متفرق مضامین

الفت و مودّت: عائلی زندگی کا جزوِ لا یَنْفَکّ

تقریر جلسہ سالانہ جرمنی2018ء

وَ مِنْ اٰیٰتِہٖ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْا اِلَیْہَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (الروم :22)

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔‘‘اس کے نشانات میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس میں سے جوڑے بنائے تا کہ تم ان کی طرف تسکین حاصل کرنے کے لیے جاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی یقیناً اس میں ایسی قوم کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں بہت سے نشانات ہیں۔’’

دنیا میں کئی قسم کے مدرسے ہیں جہاں انسان تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ لیکن ایک مدرسہ ایسا بھی ہےجہاں محبت کی زبان میں عشق اور پھر ترقی کرتے ہوئے عشقِ الٰہی کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ اور اگر اس مدرسے میں پڑھنے والے اس سبق کو اچھی طرح یاد کر لیں اور اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو محبتِ الٰہی کے وارث بنتے ہیں ۔

اس مدرسے کا عرفان عطا فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔

‘‘شادیوں کا معاملہ محبت کی بنیاد کے قیام کے لیے ہے میاں بیوی کی محبت در حقیقت خدا ہی کی محبت کا ظِل ہے ۔شادی ایک مدرسہ ہے جہاں خدا تعالیٰ کے عشق کا سبق پڑھایا جاتا ہے… اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلقات کو اپنی محبت کا ایک نشان قرار دیا ہے… غرض ماں باپ کی محبت خداتعالیٰ کی محبت کا ایک ظل ہے، بیوی کی محبت بھی خداتعالیٰ کی محبت کا ظل ہے اور اولاد کی محبت بھی خداتعالیٰ کی محبت کا ایک ظل ہے… گویا یہ تینوں ایک درس گاہ ہیں جن میں انسان اللہ تعالیٰ کی محبت کا سبق سیکھتا ہے اور دوسروں کو سکھاتا ہے۔

(خطبات محمود جلدسوم صفحہ 376 )

دین اسلام نے عائلی زندگی میں الفت و مودت پیدا کرنے کے نہایت ہی پیارے اصول ہمارے لیے اس آیتِ کریمہ میں بیان فرما دیے ہیں ۔ان اصولوں پر چل کر ایک مومن اپنی عائلی زندگی کو خوشحال ، صحتمند اور جنت نما بنا سکتا ہے۔

معاشرتی زندگی کا آغاز دراصل ایک گھر کے آغاز سے ہوتا ہے ۔عائلی زندگی کے بارہ میں قرآنِ کریم کی تعلیم اپنے اندر وہ قوت اور طاقت رکھتی ہے جس پر عمل کے نتیجہ میں عائلی زندگی جنت نظیر معاشرہ میں بدل جاتی ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

‘‘ شادی کے بعد مَودّت اور رحمت کا مضمون ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے اور ایسا ماحول قائم کرنا چاہیے کہ مرد عورت کے لیے محبت اور رحمت کا سرچشمہ ثابت ہو اور عورت مرد کے لیے محبت اور رحمت کا سرچشمہ ثابت ہو۔’’

(از خطاب مستورات جلسہ سالانہ برطانیہ 26 جولائی 1986ء)

نیز فرمایا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان گہری محبت اور رحمت کا رشتہ قائم فرما دیا ہے اور یہ رشتہ دونوں طرف سے ہے…بینکم فرمایا ۔یعنی وہ بچے جو میاں بیوی کے تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں وہ بھی آپس میں محبت اور رحمت کے تعلقات سے زندگی بسر کریں اور سارے معاشرے کے لیے یہ پیغام ہے کہ عائلی زندگی میں مودت اور رحمت کو اختیار کرو۔’’(خطبہ جمعہ مورخہ 16 اپریل 1993ء ۔الفضل 14 جون 1993 ء)

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، اتباعِ رسول ﷺ

ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے اور فرمایا کہ اگر تم میری محبت چاہتے ہو تو آنحضرت ﷺ کی اتباع کرو۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ‘‘ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک میں بہتر ہے اور مَیں تم میں سب سے بڑھ کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔’’

فرمایا:‘‘ نیک عورت سے بہتر دنیا کی کوئی چیز نہیں’’(ابن ماجہ) جو عورت اپنے گھر میں وقار سے رہتی ہو اور اپنے خانگی فرائض ادا کر رہی ہو اس کو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کا اجر دیا جاتا ہے (ابن کثیر زیر آیت و قرن فی بیوتکن)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

‘‘سب سے حسین معاشرے کی جنت جو نازل ہوئی وہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے میں نازل ہوئی۔آپؐ نے بہترین اسوہ ہر آنے والی نسل کے لیے پیچھے چھوڑا۔خواتین مبارکہ سے آپ کا کیا سلوک تھا ،آپ کیسے گھر میں رہتے تھے،کس طرح ان کے حقوق کا خیال رکھتے تھے، کس طرح حقوق سے بڑھ کر ان پر التفات فرمایا کرتے تھے یہ وہ زندہ نمونے ہیں جو دنیا کی نظر سے اوجھل ہو چکے ہیں اور یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ بہت سے احمدی گھروں کی نظر سے بھی اوجھل ہو چکے ہیں۔’’

(اوڑھنی والیوں کے لیے پھول جلد 2 صفحہ 21 )

آنحضرت ﷺ کی عائلی زندگی میں سے الفت و مودت کے چندپاکیزہ اور خوبصورت نمونے آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

حضرت عائشہؓ کی شہادت گھریلو زندگی کے بارے میں یہ ہے کہ آپ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ نرم خو تھے اور سب سے زیادہ کریم ۔عام آدمیوں کی طرح بلا تکلف گھر میں رہنے والے۔ آپ ﷺ نے کبھی تیوری نہیں چڑھائی، ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے ۔ساری زندگی آپ ﷺ نے اپنی کسی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔(شمائل ترمذی باب ما جاء فی خلق رسول اللہ)

نیز فرمایا :‘‘آپ ﷺ جتنا وقت گھر پر ہوتے تھے گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو نماز کا بلاوا آتا اور آپ ﷺ مسجد میں تشریف لے جاتے۔(بخاری کتاب الادب باب کیف یکون الرجل فی اھلہ)

یہ ہے عائلی زندگی میں الفت و مودت کو بڑھانے کا عملی نمونہ جو ہمارےپیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے پیش فرمایا کہ جب تک گھر میں موجود رہتے اپنے بیوی بچوں کو بھرپور وقت اور توجہ سے نوازتے۔

نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر اپنی اہلیہ حضرت صفیہؓ کے ساتھ وہ الفت و مودت کا سلوک کیا کہ انسان کا اس پیار پر قربان ہونے کے لیے دل کرتا ہے۔ جنگ خیبر سے واپسی پر صحابہؓ نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ اونٹ پر آپ ﷺ حضرت صفیہؓ کے لیے خود جگہ بنا رہے ہیں۔وہ جُبہ جو آپ ﷺ نے پہنا ہوا تھا اتار کر تہہ کر کے بیٹھنے کی جگہ پر رکھا ۔پھر سوار کراتے وقت اپنا گھٹنا ان کے آگے جھکا دیا اور فرمایا اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہو جاؤ ۔( بخاری)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

‘‘آنحضرت ﷺ کے اسوہ کو اپنائیں۔آپؐ گھر میں کیسا پیارا سلوک فرمایا کرتے تھےحضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں‘‘بعض اوقات حضرت عائشہؓ کے ساتھ دوڑتے بھی ہیں۔’’

اب کوئی سوچ سکتا ہے آج کے زمانے میں کہ اس طرح بیویوں کے ساتھ دوڑ لگائے۔مگر آنحضرت ﷺ بہت سادہ اور بے تکلف تھے۔۔۔‘‘ایک مرتبہ آپؐ آگے نکل گئے اور دوسری مرتبہ خود نرم ہو گئے ۔’’تا عائشہ آگے نکل جائیں اور وہ آگے نکل گئیں۔’’(خطبہ جمعہ 21 جنوری 2000 ء)

رسولِ کریم ﷺ ایک مثالی شوہر تھے آپﷺ سراپا محبت تھے آپﷺ نے اپنی ازواج سے محبت کی اور انہیں محبت کرنا سکھائی۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ بعض دفعہ مجھے چوسنے والی ہڈی دیتے اور میں چوستی تو پھر مجھ سے لے کر اسے اس جگہ سے چوستے جہاں پر میرا منہ لگا ہوتا۔آپﷺ مجھے برتن دیتے تو میں اس سے پیتی ۔پھر رسول کریم ﷺ اسی جگہ سے برتن کو منہ لگا کر پیتے جہاں میرا منہ لگا ہوتا۔’’

( مسند احمد بن حنبل الجزءالسادس صفحہ24)

اسی طرح آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات بھی نبی کریم ﷺ کے ہر قسم کے آرام کا خیال فرماتیں اور ہر طرح سے آپ کی خدمت کرتیں ۔اور آپؐ سے عشق کی حد تک پیار کرتی تھیں ۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:

‘‘عائشہؓ کا رسول کریمﷺ سے عشق اور محبت کا پتہ لگانا ہو تو اس بات پر غور کرو کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر 19 سال یا 21 سال کی ہوگی… ساری عمر انہوں نے رسول کریم کی محبت اور یاد میں گزار دی۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپؓ کوئی چیز نہ کھاتی تھیں کہ رسول کریم ﷺ کو یاد کر کے آپ کی آنکھوں سے آنسو نہ نکل آتے ہوں…’’(خطبات محمود جلد سوم صفحہ 270 )

آنحضور ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ ؓآپؐ کی وفات کے بعد پچاس سال زندہ رہیں۔

‘‘اپنی وفات سے قبل انہوں نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے درخواست کی کہ جب میں مر جاؤں تو مکہ کے باہر ایک منزل کے فاصلہ پر اس جگہ جس جگہ رسول کریم ﷺ کا خیمہ تھا اور جہاں شادی کے بعد پہلی بار آپؐ سے ملی تھی وہاں میری قبر بنائی جائےاور اس میں مجھے دفن کیا جائے۔دنیا میں سچے نوادر بھی ہوتے ہیں اور قصے کہانیاں بھی۔لیکن کوئی واقعہ اس گہری محبت اور اس کے اتنے خوبصورت اظہار سے زیادہ پُر تاثیر ہو سکتا ہے؟’’

(نبیوں کا سردار صفحہ 178۔179 از حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ؓ)

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، حضرت مسیح موعودؑ کا پاک نمونہ

حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:‘‘عورتوں کے لیے خدا کا وعدہ ہے کہ اگر وہ اپنے خاوندوں کی اطاعت کریں گی تو خدا ان کو ہر بلا سے بچاوے گا اور ان کی اولاد عمر والی ہو گی اور نیک بخت ہوگی۔’’

(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ النساء جلد دوئم صفحہ 237)

آنحضورؐ کے عاشقِ صادق حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت اماں جانؓ کی ازدواجی زندگی الفت و مودت اور بہشت کا نمونہ تھی۔ دونوں میاں بیوی کامل محبت و یگانگت کا ایک بے نظیر نمونہ تھے۔ ایک مثالی جوڑا تھا جن میں دوئی مٹ چکی تھی اور ایسے ہو گئے تھے جیسے ایک سینے میں دو دل دھڑک رہے ہوں۔ یہ سب اس لیے تھا کہ حضرت مسیح موعودؑ حضرت اماں جانؓ کی بہت خاطر داری کرتے تھے اور دوسری طرف حضرت اماں جانؓ بھی دل و جان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر فدا تھیں۔ اس طرح اس مقدس جوڑے کی باہمی الفت و مودت نے ایک ایسے گھرانے کو جنم دیا جو خدا کے فضلوں کا مورد بنا۔

حضرت صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب مرحوم اپنے ایک مضمون میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ؓ سے روایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘‘میں نے اپنے ہوش میں نہ کبھی حضور کو حضرت(اماں جانؓ) سے ناراض دیکھا نہ سنا۔ بلکہ ہمیشہ وہ حالت دیکھی جو ایک آئیڈیل جوڑے کی ہونی چاہیے۔’’

(سیرت حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ صفحہ 231۔ روزنامہ الفضل ربوہ 19 مئی 2010 ء صفحہ 2)

اگر ہم میں سے ہر ایک ان واقعات میں بیان حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت اماں جان ؓکے نمونہ پر چلے تو ہماری عائلی زندگی بھی الفت و مودت کا گہوارہ بن سکتی ہے۔

حضرت اماں جانؓ فرماتی ہیں:‘‘میں پہلے پہل جب دلی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ گڑ کے میٹھے چاول پسند فرماتے ہیں چنانچہ میں نے بہت شوق اور اہتمام سے میٹھے چاول پکانے کا انتظام کیا۔ تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چار گنا گڑ ڈال دیا سو وہ بالکل راب سی بن گئی۔جب پتیلی چولہے سے اتاری اور چاول برتن میں نکالے تو دیکھ کر سخت رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہو گئے۔ ادھر کھانے کا وقت ہو گیا تھا حیران تھی کہ اب کیا کروں ۔اتنے میں حضرت صاحب آگئے۔ میرے چہرہ کو دیکھا جو رنج اور صدمے سے رونے والوں کا بنا ہوا تھا۔ آپؑ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے؟ پھر فرمایا۔ نہیں! یہ تو بہت اچھے ہیں میرے مزاج کے مطابق پکے ہیں ۔ایسے زیادہ گڑ والے ہی تو مجھے پسند ہیں۔ یہ تو بہت ہی اچھے ہیں اور پھر بہت خوش ہو کر کھائے۔ حضرت اماں جانؓ فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب ؑنے مجھے خوش کرنے کی اتنی باتیں کہیں کہ میرا دل بھی خوش ہو گیا’’

(سیرت حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ صفحہ 225 ۔ روزنامہ الفضل ربوہ 19 مئی 2010 ء صفحہ 3 )

اس فقرے کو ہمیں بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیےکہ ‘‘حضرت صاحبؑ نے مجھے خوش کرنے کی اتنی باتیں کہیں کہ میرا دل بھی خوش ہو گیا’’۔ہمیں بھی اپنے جیون ساتھی کی کمزوری پر طعنے دینے کی بجائے دلداری کرنی چاہیے تا کہ اس کا رنج اور غم خوشی میں تبدیل ہو جائے۔ نیز میاں بیوی کو ایک دوسرے کی پسند اور نا پسند کا بھی پتہ ہونا چاہیے اور ہر ایک یہ کوشش کرے کہ اپنے ساتھی کی پسند کو ترجیح دے۔ ایک دوسرے کو خوش کرنے کے مواقع بھی تلاش کرتے رہنا چاہیے تا کہ سکینت کے سامان پیدا ہوسکیں۔ اس سے ہماری عائلی زندگی میں بھی الفت و مودت پیدا ہوگی۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

دیکھ لو مِیل و محبت میں عجب تاثیر ہے
ایک دل کرتا ہے جھک کر دوسرے دل کو شکار
تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں
تیراندازو نہ ہونا سست اس میںزینہار

(درثمین اردو صفحہ 162 )

میاں بیوی اگر تقویٰ کی راہوں پر چلیں تو ان کا تعلق سچے عشق میں تبدیل ہو جاتا ہے اس کا ذکر حضرت مسیح موعودؑ اپنے ایک تعزیتی خط میں جو حضور نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب ؓکو ان کی پہلی بیگم کی وفات پر لکھا تھا تحریر فرمایا:

‘‘میاں بیوی کا علاقہ ایک الگ علاقہ ہے جس کے درمیان اسرار ہوتے ہیں۔ بیوی میاں ایک ہی بدن اور ایک ہی وجود ہو جاتے ہیں ۔ ان کو صدہا مرتبہ اتفاق ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جگہ سوتے ہیں وہ ایک دوسرے کا عضو ہو جاتے ہیں۔ بسا اوقات ان میں ایک عشق کی سی محبت پیداہو جاتی ہے … یہی وہ تعلق ہے جو چند ہفتہ باہر رہ کر آخر فی الفور یاد آتا ہے۔ ایسے تعلق کا خدا نے باربار ذکر کیا ہےکہ باہم محبت اور انس پکڑنے کا یہی تعلق ہے۔بسا اوقات اس تعلق کی برکت سے دنیوی تلخیاں فراموش ہو جاتی ہیں۔یہاں تک کہ انبیاء علیھم السلام بھی اس تعلق کے محتاج تھے۔جب سرورِ کائنات ﷺبہت ہی غمگین ہوتے تھےتو حضرت عائشہؓ کی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے تھے کہ ارحنا یا عائشہ یعنی اے عائشہ ہمیں خوش کر کہ ہم اس وقت غمگین ہیں۔’’(الحکم 3 ستمبر 1903ء)

حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت اماں جانؓ کا باہمی مودت، احترام اور محبت کا رشتہ تھا حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ بیان کرتی ہیں:

‘‘ ایک بار مجھے یاد ہے حضرت والدہ صاحبہؓ نے حضرت اقدسؑ سے کہا (ایک دن تنہائی میں الگ نماز پڑھنے سے پہلے نیت باندھنے سے پیشتر) کہ ‘‘میں ہمیشہ دعا کر تی ہوں کہ خدا مجھے آپ کا غم نہ دکھائے اور مجھے پہلے اٹھا لے’’یہ سن کر حضرت نے فرمایا:‘‘اور میں ہمیشہ یہ دعا کرتا ہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہو اور میں تم کو سلامت چھوڑ کر جاؤں’’۔

(سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ صفحہ 459)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

دوستی بھی ہے عجب جس سے ہوں آخر دوسَتی
آ ملی الفت سے الفت ہو کے دو دل پر سوار

آنحضرت ﷺ نے ایک طرف خاوند کو بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہےوہاں دوسری طرف بیوی کو خاوند کے حقوق ادا کرنے کی زبردست تلقین فرمائی ہے۔کیونکہ گھر میں الفت و مودت صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ دوسروں میں خامیاں تلاش کرنے کی بجائے اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

عائلی الفت و مودت کے لیے ضرب الامثال کا استعمال

عائلی الفت و مودت کو ظاہر کرنے اور قائم رکھنے کے لیے ضرب المثل بھی بیان کی جاتی ہیں ۔مثلاًکہتے ہیں کہ مرد پھول ہے اور عورت اس کی خوشبو۔ مرد کو پھول کہہ کر بتایا کہ پھول کی طرح اپنی بیوی سے ملاطفت اور نرمی کا سلوک کرنا اور عورت کو خوشبو سے تشبیہ دے کر پیغام دیا کہ خاوند کے لیے نیک شہرت اور عزت کا باعث بننے کی کوشش کرنا۔

ایک ضرب المثل ہےکہ ‘‘ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے’’یعنی گھر میں پنپنے والی الفت و مودت مرد کو سکینت عطا کرتے ہوئے اسے باہر کے امور خوش اسلوبی سے سر انجام دینے میں مدد دیتی ہے۔مرد کی کامیابیاں دراصل عورت کی ہی کامیابیاں شمار ہوتی ہیں۔

لیکن ان سب سے بڑھ کر سب سے زیادہ خوبصورت مثال قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے ۔فرمایا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں اور اپنے بندوں اور لونڈیوں کو یہ حسین پیغام دیا کہ دیکھو ایک دوسرے کی حفاظت کرنے والا بن جانا،ایک دوسرے کے لیے خوبصورتی کا باعث اور ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرنے والے بن جانا۔

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، خلیفۂ وقت کا نمونہ

حضرات! ہمارے سامنے ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی بہترین اور خوبصورت مثال رکھتے ہوئے حضرت سیدہ امۃ السبوح صاحبہ سلمہا اللہ تعالیٰ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتی ہیں:۔

‘‘حضور انور کی زندگی خلافت سے پہلے بھی خدمتِ دین کے لیے وقف تھی اور آپ کے شب وروز بھرپور دینی مصروفیات میں گزرتے۔۔۔سب سے پہلی چیز جس نے حضور کے لیے میرے دل میں قدر پیدا کی وہ یہ کہ کسی معاملہ میں بھی حضور نے کبھی Selfishness (خود غرضی) نہیں دکھائی۔ہمیشہ ہی باوجود اپنی دینی مصروفیات کے میرا اور بچوں کا اپنی طاقت کے مطابق خیال رکھا۔۔۔گھانا میں ہمیشہ پانی کی قلت رہی ۔۔حضور صبح بالٹیوں سے پانی بھرتے ۔جتنا بھی ضروری کام ہوتا مجھے یہ نہیں کہا کہ آج میں مصروف ہوں تم خود ہی بھر لو۔۔۔گھریلو زندگی جو خلافت سے پہلے تھی اب بھی وہی ہے۔ آپ کھانے میں کبھی نقص نہیں نکالتے۔۔۔ایک بار میری طبیعت بہت خراب تھی۔۔۔حضور نے پہلے میرے لیے ناشتہ تیار کر کے مجھے دیا ،پھر اپنا ناشتہ تیار کرنے کے بعددفتر گئے’’۔

(ماہنامہ تشحیذ الاذہان ستمبر، اکتوبر 2008 ءصفحہ 14 تا 22 )

حضور انور کے پریس سیکرٹری مکرم عابد خان صاحب اپنی ایک تقریر میں بیان کرتے ہیں کہ ‘‘میں مسجد فضل کے قریب رہتا ہوں ۔تین چار سال پہلے کی بات ہے کہ ایک دن میں اپنی بیوی کے ساتھ مسجد فضل کے پاس سے گزر رہا تھا اگلے دن میری حضور سے ملاقات ہوئی تو فرمایا:…میں نے تمہیں مسجد کی کھڑکی سے دیکھا تھا کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ جا رہے تھے تم کچھ آگے چل رہے تھے۔مگر تم کیوں کسی غیر احمدی مولوی کی طرح اپنی بیوی سے آگے چل رہے تھے تمہیں اس کے ساتھ چلنا چاہیے’’

(www.mta.tv/addresses-speeches/qaideen-forum-speech-abid-khan-sahib-about-khilafat)

کتنے خوش قسمت ہیں احمدی جن کو خدا تعالیٰ نے ایسی محبت کرنے والا امام عطا فرمایا ہے کہ میاں بیوی کی بہت لمبی دوریاں تو بہت دور کی بات ، میاں بیوی کے درمیان ایک قدم کا فاصلہ بھی ان پر شاق گذرتا ہے۔
محترم خان صاحب کہتے ہیں:

‘‘ یہ ایسی بات ہے جسے میں نے خود بھی دیکھا ہے کہ جب بھی بیگم صاحبہ کے ساتھ حضور چل رہے ہوں تو ان کے ساتھ چلتے ہیں یا کبھی ایک قدم پیچھے ہوتے ہیں۔’’

(www.mta.tv/addresses-speeches/qaideen-forum-speech-abid-khan-sahib-about-khilafat)

ہمارے پیارے آقا ہم میں سے ہر احمدی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنےبیوی بچوں کو زندگی کے سفر میں ساتھ لے کر چلے ، اپنے معمولات سے انہیں آگاہ رکھے،اپنے کاموں میں بیوی بچوں سے مشورہ لے کر اور بیوی کو بھی چاہیے کہ مرد کے ساتھ ساتھ اور قدم سےقدم ملا کر چلے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی توجہات اور خوبیوں کا مرکز دنیاوی چیزیں ہی بن کر رہ جائیں۔مکرم عبید اللہ علیم صاحب مرحوم فرماتے ہیں:

باہر کا دھن آتا جاتا
اصل خزانہ گھر میں ہے
ہر دھوپ میں جو مجھے سایہ دے
وہ سچا سایہ گھر میں ہے
کیا سوانگ بھرے روٹی کے لیے
عزت کے لیے شہرت کے لیے
سنو شام ہوئی اب گھر کو چلو
کوئی شخص اکیلا گھر میں ہے
دنیا میں کھپائے سال کئی
آخر میں کھلا احوال یہی
وہ گھر کا ہو یا باہر کا،
ہر دکھ کا مداوا گھر میں ہے

(ویران سرائے کا دیا)

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، آنکھ ،کان، زبان کا نیک استعمال

الفت و مودت کو قائم رکھنے کے لیےآنکھ کان زبان کا نیک استعمال تمام عائلی مسائل کا حل ہے۔
حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایاکہ :‘‘ہر مرد اور عورت کا کام ہے کہ اپنے کان، آنکھ ،زبان اور ہر عضو کے استعمال کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر کے استعمال کریں’’

اس کی ایک انتہائی خوبصورت مثال یہ ہے کہ ایک موقع پر حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: ‘‘رسول کریم ﷺ اپنی جوتی کو پیوند لگا رہےتھے اور میں چرخہ کات رہی تھی… اچانک میری نظر حضور ﷺ کی پیشانی پر پڑی تو اس پیشانی پر پسینے کے قطرے ابھر رہے تھے۔ اس پسینے کے اندر ایسا نور تھا جو ابھرتا چلا آرہا تھا اور بڑھ رہا تھا۔یہ نظارہ دیکھ کر میں سراپا حیرت بن گئی… حضورﷺ کی نگاہ مجھ پر پڑی تو فرمایا! عائشہ تم حیران کیوں ہوئی بیٹھی ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آپؐ کی پیشانی پر ایسا پسینہ دیکھا ہے کہ اس کے اندر ایک نور چمکتا دمکتا بڑھتا چلا جا رہا ہے خدا کی قسم ! اگر ابوکبیر ہجلی حضور ﷺ کو دیکھ پاتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کے اشعار کا مصداق آپؐ ہی تھے ۔آپؐ نے فرمایا! اس کے اشعار کیا ہیں۔حضرت عائشہؓ نے وہ اشعار پڑھ کر سنائے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ ولادت اور رضاعت کی آلودگیوں سے مبرا ہیں اَور تو کوئی ایسا نہیں جو ولادت اور رضاعت کی آلودگیوں سے اس طرح مبرا ہو… حضور نے ہاتھ میں جو کچھ تھا انہیں رکھ دیا ۔عائشہ کہتی ہیں آپ نے مجھے قریب کیا اور میری پیشانی کو چوما اور فرمایا اے عائشہ! جو سرور مجھے اس وقت تجھ سے حاصل ہوا ہے اتنا سرور تو تجھے بھی میرے نظارے میں حاصل نہیں ہوا ہو گا۔۔۔ یہ آپؓ کی ازدواجی زندگی کے حالات ہیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ محبت جو خدا کے لیے ہو ، وہ لذتیں جو خدا کی خاطر ہوں،ان محبتوں اور لذتوں کے کیا رنگ ہوا کرتے ہیں۔’’
(اوڑھنی والیوں کے لیے پھول صفحہ 541 )

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ :

‘‘میں اکثر ان جوڑوں کو جو نصیحت کے لیے کہتے ہیں یہ کہا کرتا ہوں کہ ایک دوسرے کے لیےاپنی زبان، کان ، آنکھ کا صحیح استعمال کرو تو تمہارے مسائل کبھی پیدا نہیں ہوں گے۔ زبان کا استعمال اگر نرمی اور پیار سے ہو تو کبھی مسائل پیدا نہ ہوں… اگر جھگڑے ختم کرنے کےلیے تھوڑے وقت کے لیے کان بند کر لیے جائیں سارے مسائل وہیں دب سکتے ہیں۔۔۔ایک دوسرے کی برائیوں کو دیکھنے کے لیے آنکھیں بند رکھو اور ایک دوسرے کی اچھائیوں کو دیکھنے کے لیے اپنی آنکھیں کھلی رکھو۔

(خطاب از مستورات جلسہ سالانہ برطانیہ 2011ء)

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، عفو اور درگزر

معزز سامعین !محبت، خوشی اور طمانیت کا حصول نہ تو کسی کو الزام دے کر ہو سکتا ہے اور نہ ہی بدلہ لے کر۔ صرف عفو اور درگزر ہی وہ وصف ہے جو انسان کے اندر بھی اور باہر بھی خوشی بکھیر سکتا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ:

‘‘ آپس میں صلح و صفائی کی فضا پیدا کرنی چاہیے میاں بیوی دونوں کو نصیحت ہے کہ اگر دونوں ہی اپنے جذبات پر کنٹرول رکھیں ذرا ذرا سی بات پر معاملات بعض دفعہ اس قدر تکلیف دہ صورت اختیار کر لیتے ہیں کہ انسان سوچ کر پریشان ہو جاتا ہےکہ ایسے بھی لوگ دنیا میں موجود ہیں جو کہنے کو تو انسان ہیں مگر جانوروں سے بدتر۔’’(خطبات مسرور جلد دوئم صفحہ 450 )

نیز فرمایا:‘‘جب شادی ہو گئی تو اب شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں، نیک سلوک کریں،ایک دوسرے کو سمجھیں، اللہ کا تقویٰ اختیار کریں۔’’(خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2006 ء بمقام بیت الفضل لندن۔ خطبات مسرور جلد چہارم صفحہ 569 )

آنحضرت ﷺ کے متعلق آپؐ کے اہلِ بیت کا بیان ہے کہ آپؐ گھر میں بلند آواز سے کلام نہیں کرتے تھے۔نہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر برا مناتے تھے۔ بلکہ ایک لازوال بشاشت اور ایک دائمی مسکراہٹ ہمیشہ آپؐ کے چہرہ مبارک پر ہوتی تھی۔’’(طبقات ابن سعد، جلد اول صفحہ 365 بحوالہ الفضل 16 جولائی 2004 ء صفحہ 3 )

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، میاں بیوی کا ایک دوسرے پر اعتماد

ایک بہت اہم بات میاں بیوی کا ایک دوسرے پر اعتماد اور ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے جس سے گھر محبتوں کا گہوارہ اور جنت کا نمونہ بنتا ہے۔ایسے ہی گھر کے لیے ایک شاعر یوں دعا گو ہے۔

تمہاری صبح حسیں ہو رُخ سحر کی طرح
تمہاری رات منور ہو شب قمر کی طرح
کوئی بہشت کا پوچھے تو کہہ سکوں ہنس کر
کہ وہ خوب جگہ ہے ہمارے گھر کی طرح

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ بیوی بچوں پر خرچ

رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:‘‘ تم خدا کی رضا چاہتے ہوئےجو خرچ کرو گے اس پر تمہیں ضرور اجر ملے گا۔یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو’’۔

(بخاری کتاب الایمان)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

‘‘بعض مردوں کی عادت ہوتی ہے کہ جو کماتے ہیں وہ باہر ہی کھاتے پیتے اُڑا دیتے ہیں اور بیوی کو تنگ کرتے ہیں۔باہر پھر کر کھانا کھانے کی عادت اچھی بات نہیں ہےسوائے اس کے کہ اگر ہو سکتا ہو تو بیوی کو بھی ساتھ لے کر جاؤ… میرا اپنا بھی ہمیشہ یہی طریق رہا ہے’’۔(خطبہ جمعہ 21 جنوری 2000 ء)

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، نئی ایجادات کا مناسب استعمال

ایک گھرانہ پورے معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ ایک گھرانے کی کامیابی اور سکون گلی، محلے ،شہر اور ملک کی کامیابی اور سکون کی ضمانت بن جاتی ہے۔لیکن اس کے برعکس اگر ایک گھر میں بھی جنسی بےراہروی، رشتوں کے تقدس کی پامالی، خود غرضی، بد اخلاقی، معاشرتی بدامنی موجود ہو تو وہ پورے معاشرے کے امن اور سکون کو متاثر کرنا شروع کر دیتی ہے۔

امسال حضور انور نے جلسہ سالانہ یو کے2018ء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

‘‘اب تو بعض عقل والے دنیا دار بھی کہنے لگ گئے ہیں کہ ہمارے گھر کی اکائی ختم ہو گئی ہے۔ میاں بیوی اکٹھے باتیں کرتے تھے۔ اس کمپیوٹر فونز نے رشتوں کو توڑ دیا ہے۔ گھر کی اکائی ختم ہو گئی ہے۔ ہرعقل مند کو یہ ایجادات پریشان کر رہی ہیں… ایسے میں جو ہم امام زمانہ کو ماننے والے کھڑے ہیں ہمیں تو بہت محنت سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے نہ صرف اپنے آپ کو بچانا ہے بلکہ اگلی نسلوں کو بھی بچانا ہے۔’’

پس ہمیں چاہیے کہ ان نئی ایجادات کو خاندانوں کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ جوڑنے کے لیے استعمال کریں۔

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، میاں بیوی کے قرابت داروں سے محبت

سچی محبت کا تقاضا ہے کہ جس سے پیار ہو اس کے قرابت داروں اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے بھی محبت کی جائے۔ جیساکہ ظاہر ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ باہمی الفت و مودت کا رشتہ ہوتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ خاوند کے عزیزو اقارب اور ان کا عزت و احترام بیوی کو عزیز ہو اوریہی کیفیت دوسری طرف ہو کہ بیوی کے عزیز و اقارب خاوند کے لیے قابلِ احترام ہوں تب ہی یہ رشتہ مثالی کہلا سکتا ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:

‘‘ رسول کریم ﷺ کو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کس قدر اپنے رشتہ داروں کے جذبات کا خیال رکھتے تھے ایک دفعہ آپؐ گھر تشریف لائےدیکھا کہ آپؐ کی بیوی ام حبیبہ ؓ (جو ابو سفیان کی بیٹی تھی) کی ران پر اپنے بھائی کا سر ہے اور وہ ان کے بالوں سے کھیل رہی ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایاْ ام حبیبہ کیا آپ کو معاویہ بہت پیارا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں۔ آپؐ نے فرمایا مجھے بھی بہت پیاراہے۔’’( انوار العلوم جلد 15 صفحہ 27 )
حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی زندگی میں بہت سے سفر صرف اس غرض سے اختیار کیے کہ آپ حضرت اماں جانؓ کو ان کے والدین سے ملانے کے لیے ان جگہوں پر لے گئے جہاں ان دنوں حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کا قیام ہوتا تھا۔ مثلاً انبالہ چھاؤنی، لدھیانہ، پٹیالہ، فیروز پور چھاؤنی وغیرہ۔

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، والدین اور میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی

شہدائے احمدیت کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:‘‘بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ شادی شدہ جوان اگر ماں باپ کا حق ادا کر رہے ہیں تو بیوی کا حق بھول جاتے ہیں ،اگر بیوی کا حق ادا کرنے کی توجہ ہے تو ماں باپ کا حق بھول جاتے ہیں۔لیکن ان مومنوں نے تو مومن ہونے کا اس بارے میں بھی حق ادا کر دیا۔ بیویاں کہہ رہی ہیں کہ والدین کے حق کے ساتھ ہمارا اس قدر خیال رکھا کہ کبھی خیال ہی دل میں پیدا نہیں ہونے دیا کہ حق تلفی تو کجا ہلکی سی جذباتی تکلیف بھی پہنچائی ہو اور ماں باپ کہہ رہے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے حق ادا کرنے کی کوشش میں کہیں بیوی کے حق کی ادائیگی میں کمی نہ کی ہو۔ پس یہ اعتماد اور یہ حقوق کی ادائیگی ہے جو حسین معاشرے کے قیام اور اپنی زندگی کو جنت نظیر بنانے کے لیے ان لوگوں نے قائم کیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی کتنا بڑا اجر عطا فرمایا کہ دائمی زندگی کی ضمانت دے دی۔’’

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ، اولاد کی بہترین تربیت

عائلی زندگی کا ایک یونٹ اگر میاں بیوی ہیں تو دوسری طرف اس نظام میں والدین اور اولاد کا رشتہ ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:’’اپنے بچوں سے عزت کے ساتھ پیش آؤ اور ان کی اچھی تربیت کرو‘‘۔(ابن ماجہ ابواب الادب باب برالوالد، حدیقۃ الصالحین ، صفحہ 416 ایڈیشن 2003 ء)
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ باقاعدگی اور التزام کے ساتھ اپنے بچوں کے لیے دعا کرتے رہیں۔
چنانچہ حضرت مسیح موعودؑفرماتے ہیں۔

‘‘میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں جس میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کےلیے دعا نہیں کرتا۔’’

( ملفوظات جلد اول صفحہ 562 )

حضور اقدس کس طرح اپنی اولاد کے لیے دعائیں کرتے تھے اس کا ایک نمونہ ہمیں آپؑ کی نظموں محمود کی آمین اور بشیر احمد، شریف احمد اور مبارکہ کی آمین میں بھی نظر آتا ہے۔

آنحضور ﷺ نےبچوں کو بھی والدین کے ساتھ حسن ِ سلوک اور پیار کی خوبصورت تعلیم عطا فرمائی ہے اگر وہ اس پر قدم ماریں تو دنیا و آخرت دونوں جنتوں کو پا سکتے ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ‘‘حقیقی جنت تو گھر کی تعمیر ہے۔جنت رحمی رشتوں کو مضبوط کرنے میں ہے… میاں بیوی کے تعلقات کو تقویت دی جائے، ماں بیٹے کے تعلقات کو تقویت دی جائے،باپ بیٹے کے تعلقات کو تقویت دی جائے اور رشتہ داروں کے دیگر تعلقات کو جو سب قرآن کریم کی آیت میں شامل ہیں تقویت دی جائے۔’’

(خطاب مستورات جلسہ سالانہ انگلستان 1990 ء )

اپنے گھروں میں پنجوقتہ نمازوں کی حفاظت ، قرآنِ کریم کی تلاوت کا التزام کرنے کے ساتھ گھروں میں داخل ہوتے یا باہر نکلتے وقت السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہنا اور مسکرا کر بات کرنابھی یقیناًعائلی الفت و مودت کا ضامن ہے ۔

بچوں کی درست تربیت کس طرح ہو سکتی ہے اس کا ذکر کرتے ہوئےحضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

‘‘ اگر ماں اورباپ گھر میں لڑ رہے ہوں تو آپ سمجھیں بچوں کے اخلاق خراب ہو گئے۔بچوں کے اخلاق تبھی درست رہ سکتے ہیں کہ گھر کی فضا بڑی محبت اور پیار کی فضا ہو ہر دو میاں اور بیوی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والے اور ان کے ادا کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔’’(خطبات ناصر صفحہ 364-365)

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا یہ بھی ایک انتہائی اہم پہلو ہے کہ بچے جب بڑے ہو جائیں تو والدین ان سے شادی کے موضوع پر بات چیت کریں اور رشتہ طے کرتے وقت ان کی رضامندی کا خیال رکھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا والدین کے نام پیغام ہمیشہ پیشِ نظر رہے کہ:
‘‘اپنے بچوں کے ساتھ ایسا تعلق رکھیں جو دوستانہ ہو۔رشتوں کے معاملہ میں اپنے بچوں کی پسند کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کے رشتے طے کیاکریں۔اپنی انا اور خاندان، برادریوں، ذاتوں کے اوپر نہ رہا کریں اور ان سب باتوں سے بالا ہو کر تقویٰ سے کام لیتے ہوئے،خداتعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے اپنے بچوں کےرشتے طے کر دیا کریں…’’

اگر قطرہ قطرہ مل کر سمندر ، پتا پتا مل کر جنگل، ذرہ ذرہ مل کر ریگستان بن جاتے ہیں تو ہر احمدی خاندان کی الفت و مودت مل کر دنیا پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بارش نازل کر سکتی ہے ۔ہمارے گھر الفت و مودت کی ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں کہ شیطان اور اس کے چیلے جب اس سے ٹکرائیں تو پاش پاش ہو جائیں۔اور ہر احمدی کی زبان سے یہ نکل رہا ہو:

یہ محبتوں کالشکر جو کرے گا فتحِ خیبر
ذرا تیرے بُغض و نفرت کے حِصار تک تو پہنچے

محترمہ صاحبزادی امۃ القدوس صاحبہ ایک احمدی گھرانے کا نقشہ یوں بیان کرتی ہیں

میری نظر میں گھر ہے وہ میرے عزیز دوستو
جہاں بسر ہو زندگی محبتوں کی چھاؤ ں میں
ہو باس پیار کی جہاں رچی ہوئی فضاؤں میں
دمک رہے ہوں بام و در روشنی سے پیار کی
ہو جس چمن کی ہر کلی پیامبر بہار کی

(از ماہنامہ مصباح ربوہ فروری 2003ء)

عائلی زندگی میں الفت و مودت کا ذریعہ خلیفۂ وقت کے ساتھ ذاتی تعلق

کئی مرتبہ یہ بات مشاہدے میں آ چکی ہے کہ ایسے میاں بیوی جن کی آپس میں ناراضگی تھی خلیفۂ وقت کی خدمت میں شرفِ ملاقات کے لیے حاضر ہوئے تو حضور انور کے بے مثال پیار، توجہ اوردعاؤں کے نتیجہ میں ان کی تمام ناراضگیاں ہمیشہ ہمیش کے لیے ختم ہو گئیں۔ اس لیے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ رشتے کبھی نہیں ٹوٹتے جن کی بنیاد میں اطاعتِ خلافت ہو اور آپس میں الفت و مودت اور پیار ہو۔

کوئی احمدیوں کے امام سے بڑھ کر کیا دنیا میں غنی ہو گا
ہیں سچے دل اس کی دولت اخلاص اس کا سرمایہ ہے

عائلی زندگی میں الفت و مودت کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لیے خلیفۂ وقت کے ساتھ اپنا ذاتی تعلق مضبوط کرنے کے لیے آپ کی صحبت میں خود بھی اور اپنی اولاد کو بھی رکھنا ضروری ہے۔یہ تعلق ایم ٹی اے ، لائیو خطبات ، مجالس عرفان، شرفِ ملاقات،خلیفۂ وقت کی کامل اطاعت کرنے نیز دعائیہ خطوط تحریر کرنےاور خود بھی خلافت کی مضبوطی کے لیے دعاؤں میں لگے رہنےسے مضبوط ہو گا۔ حضرت مولانا غلام رسول صاحبؓ راجیکی اپنی مجالس میں بڑی کثرت سے یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ ‘‘خلیفہ کا آسمانی وجود ایک پاور ہاؤس ہے اس سے تعلق محبت و عقیدت قائم کیے بغیر آپ لوگ خداتعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں بن سکتے ۔مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہوتی رہتی ہے کہ خلیفۂ وقت سے دعاؤں کی درخواست کرتا رہوں۔’’ (روزنامہ الفضل یکم اکتوبر 2007ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز احبابِ جماعت کو پیغام دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘ یہ خلافت ہی کی نعمت ہے جو جماعت کی جان ہے اس لیے اگر آپ زندگی چاہتے ہیں تو خلافتِ احمدیہ کے ساتھ اخلاص اور وفا کے ساتھ چمٹ جائیں ۔پوری طرح اس سے وابستہ ہو جائیں کہ آپ کی ہر ترقی کا راز خلافت سے وابستگی میں ہی مضمر ہےایسے بن جائیں کہ خلیفۂ وقت کی رضا آپ کی رضا ہو جائے۔خلیفہ ٔوقت کے قدموں پر آپ کا قدم اور خلیفۂ وقت کی خوشنودی آپ کا مطمح نظر ہو جائے۔’’(ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر مارچ ،اپریل 2004ء)

حضرات !آج سسکتی ہوئی انسانیت عائلی زندگی میں الفت و مودت کی تلاش میں ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا:

‘‘ پس آج احمدی گھرانوں کو محمد مصطفیٰ ﷺ کے گھروں جیسا بننا ہو گا۔آج امن کی کوئی اور راہ نہیں سوائے اس راہ کے۔آج نجات کا کوئی راستہ نہیں مگر ایک راستہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے اسوہ کو ہم قبول کرلیں۔پس اے احمدی مردو اور عورتو! تم دنیا کو امن اور آشتی کی خوشخبری دینے کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔آگے بڑھو اور دنیا کو اس کی طرف بلاؤ… ا ٓج مغربی قوموں کا امن بھی اٹھ چکا ہے آج نہ روس عائلی جنت کی ضمانت دے سکتا ہے اور نہ امریکہ عائلی جنت کی ضمانت دے سکتا ہے ایک ہی ہے اور وہ صرف ایک ہی ہے یعنی میرا آقا محمد مصطفیٰﷺ جو آج اس معاشرہ کی جہنم کو جنت میں تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ ہر احمدی کو اگر جان بھی نچھاور کرنی پڑے اور اپنا سب کچھ قربان بھی کرنا پڑے تب بھی وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے جاری کردہ معاشرہ کو دوبارہ جاری کرنے کے لیے اس قربانی سے دریغ نہیں کرے لگا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔‘‘ (خطاب جلسہ سالانہ مستورات ربوہ 27 دسمبر 1983 ء)

احبابِ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

غمِ دنیا کی ہے دَوا غمِ عشق
دمِ عیسیٰ نہیں سوا دم عشق
بحرِعالَم میں اک بپا کر دو
پیارکا غُلغُلہ، تَلاطُمِ عشق

حضرت اقدس مسیح ِموعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :

‘‘ میری تمام جماعت جو اس جگہ حاضر ہیں یا اپنے مقامات میں بودوباش رکھتے ہیں ۔ اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہوکر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں ۔ اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں ۔ اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آسکے۔ وہ پنجوقتہ نماز کے پابند ہوں ۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں ۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں۔ اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں… اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شرر اور غریب مزاج بندے بن جائیں۔اور کوئی زہریلا خمیر ان کے وجود میں نہ رہے… خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بناوے کہ تم تمام دنیا کے لیے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو … سو تم ہوشیار ہو جاؤ اور واقعی نیک دل او ر غریب مزاج اور راستباز بن جاؤ۔ تم پنجوقتہ نماز اور اخلاقی حالت سے شناخت کیے جاؤ گے… اور میں جانتا ہوں کہ لوگ جو حقیقی طور پر میری جماعت میں داخل ہیں ان کے دل خدا تعالیٰ نے ایسے رکھے ہیں کہ وہ طبعاََ بدی سے متنفّر اور نیکی سے پیار کرتے ہیں اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ وہ اپنی زندگی کا بہت اچھا نمونہ لوگوں کے لیے ظاہر کریں ۔’’(تبلیغ رسالت جلد 7صفحہ 42تا45)

پس اے شمع احمدیت کے پروانو! آج روئے زمین پر آپ ہیں جو دنیا کے لیے نمونہ ہیں ۔آئیں آج ہم یہ عہد کریں ہم نے اپنی عائلی زندگی کو الفت و مودت سے مزین کرنا ہے۔تمام رنجشیں، تمام کدورتیں بھول کر اپنے گھروں کو جنت کا نمونہ بنا دیں۔ ایسے بن جائیں کہ آسمان کے فرشتے ہم پر رشک کریں اور حضرت مسیح موعودؑ کی یہ دعا ہمارے حق میں بڑی شان کے ساتھ قبول ومقبو ل ہوکہ:

‘‘ اے میرے خدا مجھ سے ایسا راضی ہو جا کہ پھر کبھی ناراض نہ ہو اور اس طرح معاف فرما دے کہ بعد ازاں کوئی مواخذہ نہ ہو۔’’آمین ثم آمین

وآخر دعوٰنا ان الحمد للّٰہ رب العٰلمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button