تعارف کتاب

‘‘نورِ ہدایت’’

تعداد صفحات:1200
شائع کردہ: اسلام انٹرنیشنل پبلیکیشنز

18؍ مئی 1996ء کو ہیمبرگ(جرمنی) میں واقفینِ نَو بچوں اور بچیوں کی ایک کلاس حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس کلاس کے دوران حضور رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا کہ اذان کے بعد کی دعا کس کو آتی ہے تو سوائے ایک آدھ کے کسی کو بھی یہ دعا یاد نہیں تھی اور اس کا ترجمہ بھی کسی کو نہیں آتا تھا۔ حضور رحمہ اللہ نے اچھی طرح سمجھا کر اذان کے بعد کی دعا اور اس کا ترجمہ سکھایا اور تاکید فرمائی کہ آپ نظمیں یا دعائیں جو کچھ بھی یاد کریں اس کے ترجمہ و مفہوم کو بھی اچھی طرح یاد کریں۔ اسی تسلسل میں آپؒ نے یہ بھی فرمایا کہ

‘‘بچوں کو خصوصیت سے اور بڑوں کو بھی وہ آیتیں یاد کرنی چاہئیں جن کی نمازوں میں تلاوت کرتا ہوں اور اکثر مَیں فجر، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں بدل بدل کر تلاوت کرتا ہوں۔’’

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ

‘‘یہ آیتیں جو مَیں نے چُنی ہیں کسی مقصد کے لئے چُنی ہیں۔ اگر ان کا ترجمہ آتا ہو تو اس کا دل پر اثر پڑے گا۔ اگر مطلب نہ آتا ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔’’

اسی طرح حضور رحمہ اللہ نے تاکیدی ہدایت فرمائی کہ

‘‘جو سورت تلاوت کریں اس کا ترجمہ ضرور آنا چاہیے۔ ترجمہ کو غور سے پڑھیں اور یاد کریں اور اتنا یاد کریں کہ اِدھر تلاوت ہو رہی ہو اور اُدھر آپ کے دل میں اس کا مضمون اتر رہا ہو حتیٰ کہ آپ کا دل قرآن کی عظمت سے بھر جائے۔’’

(الفضل انٹرنیشنل 7 تا 13 جون 1996ء صفحہ 9)

اپریل1997ءمیں لجنہ اماء اللہ مقامی ربوہ نے حضور رحمہ اللہ کی نمازوں میں تلاوت فرمودہ آیات کو یکجا کر کے مع ترجمہ شائع کیا۔ 2015ء کے آخر پر انہوں نے اس کا دوسرا ایڈیشن تیار کیا جس کے آغاز میں ایک تحقیقی اور معلوماتی نوٹ بھی شامل کیا گیا جس میں اُن آیات و سُوَرِ قرآنی کی تفصیل درج کی گئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ  المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ، حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ جہری تلاوت والی نمازوں میں تلاوت فرماتے تھے۔ اسی طرح جو آیات و سُوَر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نمازوں میں تلاوت فرماتے ہیں ان کی تفصیل بھی درج کی گئی ۔

حضورِ انو رایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت سے یہ تحقیقی نوٹ اس کتاب میں بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت پر وہ تمام آیات و سُوَرِ قرآنی جن کی حضورِ انور ایدہ اللہ جہری تلاوت والی نمازوں (یعنی فجر، مغرب، عشاء اور جمعہ) میں تلاوت فرماتے ہیں ان کا عربی متن مع ترجمہ اور اسی طرح ان کی مختصر تشریح و تفسیر کو شامل کیا گیا ہے تا کہ افرادِ جماعت جب ان آیات و سُوَر کی تلاوت کریں یا سنیں تو ان کے مضامین بھی ان کے پیشِ نظر رہیں اور ان کے دل قرآن کی عظمت سے بھر جائیں۔

اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظلّ کامل اور آپؐ کے عظیم روحانی فرزند حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس لئے مبعوث فرمایا کہ تا تعلیماتِ حقّہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرماوے۔ حضور ؑ فرماتے ہیں:

‘‘خداوند تعالیٰ نے اس احقر العباد کو اس زمانہ میں پیدا کر کے اور صدہا نشانِ آسمانی اور خوارق غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صدہا دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تا تعلیماتِ حقّہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرماوے اور اپنی حجت ان پر پوری کرے۔’’

(براہینِ احمدیہ۔ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ596حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)

اسی طرح آپؑ نے فرمایا:

‘‘جاننا چاہئے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآنِ شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر ایک اہلِ زبان پر روشن ہو سکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہو ملزم و ساکت و لاجواب کر سکتے ہیں، وہ غیرمحدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اُس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلّح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں… کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق اپنے اندر رکھتا ہے۔ جو شخص قرآنِ شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔ … قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفۂ فطرت کے عجائب و غرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صُحُفِ مطہّرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔’’

اسی طرح فرمایا:

‘‘قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں۔ اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ … یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن شریف کے ایک معنے کے ساتھ اگر دوسرے معنے بھی ہوں تو ان دونوں معنوںمیں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہدایت قرآنی میں کوئی نقص عائد حال ہوتا ہے۔ بلکہ ایک نور کے ساتھ دوسرا نور مل کر عظمتِ فرقانی کی روشنی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ اور چونکہ زمانہ غیر محدود انقلابات کی وجہ سے غیر محدود خیالات کا بالطّبع محرّک ہے لہٰذا اس کا نئے پیرایہ میں ہو کر جلوہ گر ہونا یا نئے نئے علوم کو بمنصّۂ ظہور لانا، نئے نئے بدعات اور محدثات کو دکھلانا ایک ضروری امر اس کے لئے پڑا ہوا ہے۔… قرآن بِلا رَیب غیر محدود معارف پر مشتمل ہے اور ہریک زمانہ کی ضرورات لاحقہ کا کامل طور پر متکفّل ہے۔’’

(ازالۂ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 255 تا 264)

الغرض قرآن مجید اور احادیث نبویہ ؐکی پیشگوئیوں کے مطابق تمکنتِ دین اسلام اور تعلیماتِ حقّہ قرآنی کی اشاعت وترویج کے لئے اِس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ چنانچہ آپؑ اور آپؑ کے بعد آپؑ کے خلفائے کرام ہی وہ مقدّس اور مبارک وجود ہیں جن کے ذریعہ سے تعلیمِ کتاب و حکمت اور اشاعتِ نورِ ہدایتِ قرآنی کا کام ساری دنیا میں جاری ہے۔ اس لئے ان آیات و سُوَرِ قرآنی کی تشریح و تفسیر کے لئے اِنہیں مطہّر و مقدّس وجودوں کی بیان فرمودہ تفاسیر سے استفادہ کیا گیا ہے۔ حقائق و معارف قرآنی پر مشتمل جواہرات کے یہ خزانے اپنے حسن و رعنائی اور چمک دمک میں بے نظیر اور اپنی وسعت و گہرائی میں بیکراں اور لازوال اور لامتناہی ہیں۔ اور ضرورتِ زمانہ اور اقتضائے حال کے مطابق ان کا ظہور ہوتا چلا جاتا ہے۔ان پاک وجودوں کی بیان فرمودہ آسمانی اور نورانی تفسیر القرآن کے ہزار ہا صفحات پر مشتمل مواد میں سے یہ انتخاب محض بطور نمونہ کے ہے۔

امید ہے کہ اس کا مطالعہ افرادِ جماعت کے دلوں میں نہ صرف قرآن کریم کی محبت اور اس کے عرفان میں اضافہ کا موجب ہو گا بلکہ ان کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفائے کرام کے فرمودات اور تحریرات کے بالاستیعاب مطالعہ اور تدبّر قرآن اور فہم وتعلیمِ قرآن کے لئے ایک ذوق اور شوق پیدا ہو گا اور وہ انوارِ قرآنی سے اپنے قلوب و اذہان اور اپنے وجودوں کو منوّر کر کے اس نورِہدایت کو آگے پھیلاتے ہوئے خیر الرُّسُل ، خاتم الانبیاء حضرت اقدس محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نہایت ہی مبشّر و مبارک نوید کا مصداق بننے کی ہر ممکن سعی کریں گے جس میں آپؐ نے اپنی اُمّت سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا تھا کہخَیْرُکُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَ عَلَّمَہٗ یعنی تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو پہلے خود قرآن سیکھے اور پھر دوسروں کو بھی سکھائے۔

اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔

………………………………………………

اس کتاب کے حصول کے لئے اپنے ملک کے مرکزی شعبہ اشاعت سے رابطہ فرمائیں۔

نیشنل سیکرٹریان اشاعت /امراء جماعت اپنے آرڈرز ایڈیشنل وکالت اشاعت (ترسیل) کو بھجوا سکتے ہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button