حضرت مصلح موعود ؓ

کیا دنیا کے امن کی بنیاد عیسائیت پر رکھی جاسکتی ہے؟ (قسط نمبر 2 )

حضرت مصلح موعودؓ کا معرکۃ الآراء لیکچر

(فرمودہ 15فروری 1920ء بمقام بریڈ لا ہال لاہور)

اب میں مضمون کے دوسرے حصہ کی طرف آتا ہوں کہ اس دنیا میں امن مسیحیت کی تعلیم پر عمل کرنے سے قائم ہوسکتا ہے یا اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے سے؟مسیحیت کا بہت بڑامدار بائبل کے پہاڑی وعظ پر ہے جو متی کی انجیل کے پانچویں باب سے شروع ہوکر ساتویں باب تک چلی گئی ہے اور مسیحی صاحبان بہت زور دیا کرتے ہیں کہ یہ ایسی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم ہے کہ ایسی اَور کسی مذہب میں نہیں پائی جاتی ۔ اس کے متعلق ہم دیکھیں گے کہ کیاانجیل کی یہ تعلیم ایسی ہے کہ جو اسلام میں نہیں ملتی یا امن قائم کرسکتی ہے؟ اگر ایسی ثابت ہوجائے تو ہم اسے لبیک کہنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اگر انجیل میں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو فتنہ و فساد کا موجب ہوسکتی ہیں اور ایسی باتیں ہیں کہ ان سے اچھی اسلام میں پائی جاتی ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک مسلمان اسلام کو چھوڑ کر اسے قبول کرلے۔اس صورت میں تو اگر مسٹر لائڈ جارج خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دنیا میں امن قائم کرنے کے خواہش مند ہیں تو ان کو ہماری آواز پر لبیک کہنا چاہیے نہ کہ ہمیں ان کی آواز پر لبیک کہنے کی ضرورت ہے۔ یہ آوازوں کا مقابلہ ہے اس لئے جس کی صدا میں صداقت پائی جائے اسی کو قبول کرنا چاہیے اور ہم چونکہ اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ اسلام ہی کی تعلیم پر چل کر خدا تعالیٰ کا قرب اور دنیا کا امن و امان حاصل ہوسکتا ہے اس لئے یہی ماننا چاہیے کہ اسلام خدا کا سچا مذہب ہے اور اسی کو قبول کرنا چاہیے ۔ ہاں اگر کوئی یہ ثابت کردے کہ اسلام کی تعلیم ایسی نہیں ہے بلکہ اس کے مذہب کی تعلیم میں یہ صفت پائی جاتی ہے تو ہم اس مذہب کو اختیار کرلیں گے۔ لیکن اگر کوئی ایسا نہیں کرتا اور نہ کرسکتا ہے تو ہم اسلام کی جو تعلیم پیش کرتے ہیں اس پر غور کرے۔ پس ہم اسلام کی اعلیٰ تعلیم کو پیش کرکے سمجھ دار لوگوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس کو قبول کریں گے۔

اب میں عیسائیت کی تعلیم کا مقابلہ اسلام کی تعلیم سے کرکے بتاتا ہوں کہ کون سی تعلیم اعلیٰ ہے اور کس پر عمل کرنے سے دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ سب سے زیادہ زور انجیل کی اس تعلیم پر دیا جاتا ہے کہ ’’ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔ اگر کوئی تجھ پر نالش کرکے تیرا کُرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے۔ اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔‘‘ (متی باب5 آیت 42-39)

عیسائی صاحبان کہتے ہیں دیکھو کیسی اعلیٰ تعلیم ہے اگر لوگ اس پر عمل کریں تو پھر دنیا میں کیونکر فساد ہوسکتا ہے ۔ فساد تو اس لئے ہوتا ہے کہ ایک دوسرے پر سختی کرتے ہیں لیکن اگر لوگ ایسے نرم ہوجائیں کہ اگر کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو اس کے آگے دوسرا بھی کردیں ، جو کرتا لینا چاہے اسے چوغہ بھی دے دیں، جو ایک کوس بیگار لے جانا چاہے اس کے ساتھ دو کوس چلے جائیں تو دنیا میں امن ہی امن ہوجائے ۔یہ تعلیم بظاہر تو بہت اچھی معلوم ہوتی ہے گو یہ عجیب بات ہے کہ کہا گیا ہے جو ایک کوس بیگار لے جانا چاہے اس کے ساتھ دو کوس چلے جاناچاہیے۔ اب جو شخص ایک کوس بیگار لے جانا چاہے گا وہ اسی لئے لے جائے گا کہ اسے اتنی ہی دور لے جانے کی ضرورت ہوگی لیکن اگر بیگاری اس سے ایک کوس اور آگے چلا جائے گا تو یہ تو بیگار پکڑنے والے کیلئے مصیبت ہوجائے گی کیونکہ بیگاری اصل جگہ سے آگے لے گیا۔ اس کی بجائے تو اگر وہ نہ جاتا تو اچھا ہوتا۔ خیر اس کو ہم جانے دیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ اس تعلیم سے دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دنیا اس تعلیم پر عمل کرنے لگے تو امن کیسا۔ سخت فساد اور فتنہ برپا ہوجائے۔ اس وقت مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا۔ اس سے بخوبی اس تعلیم کی حقیقت سمجھ میں آسکتی ہے۔ ایک دفعہ مصر میںایک پادری صاحب وعظ کررہے تھے اور نرمی کی تعلیم پر بہت زور دے رہے تھے کہ ایک مسلمان نے جس نے انجیل کا یہ حوالہ پڑھا ہواتھا تجربہ کیلئے آگے بڑھ کر پادری صاحب کو ایک زور کا تھپڑ مارا ۔اس پر جب پادری صاحب بھی اس کو مارنے کیلئے تیار ہوئے توا س نے کہا پادری صاحب !یہ کیا ؟بائبل میں تو لکھا ہے کہ اگر کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیردو ۔ اب لاؤ تمہارے دوسرے گال پر تھپڑ ماروں ۔ اس پر پادری صاحب نے کہا کہ اس وقت میں بائبل کی تعلیم پر عمل نہیں کروں گا بلکہ قرآن کی تعلیم پر عمل کروںگا۔ اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ عیسائیت کی اس تعلیم پر کہاں تک عمل ہوسکتا ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو امن قائم نہیں ہوتا بلکہ ظلم کی اور تحریک ہوتی ہے ۔یہ تعلیم صرف پیش کرنے کیلئے ہی ہے عمل کرنے کیلئے نہیں ہے ۔چنانچہ آج تک کبھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس جنگ میں جو یورپ میں ہوئی ہے دہریوں نے اس تعلیم پر بڑے بڑے سخت اعتراض کئے اور لکھا کہ جب بائبل میں لکھا ہے کہ اگر کوئی کرتا لینا چاہے تو اسے چوغہ بھی دے دینا چاہیے تو جب جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کیا تھا اس وقت اسے فرانس بھی دے دینا چاہیے تھا۔ اس کے جواب میں پادریوں نے یہی کہا کہ یہ تعلیم سیاست کے متعلق نہیں ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں جب یہ تعلیم ایک جگہ نہیں چلی تو دوسری جگہ کیا چلے گی ۔پھر ہم کہتے ہیں فرداً فرداً کہاں اس پر عمل ہوتا ہے ۔ اگر آج ہی کوئی عیسائیوں کے پاس چلا جائے اور ان کے کپڑے اتارنا شروع کردے تو کیا امن قائم رہ سکتا ہے؟ رحم ، عفو اور معافی اچھی چیز ہے لیکن ہر سخنے وقتے ہر نقطہ مقامے دارد کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ جب رحم کا وقت ہو اس وقت رحم کیا جائے اور جب سختی کا وقت ہو اس وقت سختی کی جائے تب امن قائم ہوسکتا ہے۔ ایک شخص سے اگر کوئی غلطی ہوجاتی ہے اور وہ سچے دل سے تائب ہوتا ہے اس وقت اگر کوئی اسے پکڑتا اور سزا دیتا ہے تو خداتعالیٰ کی رحم کی تعلیم کے خلاف کرتا ہے۔ لیکن اگر ایک شخص چور کو پکڑ کر یونہی چھوڑ دیتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اوروں کو نقصان پہنچانے کی اس چور کو تحریک کرتا ہے۔ اس چور پر تو رحم ہوگا مگر اس طرح وہ اس کو بیواؤں اور ایسے لوگوں کے گھروں کو لُوٹنے کی تحریک کرتا ہے جن کا کوئی پاسبان نہیں ہوتا۔ تو یہ رحم نہیں بلکہ بہت سے لوگوں پر ظلم ہوگا۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ انجیل کی یہ تعلیم ہرگز عمل کے قابل نہیں ہے۔ اور اگر اس پر عمل کیا جائے تو تھوڑے ہی دنوں میں لوگوں کی زندگی محال ہوجائے گی بلکہ کوئی زندہ نہیں رہ سکے گا۔ پس یہ ایسی تعلیم ہے کہ جس پر نہ حکومتیں عمل کرسکتی ہیں اور نہ کوئی اور۔ مثلاًبینک والے ہیں ان کا اگر کوئی روپیہ کھا جائے اور وہ اسے اور بھیج دیں کہ یہ بھی لے لو تو کیا اس طرح ان کا کاروبار چل سکتا ہے ؟یا مثلاً اگر چور کسی کی بھینس لے جائے اور پولیس اس کے پیچھے دوڑی دوڑی جائے اور کہے کہ گھوڑا بھی لے جاؤ تو امن قائم رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ میرے خیال میں اگر اس تعلیم پر ایک ہی مہینہ عمل کیا جائے تو دنیا کی ایسی ابتر حالت ہوجائے جیسی آج سے ہزاروں سال پہلے بھی نہ تھی۔

اب اس کے مقابلہ میں دیکھئے اسلام کیا کہتا ہے ۔ اسلام کہتا ہے وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا (الشورٰی41:) کہ بدی کی اتنی ہی سزا دینی چاہیے جتنی کہ بدی ہو ۔لیکن جو شخص کسی کی بدی کو معاف کردے اور معاف کرنے میں یہ بات مدنظر ہو کہ اس طرح اس کی اصلاح ہوجائے گی کوئی فتنہ اور شر پیدا نہیں ہوگا تو اس کو اللہ بہت انعام دے گا ۔لیکن اگر کوئی کسی کو اس صورت میں معاف کردے کہ جس میں فتنہ بڑھے تو یہ ظلم ہوگا ایسے شخص کو خدا معاف نہیں کرے گا۔

اب دیکھو یہ کیسی اعلیٰ تعلیم ہے اسلام کہتا ہے جتنی کسی نے بدی کی ہو اتنی ہی اسے سزا دو۔ اب کوئی بتائے اس تعلیم پر کیا اعتراض پڑسکتا ہے ۔ دنیا کے کسی ملک اور کسی موقع پر اس پر عمل کرکے دیکھ لو یقینی طور پر اس کا اچھا ہی نتیجہ نکلے گا۔ دنیا کی سلطنتوں اور حکومتوں کے جتنے آئین اور قوانین بن رہے ہیں وہ سب اسی اصل پر قائم ہیں کہ ہر مجرم کو سزا دینی چاہیے اور اس وقت تک معاف نہ کرناچاہیے جب تک اسے معاف کرنے سے فائدہ نہ ہو اور کسی قسم کے نقصان کا خطرہ نہ ہو۔ اور اگر نقصان ہوتا ہو تو معاف نہیں کرنا چاہیے اور یہی اسلامی تعلیم ہے۔

اب دوسری بات کو لیتے ہیں انجیل کہتی ہے کہ تو اپنے بھائی پر بے سبب غصہ نہ ہو ۔یہ ایک اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے اور پہلی تعلیم جس طرح آج کل کے زمانہ کے لحاظ سے غلط ہے اور صرف اپنے خاص وقت کے لئے تھی اس طرح یہ نہیں ہے بلکہ یہ اس وقت بھی اچھی تعلیم تھی اور اب بھی اچھی ہے ۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ تعلیم اسلام میں بھی ہے یا نہیں۔ اگر ہے اور اس سے بہتر ہے تو مسلمان عیسائیت کو کیوں قبول کریںبلکہ عیسائیوں کا فرض ہے کہ اسلام کو قبول کریں ۔ اس بارے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ۔وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔(آل عمران135:)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ہر دکھ اور تکلیف کے وقت اور پھر وہ لوگ جو اپنے غصوں کو دباتے ہیں اور لوگوں سے عفو کرتے ہیں اللہ ایسے احسان کرنے والے لوگوں سے محبت کرتا ہے ۔ اب دیکھو مسیحیت کی تو یہ تعلیم ہے کہ اپنے بھائی پر بے سبب غصہ نہ ہو مگر اسلام کہتا ہے کہ بعض موقعوں پر باسبب بھی غصہ نہ ہونا چاہیے ۔ بے سبب اور بلاوجہ غصہ ہوناتو جنون کی علامت ہوتی ہے اور کوئی پاگل ہی بلاسبب غصہ ہوتا ہے۔ مگر اسلام کا یہ حکم ہے کہ باسبب غصہ کو بھی دباؤ اور نہ صرف اپنے بھائی کے متعلق ایسا کرو بلکہ سب کیلئے اسی طرح کرو۔ یہ تعلیم عیسائیت کی تعلیم سے بہت بڑھ کر ہے اور اس پر عمل کرنے سے بہت زیادہ امن قائم ہوسکتا ہے مگر اسلام اسی پر بس نہیں کرتا کہ غصہ کو دبانے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ یہ کہتا ہے کہ غصہ کو دل سے ہی نکال دو ۔ ایک شخص نے تمہارا قصور کیا ہے اور تم اس پر غصہ ہونے میں حق بجانب ہو لیکن اگر فتنہ و فساد اور شر نہ بڑھے تو تم اس کو معاف کردو ۔ یہ عیسائیت کی تعلیم سے بڑھ کر ہے۔ پھر فرمایا اس سے بڑھ کر در جہ یہ ہے کہ اگر کوئی تم پر زیادتی کرتا ہے مگر اس کو سزا دینی ضروری نہیں تو اس پر احسان کرو تاکہ وہ آئندہ تم سے دشمنی کرناچھوڑ دے اور اپنے دل کو تمہاری دشمنی کی وجہ سے خراب نہ کرے کیونکہ جب تم اس کی بدی کے مقابلہ میں اس سے نیکی کرو گے تو اس کا اس پر اثر پڑے گا اور وہ آئندہ تم سے دشمنی کرنا چھوڑ دے گا۔ اب اس تعلیم کو مسیحیت کی تعلیم کے مقابلہ پر رکھ کر دیکھو کہ کون سی اعلیٰ ہے اور کس سے امن قائم ہوتا ہے ۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے مسیحیت کی بھی یہ تعلیم اچھی ہے اور اس سے امن قائم ہوتا ہے مگر اس سے اسلام کی یہ تعلیم ہزاروں درجہ بڑھ کر ہے۔

ہمارے ہاں اس تعلیم کی عملی مثال موجود ہے۔ حضرت حسن ؓکے ایک غلام تھے جن سے کوئی نقصان ہوگیا۔ انہوں نے حضرت حسن ؓ کے چہرہ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ غصہ کی علامات پائی جاتی ہیں ۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ ۔ حضرت حسنؓ نے کہا میں نے غصہ پی لیا۔ غلام نے کہاوَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ حضرت حسنؓ نے کہا میں نے تجھے معاف کیا ۔ غلام نے کہا وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ حضرت حسن ؓ نے کہا چل میں نے تجھے آزاد کیا۔ تو قرآن کریم کی اس تعلیم پر عمل کرنے کی یہ مثال موجود ہے ۔کوئی یہ نہ کہے کہ آج ہم نے مسٹر لائڈ جارج کو جواب دینے کیلئے اس آیت کا یہ مطلب بنالیا ہے بلکہ ہمارے ہاں اس تعلیم کا عملی ثبوت بھی موجود ہے ۔ اب بتاؤ اس سے دنیا میں اعلیٰ درجہ کاامن قائم ہوسکتا ہے یا عیسائیت کی تعلیم سے؟ مگر اسلام کی تعلیم ایسی اعلیٰ اور کامل ہے کہ اس سے بھی اوپر پہنچتی ہے ۔آپ میں سے کئی لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ اس سے اعلیٰ کیا تعلیم ہوگی مگر قرآن کریم چونکہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہے اس لئے ایسی اعلیٰ تعلیموں پر مشتمل ہے کہ انسانی دماغ خود بخود ان تک نہیں پہنچ سکتے۔ چنانچہ قرآن اور ترقی کرتے ہوئے کہتا ہے اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۔وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔(العصر4:) پہلے تو میں نے یہ بتایا تھا کہ اسلام کہتا ہے کہ غصہ کودبا لینا چاہیے پھر دل سے نکال دینا چاہیے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ احسان کرنا چاہیے مگر اب میں یہ بتاتا ہوں کہ اس سے بھی آگے لے جاتا ہے اور امن قائم رکھنے کیلئے یہ سمجھاتا ہے کہ اگر کسی سے قصور یا برائی ہوجائے اور اسے معاف کرنے سے کوئی برا نتیجہ نہ نکلتا ہو تو معاف کردیناچاہیے ۔ پھر جس طرح تم خود اس پر عمل کرو اسی طرح دوسروں کو کہو کہ اگر کوئی ان پر ظلم کرتا ہے اور انہیںنقصان پہنچاتا ہے تو وہ بھی اس صورت میں جبکہ برا نتیجہ نہ نکلتا ہو معاف کردیا کریں اور نہ صرف معاف کردیا کریں اور اس سے بدلہ نہ لیں بلکہ اس سے اچھا سلوک کریں اور اس پر احسان کریں۔اب اس تعلیم پر کسی ملک کے باشندے عمل کرکے دیکھ لیں کہ کس طرح جھگڑے اور فساد مٹ جاتے ہیں اور کیسا اعلیٰ امن قائم ہوسکتا ہے۔

………………باقی آئندہ

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button