حضرت مصلح موعود ؓ

دس دلائل ہستی باری تعالیٰ (قسط نمبر 3 )

پانچویں دلیل: پانچویں دلیل ہستی باری تعالیٰ کی جو قرآن شریف نے دی ہے گو اسی رنگ کی ہے لیکن اس سے زیادہ زبردست ہے اور وہاں استدلال بالاَولیٰ سے کام لیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُO الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُO الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ O ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ O (الملک2:-5)

یعنی بہت برکت والا ہے وہ جس کے ہاتھ میں ملک ہے وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ دیکھے کہ تم میں سے کون زیادہ نیک عمل کرتا ہے اور وہ غالب ہے، بخشندہ ہے۔ اس نے ساتوں آسمان بھی پیدا کئے اور ان میں آپس میں موافقت اور مطابقت رکھی ہے تُو کبھی کوئی اختلاف اللہ تعالیٰ کی پیدائش میں نہیں دیکھے گا۔ پس اپنی آنکھ کو لوٹا، کیا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے۔ دوبارہ اپنی نظر کو لوٹا کر دیکھ، تیری نظر تیری طرف تھک کر اور ماندہ ہو کر لوٹے گی۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات اتفاقاً پیدا ہوگئی اور اتفاقی طور پر مادہ کے ملنے سے یہ سب کچھ بن گیا اور سائنس سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا خود بخود جڑ کر آپ ہی چلتی جائے اور اس کا پھرانیوالا کوئی نہ ہو۔ لیکن ان کا جواب اللہ تعالیٰ ان آیات میں دیتا ہے کہ اتفاقی طور سے جڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اور انتظام نہیں ہوتا بلکہ بے جوڑی ہوتی ہے۔مختلف رنگوں سے مل کر ایک تصویر بنتی ہے۔ لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پر پھینک دیں تو اس سے تصویر بن جائے گی۔ اینٹوں سے مکان بنتا ہے لیکن کیا اینٹیں ایک دوسرے پر پھینک دینے سے مکان بن جائے گا۔ بفرض محال اگر یہ مان لیا جائے کہ بعض واقعات اتفاقاً بھی ہو جاتے ہیں لیکن نظام عالم کو دیکھ کر کبھی کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی ہوگیا۔ مانا کہ خود بخود ہی مادہ سے زمین پیدا ہوگئی اور یہ بھی مان لیا کہ اتفاقاً ہی انسان پیدا ہوگیا لیکن انسان کی خلقت پر نظر تو کرو کہ ایسی کامل پیدائش کبھی خود بخود ہو سکتی ہے۔ عام طور سے دنیا میں ایک صفت کی خوبی سے اس کے صنّاع کا پتہ لگتا ہے۔ ایک عمدہ تصویر کو دیکھ کر فوراً خیال ہوتا ہے کہ کسی بڑے مصوّر نے بنائی ہے۔ ایک عمدہ تحریر کو دیکھ کر سمجھا جاتا ہے کہ کسی بڑے کاتب نے لکھی ہے اور جس قدر ربط بڑھتا جائے اسی قدر اس کے بنانے یا لکھنے والے کی خوبی اور بڑائی ذہن نشین ہوتی جاتی ہے پھر کیونکر تصور کیا جاتا ہے کہ ایسی منتظم دنیا خود بخود اور یونہی پیدا ہوگئی۔ ذرا اس بات پر تو غور کرو کہ جہاں انسان میں ترقی کرنے کے قویٰ ہیں وہاں اسے اپنے خیالات کو عملی صورت میں لانے کے لئے عقل دی گئی ہے اور اس کا جسم بھی اس کے مطابق بنایا گیا ہے۔ چونکہ اس کو محنت سے رزق کمانا تھا اس لئے اسے مادہ دیا کہ چل پھر کر اپنا رزق پیدا کرلے۔ درخت کا رزق اگر زمین میں رکھا ہے تو اسے جڑیں دیں کہ وہ اس کے اندر سے اپنا پیٹ بھر لے۔ اگر شیر کی خوراک گوشت رکھی تو اسے شکار مارنے کے لئے ناخن دئے اور گھوڑے اور بیل کے لئے گھاس کھانا مقدر کیا تو ان کو ایسی گردن دی جو جھک کر گھاس پکڑ سکے اور اگر اونٹ کے لئے درختوں کے پتے اور کانٹے مقرر کئے تو اس کی گردن بھی اونچی بنائی۔ کیا یہ سب کارخانہ اتفاق سے ہوا۔ کیا اتفاق نے اس بات کو معلوم کرلیا تھا کہ اونٹ کو گردن لمبی دوں اور شیر کو پنجے اور درخت کو جڑیں اور انسان کو ٹانگیں۔ ہاں کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو کام خود بخود ہوگیا اس میں اس قدر انتظام رکھا گیا ہو۔ پھر اگر انسان کے لئے پھیپھڑا بنایا تو اس کے لئے ہوا بھی پیدا کی۔ اگر پانی پر اس کی زندگی رکھی تو سورج کے ذریعہ بادلوں کی معرفت اسے پانی پہنچایا اور اگر آنکھیں دیں تو ان کے کارآمد بنانے کے لئے سورج کی روشنی بھی دی تاکہ وہ اس میں دیکھ بھی سکے۔ کان دئے تو ساتھ اس کے خوبصورت آوازیں بھی پیدا کیں۔ زبان کے ساتھ ذائقہ دار چیزیں بھی عطافرمائیں۔ ناک پیدا کیا تو خوشبو بھی مہیا کردی۔ ممکن تھا کہ اتفاق انسان میں پھیپھڑا پیدا کر دیتا لیکن اس کے لئے یہ ہوا کا سامان کیوں کر پیدا ہوگیا اور ممکن تھا کہ آنکھیں انسان کی پیدا ہو جاتیں لیکن وہ عجیب اتفاق تھا کہ جس نے کروڑوں میلوں پر جا کر ایک سورج بھی پیدا کر دیا تاکہ وہ اپنا کام کرسکیں۔ اگر ایک طرف اتفاق نے کان پیدا کردئے تھے تو یہ کون سی طاقت تھی جس نے دوسری طرف آواز بھی پیدا کردی۔ برفانی ممالک میں مان لیا کہ کتے یا ریچھوں کو تو اتفاق نے پیدا کردیا لیکن کیا سبب کہ ان کتوں یا ریچھوں کے بال اتنے لمبے بن گے کہ وہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔ اتفاق ہی نے ہزاروں بیماریاں پیدا کیں۔ اتفاق ہی نے ان کے علاج بنادئے۔ اتفاق ہی نے بچھو بوٹی جس کے چھونے سے خارش ہونے لگ جاتی ہے، پیدا کی اور اس نے اس کے ساتھ پالک کا پودا اُگا دیا کہ اس کا علاج ہوجائے۔ دہریوں کا اتفاق بھی عجیب ہے کہ جن چیزوں کے لئے موت تجویز کی ان کے ساتھ تو الد کا سلسلہ بھی قائم کردیا اور جن چیزوں کے ساتھ موت نہ تھی وہاں یہ سلسلہ ہی نہیں رکھتا۔ انسا ن اگر پیدا ہوتا اور مرتا نہیں تو کچھ سالوں میں ہی دنیا کا خاتمہ ہوجاتا۔ اس لئے اس کے ساتھ فنا لگا دی لیکن سورج اور چاند اور زمین نہ نئے پیدا ہوتے ہیں نہ اگلے فنا ہوتے ہیں۔ کیا یہ انتظام کچھ کم تعجب انگیز ہے کہ زمین اور سورج میں چونکہ کشش رکھی ہے اس لئے ان کو ایک دوسرے سے اتنی دور رکھا کہ آپس میں ٹکرا نہ جاویں۔ کیا یہ باتیں اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہیں کہ ان سب چیزوں کا خالق وہ ہے جو نہ صرف علیم ہے بلکہ غیرمحدود علم والا ہے۔ اس کے قواعد ایسے منضبط ہیں کہ ان میں کچھ اختلاف نہیں اور نہ کچھ کمی ہے۔ مجھے تو اپنی انگلیاں بھی اس کی ہستی کا ایک ثبوت معلوم ہوتی ہیں۔ مجھے جہاں علم دیا تھا اگر شیر کا پنجہ مل جاتا تو کیا میں اس سے لکھ سکتا تھا۔ شیر کو علم نہیں دیا اسے پنجے دئے، مجھے علم دیا لکھنے کے لئے انگلیاں بھی دیں۔

سلطنتوں میں ہزاروں مدبّر ان کی درستی کے لئے رات دن لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہو تی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل تباہ ہوجاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق تو غلطی نہیں کرتا۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ آتا۔ اب جس طرف نظر دوڑا کر دیکھو تمہاری نظر قرآن شریف کے ارشاد کے مطابق خائب و خاسر واپس آئے گی اور ہر ایک چیز میں ایک انتظام معلوم ہوگا۔ نیک جزاء اور بدکار سزا پا رہے ہیں۔ ہر ایک چیز اپنا مفوّضہ کام کررہی ہے اور ایک دم کے لئے سُست نہیں ہوئی۔ یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے لیکن میں اسے یہیں ختم کرتا ہوں۔ عاقل را اشارہ کافی است۔

دلیل ششم: قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منکر ہمیشہ ذلیل وخوار ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک ثبوت ہے ان کے باطل پر ہونے کا کیونکہ اللہ اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ فتوحات دیتا ہے اور وہ اپنے مخالفوں پر غالب رہتے ہیں۔ اگر کوئی خدا نہیں تو یہ نصرت اور تائید کہاں سے آتی ہے۔ چنانچہ فرعون موسیٰ کی نسبت فرماتا ہے کہ فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی (النّٰزِعٰت25,26:) یعنی جب حضرت موسیٰؑ نے اسے اطاعت الٰہی کی نسبت کہا تو اس نے تکبر سے جواب دیا کہ خدا کیسا، خدا تو میں ہوں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس جہاں میں بھی اور اگلے جہاں میں بھی ذلیل کردیا چنانچہ فرعون کا واقعہ ایک بیّن دلیل ہے کہ کس طرح خدا کے منکر ذلیل وخوار ہوتے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں دنیا میں کبھی کوئی سلطنت دہریوں نے قائم نہیں کی بلکہ دنیا کے فاتح اور ملکوں کے مصلح اور تاریخ کے بنانے والے وہی لوگ ہیں کہ جو خدا کے قائل ہیں۔ کیا یہ ان کی ذلّت ونکبت اور قوم کی صورت میں کبھی دنیا کے سامنے نہ آنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔

ساتویں دلیل: اللہ تعالیٰ کی ہستی کی یہ ہے کہ اس کی ذات کے ماننے والے اور اس پر ایمان رکھنے والے اور اس پر حقیقی ایمان رکھنے والے ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور باوجود لوگوں کی مخالفت کے ان پر کوئی مصیبت نہیں آتی۔ خداتعالیٰ کی ہستی کے منوانے والے ہر ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور جس قدر ان کی مخالفت ہوئی ہے اُتنی اور کسی کی نہیں لیکن پھر دنیا اس کے خلاف کیا کرسکی۔ رامچندر کو بن باس دینے والوں نے کیا سکھ پایا؟ اور راون نے کون سی عشرت حاصل کرلی؟ کیا رامچندر کا نام ہزاروں سال کے لئے زندہ نہیں ہوگیااور کیا راون کا نام ہمیشہ کے لئے بدنام نہیں ہوا؟ اور کرشنؑ کی بات کا ردّ کرکے کورو نے کیا فائدہ حاصل کیا۔ کیا وہ کرو چھتر کے میدان میں تباہ نہ ہوئے؟ فرعون بادشاہ جو بنی اسرائیل سے اینٹیں پتھواتا تھا۔ اس نے موسیٰ ؑجیسے بے کس انسان کی مخالفت کی مگر کیا موسیٰؑ کاکچھ بگاڑ سکا؟ وہ غرق ہوگیا اور موسیٰؑ بادشاہ ہوگئے۔ حضرت مسیحؑ کی دنیا نے جو کچھ مخالفت کی وہ بھی ظاہر ہے اور ان کی ترقی بھی جو کچھ ہوئی پوشیدہ نہیں۔ ان کے دشمن تو تباہ ہوئے اور ان کے غلام ملکوں کے بادشاہ ہوگئے۔ ہمارے آقا بھی دنیا میں سب سے زیادہ اس پاک ذات کے نام کے پھیلانے والے تھے۔ یہاں تک کہ ایک یورپ کا مصنف کہتا ہے کہ ان کو خدا کا جنون تھا (نعوذباللہ) ہر وقت خدا خدا ہی کہتے رہتے تھے۔ ان کی سات قوموں نے مخالفت کی۔ اپنے پرائے سب دشمن ہوگئے مگر کیا پھر آپ کے ہاتھ پر دنیا کے خزانے فتح نہیں ہوئے؟ اگر خدا نہیں تو یہ تائید کس نے کی؟ اگر یہ سب کچھ اتفاق تھا تو کوئی مبعوث تو ایسا ہوتا جو خدا کی خدائی ثابت کرنے آتا اور دنیا اسے ذلیل کردیتی مگر جو کوئی خدا کے نام کو بلند کرنے والا اُٹھا، وہ معزز و ممتاز ہی ہوا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ مَنْ یَّتَولَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ (المائدہ57:) اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے دوستی کرتا ہے۔ پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہی لوگ خدا کے ماننے والے ہی غالب رہتے ہیں۔

دلیل ہشتم:۔ آٹھویں دلیل جو قرآن شریف سے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں ملتی ہے یہ ہے کہ وہ دعائوں کو قبول کرتا ہے۔ جب کوئی انسان گھبرا کر اس کے حضور میں دعا کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرتا ہے۔ اور یہ بات کسی خاص زمانہ کے متعلق نہیں بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نظارے موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ (البقرۃ187:) یعنی جب میرے بندے میری نسبت سوال کریں تو انہیں کہہ دو کہ میں ہوں اور پھر قریب ہوں، پکارنے والے کی دعا کو سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ اب اگر کوئی شخص کہے کہ کیونکر معلوم ہو کہ دعا خدا سنتا ہے کیوں نہ کہا جائے کہ اتفاقاً بعض دعا کرنے والے کے کام ہو جاتے ہیں۔ جیسے بعض کے نہیں بھی ہوتے۔ اگر سب دعائیں قبول ہو جائیں تب بھی کچھ بات تھی لیکن بعض کے قبول ہونے سے کیونکر معلوم ہوکہ اتفاق نہ تھا۔ بلکہ کسی ہستی نے قبول کرلیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت اپنے ساتھ نشان رکھتی ہے۔ چنانچہ ہمارے آقا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ثبوت باری تعالیٰ کی دلیل میں یہ پیش کیا تھا کہ چند بیمار جو خطرناک طور پر بیمار ہوں چنے جائیں اور بانٹ لئے جائیں اور ایک گروہ کا ڈاکٹر علاج کریں اور ایک طرف میں اپنے حصہ والوں کے لئے دعا کروں پھر دیکھو کہ کس کے بیمار اچھے ہوتے ہیں۔ اب اس طریق امتحان میں کیا شک ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ایک سگ گزیدہ جسے دیوانگی ہوگئی اور جس کے علاج سے کسولی کے ڈاکٹروں نے قطعاً انکار کردیا تھا اور لکھ دیا تھا کہ اس کا کوئی علاج نہیں۔ اس کے لئے آپ نے دعا کی اور وہ اچھا ہوگیا۔ حالانکہ دیوانے کتے کے کاٹے ہوئے دیوانہ ہو کر کبھی اچھے نہیں ہوتے۔ پس دعائوں کی قبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو انہیں قبول کرتی ہے اور دعائوں کی قبولیت کسی خاص زمانہ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ ہر زمانے میں اس کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں جیسے پہلے زمانہ میں دعائیں قبول ہوتی تھیں ویسے ہی اب بھی ہوتی ہیں۔

(………………جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button