سیرت خلفائے کرام

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا مباہلہ کے چیلنج کا ایک نئے رنگ میں اعادہ اور اس کے نتائج و ثمرات (قسط نمبر 2 )

پھر خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍ اپریل 1997ء بمقام اسلام آباد، ٹلفورڈ (برطانیہ) میں آپؒ نے لیکھرام کی بابت پیشگوئی اور اس کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’آج کا جمعہ جو عید کے دن ہو رہا ہے آج سے سو سال پہلے ایک جمعہ کی یاد دلاتا ہے جو عید ہی کے دن ہوا تھا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لیکھرام سے متعلق جو 1893ء میں پیشگوئی فرمائی تھی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت اس الہامی فقرے میں تھا ’’سَتَعْرِفُ یَوْمَ الْعِیْدِ وَالْعِیْدُ اَقْرَبُ‘‘ کہ یہ واقعہ عید کے دن رُونما ہو گا جب کہ عید اس کے قریب تر ہو گی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دو عیدیں اکٹھی ہوں گی۔ ایک اَلْعِیْدُجو خاص عید ہو گی، ایک کامل عید اور دوسری عید اسی کے ساتھ جڑی ہوئی ’’اَقْرَبُ‘‘ بالکل ساتھ ہی ہو گی۔ پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے 1893ء میں جو پیشگوئی فرمائی کہ آج سے چھ سال نہیں گزریں گے کہ لیکھرام ایک خدا تعالیٰ کے قہری عذاب کا نشانہ بن کر ایک فرشتے کے ہاتھوں ذبح ہو گا یا قتل کیا جائے گا اور یہ بھی بتایا گیا کہ اس کے منہ سے ایسی آواز نکلے گی جیسے بچھڑے کے منہ سے آواز نکلتی ہے۔ اس کی نشان دہی اتنی واضح فرما دی کہ وہ دن عید کا دن، ایسا دن جو عید کے قریب تر ہے اور 1897ء میں وہ جمعہ آیا جو عید کا دن تھاا ور ’اَلْعِیْدُ‘ بن گیا۔ یعنی ایسا جمعہ اور ایسی عید جو دونوں اپنے اپنے مضمون کے لحاظ سے کامل ہو گئے اور دوسرے دن پھر وہ یَوْمُ الْعِیْدِ ظہور پذیر ہوا۔ جس کے متعلق فرمایا تھا ’’سَتَعْرِفُ یَوْمَ الْعِیْدِ ‘‘ …اور ہفتے کے روز لیکھرام کے پیٹ میں ایک ایسے نوجوان نے چھری گھونپی اور صرف گھونپی نہیں بلکہ اندر پھرایا جس سے اس کی انتڑیاں کٹ گئیں اور جو کچھ تھا وہ باہر آ گیا جس کے متعلق کوئی سمجھ نہیں آ سکی اور کچھ پتہ نہ چلا۔ باوجود انتہائی تحقیق کے کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون تھا، کہاں سے آیا، کہاں چلا گیا۔ وہ ایک ایسے بازار میں تھا جو آریوں کا بازار تھا وہ تین منزلہ مکان تھا جس کے اوپر کی منزل پر لیکھرام بیٹھا ہوا تھا اور نیچے کی منزل پر اس کی بیوی تھی اور وہ لڑکا جس نے اس کو قتل کیا ہے وہ کچھ عرصہ پہلے اس کے پاس آیا اور اس کے ساتھ …گویا کہ آریہ ہو چکا ہواس طرح اس کے ساتھ رہنے لگا۔ اور جب یہ ہفتے کا روز آیا عید کے بعد تو اس دن اس نے اس کے پیٹ میں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے چھری گھونپی اور پھر پھیری اندر اور اس کے منہ سے بہت زور کی چیخ نکلی۔ اس قدر دردناک آواز تھی کہ اس کی بیوی دوڑ کر سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی اوپر چڑھنے لگی جن سیڑھیوں سے اس نے نیچے اترنا تھا اور نیچے سب آریوں کا بازار تھا۔ اس کے واویلے اور شور سے سارے متوجہ ہو گئے اور پرلی طرف اترنے کے لئے کوئی سیڑھیاں نہیں تھیں، کوئی شخص بھی جو پرلی طرف چھلانگ لگاتا وہ یقینًا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔

پس ایسی حالت میں جب بیوی اوپر پہنچی تو دیکھا کہ لیکھرام تڑپ رہا ہے زخموں سے اور اس کی انتڑیاں اور پیٹ کا اندر کا جو کچھ بھی ہے وہ باہر آ چکا ہے اور مارنے والے کا کوئی نشان نہیں۔ نیچے بازار میں جب شور ہوا تو لوگوں نے توجہ کی۔ جب پوچھا گیا ان سے تو انہوں نے کہا یہاں سے تو کوئی نیچے اترا ہی نہیں، نہ کوئی پرلی طرف اترا۔ چنانچہ اس کے متعلق کہا گیا کہ پھر اس کو آسمان نگل گیا یا آسمان کھا گیا کیونکہ زمین پر تو اس کا کوئی نشان نہیں۔ نہ اس کے پہلے پس منظر کا کسی کو کبھی کچھ پتہ چل سکا۔ حالانکہ اتنا زبردست شور ڈالا گیا تھا آریوں کی طرف سے اور دوسرے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مخالفین کی وجہ سے کہ یہ ناممکن تھا کہ پولیس تفتیش کرتی اور اس کا کچھ بھی نہ پتہ چلتا۔ نہ پہلے کا پتہ چلا۔ نہ بعد کا پتہ چلا۔ کون تھا، کہاں سے آیا، کہاں چلا گیا۔ یہ سارے ایک ایسے راز ہیں جو ہمیشہ راز رہیں گے۔

مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کشفی نظارے میں اس فرشتے کو دیکھا تھا جو چھری ہاتھ میں لئے تھا اور لیکھرام کا پوچھ رہا تھا کیونکہ حضرت محمدؐرسول اللہ کی گستاخی میں اس کو یہ سزا ملنی تھی۔ پس یہ ایک ایسا عظیم الشان نشان ہے 1897ء میں تقریبًا ایک سو سال پہلے رونما ہوا۔ اور آج بھی عید ہی کا دن ہے اور آج بھی جمعہ ہے۔ پس آؤ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جس کے ہاں نشانات کی کمی نہیں پھر احمدیت کے حق میں ایسے معجزات دکھائے۔ کیونکہ آج ایک لیکھرام نہیں، سینکڑوں ہزاروں لیکھرام پیدا ہو چکے ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے محمدؐ رسول اللہ کے عشق میں جو چیلنج دیا تھا اور اس کے عواقب کو خوب سمجھ کر قبول فرمایا تھا، جانتے تھے کہ تمام دنیا کی توجہ آپ کی طرف بطور قاتل کے ہو گی۔ چنانچہ آپ کے گھر کی تلاشیاں لی گئیں، ہر قسم کی تحقیق کی گئی اور ایک ادنیٰ سا بھی کوئی سراغ ایسا نہ ملا جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس قتل کے ساتھ وابستہ کیا جا سکتا۔

پس یہ وہ واقعہ تھا جو محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کے نتیجے میں رُونما ہوا ہے۔ اب ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس کامل غلام کا تقاضا یہ ہے کہ اب تو سینکڑوں ہزاروں لیکھرام ہیں جو دن رات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق گند بکتے اور گستاخیاں کرتے ہیں اور یہ حسنِ اتفاق نہیں، مقدّر معلوم ہوتا ہے کہ یہی سال مباہلے کا سال بن گیا کیونکہ اس سے پہلے جب مباہلے کا مَیں نے چیلنج دیا ہے تو میرے وہم و گمان کے کسی گوشے میں بھی نہیں تھا کہ یہ لیکھرام کے قتل کا سال ہے اور لیکھرام کے متعلق خدا تعالیٰ کی چھری کے چلنے کا سال ہے۔ پس یہ ساری باتیں جو اکٹھی ہو گئی ہیں یہ بتا رہی ہیں کہ خدا کی تقدیر حرکت میں آئی ہے اور آسمان ضرور کچھ نشان ظاہر کرے گا۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 6؍ جون 1997ء صفحہ 5)

حضور رحمہ اللہ نے جلسہ سالانہ برطانیہ 1997ء سے قبل 11؍ جولائی 1997ء کے خطبہ جمعہ میں ایک دفعہ پھر اس مباہلے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’یہ جلسہ وہ جلسہ ہے جو ہمارے مباہلے کے سال کے نتیجے کو دکھانے والا جلسہ ہو گا کیونکہ اس مباہلے میں خصوصیت کے ساتھ سب احمدیت کے دشمنوں کو یہ دعوت دی گئی تھی کہ تم زور مارو، دعائیں کرو، جو کچھ بن سکتی ہے بناؤ لیکن تم احمدیت کو ناکام نہیں کر سکتے اور اگر تم سچے ہو تو ہم تمہیں وقت دیتے ہیں۔ دعائیں کرو، دعائیں کرواؤ، زور مارو، سب کوششیں کر لو لیکن تم دیکھنا امسال خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے بہت کثرت کے ساتھ بڑھ کر جماعت احمدیہ پھیلے گی ،اَور بھی برکت کے آثار دکھائی دیں گے۔ یہ مقابلہ ہے جو اس جلسہ سالانہ پر کھل کر سامنے آ جائے گا۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 29؍ اگست 1997ء صفحہ 5)

چنانچہ جلسہ سالانہ برطانیہ 1997ء کے موقع پر دوسرے دن بعد دوپہر کے خطاب میں حضور رحمہ اللہ نے بڑی تفصیل سے اس مباہلہ کے سال کے نہایت ہی عظیم الشان اور پُر شوکت اور پُر ہیبت نشانات و نتائج اور اثرات کا بہت ہی ایمان افروز اور روح پَروَر تذکرہ فرمایا۔ ذیل میں اس خطاب کے بعض حصّے پیش کئے جاتے ہیں۔

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’یہ مباہلے کا سال ہے اور مباہلے سے متعلق مَیں نے آپ سے گزارش کی تھی کہ جب مَیں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا مباہلے کا اشتہار جو 1897ء میں لکھا گیا وہ پڑھا اور دیگر بہت سے اشتہارات کا مطالعہ کیا تو مجھے اُس مباہلے کی اِس سال کے مباہلے سے بہت سی مماثلتیں دکھائی دیں۔ اس سے پہلے جو مَیں نے مباہلے کا چیلنج دیا تھا وہ بعض معیّن مولویوں کے لئے تھااور اُن کی ہلاکت کے متعلق، اُن کی ناکامی کے متعلق تھا۔ لیکن اکثر نے اُس بات کو اس لئے ٹال دیا کہ حاضر ہونا مشکل ہے۔ تم وہاں حاضر ہو، ہم وہاں حاضرہوں، ان چکروں میں پڑ کر انہوں نے بات کو ٹلا دیا۔ امسال خدا تعالیٰ نے رمضان المبارک یعنی جنوری میں میرے دل میں بڑے زور سے ڈالا کہ اس چیلنج کو عام کردوں اور اس چیلنج کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی صداقت کا نشان بناکر دکھاؤ ں۔ بنانا تو خدا نے ہی تھا مگر مَیں اپنی طرف سے کوشش کروں کہ دنیا دیکھ لے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان ظاہر ہوا ہے اور اس پہلو سے مَیں نے مباہلے کو عام کردیا۔ ایسا عام جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے 1897ء میں کیا تھا۔ پہلے آپ کی مبارک تحریر میں سے چندالفاظ پڑھ کے سناتا ہوں۔ 19؍مئی کے اشتہار میں آپ فرماتے ہیں:

’’یہ خدا کی قدرت ہے کہ جس قدر مخالف مولویوں نے چاہا کہ ہماری جماعت کو کم کریں وہ اَور بھی زیادہ ہوئی اور جس قدرلوگوں کو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے سے روکنا چاہا وہ اَور بھی داخل ہوئے یہاں تک کہ ہزارہا تک نوبت پہنچ گئی۔‘‘

(سوسال پہلے تھی، اب نوبت کہاں تک پہنچی ہے۔ یہ مَیں آپ کو دکھاؤں گا۔)

’’یہاں تک کہ ہزارہا تک نوبت پہنچ گئی۔ اب ہرروز سرگرمی سے یہ کارروائی ہورہی ہے اور خداتعالیٰ اچھے پودوں کو اُس طرف سے اکھاڑتا ہے اور ہمارے باغ میں لگاتا جاتا ہے۔‘‘

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں :

’’اگر وہ فی الواقع اپنے تئیں حق پر سمجھتے ہیں اور ہمیں باطل پر اور چاہتے ہیں کہ حق کھل جائے اور باطل معدوم ہوجائے تواس طریق کو اختیار کر لیں اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ پر اور مَیں اپنی جگہ پر خداتعالیٰ کی جناب میں دعا کریں۔ ان کی طرف سے یہ دُعا ہو کہ یاالٰہی! اگر یہ شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تیرے نزدیک جھوٹا اور کاذب اور مفتری ہے اور ہم اپنی رائے میں سچے اور حق پر اور تیرے مقبول بندے ہیں تو ایک سال تک کوئی فوق العادت امرِغیب بطورنشان ہم پر ظاہر فرما اور ایک سال کے اندر ہی اُس کو پورا کردے۔ اور مَیں اس کے مقابل پر یہ دُعا کروں گا کہ یاالٰہی! گر تُو جانتا ہے کہ مَیں تیری طرف سے ہوں اور درحقیقت مسیح موعود ہوں تو ایک اور نشان پیشگوئی کے ذریعے سے میرے لئے ظاہر فرما اور اُس کو ایک سال کے اندر پورا کر۔‘‘

آخر پر آپ لکھتے ہیں:

’’خدا کے نیک بندے قبولیت دُعا سے شناخت کئے جاتے ہیں اور اُن دعاؤ ں کے لئے ضروری نہیں کہ بالمواجہ (یعنی آمنے سامنے) کی جائیں بلکہ چاہئے کہ فریق مخالف مجھے خاص اشتہار کے ذریعہ سے اطلاع دےکر پھر اپنے گھروں میں دعائیں کرنی شروع کردیں۔‘‘

(’’اشتہارقطعی فیصلہ کے لئے۔‘‘ 19؍ مئی 1897ء، مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 411-413)

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’جو میراچیلنج تھا وہ بعینہٖ اسی مضمون کا تھا۔ مَیں نے علماء سے کہا! کہیں اکٹھے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم احمدی ساری دنیا میں اپنی اپنی جگہ اپنے گھروں میں دعائیں کریں گے، تم دعاؤں میں زور لگاؤاور جو بس چل سکتی ہے چلاؤ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ تم جھوٹے نکلو گے۔ ہم سچے نکلیں گے۔ یہ خلاصہ تھا میرے چیلنج کا…۔

اہل پاکستان کو مخاطب ہوتے ہوئے مَیں نے یہ کہا تھا کہ دیکھو تمہاری بقا اور تمہاری نجات مُلّاں سے نجات میں وابستہ ہے۔ اس زہر کو اپنی جڑوں سے نکال باہر کرو یا یہ جڑیں اکھیڑ کر باہر پھینک دو پھر تمہاراملک بچے گا اور تمہیں امن نصیب ہوگا۔ اگر یہ مُلّاں تمہارے وطن میں پلتا رہا یعنی ہمارے وطن میں پلتا رہا تو پھر اس کے مقدّر میں سوائے ہلاکت اور بربادی کے اور کچھ نہیں لکھا جائے گا۔ اور مباہلے میں یہ بات بڑی کھول کر واضح کردی کہ دیکھو یہ مباہلہ الله تعالیٰ کی طرف سے برکتوں کے نشان کا مباہلہ ہے۔ اگر خداتعالیٰ کی طرف سے اس سال احمدیت پر پہلے سے بڑھ کر برکتیں نہ نازل ہوئیں تو ہم یقیناً جھوٹے نکلیں گے۔ اگر تم پر پہلے سالوں سے بڑھ کر نحوستیں نہ اُتریں تو پھر بھی ہم جھوٹے نکلیں گے۔ اور اس کے برعکس مضمون کی صورت میں تم جھوٹے اور ہم سچے۔ اتنی سی بات ہے۔ تم مان کیوں نہیں لیتے؟ تمہیں کہیں آنے کی ضرورت نہیں۔ ایک اعلانِ دعا ہی تو ہے جس کی طرف تمہیں بلایا جارہا ہے۔ دعا کرو اور پھر دیکھو کہ خدا کیا تقدیر ظاہر فرماتا ہے۔

اس اعلان کے نتیجے میں یہ عجیب واقعہ گزرا جس کی مجھے توقع نہیں تھی کہ خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے علماء نے یہ چیلنج قبول کرلیا۔ وہ جو پہلے کہا کرتے تھے کہ مذہبی لحاظ سے لازم ہے کہ دوفریق آمنے سامنے ہوں، وہ کہتے تھے قرآن کی یہی تعلیم ہے۔ اُس قرآنی تعلیم سے وہ ہٹ گئے، گویا اُن کے نزدیک یہ تعلیم تھی اور کھلم کھلا اخباری اشتہارات کے ذریعے میرا یہ چیلنج قبول کرلیا اور بیان کیا کہ یہ سال اب احمدیت کی ہلاکت کا سال ہوگا۔

علماء کا جو ردّ عمل ہے وہ مَیں چند علماء کے اپنے الفاظ میں آپ کو سناتا ہوں۔

اہل سنّت کے وہ رہنما جو انگلستان میں بہت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اُن میں سے ایک دوست مفتی محمداکبر زیرک نائب امیرجماعت اہل سنت برطانیہ ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’مرزاطاہر کے چیلنج کے مطابق علمائے اہلِ سنّت قادیانیوں کی تباہی کے لئے دُعا کرتے ہیں اور اُن کے عبرتناک انجام کے منتظر بیٹھے ہیں۔‘‘

قاضی عبدالخبیرسیالوی امیر تنظیم علمائے ضیاء العلوم برطانیہ نے بیان دیا۔

’’دنیا پر قادیانیت کی تباہی کے آثار بہت جلد واضح ہوجائیں گے۔‘‘

… مولانانیاز احمد نیازی نائب ناظم تبلیغ جماعت اہلِ سنّت برطانیہ نے کہا:

’’مسلمانوں کی دعاؤ ں کے نتیجے میں قادیانیوں پر الله کا عذاب ہرطرف سے نظر آرہا ہے۔‘‘

پھر سب علماء نے مل کر ایک اعلان کیا۔ یہ 31؍جنوری کو ’یوم دُعا برائے نجات فتنہ قادیانیت‘ کے طور پر منایا جائے کا اعلان تھا۔

سارے علماء نے تمام اہل سنت کو جو انگلستان کے تھے یا جرمنی وغیرہ کے، ان کو مخاطب کرکے کہا ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور ایک دن مقرر کرتے ہیں اُس دن سارے یوم دُعا منائیں۔ 21علماء جن کے نام درج ہیں نے مشترکہ بیان جاری کیا جو رمضان المبارک 31/جنوری کے جمعة المبارک کو پورے برطانیہ اور اہلِ سنّت والجماعت کی مساجد میں یوم دعا منانے کے متعلق تھا۔ اُس روز سب ائمہ نے اور جیساکہ مَیں نے بیان کیا ہے جرمنی بھی اُن کے ساتھ شامل ہوگیا، اُن سب ائمہ نے اپنی اپنی مساجد میں تمام تر زور مارا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی مخالفت میں نہایت گندی بکواس کی اور آخر یہ اعلان کیا کہ اب ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ آج ہماری دعائیں قبول ہوں گی اور احمدیت کے لئے ذلّت اور رُسوائی کا دن ہوگا۔

چنانچہ ہفت روزہ ’آواز انٹرنیشنل لندن ‘نے اُس وقت اس ساری کارروائی کو شائع کیا ۔

اسی طرح اخبار جنگ لندن نے اپنی یکم فروری 1997ء کی اشاعت میں لکھا:

’’جماعت اہل سنت برطانیہ کی پریس ریلیز کے مطابق برطانیہ بھر میں قادیانیت سے نجات کے لئے یوم دُعا منایا گیا۔ علماء اور مشائخ نے کہا کہ امّت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور اُن کا زوال مقدر بن چکا ہے۔ملک بھر میں منائے جانے والے اس یوم دُعا میں 31علماء نے خطاب کیا۔‘‘
حضور رحمہ اللہ نے اس خبر کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

الحمدلله کہ اس طرح یہ پرانا جھگڑا جو مباہلے کا چلا آرہا تھا یہ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر فرار اختیار کرتے تھے آخر وہ جھگڑا طے پایا اور دونوں فریق … ایک دوسرے کے مقابل پر نکلے۔ اس مباہلہ کے نتیجے میں بعض ایسے حیرت انگیز واقعات رُونما ہونے لگے جن کے متعلق خود مجھے بھی تصور نہیں تھا۔ مَیں عمومی طور پر احمدیت کے حق میں تائیدالٰہی کا نشان مانگ رہا تھا اور عمومی طور پر دشمنوں کی ہلاکت یا اُن کی ذلّت کا نشان مانگ رہا تھا۔ لیکن مباہلہ کے آٹھ دن کے اندر ایک ایسا معانداحمدیت ہلاک ہوا جس کے متعلق سارے پاکستان میں ماتم کی صف بچھ گئی اور بہت بڑی بڑی شَہ سرخیوں میں اُس کی ہلاکت کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ

’سپاہ صحابہ کے سرپرست اعلیٰ مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کی ہلاکت، لاہور میں بم دھماکہ۔ ضیاء فاروقی سمیت 30افرادہلاک۔ دھماکہ کے بعد آگ لگ گئی۔ نعشوں کے ٹکڑے اُڑ گئے اور انسانی اعضاء دُور جاگرے ۔ متعدد گاڑیاں تباہ۔ ہرطرف خون ہی خون ۔ نصف گھنٹے تک کوئی مدد کو نہیں پہنچا۔‘

یہ پہلا وہ نشان تھا مباہلے کے بعد جو اس طرح ظاہر ہوا کہ امریکہ سے مجھے بعض نوجوانوں نے فیکس بھیجی اور کہا کہ آج ہماراایمان پہلے سے بڑھ کر احمدیت پہ مضبوط ہوگیا ہے کہ ہمیں وہم وگمان بھی نہیں تھا کہ آپ کے مباہلے کا اثر اتنی جلدی ظاہر ہونا شروع ہوگا۔ لیکن خداتعالیٰ نے یہ دکھانے کے لئے کہ ہمارا یہ تاثر کہ یہ مباہلے کا نتیجہ ہے۔ غلط نہیں ہے، کرائیڈن کے ایک دوست احمدشریف رندھاوا صاحب کو ایک رؤیا دکھائی جو اس واقعہ سے پہلے کی رؤیا تھی۔ اُس رؤیا کو آپ سنیں تو آپ حیران رہیں گے کہ کس طرح خداتعالیٰ نے آسمانی تائید کے ذریعے اس نشان کو ایک احمدیت کا نشان پہلے سے قرار دے رکھا تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ:

’’ایک علاقہ جو کہ قادیان یا ربوہ جیسا ہے وہاں پر اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں۔ وہاں ایک طرف مکان مشرقی طور پر بنے ہوئے ہیں اور دوسری طرف مغربی ممالک کی طرح کی بلڈنگیں ہیں، گویا احمدیت دوحصوں میں بٹی ہوئی ہے ایک طرف مشرق کے مکان ہیں مشرقی طرز کے اور ایک طرف مغرب کے مکان مغربی طرز کے ہیں۔ یہ دونوں قسم کے علاقے آپس میں ملے ہوئے ہیں یعنی اُن کے درمیان آپس میں ایک تعلق اور رابطہ بھی قائم ہے۔ مَیں کیا دیکھتا ہوں ایک مولوی جس کا رنگ کالا سیاہ ہے اور کالی داڑھی اور مونچھیں ہیں، سر سے ننگا ہے اور طعنے کے طور پر یہ مصرعہ پڑھ رہا ہے جیسے کسی کو تنگ کرنے کی خاطر یا دل آزاری کے لئے پڑھا جاتا ہے۔

جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں

یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مصرع ہے اور آپ نے ان علماء کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ دیکھو مَیں خدا کا ہوں اسے للکارنا اچھا نہیں۔ وہ طعن کے طور پر باربار یہ مصرع پڑھتا ہے

جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں

اتنے میں مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہیں، ہاتھ میں چھڑی ہے اور وہ مولوی ایک دفعہ پھر یہ شعر طعن کے طور پر پڑھتا ہے جیسا کہ وہ حضور کو للکار رہا ہو۔ حضور پہلے تو خاموش کھڑے رہے۔ پھر اپنی جگہ سے ذرا ہٹ گئے اُس مولوی کو صاف طور پر دیکھنے کی خاطر۔ جیسا کہ اُس کو ٹھیک طرح سے دیکھنا اور پہچاننا چاہتے ہیں۔ پھر آپ نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے رعب سے یہ دوسرامصرعہ پڑھا

ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے رُوبۂ زارونزار

یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب سُن کر یہ جلدی سے اُس کی طرف لپکتے ہیں اُس کو دیکھنے اور پہچاننے کی خاطر اور اس خیال سے کہ کہیں وہ شرارت میں کوئی حملہ نہ کرے۔

مولوی کی دل آزاری سے، کہتے ہیں ،میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور اُس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔‘‘

12/فروری کو انہوں نے خط لکھا ہے اور لکھتے ہیں کہ:

’’کل ہی مَیں نے اخبار جنگ دیکھا اور یہ دیکھ کرحیران رہ گیا۔(اس سے پہلے ضیاءالرحمن کو انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔یہ دیکھ کر حیران رہ گیا )کہ وہ آدمی جس کو مَیں نے خواب میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو ستاتے ہوئے دیکھا تھا اس کی نعش کی تصویر موجود تھی۔ وہ ضیاء الرحمٰن فاروقی تھا۔ ہُوبہو وہی شخص اور اسی طرح سر سے ننگا تھا ۔‘‘

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:

’’ان مولویوں نے جگہ جگہ بعض احمدیوں کو ایسے دُکھ دئیے ہوئے تھے اور ایسے ایسے ظلم کئے تھے کہ خداتعالیٰ نے نمونے کے طور پر جگہ جگہ ان کو پکڑنا شروع کیا اور یہ عام مباہلے کی دُعا کے علاوہ خدا کا ایک انعام تھا جو جماعت پر نازل ہوا۔

ایک اُن میں سے محمدنواز چک سکندر کا رہنے والا تھا۔ اس نے احمدیوں کے مکان لُوٹنے اور جلانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی اور مولوی امیر کے صف ِاوّل کے مجاہدوں میں سے تھا۔ یہ شخص کام کے سلسلے میں پاکستان سے اُردن چلا گیا اور اپنی طرف سے احمدیوں کی زد سے باہر نکل گیا اور سمجھا کہ مَیں نے جو کچھ کرنا تھا کر لیا اب میرے خلاف کوئی کارروائی نہیں(ہوسکتی)۔ وہاں اُس کے ماتھے پر زخم ہوا اور وہ پھوڑا بنتے بنتے پورے چہرے پر پھیل گیا، آنکھوں میں کیڑے پڑ گئے، ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دیا۔

اب یہ خداتعالیٰ کی طرف سے نشان ہے کہ ایسے نشانات کے موقع پر ہمیشہ کسی احمدی کو گواہ ٹھہراتا ہے۔ جیسے لیکھرام کی دفعہ ہمارے ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ صاحب اُس موقع پر آپریشن میں ساتھ شامل تھے اور ضمناً مَیں یہ بھی بتادوں کہ لیکھرام کی ذلّت اور خواری کا یہ حال تھا کہ انگریز ڈاکٹر نے جب پوری طرح پیٹ سِی دیا اور انتڑیاں اندر کردیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اُن کو باہر دیکھا تھا تو ایک دفعہ پھر سارے ٹانکے ٹوٹ گئے اور ساری انتڑیاں باہر جاپڑیں۔ تو اس طرح وہ باربار ذلّت کی ماردیکھتا رہا۔ مَیں یہ بتانا چاہتا تھا کہ کوئی نہ کوئی احمدی موقع پر خداتعالیٰ گواہ بنا دیتا ہے اور اس موقع پر بھی یہ عجیب واقعہ ہوا کہ سب اُس کے دوست اُس کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اُس کا چہرہ ایسا منحوس تھا اور آنکھوں میں کیڑے پڑے ہوئے تھے کہ کوئی اُس کے قریب بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ایک احمدی دوست نصیراحمد وہاں موجود تھے، چندہفتے انہوں نے اُس کی تیمارداری کی۔

یہ وہی محمدنواز تھے جنہوں نے نصیراحمد کی بیوی اور بچیوں کو گاؤں سے نکلتے ہوئے اسلحہ کے زور پر دوبارہ گاؤں میں واپس کیا۔ یعنی نصیر مظلوم کے بچے اور بیوی گاؤں سے باہر نکل رہے تھے تو یہی وہ شخص تھا جس نے بندوق دکھا کے اُن سب کو گاؤں میں واپس کردیا تھا اور احمدیت سے منحرف ہونے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود نصیر نے جیساکہ ایک احمدی کا حق ہے انسانیت دوستی کا فرض نبھایا اور اُس کی خدمت کی۔ نواز، نصیر کی منّتیں کرتا کہ مجھے نظر نہیں آتا، مَیں یہاں مرجاؤں گا، میرا یہ کرو، میرا وہ کرو۔ نصیر نے آخر اُس کے اصرار پر اپنے خرچ پر اُسے پاکستان بھجوا دیا۔ نصیر نے کہا کہ مَیں تجھے dead body کے طور پر بھیجوں گا اور تمہارے رشتے داروں کو فون کروں گا کہ تمہیں پہچان کر لے جائیں۔ چنانچہ جب یہ لاہور پہنچا تو اُسے کوئی پہچان نہ سکا۔ یہ ایئرپورٹ پر پڑا رہا۔ اُس کے رشتے داروں نے عملہ والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک شخص اپنا نام نواز بتاتا ہے۔ وہ پڑا ہے اُس کو پہچان کے لے جاؤ۔ چنانچہ اُسے چک سکندر اس حال میں لایا گیا۔ مولوی امیر نے سپیکر پر پورے گاؤں سے اُس کی صحت یابی کے لئے دُعا کی اپیل کی۔ مگر ساری دعائیں اَکارت گئیں۔ بالآخر ایک ہفتہ کے بعد شام کے وقت وہ شخص اُسی طرح کیڑوں کے زخموں کی مار کھاتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوا ۔

سندھ میں ایک مولوی محمدصادق صاحب انّڑ ہوا کرتے تھے جونہایت ظالم اور خبیث فطرت انسان تھے اور انہوں نے اپنا یہ مقصود بنا رکھا تھا کہ احمدیوں کو قتل کریں یا قتل کروائیں اور اُن کو قتل کرنے کے لئے پیسے بھی انعام کے طور پر مقرر کیا کرتا تھا۔ … مباہلے کے بعد بہت جلد یہ شخص اس طرح پکڑا گیا کہ 24؍فروری 97ء کو قتل ہوا۔ لیکن عام قتل نہیں، خود اس کے بیٹوں نے اس کو قتل کیا۔ اور بیٹے نے جو پولیس کے سامنے بیان دیا وہ یہ تھا کہ یہ ایک ظالم اور سفّاک انسان تھا، خواہ مخواہ مذہبی بنتا پھرتا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ اپنے گھر کے لئے بھی ایک بہت ہی ظالم اور کریہہ المنظر انسان تھا۔ چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اس کو ماریں گے۔ چنانچہ اُن بیٹوں نے اس کو پہلے زہر دیا اور یہ ایسا سخت جان تھا کہ زہر سے مر نہ سکا تو پھر انہوں نے اس کو اس زہر کی حالت میں گولیاں ماریں اور اُس کے سر پر تین گولیاں لگیں۔ وہ گولیاں کھاکر بھی اُس نے آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی۔ اُس پر اس کے اپنے بیٹوں نے گردن دباکر اُس وقت تک دم نہیں لیا جب تک اس کا دم نہ نکل گیا۔ اور جب پولیس آئی اور اُس نے تحقیق کی کوشش کی تو اُس کے بیٹوں نے اٹھ کر جواب دیا کہ جاؤ یہاں سے بھاگ جاؤ۔ ایک ظالم بدبخت انسان تھا جو اپنے کیفرکردار کو پہنچا ہے۔‘‘

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:

’’یہ وہ شخص ہے جس کے متعلق بہت سی گواہیاں مَیں نے وہاں سے منگوائی ہیں۔ تحریری طور پر مخالفین احمدیت نے بھی گواہیاں دی ہیں کہ یہ شخص بے گوروکفن وہاں دفنایا یا پھینکا گیا اور اس کی لاش غلاظت کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھی۔

ایک ملک منظورالٰہی اعوان تھا جس کے متعلق آپ لوگوں نے بہت شور پہلے سے سُن رکھا ہوگا۔ یہ وہی شخص ہے جس نے مجھ پر یہ الزام لگایا تھا کہ مولوی اسلم کو مَیں نے اغوا کرایا ہے اور بے انتہا جھوٹا اور بے حیا انسان تھا۔ پہلے یہ لکھا کرتا تھا افسروں کو کہ اگر مرزاطاہراحمد اس کا قاتل ثابت نہ ہوا تو جو چاہنا میرے ساتھ کرنا۔ جب وہ دریافت ہوا اور اُس کے اعلان شائع ہوئے کہ مرزا طاہر احمد کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو پھر بھی یہ حکومت کو لکھتارہا کہ … اس مولوی کا سر پھر گیا ہے ، اور اَور باتیں بتا رہا ہے۔ مگر ہے یہی مرزاطاہراحمد ہی جو اس کا قاتل ہے اور اعلان پہ اعلان کرتا رہا کہ اگر نہ نکلے تو مجھے جو مرضی کردینا۔ بہت زیادہ بدزبانی میں بڑھ گیا تھا۔ اس کو الله تعالیٰ نے اب مباہلے کے بعد یہ سزا دی کہ اس کا اپنا لَے پالک، کیونکہ اس کی اولاد نہیں تھی، وہی اس کا دشمن ہوگیا۔ اُس سے اُس نے بریّت کا اعلان کیا۔ اس کا اپنا ایک بھتیجا یا بھانجا خداتعالیٰ کے فضل سے مخلص احمدی ہوگیا اور اُسی شہر میں اُس نے اپنے اس ماموں یا چچا جو بھی اس کا تھا اُس کی مخالفت شروع کی ۔ یعنی اس کے متعلق علی الاعلان کہنا شروع کیا کہ یہ جھوٹا ہے۔ احمدیت سچی ہے۔ اس پر ملک منظور بہت سیخ پا ہوا اور اُس کی طرح طرح کی اذیّت کے سامان کئے۔ پولیس کے ذریعے، دوسرے ذرائع سے اُس کی جان کا دشمن ہوگیا۔ لیکن وہ مظلوم انسان حق پر قائم رہا۔ اُس نے مجھے ایک خط لکھا جس میں تھا کہ مَیں اس حالت میں ہوں۔ اور ایک اور احمدی نے اُس کے متعلق خط لکھا۔‘‘

حضور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اُس خط کے بعد مَیں نے جو جواب لکھوایا وہ یہ تھا کہ الحمدلله احمدیت کو ایک اور موقع احمدیت کی صداقت کا نشان ظاہر کرنے کا حاصل ہوا ہے۔ پس تم ہرگز اس بدبخت انسان سے نہ گھبراؤ۔ ایک خط اس کے نام مباہلے کے چیلنج کے طور پر لکھ دو اور کہو کہ اب جبکہ یہ چیلنج ہوچکا ہے تم اسے قبول کرلو اور دُنیا دیکھ لے گی کہ تم سچے ہو کہ مرزاطاہراحمد سچا ہے؟

حضور رحمہ اللہ نے امیر صاحب ضلع سیالکوٹ کے نام اپنے خط محررہ 28؍ مئی میں منظور الٰہی اعوان کے متعلق تحریر فرمایا تھا کہ اِن لوگوں کی پکڑ کے دن قریب ہیں۔ یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق نہایت غلیظ زبان استعمال کیا کرتا تھا۔ اور کہتا تھا کہ آپ گندی جگہ میں یعنی ٹٹّی میں فوت ہوئے۔ (نعوذ باللہ)۔ اور باربار یہ بکواس کیا کرتا تھا۔ 16؍ جون 1997ء کو رات کسی وقت یہ شخص پیشاب کرنے کے لئے اٹھا اور وہیں ٹائلٹ میں گرا اور مردہ حالت میں پایا گیا اور اسی ننگی حالت میں اس کی لاش کو گھسیٹ کر باہر نکالا گیا۔

حضورؒ نے فرمایا:۔

’’…یہ مباہلہ عالمی تھا اور ہرجگہ خدا نے کسی نہ کسی رنگ میں عظیم نشان دکھائے ہیں۔ آئیوری کوسٹ کے امیر جماعت عبد الرشید … صاحب انور لکھتے ہیں کہ

’’وہاں کا ایک مشہور امام تعصب میں حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا اور مبلغین کو سختی سے منع کیا کرتا تھا کہ علاقہ چھوڑ جائیں ورنہ مَیں بہت بُراحال کروں گا۔ (اس امام کا نام صدیق ’کراموگو‘تھا۔ ناقل) حکومت کی طرف سے اُس کے نائب کو حج کا ٹکٹ ملا۔ اس ٹکٹ کو جو اُس کے نائب کے لئے تھا اُس نے اپنے قبضے میں کرلیا اور ابی جان پہنچ کر اپنے نام کرواکر حج پر خاموشی سے روانہ ہوا۔ لیکن گاؤں میں روانگی سے قبل کہنے لگا کہ مَیں سفر پر جارہا ہوں واپسی پر اب احمدیت کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالوں گا۔

مکّے میں جو آگ لگی ہے اُس آگ میں یہ شخص ہجوم کے پاؤں تلے کچلا گیا۔ اور اپنے پاؤں کے نیچے احمدیت کو کچلنے کی بجائے وہاں ہی ہجوم کے پاؤں تلے کچلا جانے کی وجہ سے مرگیا۔ جب اُس کی موت کی خبر اُس کے گاؤں پہنچی کہ مکّے میں اُس کی موت اس انداز میں واقع ہوئی ہے تو گاؤں کے سب دوستوں نے اُس کے جنازے کا بائیکاٹ کردیا اور کہا یہ منحوس موت ہے۔ کوئی آدمی تعزیت کے لئے نہ پہنچا۔ اُس کی اپنی بیوی نے کہا کہ ایسے شخص کو ایسی ہی موت آنی چاہئے تھی اور اس طرح وہ سارے کا ساراعلاقہ احمدیت کا ایک زندہ نشان بن گیا۔ ‘‘

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’جو حج کے موقع پر منٰی میں آگ لگی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مجھ سے اُس آگ کے متعلق مجلس سوال وجواب میں پوچھا گیا کہ کیا آپ کے نزدیک یہ مباہلے کا نتیجہ ہے تو جیسا کہ حق اور انصاف کا تقاضا تھا مَیں نے کہا مجھے بہت ہمدردی ہے اُس آگ سے اور یونہی کسی عذاب کو اپنی صداقت کے طور پر پیش کرنے کا میراشیوہ نہیں جب تک الله تعالیٰ اُس کی تائید میں کچھ ظاہر نہ فرمائے۔ میرے نزدیک یہ ایک دردناک حادثہ ہے اور ہمیں ان لوگوں سے ہمدردی کرنی چاہئے۔ لیکن حج سے واپسی پر جو احمدیوں نے گواہیاں دیں اُن میں ایک عزیزہ بچی کا خط بھی ہے …اور کچھ بڑوں کی گواہیاں بھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ

’’آگ لگنے سے ایک دن پہلے خانہ کعبہ کے کپڑے کو تھام کر ایک مولوی یہ دُعائیں کر رہا تھا اور تمام پاکستانی مولوی اور دوسرے لوگ اُس کے پیچھے لگ گئے تھے۔ وہ دعائیں یہ کررہا تھا کہ مَیں فلاں شخص مرزاطاہراحمد کے چیلنج کو قبول کرتا ہوں۔ اے اس خانے کے خدا! اگر مَیں سچا ہوں تو احمدیت کو ہلاک کر اور اگر وہ سچے ہیں تو ہماری ہلاکت کا کوئی نشان ظاہر کر۔ اور اُس کے بعد جو آگ لگی اُس میں یہ مولوی جل کر مرگیا۔‘‘

فلپائن میں بھی آگ ہی کا ایک نظارہ دیکھا گیا۔ ایک مولوی حبیب زین نامی جو احمدیت کا شدید مخالف تھا اُس کے متعلق خیرالدین باروس صاحب لکھتے ہیں کہ:

اُس نے جب حد سے زیادہ احمدیت کے خلاف بکواس کی تو اسی مباہلے کے کچھ عرصے کے بعد یعنی 26/اپریل1997ء میں وہی شخص کسی ہوٹل میں جاکر ٹھہرا جس ہوٹل کو آگ لگ گئی اور اُس آگ لگنے کے نتیجے میں صرف ایک آدمی ہے جس نے ہوٹل سے چھلانگ لگائی اور اُس کی ٹانگیں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں اور وہ لُولا اپاہج وہ احمدیت کو پاؤں تلے روندنے کا دعویٰ کئے بیٹھا ہے۔ اور مَیں نہیں جانتا کہ وہ مرگیا ہے یا نہیں۔ لیکن اُس کے ساتھ اُس کی شان وشوکت، اُس کے دعوے سارے ضرور مرگئے۔ لیکن جس رنگ میں آگ نے اُس کو ہلاک کیا ہے یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی صداقت کا ایک نشان ہے۔‘‘
بورکینافاسو کے متعلق ہمارے ایک مبلغ (محمد ادریس شاہدصاحب ) لکھتے ہیں کہ

’’ایک شخص محمود باندے نے جماعت کی مخالفت میں مشن کے سامنے ڈیرہ لگالیا۔ مسلسل مخالفت کئے چلا جاتا تھا۔ جب حضور نے اس سال کو مباہلے کا سال قرار دیا اور جماعت نے دُعائیں شروع کیں تو یہ شخص حج پر گیا اور واپس آکر بالکل خاموش ہوگیا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ڈاکٹروں نے اُسے سختی سے اونچی آواز سے بولنے سے منع کردیا ہے اور اس کے گلے میں کوئی بیماری ہے اور وہ ایسی تکلیف ہے کہ اب وہ بول نہیں سکتا ۔اگر بولے گا تو ڈاکٹروں کے نزدیک اُس کا بولنا جان لیوا ثابت ہوگا۔‘‘

اس طرح وہاں بھی خداتعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ نشان اسی سال میں دکھایا۔

رانا حنیف احمد صاحب سانگھڑ (سندھ۔ پاکستان) لکھتے ہیں کہ:

’’ہمارے متعلق وہاں کا ایک مولوی جو بہت بکواس کیا کرتا تھا اُس نے یہ بات مشہور کردی کہ یہ نوجوان لڑکیاں دوسروں کے پاس احمدیت کی خاطر فروخت کرتے ہیں۔ (لڑکیاں لے لیں اور ان سے جو چاہیں بےحیائی کریں لیکن احمدی ہوجائیں۔)اب اخبارات میں اُس شخص کا نام لکھ کر یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ اُس کی نوجوان لڑکی کسی غیر کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور اس واقعہ کے بعد وہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ جو احمدی معصوم بچیوں پر تہمت لگایا کرتا تھا خود اُس کی بچی بھاگ کر اُس کے لئے عبرت کا نشان بن گئی۔‘‘

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا

’’یہ مباہلے کا جو چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اپنی ذات میں جماعت کے لئے الله تعالیٰ کے فضل سے بہت سے فوائد لے کے آیا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے سری لنکا سے مجھے اطلاع ملی کہ وہاں کے مولوی بہت شرارت کر رہے ہیں اور حکومت پر بھی اثر ڈال چکے ہیں اور ان کو یہ خبر دی ہے کہ احمدی ہیں جو فساد کی جڑ ہیں اور یہ ہماری دل آزاری کرتے ہیں اور دل آزاری اس طرح کرتے ہیں کہ ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں، ہماری طرح عبادت کرتے ہیں اس سے ہمارادل بہت دُکھتا ہے۔ اس لئے یا ان کو روک لو یا ہم ان کا کچھ کریں گے۔ وہ وزیر اتنا متاثر تھا اُن مولویوں کی باتوں سے کہ اُس نے ہمارے وفد پہ سختی کی اور کہا کہ تم نے دیکھا نہیں کہ یہاں کس قدر فساد ہورہا ہے اور تم اس کی جڑ ہو۔ انہوں نے کہا ہم کیسے جڑ ہوگئے ؟ کہ تمہاری وجہ سے ان کو طیش آتا ہے۔ انہوں نے کہا اگر ہم گلیوں میں پھریں اُن کو طیش آئے تو ہمارا اس میں کیا قصور ہے؟ بہرحال اُن لوگوں نے جلسہ کیا اور سُنا ہے بہت بڑی تعداد میں کثرت کے ساتھ خرچ کرکے عظیم ہجوم اکٹھا کیا اور اس میں فیصلہ کیا کہ آج یہ ہجوم ہراحمدی کے گھر پر حملہ آور ہوگا اور ہراحمدی گھر کو تباہ کردیا جائے گا۔ اس غرض سے انہوں نے پاکستان سے ایک گندہ بدگو مولوی بھی بلایا جس کی آخری تقریر تھی۔ اُس تقریر میں اُس نے بےانتہا احمدیت کے خلاف بکواس کی اور جوش دلایا اور وہی باتیں اصرار سے کہیں جو مباہلے میں مَیں پیش کرچکا تھا کہ مَیں ان کا انکار کرتا ہوں یہ ساری باتیں جھوٹ ہیں۔ چنانچہ وہی باتیں وہ دہراتا رہا جن کو مَیں جھوٹ کہہ چکا تھا ۔

اب دیکھئے الله تعالیٰ نے مباہلہ کو احمدیت کے حق میں کس طرح نشان بنایا کہ اُن لوگوں میں سے جو غیراحمدیوں کا مجمع تھا اُن میں سے کئی نوجوانوں کے ہاتھ میں یہ مباہلے کا پمفلٹ موجود تھا اور وہ پڑھ رہے تھے اور وہ دیکھ رہے تھے کہ یہی تحریر ہے جس کا وہ انکار کررہا ہے اور یہی تحریر ہے جس پر یہ اصرار کررہا ہے۔ تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک کے بعد دوسرا اٹھنے لگا اور وہ مباہلے کا کاغذ ہاتھ میں لئے ہوئے ہلانے لگے اور کہا مولوی بس بات ختم ہوگئی۔ تم اصرار کرتے ہو تو ابھی یہاں چیلنج کو منظور کرو۔ اگر تم سچے ہو تو پھر اس چیلنج کو منظور کرو اورکہو کہ ہاں مَیں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ احمدی جھوٹے ہیں اور احمدیوں کا یہ عقیدہ ہے جو تم بیان کررہے ہو۔ اس پر مولوی پر ایسی سراسیمگی طاری ہوئی کہ وہ پیچھے ہٹ گیا اور سارے جلسے میں بھگدڑ مچ گئی اور ایک دوسرے کو وہ مارنے لگے اور جو مباہلے کے نتیجے میں احمدیت کے حق میں ایک جوش اُٹھ کھڑا ہوا۔ انہوں نے مخالف کو مارمار کے جلسے سے بھگا دیا، سارا جلسہ تتّربتّر ہوگیا۔ پس دیکھئے الله تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کے حق میں یہ مباہلے کا سال کیسے کیسے نشان پیش کر رہا ہے۔‘‘

الله وسایا جو جماعت کی مخالفت میں پیش پیش ہوا کرتا تھا اُس پر فالج کا حملہ ہوا۔ صدرپاکستان لغاری نے نشترہسپتال میں خود اس کی عیادت کی اور خصوصی نگران مقرر کئے مگر اُن کی کچھ پیش نہ گئی۔ یہ شخص جو احمدیت کے خلاف بہت بکواس کیا کرتا تھا اسی مباہلے کے سال کا نشانہ بن گیا۔‘‘

(روزنامہ پاکستان۔ لاہور۔ 11؍ مئی 1997ء)

’’تنزانیہ میں یہ واقعہ گزرا ہے کہ سونگیا میں ایک سُنی جماعت کا مولوی شیخ چی ٹیٹے (Chi Tete)۔ یہ مصر سے پڑھ کر آیا اور شرارت اور فتنے میں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گیا، روزانہ گالیاں دیتا تھا۔ اُس کے جواب میں اُس کے سامنے مباہلے کا چیلنج پیش کیا گیا اور کہا کہ اب تم باز آجاؤ ورنہ اس مباہلے کی مار تم پر پڑے گی۔ دودن کے اندر پولیس نے اُسے ایک گھناؤنے جرم میں گرفتار کرلیا اور اس وقت وہ جیل میں ہے۔‘‘
(ماخوذ از خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ برموقع جلسہ سالانہ یُو کے 1997ء۔ دوسرے روز بعد دوپہر کا خطاب)

(………………جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button