متفرق مضامین

‘‘زار بھی ہوگا تو ہوگا اُس گھڑی باحالِ زار’’

(وسیمہ اُپل۔ آسٹرلیا)

سرزمینِ ہندوستان کے ایک دُوردراز چھوٹے سے گاؤں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کے حقیقی اور کامل غلام کو نبوت کی خلعت عطا فرمائی اور اسے سنّتِ انبیاء کے عین مطابق صداقت کے بہت سے نشانوں میں سے ایک قسم کے نشان آئندہ کی پیشگوئیوں کی صورت میں عطا فرمائے۔ انہیں کشوف و الہامات کے ذریعے مستقبل کے واقعات اور کئی شخصیات کے انجام کے بارے میں اطلاع دی گئی۔ اللہ کے اس نیک بندے اور دورِ حاضر کے نبی کا نام مرزا غلام احمد قادیانیؑ تھا اور آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺ کی غلامی میں آخری زمانے کے مسیح ومہدی اورامام کے طور پر مبعوث ہوئے۔ آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر بہت سی پیشگوئیاں فرمائیں جو بعض آپؑ کی زندگی میں بڑی شان سے پوری ہوئیں اور بعض اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق آپ کے اس دارِ فانی سے کوچ کر جانے کے بعد۔ آپؑ کی کتاب براہین احمدیہ جلد پنجم (سن طباعت 1905ء)میں ان میں سے بہت سے نشانات کا ذکر تفصیل سے موجود ہے۔ اس کتاب کے آخر میں منظوم مناجات کی صورت میں خداتعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا کیا گیا ہے نیز چند ایسے نشانات اور پیشگوئیوں کا ذکر ہے جن کا جلد ظاہر ہونا مقصود تھا۔ ان میں دنیا پر آنے والی ایک بہت بڑی، قیامت خیز تباہی اور نیز اُس وقت کی ایک سپر پاور کے شہنشاہ یعنی زارِ روس کی کسمپرسی کا واضح ذکر موجود ہے۔ اُس وقت کسی کے گمان میں بھی نہ تھا کہ انسانوں پر جنگِ عظیم کی صورت میں اس قدر بڑی تباہی آئے گی اور زارِ روس ‘باحالِ زار’ ہو گا مگر بقول رومی ‘گفتۂ او گفتۂ اللہ بود، گرچہ از حلقوم عبداللہ بود ’یہ سب تو ہو کر ہی رہنا تھا۔ چنانچہ چشمِ فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ اس ‘عبداللہ’ کے منہ سے نکلے یہ الفاظ حرف بہ حرف پورے ہوئے ۔گزشتہ سال (2018ء) میں اس پیشگوئی کو مزید تقویت اس طرح ملی جب زارِ روس کے بارہ میں کچھ ایسے حقائق منظرِ عام پر لائے گئے جن کے بارہ میں اکثر دنیا کو اب تک بے خبر رکھا گیا تھا۔ یقینا ًاس کے حالات اس کی حالتِ زار پر گواہ تھے۔

اگر ہم ماضی میں سفر کرتے ہوئے انیسویں صدی کے آخری حصّہ سے بیسویں صدی کے شروع میں پہنچیں تو ہمیں روس کے بادشاہ نکولس دوم اور آخری زار اور اُس کے خاندان کی دکھ بھری زندگی اور المناک انجام کی ایک مکمل تصویر نظر آتی ہے جس کے بکھرے ہوئے اوراق کو لندن کے سائنس میوزیم کی گیلری میں رکھا گیا ہے۔ یہ نمائش 24مارچ 2019ء تک منظرِعام پر رہے گی اور لوگ اُن حقائق کو جان سکیں گے جو سو سال تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہے۔اس مضمون میں مذکور زیادہ تر معلومات اسی نمائش سے اخذ کی گئی ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا ملک روس 1900ء سے 1918ء کے دوران سیاسی اور سماجی افراتفری اور فساد کا شکار رہا۔ یہی وہ دور ہے جس میں یہاں کے شاہی خاندان کی صف لپٹ رہی تھی اور دنیا میں پہلی جنگِ عظیم اپنی تباہی پھیلا رہی تھی۔ زار ِروس اور اُس کا خاندان اپنے اکلوتے بیٹے اور تخت کے وارث Alexei کی اُس بیماری کے باعث رنج و الم میں گرفتار تھا جس کا کوئی علاج ممکن نہ تھا اور اُسے لگنے والی ذرا سی چوٹ بھی مسلسل خون بہتے رہنے سے اُس کی جان لے سکتی تھی۔ اسی دوران مارکس کے نظریۂ اشتراکیت کی مقبولیت کے باعث انقلاب کے آثار ظاہر ہوئے جو بالآخر زار کی حکو مت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔ تاریخ کے انہی حقائق اور زار کے خاندان کی المناک ہلاکت کے معمہ کو اس نمائش میں حل کیا گیا ہے جو The Last Tsar Blood and Revolution» سے معنون ہے۔

آج اگر ہم روس کی اہم عمارتوں کا ذکر کریں اور چشم تصوّر میں شہر سینٹ پیٹرزبرگ جائیں تو گنبدوں اور اونچے میناروں والی خوبصورت عمارتیں ہمارا استقبال کرتی دکھائی دیں گی۔ لیکن کیا معلوم تھا کہ ان عظیم الشان عمارتوں کے پیچھے اور ان کے تہ خانوں میں کتنی المناک داستانیں مدفون ہیں۔ یہ شہر 1703ء میں مشہور بادشاہ پیٹر زارِ روس نے آباد کیا تھا جس نے اس کا نام Nyen سے بدل کر St. Petersburg رکھا۔ زارِ روس پیٹر نے جو پہلی عمارت بنائی وہ پیٹر اور پال قلعہ کے نام سے مشہور ہے۔ ایک دوسری اہم عمارت پیٹر اور پال کیتھڈرل ہے جہاں پیٹر دوم کے علاوہ تمام زارِ روس آسودۂ خاک ہیں ۔ اس کے علاوہ آخری زارِ روس جس کا ذکر ابھی کیا جائے گا یعنی نکولس دوم (Nicholas II) اور اُس کے خاندان کے اکثر افراد کی ہڈیاں اس کے قتل کے لگ بھگ اسّی سال کے بعد کسی دوسری جگہ سے کیتھڈرل کے قریب St. Catherine Chapel میں منتقل کی گئیں۔ یہ تقریب 17جولائی 1998ءکو عمل میں لائی گئی۔
روس کا ایک اور اہم شہر Yekaterinburgہے جو کہ Ural پہاڑوں کے مشرق میں واقع ہے۔ یہ شہر زارِ روس پیٹر نے اپنی بیوی Yekaterineکے نام پر تعمیر کروایا جو اُس کی وفات کے بعد کیتھرین اوّل کہلائی۔ اس شہر کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ رشیا کے انقلاب کے بعد معزول زارِ روس اور اُس کے خاندان کو اس شہر میں قید کردیا گیا تھا۔ اسی شہر میں وہ خوفناک گھر Ipatiev House ہے جس میں سارے خاندان کو تہ خانے میں کئی مہینے کے لیے بند کردیا گیا اور پھر انتہائی رازداری اور سفّاکی کے ساتھ انہیں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ اسی شہر میں ایک اور اہم چرچ Church on the bloodکہلاتا ہے جو اکیسویں صدی میں عین اُسی مقام پر تعمیر کیا گیا جہاں اس خاندان کو قتل کیا گیا تھا۔ اسی کے قریب ایک میوزیم ہے جس کے ایک ہال کا نام ‘‘رومانوو کا ہال’’ (Hall of Romanovs) ہے۔ Romanovs زارِ روس کے خاندان کا نام تھا۔ اس ہال میں زارِ روس کے خاندان سے تعلق رکھنے والے نوادرات رکھے گئے ہیں۔

رومانوو شاہی خاندان کی حکومت 1613ءمیں شروع ہوئی تھی۔ پیٹر جسے Peter the Great کہتے تھے اُس نے مطلق العنان نظام حکومت (autocracy) کو قائم کیا اور ریاستی نظام کو ترقی دے کر روس کو دنیا کا سب سے بڑا ملک بنادیا۔ اس کا حدود اربعہ Baltic Sea سے لے کر Pacific Seaتک پھیلا ہوا تھا ۔ اتنی بڑی سلطنت ہونے کے باوجود انہیں مسلمانوں کی سلطنت عثمانیہ سے خوف رہتا تھا۔ پیٹر نے St. Petersburg شہر اسی لیے تعمیر کیا تا یورپ اور سلطنت عثمانیہ پر نظر رکھ سکے اور کسی بھی حملے کے پیش نظر ملک کا دفاع کیا جاسکے۔

روس کا بادشاہ یعنی زارِ روس سلطنت اور چرچ دونوں کا سربراہ کہلاتا تھا۔ گویا کہ زار ایک ہی وقت میں بادشاہ اور پوپ بھی ہوتا تھا۔ لیکن انیسویں صدی میں کارل مارکس کے نظریہ اشتراکیت کے فروغ اور مذہب کو بے دخل کرنے کی مہم کے نتیجہ میں ایک خونی انقلاب کے بعد یہ سب ختم ہو گیا۔

نکولس دوم یعنی آخری زار کی بادشاہت کا زمانہ 1894ء میں شروع ہوا۔ اس کی شادی ایک جرمن خاتون الیگزینڈرا سے ہوئی جو ملکہ وکٹوریہ کی نواسی تھی۔ شادی کے بعد یکے بعد دیگرے اُن کی چار بیٹیاں (Olga, Tatiana, Maria اور Anastasia) پیدا ہوئیں۔ بظاہر یہ ایک خوش باش خاندان نظر آتا تھا لیکن اندر کی کہانی کچھ اَور تھی۔ ہر بیٹی کی پیدائش پر زارینہ یعنی زار کی بیوی کی ذہنی پریشانی میں اضافہ ہوجاتا کیونکہ زار کے درباری ،شاہی خاندان کے کرتے دھرتے اور عوام بادشاہت کو اس خاندان میں قائم و دائم رکھنے کے لیے امید رکھتے تھے کہ ان کے بادشاہ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہو گی۔ نکولس جسے اپنے خطابات ‘‘خدا کے فضل سے بادشاہ’’، ‘‘مطلق العنان حکمران’’، ‘‘زارِ روس’’ اور ‘‘عظیم بلند مرتبت’’ پر بہت نازتھا بہت پریشان رہنے لگا۔ ان حالات میں زارینہ بھی بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار رہنے لگی کیونکہ روسی قوم اس خاندان سے اپنے آئندہ بادشاہ کو دنیا میں لانے کی امید لگائے بیٹھی تھی۔ زار نکولس اپنی بیوی کی حالت سے پریشان ہوکر ڈاکٹروں اور طبیبوں کو شاہی محل میں طلب کرتا رہتا۔ اُن کا ذاتی ڈاکٹر Eugene Botkin دواؤں سے ذہنی پریشانی کا علاج کرتا رہا مگر زارینہ کے اعصاب کو سکون نہ ملا اور لوگوں میں مشہور ہونے لگا کہ زارینہ ذہنی مریضہ ہوچکی ہے۔

روسی مطلق العنان بادشاہت کے مختلف ادوار میں مخالفین کو جیلوں اور قید ِتنہائی میں رکھ کر پاگل بنادیا جاتا تھا اور بہت سے لوگ جن میں نوجوان خواتین بھی شامل تھیں اس ظلم کا شکار ہوکر خودکُشی کا انتہائی قدم بھی اٹھا چکی تھیں۔ سائنس میوزیم لندن کی نمائشی گیلری میں 26 سالہ طالبہ ماریہ کی تصویر اور قیدخانہ میں دردناک موت کا حال بھی درج ہے۔ یہ قید تنہائی کا Trubetskoy کے قیدخانہ میں کوئی اکیلا واقعہ نہ تھا بلکہ بے شمار لوگ ایسے حالات کی وجہ سے خودکُشیاں کرچکے تھے۔ لیکن زارینہ کی ذہنی کیفیت کسی قید تنہائی کے باعث نہ تھی بلکہ یہ دُکھ اُس کے لیے پریشانی پیدا کر رہا تھا کہ روس کی مملکت کے لیے اور اُس کے خاوند کی بادشاہت کے لیے ایک وارث بہت ضروری ہے۔

بادشاہت کا وارث

زار نے اپنی بیوی کے لیے ڈاکٹر اور مختلف روحانی معالج اکٹھے کر رکھے تھے تاکہ اُس کو ذہنی اذیت سے نکالا جاسکے۔ 1902ء میں ایک ‘‘جعلی پیر’’Monsieur Phillip نے کہا کہ وہ زارینہ کی نفسیاتی بیماری کا معجزانہ علاج جانتا ہے جس سے نہ صرف ملکہ کی بیماری دور ہو گی بلکہ ملکہ کے ہاں بیٹا بھی پیدا ہو گا۔ لیکن اُس کے علاج سے ملکہ کی حالت مزید خراب ہوگئی اور اُسے یہ وہم ہونے لگا کہ وہ حمل سے ہے جو کہ ایک Phatom یعنی صرف تصوّراتی کیفیت سے زائد کچھ نہ تھی۔ بہر کیف د و سال گزرنے کے بعد 1904ء میں زار کے ہاں اُس کا وارث Tsarevich Alexei پیدا ہوا۔ محل میں بہت بڑے جشن کا اہتمام ہوا اور مملکت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ زار کی بادشاہت کو استحکام حاصل ہوجائے گا۔ مگر اصل حقیقت کچھ اَور تھی۔ خدا کی قدرت دیکھیں کہ اس بچے کو ایسی موروثی بیماری تھی جس کو haemophilia کہتے ہیں ۔ اس بیماری میں ذرا سی چوٹ لگنے سے خون بند نہیں ہوتا اور موت واقع ہوسکتی ہے۔ اُس زمانے میں کم ہی لوگ اس سے واقف تھے۔ یہ ایک لاعلاج بیماری تھی۔

زارینہ کے لیے یہ بات ایک بہت بڑا صدمہ تھا جس سے اس کی ذہنی اذیّت میں مزید اضافہ ہوا۔ وہ اس بیماری کے بارہ میں جانتی تھی کیونکہ یہ نہ صرف اُس کی نانی ملکہ وکٹوریہ کے خاندان میں موجود تھی بلکہ اُس کا ایک ماموں، ایک بھائی اور ایک بھتیجا اس بیماری کا شکار ہو کر اس جہانِ فانی سے کوچ کر چکے تھے۔ چونکہ یہ ایک موروثی بیماری تھی اس لیے یہ زارینہ کی وساطت سے اُس کے بچے Alexeiکو منتقل ہوئی۔ شہزادے کی اس بیماری کو مکمل صیغۂ راز میں رکھنا بہت ضروری تھا۔ نکولس زار کی ڈائری کا وہ حصہ بھی سائنس میوزیم میں رکھا گیا ہے جس میں ان دردناک حالات کا تذکرہ موجود ہے کہ زار اور اس کا خاندان کس کرب کی حالت سے گزرے جب ولادت کے بعد Alexei کے پیٹ کے umbilical cord کا خون رکنے میں نہ آتا تھا اور پھر اس کے بعد اس زخم کو مندمل کرنے کے لیے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کتنا ہی عرصہ کوششوں میں مصروف رہی۔

زار کی گھریلو زندگی اور رنج و الم

زار اور زارینہ کو اپنے سر پر تکلیف اور پریشانی کی تلوار لٹکتی نظر آنے لگی اور انہیں اپنی بادشاہت اور سیاسی زندگی خطرے میں محسوس ہونے لگی۔ اُن کی زندگی سے سکون رخصت ہوچکا تھا۔ وہ لوگوں کے درمیان خود کو خوش رکھنے کی کوشش میں مصروف رہتے لیکن ساتھ ہی ساتھ ہر وقت بچے کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہوتی ۔ روس میں کسی بھی قسم کی معذوری اور بیماری کو نہ صرف بُرا شگون بلکہ خدا کی طرف سے سزا سمجھا جاتا تھا اور اس بات کا کوئی تصوّر نہ تھا کہ زارِ روس کا اکلوتا بیٹا اور شاہی تخت کا وارث کسی قسم کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوا ہوگا۔

زار روس نے بچے کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر قسم کے انتظامات کر رکھے تھے۔ اُس کی تصاویر بھی بڑی احتیاط سے لی جاتیں اور عوام کو دکھائی جاتیں تا کسی قسم کے haemorrhage (وہ سُرخ، نیلے نشان جو کسی معمولی ضرب سے جلد پر پڑتے ہیں) کا نشان کسی تصویر میں دکھائی نہ دے۔ زار روس لوگوں کے سامنے بچے کو ہمیشہ خود گود میں اٹھائے رکھتا یا بہت محفوظ پالکی میں لے کر اُسے سیر کروائی جاتی۔ اُس کی بہنیں ہمیشہ اُس کے اردگرد رہتیں اور معبودانہ حد تک اس سے محبت کرتیں۔ لندن میوزیم میں زار کی وہ تصویر بھی رکھی گئی ہے جب وہ چھٹیوں کے دوران پولینڈ میں بچے کے ساتھ کشتی پر تھا اور اس کا ڈاکٹر Eugene Botkin بھی ساتھ موجود تھا۔ اس سفر کے دوران کشتی کو ایک حادثہ پیش آیاحادثے میں بچے کو چوٹ لگی اور وہ موت کے منہ سے واپس آیا۔ اس حادثے کی خبر 1908ء میں پہلی بار منظرِ عام پر آئی مگر حقیقت کا کسی کو علم نہ ہوا۔

ان حالات نے زار اور اُس کے خاندان کو مجبور کردیا کہ وہ اس شہر کو چھوڑ کر ایک گاؤں کی خاموش فضا میں گھر بنالیں اور عوام اور محل کی تقریبات سے جس قدر ممکن ہو دُور رہیں۔ کیونکہ ڈاکٹروں کے ہر وقت شاہی محل میں آنے جانے سے عوام الناس اور درباریوں میں شکوک و شبہات جنم لے رہے تھے ۔ خاص طور پر بدنام زمانہ Rasputin کا ہروقت محل میں آنا جانا عوام کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ یہ شخص خود کو ‘‘روحانی اور قدرتی’’ طبیب کہتا تھا جو ایک طرف زار اور زارینہ سے مراعات حاصل کرتا تو دوسری جانب Alexei کو دَم کرکے ٹھیک کرنے کا ڈھونگ رچا تا۔ اُس کی آمدو رفت نے زار کی مقبولیت کو بہت نقصان پہنچایا اور لوگ زارینہ کے کردار پر شک کرنے لگے۔ دراصل عوام Alexei کی خطرناک اور جان لیوا بیماری سے ناواقف تھے اور زار اور زارینہ کی پریشانی اور دکھ بھری زندگی کا علم نہ رکھتے تھے۔
اس دور میں زار کے ساتھ تبّتسے تعلق رکھنے والے ایک اَور جعلی طبیب Pyotor Badmaeu کا نام بھی آتا ہے جو روس کے دارالحکومت سینٹ پیٹرزبرگ میں بڑی کامیاب پریکٹس بھی کرتا تھا۔ پریشان حال زار روس نکولس دوم نے اپنے بیٹے کی زندگی بچانے اور haemophilia بیماری کے علاج کے لیے اس تبّتی حکیم کی خدمات بھی حاصل کیں۔ وہ اکثر شاہی محل میں آتا اور جڑی بوٹیوں اور دیسی دواؤں سے Alexei کا علاج کرنے کی کوشش کرتا۔

جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ نکولس دوم اپنے بیٹے کی بیماری اور اپنی ملکہ کی پریشانی کی وجہ سے زیادہ تر دارالحکومت سے دُور رہتا تھا اس لیے آہستہ آہستہ اس کا رابطہ عوام سے کم ہوتا چلا گیا۔ فرانسیسی سفیر Maurice Paleologue کی ڈائری کے ایک صفحہ (جو لندن میوزیم میں رکھا گیا ہے) سے زار کی ‘‘حالتِ زار’’ اور ذہنی پریشانی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ

During recent months Emperor suffered from nervous maladies, which betray themselves in unhealthy excitement, anxiety, loss of appetite, depression and insomnia. The Emperor would not rest until he had that quack Badmaew.
(Diary of Maurice Paleologue: 6 Nov. 1916)

ترجمہ: ‘‘حالیہ چند مہینوں میں بادشاہ ذہنی بیماریوں کا شکار ہوگیا جس کے باعث اسے ذہنی تناؤ، دکھ کا سامنا رہا۔ اُس کی بھوک ختم ہوگئی اُسے پریشانی رہنے لگی اور نیند نہ آتی تھی۔ بادشاہ اُس وقت تک آرام نہ کرتا جب تک اُس جعلی (حکیم) Badmaew کو نہ مل لیتا۔’’

زار اور سیاسی افراتفری

زار کی حیثیت روسی سلطنت میں ایک ایسے حکمران کی طرح تھی جو اپنی رعایا پر سیاسی قانونی اور مذہبی طور پرمکمل اختیار رکھتا تھا ۔ اُس کو بہت مقدّس حیثیت دی جاتی تھی۔ لوگ اس کو خدا کا درجہ دیتے تھے اور گویا اس کی پوجا کرتے تھے مگر انیسویں صدی کے آخر میں کارل مارکس کے نظریہ اشتراکیت نے مقبولیت پکڑی اور آہستہ آہستہ روس کی سیاست کا رُخ بدل ڈالا۔ چنانچہ حکومت اور معاشرے سے مذہب کو بے دخل کرنے کی سازش شروع ہوئی۔ لوگوں کو مذہب اور خدا کی ہستی سے دُور لے جانے کی تدابیر کارگر ہونے لگیں تو مذہبی رہنما یعنی بادشاہ سے نفرت اس کا لازمی نتیجہ بنا۔

1881ء میں اس سے قبل زارِ روس الیگزینڈر اوّل ایک خودکُش حملہ میں دارالحکومت میں مارا جاچکا تھا۔ اشتراکیت کے حامی اپنی تحریک کو لے کر آگے بڑھے اور جنوری 1905ء میں مزدوروں اور کارکنوں نے اپنے حقوق کے لیے ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اس میں بادشاہ کے خلاف بھی آواز اٹھا ئی گئی۔ یہ لوگ دارالحکومت میں موجود بادشاہ کے محل میں جاکر ایک یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے فوج نے گولی چلادی جس کے نتیجہ میں سو کے قریب مظاہرین مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔

Tannenbergکے محاذ کے بعد رشیا کے قید ہونے والے فوجی

ملک میں فتنہ و فساد کی فضا نے پہلے سے غمزدہ بادشاہ کو مزید غمگین کردیا۔ جب بادشاہ کو خبر پہنچی کہ ملک کے طول و عرض میں فسادات کی وجہ سے حالات خراب ہیں اور لوگ پریشان ہیں تو اُس نے ایک خط میں اپنی والدہ کو اپنے اِس دکھ سے مطلع کیا۔ اس نے لکھا کہ معلوم ہوتا ہے بہت بڑا انقلاب آنے والا ہے کیونکہ حکومتی مشینری مفلوج ہوچکی ہے۔ ایسا لگتا ہے بہت بڑا طوفان آنے والا ہے۔ اس خط کا متن (Lyon M 1974) نے اپنی کتاب (Nicholas II, The Last Tsar) ‘‘نکولس دوم۔ آخری زار’’ میں شائع کیا تھا۔

ان حالات کے پیش نظر زار نے قانونی اصلاحات کی طرف توجہ کی مگر حالات مزید خرابی کی طرف جا رہے تھے کیونکہ مزدور پارٹی کے لوگ لینن کو اپنا لیڈر بناکر ملک سے بادشاہت اور مذہب کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ اسی دوران 1914ء میں پہلی عالمی جنگ چِھڑ گئی۔ روس کو اس جنگ میں داخل ہونے کی ضرورت نہ تھی مگر فرانس اور برطانیہ کے اتحادی ہونے کے باعث جرمنی، ہنگری اور آسٹریا کے خلاف روس نے اپنی فوجوں کو حملے کے لیے تیار کردیا۔

زار اور اُس کے خاندان کا المناک انجام

30جولائی 1914ء کو نکولس دوم زارِ روس نے فوجی کمان سنبھال لی اور اپنی فوجوں کو کُوچ کا حکم دے دیا۔ فوج اس اچانک حملہ کے لیے تیار نہ تھی اور اُن کے پاس مناسب راشن اور سامانِ جنگ بھی میسر نہ تھا۔ نتیجۃً جرمنی کے خلاف پہلے ہی حملے میں Tannenberg کی لڑائی میں روسی فوج کا مکمل صفایا ہوگیا اور بدقسمتی سے زارِ روس کے وہ تمام وفادار افسر مارے گئے جو اُس کی بادشاہت کو بچاسکتے تھے۔ اور اُسے مارل سپورٹ فراہم کرسکتےتھے۔ اب اُسے درست مشورے دینے والا کوئی نہ تھا۔ مؤرخیں کا خیال ہے کہ زارِ روس کے ایک ناتجربہ کار فوجی جرنیل ہونے کے ناتے اُس کے بہت سے احکامات نہ صرف غلط ثابت ہوئے بلکہ لاکھوں فوجیوں اور عوام کی موت سے خون کی ندیاں بہ گئیں ۔ دوسری جانب خوراک کی کمی اور انتہائی سردی کے باعث بے شمار خلقت اور فوجی سسک سسک کر مر گئے۔ روس اور اردگرد کے ممالک میں بہت بڑی تباہی قیامت کا نظارہ پیش کر رہی تھی۔ ‘‘چرند پرند خوفزدہ اور انس و جن مضمحل’’ ۔ عوام اور حکومت کے سرکردہ افراد جرمنوں کے خلاف روس کی عبرت ناک شکست کا ذمہ دار زار کو ہی ٹھہراتے تھے اور اس کی مقبولیت میں مزید کمی واقع ہو گئی۔ چنانچہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران لینن کی پارٹی Bolsheviks نے زار کو ختم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ۔

ان ایام میں زار روس کی ‘‘حالتِ زار’’ کو مختلف کتب میں بیان کیا گیا ہے جو کہ دارالحکومت سے دُور ، اپنے خاندان سے جُدا ، اپنے عوام سے لاتعلق کسمپرسی کی حالت میں پریشانی میں مبتلا اپنے ملک کی تباہی پر غمگین اور اپنے اقتدار کو رخصت ہوتا دیکھ رہا تھا۔ اُس بے چارے کو خبر نہ تھی کہ اس کے اپنے دارالحکومت میں اس کا اور اُس کے خاندان کا کیا انجام ہوگا۔ اس کو شاید اس بات کا بھی اندازہ نہ تھا کہ اُس کے اور اُس کی بیوی کے خلاف Rasputinکی وجہ سے کون سی آگ لگائی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ایک دن خبر آئی کہ Rasputinکو شاہی خاندان کے افراد نے ہی موت کے گھاٹ اُتار دیاہے ۔

2 مارچ 1917ء کو نکولس دوم زارِ روس نے فیصلہ کیا کہ وہ تخت شاہی سے دستبردار ہوجائےگا۔ وہ جانتا تھا کہ Alexei کو بادشاہت کے لیے نامزد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ haemophilia کا مریض ہونے کی وجہ سے اُس کی زندگی کا بالکل بھروسہ نہ تھا۔ چنانچہ اُس نے ایک فرمان جاری کیا جس کے مطابق وہ ان حالات میں اپنے آپ کو روس کا نظم و نسق چلانے کے قابل نہیں سمجھتا اور تخت وتاج ِروس سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ نیز اس نے اپنے چچازاد بھائی ڈیوک مائیکل کو بادشاہ کے طور پر نامزد کیا۔ …… مگر افسوس کہ باغیوں نےاس بیان کو منظرعام پر نہ آنے دیا جو پہلے سے ہی اس خاندان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا منصوبہ تیار کرچکے تھے۔ زار کی ڈائری کا وہ صفحہ بھی لندن میوزیم میں رکھا گیا ہےجس میں لکھا ہے:

«All around are treachery, cowardice deceit»
(Diary of Nicholas II on the day of abdiction. 2 March 1917)

ترجمہ: ہر طرف غداری، دھوکہ اور بزدلی ہے۔

ان حالات کے پیش نظر زار نے درخواست کی کہ اُسے سیاسی پناہ لینے کے لیے برطانیہ بھیج دیا جائے مگر جنگ کے حالات کے پیش نظر یہ ممکن نہ ہوسکا۔ زار نے اَور ممالک میں سیاسی پناہ لینا چاہی مگر نہ تو کسی ملک نے اس پر آمادگی ظاہر کی اور نہ ہی روس کی باغی قوتوں نے اس بات کی اجازت دی۔
چند سال قبل دنیا کے سب سے بڑے ملک کی عوام، اس کی سلطنت اور اس کے مذہبی حلقوں کا مطلق العنان سربراہ زار روس کبھی اتنا بے بس اور بے یارومددگار ہوجائے گا دنیا اس کا تصوّر بھی نہ کرسکتی تھی۔ جنگ کے پیش نظر دنیا روس کے اندرونی حالات اور زار کی ‘‘حالتِ زار’’سے واقف نہ تھی۔ لیکن عالم الغیب خدا نے اپنے سچے مسیح اور مہدی کواس وقت سے بہت پہلے نہ صرف اس عظیم جنگ کی تباہ کاریوں اور قیامت خیز حالات کی خبر دے رکھی تھی بلکہ زار کی ‘‘حالتِ زار’’سے بھی مطلع کیا ہوا تھا۔
اکتوبر 1917ء میں اشتراکیت (Bolsheviks)کے آنے سے قبل ہی 22 مارچ 1917ء کو زار روس اور اُس کے بیوی بچوں کو گرفتار کرکے الیگزینڈر محل میں قید کردیا گیا اور اس کے بعد Tobolk شہر میں منتقل کردیا گیا جہاں وہ اگست 1917ء سے اپریل 1918ء تک ایک گھر میں محصور رکھے گئے۔ اس بات سے زار اور اُس کے بیوی بچوں کی لاچاری اور بے بسی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ اس دوران فوجی اُن کو مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ زار اور اُس کے خاندان کو کم از کم آٹھ جگہوں میں لے جایا گیا جن میں یہ شہر شامل ہیں: Perm, Tiumen-Mosc, Osmk اور Chelyabinsk وغیرہ۔

Tsarevich Alexei Nikolaievich

مئی 1918ء میں نکولس زار، اُس کی بیوی الیگزینڈرا اور بیٹی ماریا کو Yekaterinburgمنتقل کردیا گیا جبکہ Alexei کو شدید بیماری کی وجہ سے اُس کی تین بہنوں کے ساتھ Tobolsk میں ہی رہنے دیا۔ اپنے لاڈلے بیٹے کی بیماری میں اس سے دور رہتے ہوئے زار اور اُس کی بیوی کس اذیت سے گزر رہے ہوں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ زار کو اب Ipatiev House میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ ایک منصوبہ کے تحت مئی میں Alexei اور اُس کی تینوں بہنوں کو بھی یہاں لایا گیا۔ اکتوبر 1917ء کے انقلاب کے بعد Bolsheviks یعنی روس کی اشتراکی سیاسی پارٹی (Marxist Russian Social Democratic Labour Party) نے حکومت پر قبضہ کرلیا اور ان کا اوّلین مقصد لینن کے مطابق رومانو وخاندان (Romanovs) کا فیصلہ کرنا تھا۔ چونکہ لینن مارکس کے نظریہ کا حامی تھا اور مذہب کے خاتمہ کا خواب لے کر اُٹھا تھا اس لیے بادشاہت کا مکمل طور پر خاتمہ ضروری سمجھتا تھا۔
16؍ جولائی 1918ء کو زار اور اُس کا خاندان Bolsheviks کے قبضہ میں تھے جو کہ پہلے ہی اس ‘‘گھر’’Ipatiev House کے تہ خانہ میں بند تھے اور کئی مہینوں سے اذیت ناک زندگی گزار رہے تھے۔
25؍ جولائی 1918ء کوجب Bolsheviks کی مخالف پارٹی نے شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا تو ‘‘گھر’’خالی تھا! زار کے حامی حیران تھے اور پریشان بھی کہ زار اور اُس کا خاندان آخر کدھر گیا؟ اُن کو کہاں لے جایا گیا؟ وہ زندہ بھی ہیں یا مارے گئے۔ کیا سب لوگوں کو قتل کر دیا گیا ؟ اگر ایسا ہے تو اُن کے مردہ جسم کہاں دفن کر دیے گئے؟ ان سب سوالوں کے جواب میں ان کے ہاتھ چند مفروضوں اور شکوک و شبہات کے علاوہ اور کچھ نہ آیا۔

Uralصوبہ کی حکومت نے اس معمہ کو حل کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم کو مقرر کیا۔ ‘‘گھر’’سے شواہداور ثبوت اکٹھےکیے گئے۔ تصاویر لی گئیں (جن میں سے بہت سی تصاویر لندن میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں)

آخر کار تحقیق کا کام Nikolai Sokolov کے سپرد کیا گیا جس نے اپنی رپورٹ کو مکمل کیا اور فرانس جا کر 1920ء میں اس پر کتاب The Murder of the Tsar Family (زار خاندان کا قتل) لکھی۔یہ کتاب Sokolov کی وفات کے ایک سال بعد شائع کی گئی۔

روس کی حکومت نے 1926ء میں یہ اعلان تو کر دیا کہ زار اور اُس کے سارے خاندان کو قتل کر دیا گیا تھا لیکن اس بارہ میں کچھ نہ بتایا کہ یہ سب کس نے کیا یا کس کے ایما پر ہوا اور نہ ہی اُن کی قبروں کے بارہ میں کوئی معلومات دی گئیں۔ کسی کو اس بارہ میں سوالات پوچھنے کی بھی جرأت نہ ہوئی۔ چنانچہ ان تفصیلات کے بارہ میں صرف Sokolov کی تحقیقاتی رپورٹ ہی جوابات پیش کرسکتی تھی۔

زار اور اُس کے خاندان کے قتل کی واردات اور تفصیل ہمیشہ کے لیے ماضی کے اندھیروں میں دفن کر دی گئی ۔ جب 1991ء میں روس کے ٹکڑے ہو گئے تو برطانوی حکومت کے مطالبے پر پھر سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور معلوم ہوا کہ زار اور اس کے خاندان کو نہایت بے دردی اور سفّاکی سے 17؍ جولائی 1918ء کو Ipatiev House کے تہ خانے میں قتل کر دیا گیا تھا جہاں اُن کو 30؍ اپریل سے قید کر کےرکھا گیا تھا۔ اُسی دن زار کے قریبی ساتھیوں بشمول ڈاکٹر Eugene اور شاہی خاندان کے 65؍ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ان کی قیمتی اشیاء چوری کر لی گئیں اور ان کے مردہ جسموں کو ضائع کرنے کے لیے 750 لٹر مٹی کا تیل اور 180 کلوگرام تیزاب استعمال کیا گیا تا کہ ان کا کوئی نشان بھی باقی نہ رہے۔ لندن سائنس میوزیم میں آجکل (مارچ 2019ء میں) بہت سی تصاویر اور تاریخی حقائق و شواہد پر مبنی ایک نمائش لگائی گئی ہے جہاں یہ سب معلومات موجود ہیں۔

بعض لوگوں کے مطابق 1979ء میں اور بعض کے مطابق جولائی 1991ء میں بہت تلاش کے بعد ایک متروکہ کان کے قریب جنگل میں زمین کی کھدائی کے دوران بعض ہڈیاں تلاش کر لی گئیں جن کے سائنسی جائزہ اور DNA identification کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ہڈیاں زار، زارینہ اور اس کی تین بیٹیوں کی ہیں جن کو پھر وہاں سے سینٹ پیٹرزبرگ شہر کے پیٹر اور پال چرچ کے قریب واقع سینٹ کیتھرین چرچ میں منتقل کر دیا گیا ۔2007ء میں Alexei اور اُس کی بہن کی ہڈیاں بھی مل گئیں۔

18؍ جولائی 1998ء کو صدر بورس ایلسن (Boris Yelsin) نے کہا تھا کہ زار اور اُس کے خاندان کا قتل روس کی تاریخ کا شرمناک ترین واقعہ ہے۔

24؍ دسمبر 2015ء کو BBC نے خبر دی کہ روسی عدالت زار اور اُس کے خاندان کے سفاکانہ قتل کے ذمہ دار افراد کے خلاف پھر سے تحقیق کرے گی اور مزید حقائق منظرِ عام پر لائے جائیںگے۔

یہ حقیقت ہے کہ زار اور اس کے خاندان کا قتل ایک بہت المناک قصہ ہے جس کو تاریخ یاد رکھے گی اور دہراتی رہے گی۔ جو لوگ لندن میوزیم میں اس تاریخ کو پڑھتے ہیں وہ افسوس کرتےہوئے غمزدہ کیفیت میں باہر آتے ہیں۔

مگرہم اس کو ایک اَور نقطۂ نظر سے بھی دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح و مہدی آخر الزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کراپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم کے آخر پر منظوم مناجات کی صورت میں دنیا کے آئندہ حالات و واقعات کی بابت پیشگوئیاں کر رکھی تھیں۔ ایسی پیشگوئیوں کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ جس خدا نے اپنے پیارے کو مستقبل کی خبریں اس قدر واضح رنگ میں دے دیں، اسی خدا نے اس بندے کو اپنی تائید ات کے ساتھ بھیجا ہے۔ پس دنیا کو چاہیے کہ اس کی باتوں کو توجہ سے سنیں، اس پر ایمان لائیں اور اپنی نجات کے سامان کریں۔ یقینًا جنگِ عظیم کا ہونا اور پھر اس کے بعد زارِ روس کی حالت زار بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر ایک مہرِ تصدیق ہے؎

اِک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوفِ کردگار
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
یک بہ یک اک زلزلہ سے سخت جُنبش کھائیں گے
کیا بشر اور کیا شجر اور کیا ہجر اور کیا بحار
اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیر و زبَر
نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آبِ  رُود بار
ہوش اڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس
بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار
ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی
راہ کو بھولیں گے ہوکر مست و بیخود راہوار
مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جنّ و انس
زار بھی ہو گا تو ہو گا اُس گھڑی باحالِ زار

٭٭٭٭٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button