویا آپ کو مکمل طور سے اس نشان کا علم دیا اور آپ نے اس کو اس رنگ میں بیان فرما دیا کہ اس نشان کے پورے ہونے پر فوراً آپ ﷺؑ کے قول کی طرف انسانی ذہن منتقل ہو جاتا ہے۔

اسی طرح انٹرنیٹ پر موجود ایک مقالے The Bright Comet Chronicles جو کہ John E. Bortleکی تالیف ہے، اس دُمدار ستارے کا ذکر بایں الفاظ موجود ہے۔

‘‘Brightest, most extraordinary comet in over 1,000 years.’’

ترجمہ: پچھلے ہزار سال میں نظر آنے والا سب سے روشن اور غیر معمولی دُمدار ستارہ۔

9؍ستمبر1882ء کو W.L.ELKIN جن کا تعلق ROYAL OBSERVATORY, CAPE OF GOOD HOPE, SOUTH AFRICA سے تھا نے خبر دی کہ جلد ہی یہ دُمدار ستارہ بغیر کسی دوربین آلے کی مدد کے نظر آسکے گا۔ اسی طرح B.A.GOULD نے CORDOBA,ARGENTINAسے 18ستمبر کو خبر دی کہ شہب ثاقب کی خارق عادت چمک اور روشنی عام توجہ کا مرکز بنی رہی اور سورج کے قریب سے گزرتا ہوا چمکدار ستارہ ملک میں ہر خاص و عام کی گفتگو کا محور تھا۔

پس ثابت ہوا کہ یہ دُمدار ستارہ ضرور ایک نشان ہی تھا اور اس کی غیر معمولی چمک اور اہمیت اس کے نشان ہونے پر گواہ ہے۔جس کو خاص طور پر پہلے سے احادیث میں بیان کر دیا گیا تھا۔

حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی تحریرات میں جابجا اس نشان کا تذکرہ فرمایا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

‘‘اسی طرح نواب صدیق حسن خان صاحب حجج الکرامہ میں اور حضرت مجدد الف ثانی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ستارہ دنبالہ دار یعنی ذُوالسِّنِیْن مہدی معہود کے ظہور کے وقت نمودار ہوگا۔ چنانچہ وہ ستارہ 1882ء میں نکلا۔’’

(چشمہ معرفت، روحانی خزائن، جلد 23 ،صفحہ 330)

‘‘ایک اور نشان یہ بھی تھا کہ اس وقت ستارہ ذُوالسِّنِیْن طلوع کرے گا۔ یعنی ان برسوں کا ستارہ جو پہلے گزر چکے ہیں۔ یعنی وہ ستارہ جو مسیح ناصری کے ایام میں طلوع ہوا تھا۔ اب وہ ستارہ بھی طلوع ہو گیا ہے جس نے یہودیوں کے مسیح کی اطلاع آسمانی طور سے دی تھی۔’’(ملفوظات حضرت مسیح موعود ؑ، جلد اول، صفحہ31)

اسی طرح ایک اور مقام پر آپ ؑ نے فرمایا کہ

‘‘ایک یہ بھی پیشگوئی تھی کہ اُن دنوں میں ذُوالسِّنِیْن ستارہ بھی نکلے گا۔ جو مسیح کے وقت اور اُس سے پہلے نوح کے وقت میں نکلا تھاا۔ اب سب کو معلوم ہے کہ وہ ستارہ نکل آیا اور انگریزی اور اردو اخباروں میں اُس کا نکلنا شائع کیا گیا۔’’

( ایام الصلح،روحانی خزائن جلد 14 ، صفحہ 281)

پھر مزید ایک مقام پر فرمایا کہ

‘‘تیسرا نشان ذُوالسِّنِیْن کا نکلنا ہے جس کے طلوع ہونے کا زمانہ مسیح موعود کا وقت مقرر تھا۔ اور مدت ہوئی کہ وہ طلوع ہو چکا ہے۔ اسی کو دیکھ کر عیسائیوں کے بعض انگریزی اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ اب مسیح کے آنے کا وقت آگیا ہے۔

(حقیقۃ الوحی ،روحانی خزائن جلد 22 ، صفحہ205)

حضرت سیدہ خیرالنساء صاحبہ بنت حضرت سیدڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحبؓ بیان کرتی ہیں کہ

‘‘ایک دن فجر کے وقت حضورؑ شہ نشین پرٹہل رہے تھے۔ میں اور ہمشیرہ زینب اور والدہ صاحبہ نماز پڑھنے کے لیے گئیں تو آپ نے فرمایا۔آؤ! تمہیں ایک چیز دکھائیں یہ دیکھو یہ دُمدار تارا ہماری صداقت کا نشان ہے۔ اس کے بعد بہت سی بیماریاں آئیں گی۔ چنانچہ طاعون اس قدر پھیلا کہ کوئی حد نہیں رہی’’۔ (سیرۃ المہدی حصہ پنجم روایت1512)(حضرت ڈاکٹر سید عبد الحئی شاہ صاحب شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ)

پھر فرمایا:

جو علامات مسیح موعود مقرر تھیں ان میں سے بہت سی پوری ہو چکیں جیسے کسوف خسوف کا رمضان میں ہونا جو دو مرتبہ ہو چکا۔حج کا بند ہونا۔ ذُوالسِّنِیْن ستارہ کا نکلنا۔طاعون کا پھوٹنا۔ریلوں کا اجرا۔اونٹوں کا بیکار ہونا وغیرہ۔

(ملفوظات جلد 2ص337نیا ایڈیشن)

پھر فرمایا:

یہ خود کہتے تھے کہ صدی کے سر پر آنے والا ہے۔پھر انہیں کی کتا بوں میں لکھا ہوا تھا کہ کسوف وخسوف ہو گا۔طاعون پڑے گی ۔حج بند ہو گا ۔ایک ستارہ جو مسیح کے وقت نکلا تھا نکل چکاہے۔ اونٹوں کی سواری بیکار ہو گئی ہے۔ اسی طرح سب علامتیں پوری ہو گئی ہیں، مگر ان لو گوں کا یہ کہنا کہ ابھی مسیح نہیں آیا یہ معنے رکھتا ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی کوئی پیشگوئی پوری نہ ہو ۔

(ملفوظات جلد 3ص129)

آج کل دُمدار ستارہ طلوع ہوتا ہے۔اس کے متعلق ایک شخص سے حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ نے بھی دُمدار ستارے دیکھے ہیں پھر فرمایاضروردیکھنا ۔ آج ہی دیکھنا وہ ایک نہیں ہے دو ہیں۔ میں نے بھی دیکھے تھے۔ ایک چھوٹا ہے اور ایک بڑا ہے تین بجے سے دکھائی دینا شروع ہوتا ہے۔ مفسروں نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں جب بہت ستارے ٹوٹے تھے تو اس سے کچھ عرصہ بعد آنحضرتﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ جو ستارے وغیرہ ہوتے ہیں ان کا اثر زمین پر ضرور ہوتا ہے ۔ میرے دعویٰ سے پہلے اس قدر ستارے ٹوٹے تھے کہ ایسی کثرت آگے کبھی نہیں ہوتی تھی۔ میں اس وقت دیکھ رہاتھا کہ ستاروں کی آپس میں ایک قسم کی لڑائی ہوتی تھی۔ کوئی سو دو سو ایک طرف تھے اور سودو سو ایک طرف تھے۔ ہمارے لیے گویا وہ ایک پیش خیمہ تھے ۔اس طرف سے اس طرف نکل جاتے تھے اوراس طرف سے اس طرف نکل جاتے تھے۔ میرے خیال میں تو کسوف خسوف کا بھی خاص اثر زمین پر ہوتا ہے۔دُمدار ستارے کا پیداہونا ایک خارق عادت امر ہے۔ آسمان پر اس کا ظاہر ہونا ظاہر کرتا ہے کہ زمین پر بھی ضرور کوئی خارق عادت امر ظاہر ہوگا۔ یہ زمین کے لیے شہادتیں ہوتی ہیں۔ آئندہ زمین پر جو خارق عادت نشان ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں ان کے لیے یہ پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ اس طرف ہمیں الہام بھی ہو رہے ہیں کہ آئندہ خارقِ عادت نشان ظاہر ہونے والے ہیں اور کل جو میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک ستارہ ٹوٹا ہے اور سر پر آگیا ہے ۔ میں نے خیال کیا تھا کہ ضرور اس کی کوئی تعبیر ہوگی۔ذُوالسِّنِیْن ستارہ کی نسبت جب نکلا تھا تو انگریزی اخباروالوں نے لکھا تھا کہ یہ وہی ستارہ ہے جو حضرت عیسیٰؑ کے زمانہ میں طلوع ہوا تھا۔

(ملفوظات جلد 5 ص213نیا ایڈیشن)

• ذُوالسِّنِیْن ستارہ جس کا نکلنا مہدی اور مسیح موعود کے وقت میں بیان کیا گیا تھا ۔ ہزاروں انسانوں نے نکلتا ہوا دیکھا۔ (ایام الصلح صفحہ نمبر 306)

• بھلا بتلائیں کہ میرے بغیر کس کے لیے بموجب حدیث دارقطنی کے کسوف و خسوف ہوا کس کے لیے بموجب حدیث صحیحہ کے طاعون پڑی۔ کس کے لیے ستارہ ذُوالسِّنِیْن نکلا۔(تحفہ الندوہ صفحہ 100)

• بموجب حدیث کے ستارہ ذُوالسِّنِیْن بھی مدت ہوئی کہ نکل چکا۔ (نزول المسیح صفحہ 406)

• یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں ستارہ ذُوالسِّنِیْننکلے گا۔اب انگریزوں سے پوچھ لیجیے کہ مدت ہوئی کہ وہ ستارہ نکل چکا ہے۔(اربعین نمبر 3صفحہ 399)

• وَ طَلَعَ ذُوالسِّنِیْن (اور ذُوالسِّنِیْن ستارہ نے طلوع کیا ) (خطبہ الہامیہ صفحہ 64)

اور وہ حوادث عرضی اور سماوی جو مسیح موعود کے ظہور کی علامات ہیں وہ سب میرے وقت میں ظہور پذیر ہو گئی ہیں۔ مدت ہوئی کہ خسوف و کسوف رمضان کے مہینے میں ہو چکا ہے اور ستارہ ذُوالسِّنِیْن بھی نکل چکا ہے۔

سورۃ النجم میں مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے لیے یہ پیشگوئی مذکور ہے کہ ایک ستارہ گرے گا اور دین کی عظمت دنیا پر ظاہر ہوگی۔چناچہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی۔ ھَوٰی کے معنی ہیں گرنا اور ہلاک ہو جانا۔ چنانچہ یہ ذُوالسِّنِیْن ستارہ سورج کے اتنا قریب آیا کہ وہ سورج کو چھونے لگا اور اس نےSUNGRAZING COMET کا بھی لقب پایا۔نیز سورج سے اس قدر قریب ہونے کے نتیجہ میں اس کے ٹکڑے ہو گئے۔ جماعت کے ایک معروف سکالر ڈاکٹر صالح محمد الٰہ دین صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں یہ نکتہ پیش کیا تھا کہ وَالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰیکی پیشگوئی دُمدار ستارے کے نشان کے ذریعہ پوری ہوئی تو حضور نے ان کے استنباط سے اتفاق فرماتے ہوئے فرمایا تھا:

‘‘قرآن مجید میں دُمدار ستارے کی پیشگوئی کے متعلق ایک آیت سے آپ نے جو استدلال کیا ہے وہ بالکل درست ہے خود میرا بھی یہی خیال ہے۔’’

اور جیسے ظاہری طور پر یہ ستارہ سورج میں گر کر سورج کا ایک حصہ بن گیا اسی طرح روحانی طور پر بھی ظہور میں آیا کہ جس مسیح اور مہدی کے لیے یہ نشان ظاہر ہوا وہ بھی آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفی ﷺ جن کو خدا تعالیٰ نےسراجًامنیرًا یعنی نہایت روشن سورج کا خطاب دیا آپ علیہ السلام نے انہیں کی محبت میں کلیۃً فنا ہوکر مسیح موعود و مہدی موعود کامقام و مرتبہ پایا۔ آپ اس کا اظہار اپنے ایک شعر میں یوں کرتے ہیں:

جان و دِلَمْ فِدَائے جمَالِ محمد اَسْت

خَاکمْ نِثاَر کُوچَہ آل محمد است

ترجمہ:میری جان اور دل محمّد مصطفی ﷺ کے جمال پر فدا ہیں اور میری خاک آل محمد ﷺ کے کوچے پر قربان ہے۔

اس نشان کے بیان کرنے کے بعد یہ بتانا نہایت ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش ،دوران زندگی اور وفات پر جس کثرت سے دُمدار ستاروں اور شہب ثاقبہ کا ظہور ہوا اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی چنانچہ ستارہ ذُوالسِّنِیْن کے نشان کے علاوہ مندرجہ ذیل دُمدار ستاروں کا ظہور ہوا:

Halleys Comet 1835

یہ دُمدار ستارہ موجودہ مشاہدات کی رو سے 1835ء میں ظاہر ہوا تھا۔ اور یہی سن حضرت مسیح موعود ؑکی پیدائش کا ہے۔ یہ ستارہ دنیا کے مشہور ترین دُمدار ستاروں میں سے ہے۔

پس اس موقع پر اس دُمدار ستارے کا ظاہر ہونا اس بات کی علامت تھا کہ مسیح کے آنے کا وقت اب نزدیک آگیا ہے۔اور خود بڑی تعداد میں عیسائیوں نے اس خیال کو ظاہر کیا کہ شاید یہ مسیح کی آمد ثانی کا ہی وقت ہے۔

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم موڑ وہ تھا جب آپ کو ذہنی طور پر ایک جماعت کی تیاری کے لیے تیار کیا گیا۔ اور آپ کو یہ خوشخبری دی گئی کہ عنقریب تجھے ایک جماعت دی جائے گی۔

حضور ؑکو 1874ء میں الہام ہوا تھا کہ آپ کو جماعت دی جائے گی۔ آپ فرماتے ہیں:

‘‘میں نے خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا جو ایک اونچے چبوترے پر بیٹھا ہوا تھا۔اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو نہایت چمکیلا تھا۔ وہ نان اس نے مجھے دیا اور کہا کہ یہ تیرے لیے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لیے ہے۔ یہ اس زمانے کی خواب ہے جبکہ میں نہ کوئی شہرت اور نہ کوئی دعویٰ رکھتا تھا۔ اور نہ میرے ساتھ درویشوں کی کوئی جماعت تھی مگر اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنا لیا ہے۔’’(تذکرہ، ص 14)

1879ء میں ایک عظیم الشان دُمدار ستارہ دیکھا گیا تھا جس کا ذکر THE NEW YORK TIMESنے 19؍جولائی 1874ء کے شمارہ میں کیا ہے۔

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نہایت شاندار کارنامہ براہین احمدیہ کی تصنیف تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ہر جانب سے اسلام پر حملے ہو رہے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک غیرت مند پہلوان کی طرح میدان میں اترے اور ہر مقابل کو پسپا کیا۔ اور اسلام کا ایسا شاندار دفاع کیا کہ اپنے اور پرائے اس کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ بڑے بڑے اخبارات میں اس پر ریویو لکھے گئے اور اس کتاب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گوشہ عدم سے نکال کر اسلام کے محبوں کی آنکھو ں کا تارا بنا دیا۔ یہ ایک ایسا عظیم الشان کارنامہ تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے اپنے رسالے ‘‘اشاعۃ السنۃ’’ میں چیلنج کیا کہ گزشتہ 13صدیوں میں کوئی ایسی کتاب تصنیف نہیں ہوئی جس نے اس قدر شاندار دفاعی خدمت سرانجام دی ہو۔

چنانچہ نومبر1885ءمیں ایک اور خارق العادت واقعہ پیش آیا۔

حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:

ان الہامات کے بعد کئی طور کے نشان ظاہر ہونے شروع ہوئے چنانچہ منجملہ ان نشانوں کے ایک یہ کہ 28نومبر 1885ء کی رات کو یعنی اس رات کو جو 28 نومبر 1885ء کے دن سے پہلے آئی ہے اس قدرت شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزارہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اس کو بیان کر سکوں۔ مجھ کو یاد ہے کہ یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ ما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی۔ سو اس رمی کو رمی شہب سے بہت مناسبت تھی۔یہ شہب ثاقبہ کا تماشا جو 28نومبر1885ءکی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا۔

لیکن خداوند کریم جانتا ہے کہ کہ سب سے زیادہ غور اس تماشے کے دیکھنے والا اور پھر اس سے حظ اور لذت اٹھانے والا میں ہی تھا۔ میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ جس کو میں الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں الہاماً ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لیے نشان ظاہر ہوا ہے۔

اور پھر اس کے بعد یورپ کے لوگوں کو وہ ستارہ دکھائی دیا جو حضرت مسیح کے ظہور کے وقت میں نکلا تھا میرے دل میں ڈالا گیا تھاکہ یہ ستارہ بھی تیری صداقت کےلیے ایک دوسرا نشان ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر5صفحہ نمبر 110-111)

یہ شہب ثاقبہ آگرا ہندوستان میں بھی 27 نومبر1885ء کو دیکھے گئے چنانچہ ان کی گواہی میجر جی ستراہن جو بیان کرتے ہیں ایک منٹ میں پچاس کے قریب شہب ثاقبہ گر رہے تھےیا شاید اس سے بھی زیادہ۔

G.E.STRAHAN, METEOR SHOWER OF NOV 27,1885, MONTHLY NOTICES OF THE ROYAL ASTRONOMICAL SOCIETY. VOL 46 ISSUE 3, (11 JANUARY 1886)

اسی طرح ایک اور گواہ میجر اے سی بگ بیان کرتے ہیں کہ کوئٹہ، بلوچستان میں بھی یہ نظارہ دیکھا گیا جہاں چھ سے آٹھ meteor ہر سیکنڈ گر رہے تھے۔اسی طرح 27 نومبر 1885کی شب کو W.WICKHAMنے بھی گواہی دی کہ REDCLIFF OBSERVATORY میں ہزاروں شہب ثاقبہ جو نہایت روشن تھے ان کی بوچھاڑ آسمان پر دیکھی گئی۔

A.C. BIGG METEOR SHOWER OF NOV 27, 1885. MONTHLY NOTICES OF THE ROYAL ASTRONOMICAL SOCIETY, VOL 46

حضرت مولانا محمد احسن امروہی صاحب ؓ نے اپنی کتاب ‘‘مِسْکُ العَارِف ’’ کے صفحہ 18 پر ایک دُمدار ستارے کا تذکرہ کیا ہے جو کہ 1896ء میں طلوع ہوا تھا۔یاد رہے کہ یہ وہ سال تھا جب حضرت مسیح موعود ؑنے اپنی دو معرکۃ الآراء کتب‘‘مسیح ہندوستان میں’’ اور ‘‘اسلامی اصول کی فلاسفی’’ تصنیف فرمائیں۔اور یہ اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺکی اور آپ ؐ کے غلام صادق کی عظیم الشان فتح کا سال تھا۔ اس سال میں بھی دُمدار ستارے کا طلوع ہونا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

یوں تو دُمدار ستاروں نے حضرت مسیح موعود ؑکی زندگی میں آسمان کو زینت بخشی ہی تھی۔لیکن اس کے علاوہ آپ ؑ کی وفات کے معاً بعد دُمدار ستارے سے ہونے والامعلوم انسانی تاریخ کا سب سے بڑا Impact Event پیش آیا۔ جسے Tunguska Event کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس کی تفصیل اس طرح پر ہے کہ 30 جون 1908ء کو روس میں Podkamennaya Tunguska نامی دریا کے پاس( جسے اب Krasnoyarsk Krai کہا جاتا ہے) صبح سات بج کرچودہ منٹ پر ایک دھماکہ سنا گیا جو کہ ایک دُمدار ستارے کےباقیات کے زمین کے اوپر پھٹنے سے ہوا۔بہت ساری تحقیقات میں اس دُمدار ستارے کا سائز تقریباً 100 میٹر بیان کیا گیا ہے۔یہ زمین سے تقریباً 5سے 10کلومیٹر کی بلندی پر فضا میں ہی دھماکے سے پھٹ گیا تھا۔یہ معلوم انسانی تاریخ میں کسی دُمدار ستارے کے ذریعے سے زمین پر ہونے والا سب سے بڑا دھماکہ تھا۔اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس پر تقریباً ایک ہزار کے قریب تحریرات لکھی گئیں جن کے لکھنے والوں میں نامور سائنسدان اور ماہرین فلکیات و ارضیات بھی شامل تھے۔

گو کہ یہ دُمدار ستارہ فضا میں کچھ بلندی پر ہی پھٹ گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس سے ہونے والے دھماکے کا اثر اس قدر شدید تھا کہ کئی سو کلومیڑ دور تک بھی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور لوگ گر پڑے۔یہ دھماکہ کس شدید نوعیت کا تھا اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاتا ہے کہ اس کی شدت کا اندازہ ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹم بم سے تقریباً ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ اس کے گرنے سے تقریباً 2,150 مربع کلومیٹر کے رقبے سے درختوں کا صفایا ہو گیا۔اور ایک اندازے کے مطابق اس دھماکے سے بعض علاقوں میں 5.0 ریکٹر سکیل شدت کا زلزلہ بھی پیدا ہوا ہوگا۔یہ حادثہ انسانی آبادی سے دور ایک دریا کے کنارے جنگل میں پیش آیا تھا۔ اگر یہی حادثہ کسی بڑے گنجان آباد شہر میں پیش آتا تو اس شہر کے تباہ کرنے کے لیے کافی ہو جاتا۔اس حادثے سے قبل گرد و نواح کے مقامی باشندوں نے آسمان پر ایک نہایت روشن چیز دیکھی جو اپنی شدت میں سورج کے برابر روشن تھی۔اور پھر دس منٹ بعد وہ دھماکہ سنائی دیا جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔

اب قابل غور امر یہ ہے کہ کس طرح یہ تمام اہم واقعات اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اکٹھے فرمائے، گزشتہ ہزار سال میں نظر آنے والا سب سے روشن دُمدار ستارہ اور اسی طرح آپ کی وفات پر انسانی معلوم تاریخ میں دُمدار ستارے سے ہونے والا سب سے بڑا حادثہ۔حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش اور آنحضرت ﷺ کی خلعت نبوت سے سرفرازی کے وقت نکلنے والا دُمدارستارہ آپ کی پیدائش او ر وفات کے بعد نکلنا۔ پس یہ اتفاقی امور نہیں بلکہ خدائے حکیم و علیم کی اعلیٰ ترین حکمت کا مظہر ہیں۔اور اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ نشانات اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح ؑ کی صداقت کے لیے ظاہر فرمائے۔ اور انہی آسمانی اور زمینی نشانات کا تذکرہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے اپنے منظوم فارسی کلام میں یوں فرمایا کہ

اِسْمَعُوْا صَوتَ السَّماءِ جَاءَ المَسِیح جَاء َالمَسیح
نِیز بِشنَو اَزْ زَمِیں آمَدْ اِمَامِ کامگار
آسماں بارَدْ نِشَاں الوقت مِی گُویَد زمیں
اِیں دو شاہِد اَز پئے مَنْ نعرہ زَن چُوں بے قرار

( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 ، صفحہ 132)

یعنی اے لوگو!آسمان کی آواز سنو کہ ‘‘مسیح آگیا مسیح آگیا! ’’ نیز زمین سے بھی کامیاب امام کی آمد کا ذکر سنو۔ آسمان نشان‘برسا’رہا ہے۔اور اس وقت زمین بھی بول رہی ہے۔ یہ دونوں میری تائید میں گواہ بنتے ہوئے نعرہ زن ہیں۔

نیز ایک اور مقام پر مخالفین احمدیت کو یوں مخاطب فرمایا کہ :

‘‘ اے نادان کیا تو خدا سے مقابلہ کرے گا۔ کیا تیری طاقت میں ہے کہ تو اُس سے لڑائی کرسکے ۔ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو تیرے مقابلہ کی کیا حاجت تھی اس کے تباہ کرنے کے لیے خدا کافی تھا۔ مگر قریباًپچیس25 برس سے یہ سلسلہ چلا آتا ہے اور ہرروز ترقی پر ہے۔ اور خدا نے اپنے پاک وعدوں کے موافق اس کو فوق العادت ترقی دی ہے اور ضرور ہے کہ قبل اس کے جو یہ دنیا ختم ہو جائے خدا کامل درجہ پر اس سلسلہ کو ترقی دے خدا نے میری تصدیق کے لیے ہزارہا نشان دکھائے جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں ۔ زمین سے بھی نشان ظاہر ہوئے۔ اور آسمان سے بھی اور دوستوں میں بھی اور دشمنوں میں بھی اور کوئی مہینہ شاذ و نادر اس سے خالی جاتا ہوگاکہ کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔

( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 ، صفحہ 178)

پس انہیں نشانات میں سے ایک نشان‘‘ دُمدار ستارہ ’’بھی تھا۔جسے اللہ تعالیٰ نے پیشگوئیوں کے مطابق اپنے پیارے مسیح کی تائید میں طلوع فرمایا۔ وھٰذا ھوالمقصود

NOTES

(النحل:13)،(النحل:17)، (الانعام: 98)، (سورۃ الاحزاب :47)، قادیان کے آریہ اور ہم۔ روحانی خزائن جلد20صفح0ہ449تا456

Publications of Astronomical Society of the Pacific
Spectrum of the Comet Daniel, NASA Astrophysics Data
System, by O. C. Wendell
Lisan Ul Arab, Published in Dar us Sadir, Beruit, Lebanon
Bahman Yast, Sacred Books of The East
Comet, by Carl Sagan and Ann Druyan, Ballantime
Books, New York
Comet, by Carl Sagan and Ann Druyan, Ballantime
Books, New York
Comet, by Carl Sagan and Ann Druyan, Ballantime
Books, New York
Musnad Ahmad Bin Hunbal, Published in Dar ul Ahya at Turas al Islami Beirut, Lebanon, Part 1, Musnad Abdullah bin Abbas Page 360
( De cometis by John Gadbury, London, 1665)
Bihar ul Anwar By Hazrat Sheikh Bakir Majlisi Published Published in Dar ul Ahya at Turas al Islami Beirut, Lebanon, Part 52 page 268, Tareekh Al Imam 12, Chapter Signs for the Advent of Dajjal
Al Ishaat il Ishrat ul Sa’ah, Published by Dar ul Kutb il Ilmiyyah Beirut Lebanon
Hijaj ul Kiramah by Nawab Siddique 255۔Hassan Khan Sahib Page250
Iqterab us Saah by Noor ul Hassan Khan Sahib Published at Mufeed e Aaam, Aagrah Page 67
Maktoob Imam Rabbani Translated by Muhammad Saeed Ahmad Naqsh bandi Published by Madina Publishing Committee Bund Road Karachi, Volume 2, Part 2 Letter Number 68
Tadhkirah, 2009 edition page Number 57, Islam International Publications Ltd, Translated by: Hadrat Chaudhry Muhammad Zafrullah Khanra,Revised by: Munawar Ahmed Saeed
Tadhkirah, 2009 edition page Number 57, Islam International Publications Ltd, Translated by: Hadrat Chaudhry Muhammad Zafrullah Khanra,Revised by: Munawar Ahmed Saeed
Plummer, William Edward (March 1889), «The great comet of September 1882», The Observatory
Tebbutt, John (March 1904), «The great comet of 1882», The Observatory
Kreutz, Heinrich (October 1883), «Ephemeris of the Great Comet, b 1882», The Observatory
HE BRIGHT-COMET CHRONICLES by John E. Bortle ,W. R. Brooks Observatory Copyright 1998, John E. Bortle

(چشمہ معرفت، روحانی خزائن، جلد 23،صفحہ 330)، (ملفوظات حضرت مسیح موعود ؑ، جلد اول، صفحہ31)، ( ایاّم الصلح،روحانی خزائن جلد 14، صفحہ 281)، (حقیقۃ الوحی ،روحانی خزائن جلد 22، صفحہ205)، (سیرۃ المہدی حصہ پنجم روایت1512)، (ملفوظات جلد 2ص337نیا ایڈیشن)، (ملفوظات جلد 3ص129)، (ملفوظات جلد 5 ص213نیا ایڈیشن)، (ایام الصلح صفحہ نمبر 306)، (تحفہ الندوہ صفحہ 100)، (نزول المسیح صفحہ 406)، (خطبہ الہامیہ صفحہ 64)

What Have We Learned About Halley›s Comet?». Astronomical Society of the Pacific (No. 6 – Fall 1986). 1986
The Spectre of The Skies,19 JULY 1874 The New York Times
Tadhkirah, 2009 Edition Page No. 23, Islam International Publications Ltd, Translated by: Hadrat Chaudhry Muhammad Zafrullah Khanra,Revised by: Munawar Ahmed Saeed
The Spectre of The Skies,19 JULY 1874 The New York Times
Ishaat us Sunnah by Maulvi Muhammad Hussain Batalvi, Review on Braheene Ahmadiyya by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad as. Part 6 Volume 7

مسک العارف از مولانا احسن امروہی

«Perplexities of the Tunguska meteorite». The Observatory.
Whipple, F. J. W. (1934). «On Phenomena related to the great Siberian meteor». Quarterly Journal of the Royal Meteorological Society

( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 ، صفحہ 178)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button