حضرت مصلح موعود ؓ

جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے 22 فروری 1920ء کو لاہور سے روانگی کے موقع پر جماعت احمدیہ لاہور کے مردوں، عورتوں اور طالب علموں سے مخاطب ہو کر ایک تقریر فرمائی جس میں بحیثیت ایک جماعت انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ حضورؓ نے اس تقریر میں تین امور اپنی رائے کا قربان کرنا، آپس کے معاملات میں طبائع کا لحاظ رکھنا اور جماعتی عہدیداروں یا افسروں کی اطاعت کا خصوصیت سے ذکر فرماتے ہوئے انہیں اجتماعی اتحاد کے قیام کے لئے بنیادی ضرورت قرار دیا۔ (ایڈیٹر)

حضور ؓنے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

ظاہری انتظام کے متعلق ہدایت

جو کچھ مَیں آج آپ لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں اس کو ابھی تھوڑی دیر کے بعد بیان کروں گا۔ پہلے اس بیٹھنے کے متعلق جس طرز پر آپ لوگ اس وقت بیٹھے ہیں ایک واقعہ سناتا ہوں۔ حضرت مظہر جان جاناں اسلام میں بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں اور ہمارے حضرت خلیفہ اول، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے پہلے ان کے مریدوں میں سے ایک کے مرید تھے۔ ان کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں ایک بادشاہ ملنے کے لئے گیا۔ اس کے ساتھ اس کا وزیر بھی تھا۔ حضرت مظہر جان جاناں کے پاس پانی کی بھری ہوئی ایک صراحی رکھی تھی جس میں سے وہ ضرورت کے وقت پانی نکال لیا کرتے تھے۔ وزیر کو اس وقت پیاس لگی اور اس نے اس میں سے نکال کر پانی پیا۔ لیکن پینے کے بعد آب خورہ ٹیڑھا رکھ دیا۔ لکھا ہے۔ اس پر انہوں نے بادشاہ کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس کو کس احمق نے وزیر بنایا ہے کہ یہ آبخورہ کو بھی سیدھا رکھنا نہیں جانتا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنی سی بات پر بادشاہ کے سامنے ایسے الفاظ استعمال کرنے مناسب نہ تھے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو اس قسم کی معمولی باتوں کا انسان کے دوسرے اہم کاموں پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھتے وقت صفوں کو سیدھا رکھو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے۔ (بخاری کتاب الصلوٰۃ) اسی طرح فرمایا خدا خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل ؒ جلد4 صفحہ 133) صفوں کو سیدھا رکھنے کی حقیقت فوجوں کے ظاہری انتظام کو دیکھ کر معلوم ہوسکتی ہے۔ فوجوں میں کیسی ظاہری خوبصورتی اور انتظام ہوتا ہے اور اس کا ان کے کام پر کتنا اثر پڑتا ہے۔ لیکن جن فوجوں کا ظاہری انتظام اچھا نہیں ہوتا۔ وہ کبھی دشمن پر فتح نہیں پاسکتیں۔ تو مومن کو ظاہری شکل بھی خوبصورت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور لیکچر سننے کے لیے ظاہری خوبصورتی یہی ہے کہ سننے والوں کا اکثر حصہ خطیب کے سامنے ہو۔ کیونکہ سامنے ہونے کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔

لاہور کی حیثیت
حضرت خلیفۃ المسیح کے نزدیک

اس کے بعد میں آپ لوگوں کی توجہ اس مضمون کی طرف پھیرتا ہوں جس کے لئے میں نے آج آپ کو بلایا ہے۔ میں لاہور میں قریباً بیس سال سے آتا ہوں اور یہاں خدا تعالیٰ نے میرا ایک خاص تعلق بھی پیدا کیا ہوا ہے یعنی یہیں وہ گھر ہے جس میں میرا بیاہ ہوا ہے۔ اس لحاظ سے قادیان کے بعد لاہور میرے گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ پھر جس طرح حضرت صاحب کے نزدیک قادیان کے بعد سیالکوٹ کا درجہ تھا اسی طرح میرے نزدیک قادیان کے بعد لاہور کا درجہ ہے اور گو ہمارا تو یہ مذہب نہیں لیکن بعض فقہاء کے نزدیک اس تعلق کی وجہ سے جو مجھے لاہور سے ہے یہاں آکر مجھے پوری نماز پڑھنی چاہیے۔

جماعت لاہور کی مختلف حالتیں

اس عرصہ میں کہ جب سے میں لاہور آتا ہوں۔ میں نے یہاں کی جماعت کی مختلف حالتیں دیکھی ہیں۔ میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جبکہ لاہور میں ہماری جماعت تو تھی لیکن بہت قلیل تھی۔ پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ یہاں جماعت کثیر ہوگئی اور بہت سے لوگ اس میں شامل ہوگئے۔ مگر میرے نزدیک اس وقت باوجود کثیر ہونے کے قلیل تھی۔ اس لئے کہ لوگوں کے دل پھٹے ہوئے تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاہور اس اختلاف کا مرکز قرار پایا جس نے ڈائنامیٹ کی طرح احمدیت کو اڑانا چاہا اور وہ شورش جو ساری جماعت میں پھیلی اس کی بنیاد لاہور میں ہی رکھی گئی۔ اس وقت جبکہ اس شورش کی بنیاد رکھی جارہی تھی۔ لاہور میں آنیوالا شخص بجائے اس کے کہ یہاں کی جماعت کے افراد کی آپس میں محبت اور پیار دیکھے یہی دیکھتا تھا کہ ان میں اختلاف اور انشقاق بڑھتا جاتا ہے اور معلوم کرتا تھا کہ یہ جماعت اب بھی گئی، اب بھی گئی۔ کیونکہ یہاں کے لوگوں کا رات دن سوائے جھگڑے کے اور کوئی کام ہی نہ تھا۔ اس وقت ایک طرف تو وہ لوگ تھے جن کے خیالات وہی تھے جو ہمارے ہیں اور دوسری طرف وہ تھے جو اب پیغامی بن کر رونما ہوئے ہیں۔ ان میں آئے دن جھگڑے اور بحثیں رہتی تھیں۔ نماز کے لئے جمع ہوتے تو جھگڑتے۔ نماز ختم کرلیتے تو جھگڑتے۔ کسی دعوت پر جمع ہوتے تو جھگڑتے۔ کسی اَور موقع پر اکٹھے ہوتے تو جھگڑتے۔ اور یہ مادہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ جب کبھی آپس میں صلح صفائی کی تحریک ہوتی تو اس تحریک میں سے بھی فساد کا ہی پہلو نکال لیا جاتا۔

ایک دفعہ جب فتنہ بہت بڑھ گیا اور مَیں قادیان سے لاہور روانہ ہوا تو حضرت خلیفہ اوّلؓ نے مجھے فرمایا کہ وہاں کے لوگوں کو سمجھانا۔ جب میں یہاں آیا تو میں نے اپنا یہ خیال پیش کیا کہ آپس میں صلح کی کوئی تدبیر ہونی چاہیے اور جس کے متعلق کسی کو اختلاف ہو اس کو علیحدگی میں بتانا چاہیے۔ مجلس میں شرمندہ اور نادم نہیں کرنا چاہیے اور میں نے اسی مضمون پر تقریر بھی کی۔ تقریر کے بعد ایک دوست کے ہاں دعوت تھی جب ہم روانہ ہوئے تو پیچھے دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت میری تقریر کے متعلق کہہ رہی ہے کہ اس کا فلاں حصہ فلاں پر چسپاں ہوتا ہے اور فلاں حصہ فلاں پر۔ گویا وہ تقریر جو صلح کے لئے بطور تجویز کی گئی تھی، اسی کے متعلق یہ کہنا شروع کر دیا گیا کہ اس میں جو یہ کہا گیا ہے کہ ضد نہیں کرنی چاہیے۔ یہ فلاں کے متعلق کہا گیا ہے۔ دوسرا کہتا، نہیں فلاں کے متعلق ہے۔ اس پر جھگڑا شروع ہوگیا۔ تو اس وقت سخت فتنہ کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ پھر وہ وقت آیا جبکہ اس فتنہ کے بیج کا نتیجہ پیدا ہوا۔ اس وقت خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس الہام کے مطابق کہ ’’لاہور میں ہمارے پاک ممبر‘‘ یہاں کی جماعت کے کثیر حصہ کو سنبھالا اور گو ایسا ہوا کہ بعض اور مقامات پر فتنہ برپا کرنے والوں کے ساتھی ہمارے لوگوں سے زیادہ پائے گئے، لیکن لاہور میں خدا تعالیٰ نے جماعت کے اکثر حصہ کو حق پر قائم رکھا۔ تو لاہور کی جماعت مختلف حالتوں میں سے گزری ہے اور میں نے چونکہ ان حالتوں کو دیکھا ہے۔ اس لئے اس سے اچھی طرح واقف ہوں۔ گو مجھے اب لاہور میں آنے کا کم موقع ملتا ہے۔ پہلے تو میں سال میں دو تین بار آیا کرتا تھا اور اب کم آسکتا ہوں۔ تاہم یہاں کی جماعت کی حالت کا مجھے خوب علم ہے اور میں یہاں کے لوگوں کے حالات سے خوب اچھی طرح واقف ہوں۔

قیام اجتماع کے لئے رائے کی قربانی ضروری ہے

ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں آپ لوگوں کو ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ سب سے بڑی چیز اجتماع کے قیام کے لئے انسان کی رائے کی قربانی ہے۔ بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم ایک بات کو سچا سمجھتے ہیں تو پھر کس طرح اس کے متعلق اپنی رائے کو قربان کرسکتے ہیں۔ اگر قربان کر دیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جھوٹ اور ناراستی پھیلے گی۔ لیکن یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جو واقعات پر نظر نہ رکھنے کی وجہ سے لگتی ہے۔ کسی بات کے سچ یا جھوٹ ہونے اور کسی رائے کے صحیح یا غلط ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔ سچ اور جھوٹ تو یہ ہوتا ہے کہ ایسی بات جس کو انسان دیکھتا ہے اور دیکھ کر ایسے رنگ میں بیان کرتا ہے جس طرح اس نے دیکھا نہیں یہ جھوٹ ہے۔ اگر ہو بہو بیان کر دے تو یہ سچ ہوگا۔ یا کوئی پرانا واقعہ ہے اس کے متعلق وہ خود تو کچھ نہیں جانتا لیکن کسی اَور نے اسے جس طرح بتایا ہے وہ اسی طرح بیان نہیں کرتا بلکہ اَور طریق سے بیان کرتا ہے یہ جھوٹ ہے اور اگر اس نے کسی سے جو کچھ سنا ہے وہی جھوٹ ہے اور وہ اسی کو آگے بیان کرتا ہے تو یہ بھی جھوٹ ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ سچ یا جھوٹ کسی ایسے امر کے متعلق ہوتا ہے جو زمانہ ماضی میں گزر چکا ہو لیکن رائے آئندہ ہونے والے معاملات کے متعلق ہوا کرتی ہے۔ مثلاً یہ ہے کہ فلاں جگہ جلسہ کرنا چاہیے یا نہیں۔ اس کے متعلق یہ کہنا کہ کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں سچ یا جھوٹ کا کوئی دخل نہیں بلکہ یہ رائے ہے جس کے متعلق صحیح یا غلط کہا جاسکتا ہے لیکن سچ یا جھوٹ نہیں کہا جاسکتا۔ پس اس بات کو خوب اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ رائے میں سچ یا جھوٹ کا تعلق نہیں ہوتا۔ بلکہ رائے انسان کا خیال ہوتا ہے کہ فلاں کام یوں مناسب نہیں، یوں مناسب ہے۔

کسی رائے کے متعلق کس طرح فیصلہ کرنا چاہیے

پھر رائے کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتے وقت یہی نہیں دیکھا جاتا کہ نقصان کی کونسی بات ہے اور نفع کی کونسی۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ فلاں کام یوں کرنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ فی الواقع مفید ہو لیکن دوسروں کی سمجھ میں اس کا مفید ہونا نہ آئے۔ ایسے موقع پر یہ دیکھنا چاہیے کہ ان سب لوگوں کو فتنہ میں ڈالنا اچھا ہے جن کی سمجھ میں اس کام کا اچھا ہونا نہیں آتا یا اس کو کرنا مفید ہے۔ ایسے موقع کے لئے یہی مناسب ہوگا کہ اس کو چھوڑ دیا جائے اور جس طرح دوسرے کہتے ہیں اسی طرح کیا جائے۔ پس معاملات کا فیصلہ کرتے وقت ہر انسان کو ہمیشہ اپنی ہی رائے پر زور نہیں دینا چاہیے اور اس کے خلاف فیصلہ سننے کے لئے بھی تیار رہنا چاہیے۔ نہ کہ اس پر اتنا زور دینا چاہیے کہ ضرور اسی طرح ہو اور نہ دوسروں کی حقارت کرتے ہوئے یہ کہنا چاہیے کہ یہی رائے درست ہے اور کسی کی درست نہیں۔

ضروری نہیں کہ ہر معاملہ میں انسان کی رائے درست ہو

یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ہر ایک معاملہ میں انسان کی اپنی رائے درست ہو اور انسان تو الگ رہے بعض معاملات کے متعلق رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے میری رائے درست نہ ہو (نبراس۔ شرح الشرح لعقائد نسفی صفحہ 396 مطبوعہ میرٹھ) پس جب محمد ﷺ کی رائے بھی ایسی ہوسکتی ہے تو اَور کون ہے جو اپنی رائے میں غلطی نہیں کرسکتا۔

خلیفہ یا امیر کی اطاعت کیوں ضروری ہے؟

یہ جو امارت اور خلافت کی اطاعت کرنے پر اس قدر زور دیا گیا ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ امیر یا خلیفہ کا ہر ایک معاملہ میں فیصلہ صحیح ہوتا ہے۔ کئی دفعہ کسی معاملہ میں وہ غلطی کر جاتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اسی لئے حکم دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر انتظام قائم نہیں رہ سکتا تو جب رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مَیں بھی غلطی کرسکتا ہوں تو پھر خلیفہ یا امیر کی کیا طاقت ہے کہ کہے میں کبھی کسی امر میں غلطی نہیں کرسکتا۔ خلیفہ بھی غلطی کرسکتا ہے، لیکن باوجود اس کے اس کی اطاعت کرنی لازمی ہے ورنہ سخت فتنہ پیدا ہوسکتا ہے مثلاً ایک جگہ وفد بھیجنا ہے۔ خلیفہ کہتا ہے کہ بھیجنا ضروری ہے لیکن ایک شخص کے نزدیک ضروری نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ فی الواقع ضروری نہ ہو لیکن اگر اس کو اجازت ہو کہ وہ خلیفہ کی رائے نہ مانے تو اس طرح انتظام ٹوٹ جائے گا جس کا نتیجہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ تو انتظام کے قیام اور درستی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنی رائے پر زور نہ دیا جائے۔

جہاں کی جماعت کا کوئی امیر مقرر ہو وہ اگر دوسروں کی رائے کو مفید نہیں سمجھتا تو انہیں چاہیے کہ اپنی رائے کو چھوڑ دیں۔ اسی طرح جہاں انجمن ہو وہاں کے لوگوں کو سیکرٹری کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر ہی اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں تک ہوسکے سیکرٹری یا امیر کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اسے سمجھانا چاہیے لیکن اگر وہ اپنی رائے پر قائم رہے تو دوسروں کو اپنی رائے چھوڑ دینی چاہیے۔ کیونکہ رائے کا چھوڑ دینا فتنہ پیدا کرنے کے مقابلہ میں بہت ضروری ہے۔

(جاری ہے……)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button