رپورٹ دورہ حضور انور

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ 2018ء (31 اکتوبر)

… … … … … … … … …
31؍اکتوبر2018ءبروزبدھ
… … … … … … … … …

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح ساڑھے چھ بجے مسجد بیت الرحمن میں تشریف لا کر نمازِ فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ میں تشریف لے گئے۔
صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفتری ڈاک اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازااور مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔

پروگرام کے مطابق دس بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میٹنگ روم میں تشریف لائے جہاںانٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم امریکہ کے نمائندہ Sam Brownback صاحب حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لئے آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے ایک قریبی دوست Richard Simmons اور ان کے سٹاف کے دو ممبران Sameer Hossein اور Howard Chuang بھی موجود تھے۔

انٹرنیشنل Religious Freedom امریکہ کے نمائندہ Sam Brownback حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر رہے ہیں

ایمبیسڈر صاحب نے بتایا کہ انہیں اس بات کی بہت خوشی ہوئی کہ یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو مکمل port courtesies فراہم کیں۔ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ انتہاء پسندی اور شدت پسندی کے خلاف ایک اہم آواز ہیں۔ اس لئے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو جو بھی courtesies ملی ہیں وہ حضورِانور کے مقام کے مطابق ہیں۔

اس کے بعد ایمبیسڈر صاحب نے پاکستان میں احمدیوں کی پرسیکیوشن (persecution) کے حوالہ سے بات کی۔

اس پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پاکستان اور ملائشیاء میں تو ہمارے خلاف قانون بنا ہوا ہے۔ یہاں ہم اپنے مذہب کا اظہار نہیں کرسکتے۔ اسی طرح بنگلادیش، انڈونیشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بھی ہماری مخالفت ہے۔ مذہب کے اظہار پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حضورِانور نے فرمایا اسلامی شریعت میں ارتداد کے حوالہ سے قانون نہیں ہے۔ جو اس حوالہ سے کہتے ہیں کہ اس کی یہ سزا ہے وہ اپنی طرف سے اپنی تشریحات کے مطابق کہتے ہیں۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے عبدالشکور صاحب کی قید اور سزا کے حوالہ سے ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ 82 سال ان کی عمر ہے اور ان کو اس بات پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے احمدیوں کی تربیت کے لئے بعض کتابیں اپنی دوکان میں رکھی ہوئی تھیں۔ Anti Terrorist Police نے اسلحہ سے مسلح ہو کر ان کی دوکان پرچھاپہ مار کر دہشت گردی کے الزام میں ان کو گرفتار کیا اور قید کی سزا دی۔

حضورِانور نے فرمایا: مذہب انسان کے دل کا معاملہ ہے۔ ایک انسان جو مانتا ہے اس کا تعلق دل سے ہے۔ کوئی دوسرا شخص کس طرح کہہ سکتا ہے کہ جو تمہارا عقیدہ ہے، جو دعویٰ ہے، جو تمہارے دل میں ہے تم اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ کوئی بھی دوسرا شخص یہ نہیں کہہ سکتا۔

حضورِانور نے فرمایا پاکستان میں ملاں کی پولیٹیکل ویلیو نہیں ہے، سٹریٹ ویلیو ہے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ 1999ء میں بھی دس گیارہ دن کے لئے جیل میں رہاں ہوں۔ انہی قوانین کے تحت جو حکومت پاکستان نے ظالمانہ طور پر احمدیوں کے خلاف بنائے ہیں۔

پاکستان میں احمدیوں کے ووٹ کے حق کے متعلق بات ہوئی۔ حضورِانور نے فرمایا کہ ہمیں ووٹ دینے کا حق نہیں ہے۔ ہمارے لئے انہوں نے یہ شرط رکھی ہے کہ پہلے اپنے آپ کو غیرمسلم کہو اور نہ مسلمانوں کی طرح عمل کرو تو پھر تمہیں ووٹ دینے کا حق دیں گے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ سب سے پہلے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ احمدیوں کو ووٹ کا حق دے۔ فوری طور پر blasphemy law کا خاتمہ بے شک نہ ہو لیکن احمدیوں کو ووٹ کا حق فوری ملنا چاہئے۔

ایمبیسڈر Brownbackصاحب نے استفسار کیا کہ دوسرے سنی مسلمان احمدیوں سے اسقدر نفرت کیوں کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور قرآن کریم آخری کتاب ہے۔ آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں مسیح ومہدی آئے گا اور اسلام کا احیائے نو کرے گا۔ ان سنی مسلمانوں کا عقیدہ ہے، مسیح زندہ آسمان پر موجود ہے، وہ آسمان سے آئے گا۔

ہم کہتے ہیں کہ مسیح زندہ آسمان پر نہیں ہے بلکہ فوت ہو چکاہے، آسمان سے کوئی نہیں آئے گا۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو اس کا ٹائٹل نبی ہوگا۔ دوسرے مسلمان کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں، اس لئے ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ لیکن اس بات کو مانتے ہیں کہ اگر مسیحؑ آسمان سے آئے تو وہ نبی ہوگا۔ لیکن اس آسمان سے آنے والے مسیحؑ کے علاوہ اگر کوئی دوسرا شخص دعویٰ کرے کہ خدا تعالیٰ نے اُسے بھیجا ہے اور وہ نبی ہے تو یہ غلط ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کو ختم نہیں کرسکتے۔ وہ کسی کو نبی کے ٹائٹل کے ساتھ بھیج سکتاہے۔ یہ بات واضح ہے کہ نئی شریعت نہیں آسکتی۔ نبی کریم ﷺ کی شریعت کے تابع نبی آسکتا ہے۔

بانی جماعت احمدیہ نے یہی دعویٰ کیا کہ آپ مسیح ہیں، مہدی ہیں اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے تابع نبی ہیں۔

آنحضرت ﷺ نے یہی پیشگوئی فرمائی تھی کہ آنے والا مسیح آپ کی امت میں سے آئے گااور اسلام کا احیائے نو کرے گا۔ تلوار کے جہاد کی بجائے اسلامی تعلیمات کے ذریعہ امن پھیلائے گا۔

مسیح موسوی کے قدموں پر آئے گا۔ پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ نبی آسکتا ہے، نئی شریعت کے ساتھ نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی شریعت کے تابع آسکتاہے۔

حضورِانور نے فرمایا: اس وجہ سے ہم کو اسلام کے دائرہ سے باہر نکال دیا ہے کہ تم نبی کے قائل ہو۔
حضورِانور نے فرمایا: سب مذاہب والے اس انتظار میں ہیں کہ کوئی مصلح آئے گا۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق آخری زمانہ میں جس نے آنا تھا، وہ آچکا ہے اور آخری زمانہ میں صرف ایک ہی نے آنا تھا اور سب کو ایک ہاتھ پر متحدکرنا تھا۔

حضورِانور نے فرمایا: حضرت عیسیٰؑ نے جب دعویٰ کیا تو بنی اسرائیل نے کہا تھا کہ آپ کو کس طرح مان لیں جبکہ کتابوں میں لکھا ہے کہ مسیح سے پہلے ایلیاء نبی نے آنا ہے اور ایلیاء ابھی نہیں آیا۔ آپ ؑ نے جواب دیا کہ جو ایلیاء ہے وہ یحییٰ ہیں۔ ماننا چاہتے ہو تو مانو۔

حضورِانور نے فرمایا: ہر مذہب میں بعض ایسی چیزیں اور تعلیم میں بعض استعارے ہوتے ہیں جن کی مختلف لحاظ سے تشریح کی جاتی ہے۔

حضورِانور نے فرمایا: ہمیں بحیثیت انسان ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئے۔ سب مذاہب میں ایک بات کامن، مشترک ہے جس پر ہم سب اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:

تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْکہ آئو اُس ایک بات پر ہی اکٹھے ہوجائیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔ اور وہ خدا کی ذات ہے۔ ہمارا سب کا خدا ایک ہی ہے۔ آئو اسی بات پر اکٹھے ہوجائیں۔ حضرت ابراہیم ؑ پر سب ایمان لاتے ہیں تو اس بناء پر بھی ہم سب مل کر رہ سکتے ہیں۔ ایک ہو کر رہ سکتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: اب حل یہی ہے کہ مل کر بیٹھیں اورا نسانیت کے لئے سوچیں اور مسئلے حل کریں۔

ایمبیسڈر نے عرض کیا کہ وہ یروشلم، سعودی عرب اور ویٹیکن سٹی میں ابراہیمی مذاہب کا ایک سمپوزیم منعقد کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حیفہ میں ہماری جماعت قائم ہے۔ وہاں ہمارا مشن اور مسجد بھی ہے۔ ہمارے وہاں سب کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات ہیں اور سب ہمارا بھی عزت واحترام کرتے ہیں۔ آپ وہ بھی venue کے طور پر رکھ سکتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: سب سے اہم چیز یہ ہے کہ امن، رواداری اور برداشت پیدا ہو اور آج دنیا کو اسی کی ضرورت ہے۔

ایمبیسڈر صاحب نے پاکستان جا کر ربوہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر حضورِانور نے فرمایا: آپ ضرور جائیں اور جا کر ربوہ دیکھیں۔

ایمبیسڈر صاحب کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ ملاقات دس بج کر پینتیس منٹ تک جاری رہی۔ آخر پر موصوف نے حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

بعدازاں پروگرام کے مطابق یو ایس کانگرس مین Jamie Raskin نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کی سعادت پائی۔ اس ملاقات میں کانگرس مین کے سینئر کونسلDevon Ombres بھی موجود تھے۔

امریکہ کے ممبر کانگریس Jamie Raskin حضورِ انو رسے ملاقات کر رہے ہیں

کانگریس مین نے بتایا کہ انہوں نے House of Representativeکے فلور سے ’’شکور بھائی‘‘ کے حق میں آواز اُٹھائی تھی اور انہیں ’’prisoner of conscience‘‘ کہا۔

موصوف نے عرض کیا کہ حضورِانور اسلام میں بڑی مضبوط اور منظم برانچ کے لیڈر ہیں۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا: اصل یہ ہے کہ ہم اسلام کی اصل حقیقی تعلیم پر عمل پیراہیں۔ کوئی نئی تعلیم نہیں ہے۔ ہم تو قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔

احمدیوں کی پرسی کیوشن کے حوالہ سے کانگریس مین نے استفسار کیا جس پرحضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1974ء میں ہمیں غیرمسلم قرار دیا تھا تاکہ دنیا میں اُسے مسلمانوں کی قیادت مل جائے۔ بعد میں 1984ء میں اس وقت کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے ہمارے خلاف مزید بڑے سخت قوانین بنائے کہ احمدی تبلیغ نہیں کرسکتے، اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، بچوں کا اسلامی نام نہیں رکھ سکتے۔ مسجد کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔ اگر السلام علیکم کہیں تو تین سال قید کی سزا ہوگی۔

حضورِانور نے عبدالشکور صاحب (شکوربھائی) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو محض اس وجہ سے گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے احمدیوں کی تربیت کے لئے بعض کتابیں اپنی دوکان میں رکھی ہوئی تھیں۔ اینٹی ٹیرورِسٹ پولیس مسلح ہو کر آئی اور ان پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگا کر گرفتار کرلیااور آجکل یہ جیل میں ہیں اور 82 سال ان کی عمر ہے۔

حضورِانور نے فرمایا: ملاں کی پولیٹیکل ویلیو نہیں ہے، صرف سٹریٹ ویلیو ہے۔

کانگرس مین کے استفسار پر حضورِانور نے فرمایا: میں پہلے پاکستان میں تھا۔ اب لندن میں مقیم ہوں۔ پاکستان میں ان مخالف قوانین کی وجہ سے اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کرسکتا۔

حضورِانور نے فرمایا: مذہب میںجبر نہیں ہے۔ اسلام امن،بھائی چارہ، رواداری اور سلامتی کا مذہب ہے۔ ساری دنیا سے خاص کر افریقہ کے ممالک سے ہر سال لاکھوں لوگ احمدیت قبول کررہے ہیں۔ باوجود شدید مخالفت کے پاکستان سے بھی احمدیت میں داخل ہورہے ہیں۔ بعض اپنے احمدی ہونے کو ظاہر نہیں کرتے، اگر ظاہر کریں گے تو ان قوانین کے تحت آئیں گے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ ہمارا جو جہاد ہے وہ یہ ہے کہ معاشرہ میں امن و سلامتی اور رواداری کا قیام ہو۔ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانیں اور اس کی مخلوق کے حقوق ادا کریں اور معاشرہ میں عدل وانصاف کا قیام ہو۔ یہی اصل جہاد ہے، جو اسلام کے بانی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے غلام صادق بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا ہے اور آج جماعت ہر جگہ اسی جہاد میں مصروف ہے۔

ریاست اور مذہب کے علیحدہ ہونے کے حوالہ سے ذکر ہوا تو اس پر کانگرس مین نے کہا وہ اس حوالہ سے ایک مضمون لکھنا چاہتے ہیں جس میں وہ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو بھی quote کرنا چاہتے ہیں۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت میں رضاکاران کے کام کے حوالہ سے تفصیل بیان فرمائی کہ کس طرح جماعت ہر سال لاکھوں ڈالر بچاتی ہے۔ ہمارے جلسوں کے موقع پر ہزاروں افراد کا کھانا ہمارے والنٹیئرز پکاتے ہیں۔ جہاں آپ لوگ ملینز خرچ کرتے ہیں وہاں ہم وہ کام چند ہزار میں کرلیتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: احمدیوں کے خلاف جو حکومت نے قوانین بنائے ہوئے ہیں ان کی وجہ سے احمدیوں کے خلاف پرسی کیوشن، سٹیٹ پرسی کیوشن ہے۔ وہاں ہماری عورتیں جب چیزیں خریدنے کے لئے دوکان پر جاتی ہیں تو دوکاندار کہتا ہے کہ تم احمدی ہو، دوکان سے نکل جائو۔ اس پر کانگرس مین نے عرض کیا کہ کیسے پتہ چل جاتاہے کہ یہ احمدی ہے تو اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ احمدیوںکے کردار، رویہ اور رکھ رکھائو سے پتہ چل جا تاہے اور ملاں بھی جاسوسی کرتے ہیں، احمدیوں پر نظر رکھتے ہیں تو علم ہو جاتاہے۔

حضورِانور نے فرمایا: اب پاکستان میں یہ بھی ہوا ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی جاتی ہے۔ عید کے بعد پولیس ایک احمدی کے گھر آئی۔ جانور بھی لے گئی اور احمدی کو بھی ساتھ لے آئی۔ اب وہاں تو پولیس پبلک، مولوی سب احمدیوں کے خلاف پرسی کیوشن میں involveہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: اب پاکستان میں احمدیوں کے خلاف نفرت کا یہ معیار ہے کہ عمران خان نے ملاں کے دبائو سے مجبور ہو کر ایک احمدی اکانومسٹ عاطف میاں کو اکنامک ایڈوائزری کونسل سے نکال دیا ہے۔

کانگرس مین نے عرض کیا اب وہ پہلے کی نسبت بڑھ کر جماعت کے ساتھ مل کر احمدیوں کی پرسی کیوشن کے حوالہ سے کام کریں گے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 1999ء میں جو وقت جیل میں گزارا تھا، کانگرس مین نے اُس حوالہ سے بھی سوالات کئے اور کافی دلچسپی کا اظہار کیا۔ کہنے لگے کہ احمدیوں کی پرسی کیوشن انہیں یہودیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی یاددلاتی ہے۔

کانگرس مین Jamie Raskin کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ سے یہ ملاقات سوا گیارہ بجے تک جاری رہی۔ آخر پر موصوف نے حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف پایا۔

باقی آئندہ ……

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button