سیرت خلفائے کرام

عالمِ احمدیت میں انقلاب برپا کر دینے والے دنیاوی تعلیم کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی تحریکات اور منصوبے

’’تیرے فرقے کے لوگ علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے‘‘

اس مضمون کا عنوان بعض احباب کی دلچسپی اور بعض کی حیرت کا موجب ہوگا کیونکہ ایسی مذہبی جماعت جو خالصتاً اسلام کے غلبہ کا منصوبہ پیش کرتی ہوا س کے سربراہ کا مادی علوم کی ترویج سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کے نزدیک روحانی علوم اور مادی علوم میں اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں کہ دونوں خدا کے پیدا کردہ ہیں اور دونوں انسان کے لئے ضروری ہیں ہاں مراتب کافرق ہے۔ انسان کی روح کی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ نے روحانی علوم مامورین اور نبیوں پر آسمان سے نازل فرمائے اور جسمانی بقا اور ترقی کے لئے انسان ہزاروں سال سے خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے ساتھ مادی علوم سیکھ رہا ہے مگر روحانی اور دینی علوم قطعی اور یقینی ہیں مگر دنیاوی علوم جو خالص انسان کی دریافت ہیں وہ ظنی ہیں اور ہر چند سال بعد انسان کی اگلی تحقیق پچھلی تحقیق کو کالعدم کر دیتی ہے۔ تاہم یہ دونوں قسم کے علوم انسان کو مل کر آگے بڑھاتے ہیں۔ نماز کی روح بھی جسمانی حرکات چاہتی ہے اور روزہ کی روح بھی جسمانی قربانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اور حج بھی اور دیگر تبلیغی مجاہدات بھی۔ اسی مضمون کو رسول اللہ ﷺ نے یوں بیان فرمایا کہ علم کی دو ہی قسمیں ہیں علم الادیان اورعلم الابدان۔پس ایک سچے اسلامی رہنما کے لئے ضروری ہے کہ روحانی علوم کے ساتھ ساتھ جماعت میں مادی علوم کی ترویج کی بھی کوشش کرے۔ خصوصاً وہ شخص جس کے لئے کہا گیا تھا کہ وہ علو م ظاہری و باطنی سے پُرکیا جائے گا اس کے منصب کا تقاضا تھا کہ وہ جس طرح خود علوم ظاہری سے پُر کیا گیا ہے جماعت کو بھی پُرکرنے کی کوشش کرے اور بلند تر منازل کی طرف رہنما ئی کرے۔ اس پس منظر میں حضرت مصلح موعودؓ نے جس طرح جماعت کو روحانی علوم کی چاٹ لگائی اسی طرح مادی علوم کی طرف بھی راغب کر نے کی بھرپور سعی کی۔ جس کا مختصر جائزہ اس مضمون میں لیا جائے گا۔

بنیادیں حضرت مسیح موعو دؑ نے ڈالیں

جماعت احمدیہ میں مادی علوم کی تخم ریزی توحضرت مسیح موعود ؑنے خود کی تھی۔ اپنی کتب اور ملفوظات میں بہت کچھ بیان فرمایا۔ اسلام اور سائنس کے مابین کسی تضاد کی کلیۃً نفی فرمائی۔ آپ ایک ماہر طبیب بھی تھے اور ہزاروں لوگوں نے آپ کی دعا اور دوا سے شفاء پائی۔ مگر باقاعدہ تعلیمی منصوبہ کے حوالہ سے یہ ذکر کر ناضروری ہے کہ آپ نے قادیان کے سکولوں میں ہندوؤں اور آریوں کے اثرات دیکھ کر مدرسہ تعلیم الاسلام کاآغاز 1898ء میں فرمایا۔ یہ مدرسہ مہمان خانہ میں شروع ہوا۔ طلبہ کی تعداد آغاز میں 41 تھی۔ اسی سال یہ مڈل سکو ل بن گیا۔ فروری 1901 ء میں نویں اورمارچ 1901 ء میں دسویں جماعت کااضافہ ہوا گویا ہائی سکول بن گیا۔

اس منصوبےکو آگے بڑھاتے ہوئے 1903ء میں تعلیم الاسلام کالج کی بنیاد 28 مئی کو رکھی گئی۔ حضرت مسیح موعود ؑنے بیت الدعا میں اس کے لئے دعا کی۔ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دونوں ادارے اس زمانہ میں جماعت کے مالی وسائل سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے تھے اس لئے حضور کو دیگر چندوں کے علاوہ ان مقاصد کے لئے الگ چندہ کی تحریک کرنی پڑی اورجماعت کے کئی بزرگوں نے اس کے لئے خصوصی مالی قربانی کی۔ اس کے باوجود جماعت کالج کے لئے حکومتی شرائط پوری نہ کرسکی اور کالج بندکر ناپڑا۔

دورمصلح موعود ؓ۔تعداد اوروسائل

آئیے اب حضرت مصلح موعود ؓکے زمانہ میں چلتے ہیں۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کی عمومی تعلیمی حالت کااندازہ کریں۔ مسلمانوں میں پڑھے لکھے افراد بہت کم تھے۔ مسلمان علماء نے انگریزی پڑھنا اور سائنسی علوم سیکھنا حرام قرار دیا تھا۔ اس وجہ سے ہندو آگے بڑھ رہے تھے اور مسلمان تنزل کا شکار تھے۔ کچھ عرصہ قبل سر سید احمدخان نے بہت کوشش کی تھی مگر انہیں شدت سے تکفیری مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اور وہ 1898ء میں تکلیف دہ موت کا شکار ہوگئے۔ احمدی اپنے وسائل اور تعداد میں بہت کم تھے۔ اور ایمان لانے والے اکثر تو غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے ان حالات میں حضرت مصلح موعودؓ کی کامیاب جد و جہد معجزہ سے کم نہیں۔

سو فیصد خواندگی کا منصوبہ

حضورؓ 14 مارچ 1914ء کو خلیفہ بنے اور 12 اپریل کو آپ نے ملک بھر کے احمد ی نمائندگان کا اجلاس طلب کیا۔ اور اس میں یہ انقلاب آفرین اعلان کیا کہ میں دنیا کی ہر قوم اور ہر زبان میں تبلیغ کا ارادہ رکھتا ہوں اور پھر یہ تاریخی ارشاد فرمایا: ’’جماعت کا کوئی فرد عورت ہویا مرد باقی نہ رہے جو لکھنا پڑ ھنا نہ جانتا ہو‘‘۔ ( انوار العلوم جلد2 ص49)

حضور ؓنے اس منصوبہ کو جماعت کے مرکزی منصوبے کا حصہ بنایا۔ جب 1919ء میں نظارتیں بنیں تو نظارت تعلیم بھی قائم فرمائی جس کے کام کا آغاز اسی نکتہ سے ہوتا تھا۔ پھر جب آپ نے ذیلی تنظیمیں مختلف اوقات میں قائم فرمائیں تو ہر ایک کے تعلیمی لائحہ عمل میں ناخواندہ افراد کو پڑھانا بھی شامل تھا۔ اور یہ سکیم آج بھی جاری ہے۔ شرح خواندگی بڑھانے کے لئے یہ تحریک بھی کی کہ جگہ جگہ سکو ل کھولے جائیں چنانچہ 12اپریل 1914ء کی تقریر میں یہ بھی فرمایا۔ ’’ایک مدرسہ (تعلیم الاسلام ہائی سکول) کافی نہیں ہے جو یہا ں کھولا ہوا ہے اس مرکزی سکول کے علاوہ ضرورت ہے کہ مختلف مقامات پر مدرسے کھولے جائیں … میری یہ رائے ہے جہاں جہاں بڑی جماعت ہے وہاں سردست پرائمری سکول کھولے جائیں‘‘۔ پھر فرمایا ۔’’مومن کسی معاملہ میں پیچھے نہیں رہتا پس تعلیم عامہ کے معاملہ میں ہمیں جماعت کو پیچھے نہیں رکھنا چاہیے‘‘۔ (انوارالعلوم جلد 2ص 49)

حضور ؓکے مندرجہ بالا ارشاد اور سکیم جماعت کی عام علمی ترقی کی بنیاد بن گئی اور اس کی کوکھ سے بعد کے خلفاء کی کئی تحریکات نے جنم لیا۔ جو اپنوں کے علاوہ غیروں پر بھی محیط ہوگئیں۔ حضور کے ارشاد کے مطابق ہندوستان میں بہت سے مدارس بہت مشکل حالات میں کھولے گئے جن میں دینی تعلیم بھی دی جاتی تھی اور بے شمار نیک نسلیں وہاں سے پاک دل ودماغ لے کر نکلیں۔ حضور نے فرمایا چونکہ ہم مسلمان جماعت ہیں اس لئے ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم سو فیصد تعلیم یافتہ ہوں۔ (الفضل 30 اکتوبر 1945ء)

اس ماٹو کو خدا نے برکت بخشی اور ایک وقت آیا کہ جماعت احمدیہ پاکستان میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ جماعت سمجھی جانے لگی اور تعلیمی میدان میں بھی دشمنوں کی سازشوں کے باوجود مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔

خواتین کی طرف خصوصی توجہ

اس ضمن میں حضور نے خواتین کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔ مردوں کی نسبت ہندوستان میں خواتین کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ حضورؓ نے انہیں فرش سے اُٹھایا اور عرش پر پہنچادیا۔ اور آج بعض علاقوں میں احمدی عورتوں کی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم مردوں سے بھی زیادہ ہے۔ حضور نے 1914ء میں خلیفہ بننے کے بعد 1915ء میں لڑکیوں کی تعلیم شروع کروادی اور 1919ء میں گرلز سکول کی نئی عمارت بھی بنوادی۔ حضور نے 1922ء میں لجنہ اماءاللہ قائم فرمائی اور لکھنے پڑھنے کی سکیم کو بہت توجہ سے جاری فرمایا۔ آپ نے 1923ء میں لجنہ کے 3 جلسوں 5فروری، 11فروری اور 5 مارچ 1923ء میں 3 لیکچر دیئے جن میں خواتین سے 95 علوم کا تعارف کرایا اور مذہبی اور روحانی دونوں قسم کے علوم کی باریک اقسام بھی بیان فرمائیں جس میں علم کا ن کنی علم جغرافیہ اور علم الرمل کا بھی ذکر فرمایا اور مقصد خواتین کے دل و نظر کو وسیع کرنا تھا۔ قادیان میں خواتین کے لئے نصرت گرلز سکول قائم فرمایا اور جب ربوہ بنایا تو تمام تعلیمی اداروں میں سب سے پہلے نصرت گرلز سکول ہی ربوہ میں جاری کیا اور پھر جامعہ نصرت قائم کیا گیا۔ تقسیم ہند کے بعد جامعہ احمدیہ احمد نگر میں اور ٹی آئی سکول چنیوٹ میں قائم کردیا یہ دونوں ربوہ کے مغرب اور مشرق میں چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔

ٹی آئی کالج کا احیائے نو

جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے ٹی آئی کالج کئی مشکلات کی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں بند ہوچکا تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے آغاز خلافت میں ہی اس کے احیاءکی تجویز کی۔ آپ نے 12 اپریل 1914ء کی مشاورت میں فرمایا:

’’ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگیوں کو مفید اور موثر بنانے کے لئے اپنا ایک کالج بنائیں‘‘۔

(انوارالعلوم جلد 2ص51)

مگر گوناگوں مجبوریوں کے باعث یہ کام 30 سال تک التواء کا شکار رہا۔ 1943ء کی مجلس مشاورت کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضور ؓکے دل میں تحریک کی کہ جلد سے جلد اپنا کالج کھول دینا چاہئے اور پھر اس تحریک کے فوائد اور نتائج بھی حضور کو سمجھادئیے۔ (الفضل 31 مئی 1944ءص5)

28 جنوری 1944ء کو حضور ؓنے مصلح موعود کی پیشگوئی کے مصداق ہونے کا اعلان کیا اس کے فوراً بعد حضورؓ نے کسی تاخیر کے بغیر کالج کی تعمیر کا مصمم ارادہ کرلیا۔ چنانچہ حضور ؓنے 24 مارچ 1944ء کے خطبہ جمعہ میں اور 19 اپریل 1944ء کی مجلس مشاورت میں جماعت سے ڈیڑ ھ لاکھ روپیہ کی تحریک فرمائی جو بعد میں 2 لاکھ تک پہنچ گئی اور جماعت نے یہ رقم مہیا کردی۔ 4 جون 1944ء کو حضور ؓنے تعلیم الاسلام کالج کا افتتاح نہایت پر معارف خطاب سے فرمایا اور پہلے سال 60 طلبہ داخل ہوئے۔ حضور ؓنے اپنے بیٹے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الثالثؒ) کو پرنسپل مقرر فرمایا جو منصب خلافت تک اس عُہدے پر فائز رہے۔ قادیان شہروں سے دور دراز ایک قصبہ تھا اس لئے حضور نے کالج میں احمدی بچوں کے داخلہ کےلئے خصوصی تحریک اور جد و جہد کی اور فرمایا:

’’ہروہ احمدی جس کے شہر میں کالج نہیں وہ اگر اپنے لڑکے کو کسی اور شہر میں تعلیم کے لئے بھیجتا ہے تو کمزوری ایمان کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ میں کہوں گا ہر وہ احمدی جو توفیق رکھتا ہے کہ اپنے لڑکے کو تعلیم کے لئے قادیان بھیج سکے خواہ اس کے گھر میں ہی کالج ہو اگر وہ نہیں بھیجتا اور اپنے ہی شہر میں تعلیم دلواتا ہے تو وہ بھی ایمان کی کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہے۔‘‘

(الفضل 20 مئی 1944ء)

حضور نے کالج میں بی اے اور بی ایس سی کی کلاسیں کھولنے کے لئے 15 مارچ 1946ء کو مزید 2 لاکھ روپے کی تحریک فرمائی۔

1947ء میں قیام پاکستان کے بعد حضور لاہور تشریف لے آئے اور24 اکتوبر 1947ء کو کالج کے منتظمین کو ہدایت فرمائی کہ آسمان کے نیچے پاکستان کی سرزمین پر جہاں کہیں بھی جگہ ملتی ہے کالج شروع کردو۔ چنانچہ لاہور کی ایک بوسیدہ عمارت میں دسمبر سے کالج کا آغاز کردیا گیا۔ ربوہ بننے کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے شب و روز محنت کر کے ربوہ میں کالج کی عمارت بنائی اور حضرت مصلح موعودؓ کئی بار کالج تشریف لاتے رہے۔

حضرت مصلح موعود ؓنے تعلیم الاسلام کالج ربوہ کا افتتاح کرتے ہوئے یہ دعا کی:

’’اب میں دعا کردیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیک خواہشات کو پورا فرمائے اور یہ بیج جو آج اس مقام پر ہم بورہے ہیں اس سے ایک دن ایسا درخت پیدا ہو جس کی ایک ایک ٹہنی ایک بڑی یونیورسٹی ہو، ایک ایک پتہ کالج ہو اور ایک ایک پھول اشاعت اسلام اور تبلیغ دین کی ایک اعلیٰ درجہ کی بنیاد ہو جس کے ذریعہ کفر اور بدعت دنیا سے مٹ جائے اور اسلام اور احمدیت کی صداقت اور خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی وحدانیت کا یقین لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائے۔(تاريخ احمديت جلد 9ص53)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کی معیت میں سٹاف تعلیم الاسلام کالج ربوہ، کالج کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر(1954ء)

تعلیم الاسلام کالج کا کردار

تعلیم الاسلام سکول اورکالج نے علمی و عملی تربیت اور کردار سازی کی شاندار روایات قائم کیں۔ بڑے بڑے ادیب، شاعر، صحافی، سائنسدان، سفارتکار سیاسی عمائدین نہ صرف اس کالج میں آتے رہے بلکہ اس کالج نے بہت بڑے بڑے اور نامور لوگ پیدا کئے۔ جو ہزاروں اور لاکھوں کی ہدایت اور علمی ترقی کاموجب بنے۔ ان میں سب سے زیادہ بزرگ وجود ہمارے امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ ٹی آئی کالج ہمیشہ آپ پر فخر کرتارہے گا۔ ربوہ کی علمی و ادبی تہذیب اور کالج کی روایات کایہ حال تھاکہ آل پاکستان کی سطح پر کالج کا طوطی بولتا تھا۔ ایک دفعہ ایک دانشور ربوہ تشریف لائے اور واپسی پر چنیوٹ پہنچ کر اپنے ربوہ کے میزبان پروفیسر سے کہا کہ ربوہ اور چنیوٹ میں کتنا فاصلہ ہے انہوں نے کہا 6 میل۔ اس پر وہ کہنے لگے ربوہ اورچنیوٹ کی تہذیب میں 600 سال کافاصلہ لگتا ہے۔ یہ سب حضرت مصلح موعود کی رہنمائی، آپ کی وسعت نظر اور انتھک محنت کا نتیجہ تھا مگر افسوس کہ حکومت نے 1972ء میں ہمارے سب علمی ادارے قومیا (Nationalize) لیے اور ان میں غیر احمدی عملہ تعینات کردیا گیا اور علم کے میناروں کی روشنی بجھنے لگی۔ حکومتی رویوں سے مایوس ہو کر جماعت نے نئے سرے سے اپنے ادارے بنانے شروع کئے اور وہ آہستہ آہستہ پھر پرانی منازل کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔

نصر ت جہاں سکیم

تعلیمی ادارے قائم کر نے کی حضر ت مصلح موعودؓ کی تحریک سے افریقن اقوام نے بھی فائدہ اٹھایا اور یہ تحریک 1970ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی زبان سے نصرت جہاں سکیم کے رنگ میں ظاہر ہوئی اور افریقہ کے کئی ملکوں میںسکول اور کالج کام کر رہے ہیں اور ان محروم اقوام کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔ اور بہت جگہ نمایاں اور ممتاز مقام رکھتے ہیں۔

تعلیمی وظائف

دنیاوی علوم کی ترویج کی خاطر حضورؓ کا ایک بہت اہم اقدام تعلیمی وظائف کااجراء تھا حضور ؓکی خلافت کے 25 سال پورے ہونے پر جماعت نے 1939ء میں خلافت جوبلی کے موقع پر 3 لاکھ روپےبطور تحفہ حضور کی خدمت میں پیش کئے۔ حضور ؓنے اس رقم کو سلسلہ کی ترقی پر خرچ کرنے کے حوالہ سے کئی مصارف کا ذکر کیا جن میں ایک تعلیم بھی ہے۔ حضور نے ذہین طلبہ کو وظائف دینے کی سکیم کااعلان کرتے ہوئے تفصیلی اعلان فرمایا جس کاخلاصہ یہ ہے: مقابلہ کے امتحان شروع کیے جائیں گے اورمڈل میں اول آنے والے کو میٹرک تک 12 روپے ماہوار، میٹرک میں اول دوم سوم آنے والے کو 30 روپے ماہوار، ایف اے میں پوزیشن لینے والوں کو 45 روپے ماہوار اور بی اے میں اول آنے والے کو 60 روپے ماہوار پھر 3 سال بعد امتحان ہو اور اول آنے والے لڑکے کو انگلستان یا امریکہ تعلیم کے لئے بھیجا جائے گا اور 250 روپے ماہوار 3 سال کے لئے امداد دی جائے۔ (انوارالعلوم جلد15 صفحہ 436 )
اس سلسلہ میں نہایت ایمان افروز امر یہ ہے کہ ڈاکٹر عبد السلام صاحب بھی یہ وظیفہ حاصل کر نے والوں میں شامل تھے اورکچھ حکومتی وظیفہ کے ساتھ یورپ پڑھنے کے لئے گئے اورنئے سنگ میل قائم کئے۔

ان کے والد چوہدری محمدحسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس دن حضور کی تقریر ہو ئی اسی شام ہماری جماعت جھنگ شہر کی حضور سے ملاقات تھی۔ وہ لکھتے ہیں ’’عزیز سلام سلمہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ تھے۔ میں نے عرض کی کہ حضور یہ وظائف جو حضور نے اعلان فرمائے ہیں۔ عزیز سلام سب لے جائے گا۔ حضور حیران ہوئے اورچپ ہوگئے۔ 1940ء میں عزیز سلام سلمہ اللہ تعالیٰ نے میڑک کا امتحان دیا اول آکر ریکارڈ توڑا۔ حضرت صاحب بہت خوش ہو ئے اور حسب اعلان وظیفہ کے علاوہ ایک سو روپے نقد ریکارڈ مات کر نے کااعلان کیااوردیا۔ایف اے اوربی اےمیں اسی طرح ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کابی اے کاریکارڈ 1944 ء سے تاحال موجود ہے۔ حضور نے علاوہ وظیفہ کے دوسوروپیہ نقد انعام دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے میڑک، ایف اے ،بی اے اورایم اے میں یہ اعلان کر دہ وظائف حاصل کئے‘‘۔ (عالمی شہر ت یافتہ سائنسدان عبدالسلام از عبدالحمید چوہدری ص 35)

اعلیٰ تعلیم کے لئے یہ وہ پودا تھا جو 1939ء میں لگایا گیا اور 1979ء میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نوبیل انعام حاصل کر کے دنیا میں احمدیت کا وقار بلند کرنے کاموقع عطا فرمایا۔ (روزنامہ الفضل 18 فروری2015ء)
حضرت مصلح موعود ؓکا جلایا ہوا یہ چراغ بہت سے چراغوں کاسبب بن گیا۔ ڈاکٹر عبد السلام صاحب کے نوبیل پرائز حاصل کرنے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒنے ہر سطح پر انعامی وظائف دینے کا اعلان فرمایا اور ہر سال ادائیگی حقوق طلبہ کے عنوان سے یہ تقریب منعقد ہوتی رہی۔ حضر ت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اور حضر ت خلیفۃ المسیح رابع ؒاپنے ہاتھوں سے یہ انعام پاکستان میں دیتے رہے۔ اور اب یہ سلسلہ تمام بڑے بڑے ممالک میں پھیل چکا ہے۔ یوکے اور جرمنی میں حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اپنے دست مبارک سے انعام عطا فرماتے ہیں۔ اس کے ساتھ تمام جماعت میں بھی انعامی وظائف دینے کا رجحان بڑھنے لگا اور مختلف لوگ اپنے بزرگوں کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے نظارت تعلیم کے توسط سے انعامات جاری کرادیتے ہیں اور ہر سال یہ تقریب منعقد ہوتی ہے جس میں اعلیٰ پوزیشن لینے والے طلبہ بھی اور وہ بھی جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں اپنے انعامی حقوق حاصل کرتے ہیں۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تحریک پر تعلیم الاسلام اولڈ بوائز ایسوسی ایشن بھی اس سلسلہ میں مالی معاونت فراہم کرتی ہے اورہر سال کئی لاکھ روپے مستحق طلبہ کے لئے فراہم کئے جاتے ہیں۔ نظارت تعلیم اعلیٰ تعلیم کے لئے لاکھوں روپے کے قرضے بھی جاری کرتی ہے۔

کم از کم بی اے کرائیں

یہ امر بہتوں کے لئے حیرت کا موجب ہوگا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے 1945ء میں یہ تحریک فرمائی کہ جس طرح بھی ہوسکے بچوں کو کم ازکم بی اے کرائیں۔ حضور نے 19 اکتوبر 1945ء کو احمدیوں میں اعلیٰ تعلیم کے عام کر نے کے لئے ایک نہایت اہم سکیم تیار کی جس کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ ’’جس طرح ہماری جماعت دوسرے کاموں کے لئے چندہ کرتی ہے اسی طرح ہر گاؤں میں اس کے لئے کچھ چندہ جمع کر لیاجائے جس سے اس گاؤں کے اعلیٰ نمبروں پر پاس ہونے والے لڑکے یا لڑکوں کو وظیفہ دیا جائے۔ اس طرح کوشش کی جائے کہ ہر گاؤں میں دو تین طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیں ‘‘حضورنے اپنی اس خواہش کااظہار فرمایا کہ ’’جو احمدی اپنے بچوں کو پرائمری تک تعلیم دلواسکتے ہیں وہ کم از کم مڈل تک اور جو مڈل تک تعلیم دلواسکتے ہیں وہ کم ازکم انٹرینس تک اور جو انٹرنیس تک پڑھاسکتے ہیں وہ اپنے لڑکوں کو کم از کم بی اے کرائیں‘‘۔ نیز فرمایا کہ ’’چونکہ ہم جماعت ہیں اس لئے ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم سو فیصد تعلیم یافتہ ہوں‘‘۔ اسی ضمن میں حضرت مصلح موعودؓ نے صدر انجمن احمدیہ کو ہدایت فرمائی کہ : وہ فوری طورپر نظارت تعلیم و تربیت کو ایک دو انسپکٹر دے جو سارے پنجاب کا دورہ کریں اور جو اضلاع پنجاب کے ساتھ دوسرے صوبوں کے ملتے ہیں اوران میں احمدی کثرت سے ہوں ان کادورہ بھی ساتھ ہی کرتے چلے جائیں۔ یہ انسپکٹر ہر ایک گاؤں اور ہر ایک شہر میں جائیں اور لسٹیں تیار کریں کہ ہر جماعت میں کتنے لڑکے ہیں۔ ان کی عمریں کیا ہیں ان میں کتنے پڑھتے ہیں اور کتنے نہیں پڑھتے۔ ان کے والدین کو تحریک کی جائے کہ وہ انہیں تعلیم دلوائیں اور کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ لڑکے ہائی سکولوں میں تعلیم حاصل کریں اورہائی سکولوں سے پاس ہونے والے لڑکوں میں سے جن کے والدین استطاعت رکھتے ہوں ان کو تحریک کی جائے کہ وہ اپنے بچے تعلیم الاسلام کالج پڑھنے کے لئے بھیجیں‘‘۔(الفضل 30اکتوبر 1945 ء)

اس خطبہ کی اشاعت پر نہ صرف بیرونی جماعتوں نے توسیع تعلیم سے متعلق اعدادو شمار کے مطلوبہ نقشے بھجوائے بلکہ اس سکیم کو جلد سے جلد نتیجہ خیز کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود ؓکی منظوری سے دو انسپکٹر بھی مہیا کئے گئے۔ تعلیمی اعداد و شمار جب حضورکی خدمت میں پیش کئے گئے توحضور نے ارشاد فرمایا:

’’ساتھ کے ساتھ ان علاقوں میں تعلیم پر زور دیا جائے جو تعلیم نہیں حاصل کر رہے انہیں تعلیم پر مجبور کیا جائے اور جو کر رہے ہیں انہیں اعلیٰ تعلیم پر‘‘۔ انسپکٹران کی تقرری کے موقع پر یہ ہدایت خاص فرمائی کہ ’’پانچ ماہ کے لئے منظور ہے جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر جماعت کو منظم کیا جائے تو باقی صیغوں کی طرح اس صیغہ کے سیکرٹری یہ کام سنبھال سکیں گے‘‘۔ (الفضل 5 جون 1945 ء)
چنانچہ ان ہر دو احکام کی تعمیل کی گئی اور جب جماعت میں تعلیم کی اشاعت و فروغ کی ایک رو چل نکلی تو پانچ ماہ کے بعد یہ کام سیکرٹریان تعلیم و تربیت کے سپرد کردیا گیا۔

(روزنامہ الفضل مصلح موعود نمبر۔18 فروری 2015ء)

فضل عمر سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور طبیہ کالج کا قیام

حضرت سیدنا المصلح الموعود ؓنے تعلیم الاسلام کالج کے ساتھ ہی 4 جون 1944ء کو فضل عمر سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی بھی بنیاد رکھی اور اس کی نگرانی چوہدری عبد الاحد صاحب ایم۔ایس۔سی کے سپرد فرمائی۔ متحدہ ہندوستان میں اس زمانہ میں اس نوعیت کے متعدد تحقیقاتی ادارے قائم تھے۔ بنگال میں ڈاکٹر بوس کی انسٹی ٹیوٹ تھی۔ اسی طرح الہ آباد یا بنارس یونیورسٹی کی طرف سے بھی کام ہو رہا تھا۔ بنگلور میں میسور گورنمنٹ کی طرف سے ایک اعلیٰ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ تھی۔ دہلی میں مرکزی حکومت کی انسٹی ٹیوٹ تھی۔ مگر یہ سب ادارے یا حکومت کی طرف سے جاری تھے یا یونیورسٹیوں کی طرف سے یا ہندوؤں کی طرف سے تھے مگر کروڑوں کی تعداد میں بسنے والے مسلمانوں کا کوئی ایک ادارہ بھی پورے متحدہ ہندوستان میں موجود نہ تھا۔ جس کی وجہ سے سیدنا المصلح الموعود ؓکے دل میں ہمیشہ خلش رہتی تھی۔ آخر اس کے قیام کا بھی سامان ہو گیا۔ اس طرح یہ پہلا مسلم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضرت فضل عمر ؓکی توجہ سے برصغیر میں وجود میں آیا۔ اس کا افتتاح مشہور سائنس دان ڈاکٹر سر بھٹنا گر نے کیا تھا۔ سیدنا المصلح الموعود ؓکے مد نظر اس عظیم تحقیقاتی مرکز کی تاسیسس کا اصل مقصد کیا تھا اور آپ اس کے مستقبل سے متعلق کیا کیا عزائم رکھتے تھے اور کس طرح مغربی فلسفہ کے خلاف اسے ایک مضبوط اسلحہ خانہ بنانا چاہتے تھے۔ اس کا کسی قدر اندازہ حضور کے خطبہ جمعہ کے درج ذیل اقتباس سے ہوسکتا ہے۔فرمایا :

’’ہمارا کالج در حقیقت دنیا کی ان زہروں کے مقابلہ میں ایک تریاق کا حکم رکھتا ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور مختلف قوموں میں سائنس اور فلسفہ اور دوسرے علوم کے ذریعہ پھیلائی جارہی ہیں۔ مگر اس زہر کے ازالہ کے لئے خالی فلسفہ اور دوسرے علوم کام نہیں آسکتے بلکہ اس غرض کے لئے عملی نتائج کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ایک کثیر حصہ سائنس کی ایجادات سے دھوکہ کھا گیا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگ گیا ہے کہ سائنس کے مشاہدات اور قانون قدرت کی فعلی شہادات اسلام کو باطل ثابت کررہی ہیں۔ اسی لئے کالج کے ساتھ ایک سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کی گئی ہے تاکہ بیک وقت ان دونوں ہتھیاروں سے مسلح ہوکر کفر پر حملہ کیا جاسکے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے قیام پر بھی دو لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔ پہلے سال کا خرچ تو اسّی نوے ہزار کے قریب ہے لیکن اگلے سال جب عمارت کو مکمل کیا جائے گا اور سائنس کا سامان اکٹھا کیا جائے گا کم سے کم دو لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔ پھر سالانہ ستر اسی ہزار کے خرچ سے یہ کام چلے گا۔ اس کام کو چلانے کے لئے ہمیں قریباً بیس آدمی ایسے رکھنے پڑیں گے جنہوں نے سائنس کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم حاصل کی ہو۔ گویا کالج سے بھی زیادہ عملہ اس غرض کے لئے ہمیں رکھنا پڑے گا۔ کچھ عرصہ کے بعد امید ہے کہ یہ انسٹی ٹیوٹ خود روپیہ پیدا کرنے کے قابل بھی ہوسکے گی۔ کیونکہ اس ادارہ میں جب علوم سائنس کی تحقیق کی جائے گی تو ایسی ایجادات بھی کی جائیں گی جو تجارتی دنیا میں کام آسکتی ہیں یا صنعت و حرفت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں‘‘۔ مزید فرمایا:

’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں کو دیکھ لو۔ آپ نے جہاں اسلامی مسائل کی فوقیت ثابت کرنے کے لئے قرآنی آیات پیش کی ہیں۔ وہاں آپ نے قانون قدرت سے بھی دلائل پیش کئے ہیں اور فرمایا ہے کہ خدا کے کلام کی سچائی کا شاہد خدا کا فعل ہے اور یہ ناممکن ہے کہ خدا کا قول اور ہو اور اس کا فعل کچھ اور ظاہر کررہا ہو۔ ہمارا کام بھی یہی ہے کہ ہم خدا کی فعلی شہادت اسلام اور احمدیت کی تائید میں کالج اور سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ یہی مقصد کالج کے قیام کا ہے اور یہی مقصد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی تعلیم کے ماتحت دین کی تائید کو مدنظر رکھتے ہوئے نیچر پر غور کیا جائے گا‘‘۔ (تاریخ احمدیت جلد 9ص54،55)

حالات کی سختی کی وجہ سے یہ ادارہ بند کرنا پڑا۔ اسی طرح طب کو فروغ دینے کے لئےحضور نے ربوہ میں طبیہ کالج بھی قائم فرمایا مگر وہ بھی حالات کے جبر نے چلنے نہ دیا۔ حضرت مصلح موعودؓ کے زمانہ کی مجالس مشاورت میں احمدیہ میڈیکل کالج کی تجویز بھی کئی دفعہ پیش ہوئی مگرابھی اس کاوقت نہیں آیا تھا مستقبل میں ہم حضور کے تمام خواب پوراہونے کی امید رکھتے ہیں۔

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ (خلیفۃ المسیح الثانی )
کے ہمراہ ہندوستان کی مختلف مذہبی درسگاہوں کا دورہ کرنے والا وفد (لکھنؤ۔ اپریل 1912ء)

اساتذہ کی ذمہ داری

حضرت مصلح موعود ؓنے احباب جماعت کو تعلیمی میدان میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھانے کے علاوہ مرکزی درسگاہوں کے احمدی اساتذہ کو بچوں کی نگرانی کاذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فرمایاکہ :’’میرے نزدیک اس کی کلی طور پر ذمہ داری سکول کے عملہ پر ہے اور کالج کے لڑکوں کی ذمہ داری کالج کےعملہ پر ہے۔ اگر سکول یا کالج کا نتیجہ خراب ہو اور کالج یا سکول کاعملہ اس پر عذر کرے تو میں یہ کہوں گایہ منافقانہ بات ہے اگر لڑکے ہوشیار نہیں تھے اگر لڑکے محنت نہ کرتے تھے اور اگر لڑکے پڑھائی کی طرف متوجہ نہیں ہو تے تھے تو ان کا کام تھاکہ وہ ایک ایک کے پاس جاتے اوران کی اصلاح کرتے۔ اگر وہ متوجہ نہ ہوتے تو ان کے والدین کو اس طرف متوجہ کرتے اور ان کو مجبور کرتے کہ وہ تعلیم کواچھی طرح حاصل کریں۔ ہماری جماعت کے لئے اعلیٰ تعلیم کا حصول اب بہت ضروری ہے۔ اگر ہم میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ ہوں گے توساری سکیم فیل ہوجائے گی‘‘۔

(روزنامہ الفضل 30 جنوری 1945 ء بحوالہ روزنامہ الفضل مصلح موعود نمبر 18 فروری 2015ء)

حضور کے بلند عزائم

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں نہیں جانتا کہ دوسرے دوستوں کا کیا حال ہے لیکن میں توجب ریل گاڑی میں بیٹھتا ہوں میرے دل میں حسرت ہوتی ہے کہ کاش یہ ریل گاڑی احمدیوں کی بنائی ہو ئی ہو اوراس کی کمپنی کے وہ مالک ہوں اور جب میں جہاز میں بیٹھتا ہوں تو کہتا ہوں کاش یہ جہاز احمدیو ں کے بنائے ہوئے ہوں اور وہ ان کمپنیوں کے مالک ہوں۔ میں پچھلے دنوں کراچی گیا تو اپنے دوستوں سے کہا کاش کو ئی دوست جہاز نہیں توکشتی بناکر ہی سمند ر میں چلانے لگے اور میری یہ حسرت پوری کردے اور میں اس میں بیٹھ کر کہہ سکوں کہ آزاد سمندر میں یہ احمدیوں کی کشتی پھر رہی ہے۔ بڑے کاموں کی ابتداء چھوٹی ہی چیزوں سے ہوتی ہے۔ یہ ہیں میرے ارادے اوریہ ہیں میری تمنائیں‘‘۔

الغرض یہ اس پاک وجود کی تمنائیں اور منصوبے تھے جس نے جماعت کے آدرش کو ہمیشہ اونچا رکھا۔ جس نے جماعت کو روحانی علوم کے ساتھ ساتھ ظاہری علوم سے بھی بھر دیا۔ یہ صرف کہانیاں اور بیانات نہیں، اقتباسات نہیں بلکہ اسلام کی تاریخ میں عمل کی سرزمین پر لکھی جانے والی داستان ہے اور اس کا دنیا کے آئندہ مستقبل سے بہت گہرا تعلق ہے۔ مادہ پرست قوموں کو اپنی ہی زبان میں تعلیم اور سائنس میں شکست دے کر ہی ان کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کیا جاسکتا ہے اور خدائی نشانوں اور آسمانی علوم کے ساتھ ساتھ مادی علوم کی تیاری بھی جاری ہے اور ایم ٹی اے خود علوم ظاہری و باطنی کا مخزن بنتا جارہا ہے۔ اسلام کے دور اول میں بڑے بڑے مسلمان سائنسدان، فلسفی، ماہرین، طبیب، مورخ، جغرافیہ دان اورہر علم کے ماہر پیدا ہوئے جن سے آج مغرب بھی علم کشید کر رہاہے۔ یہ سچائی پھر دہرائی جانے والی ہے۔ یہ تاریخ دوبارہ نافذ ہوگی اور ابد الآباد تک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا۔ انشاء اللہ

(رپورٹ مجلس مشاورت 1936 ء صفحہ 129)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button