رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ و گوئٹے مالا 2018ء (23 تا 25 اکتوبر)

… … … … … … … … …
23؍اکتوبر 2018ء بروز منگل
(حصہ دوم)
… … … … … … … … …

٭…آج کی اس تقریب میں شامل ہونے والے مہمانوں میں چھ صد کے لگ بھگ مرد حضرات اور قریباً دو صد خواتین شامل ہوئیں۔ بعض سرکردہ مہمانوں کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے ڈاکٹرز، وکلاء، مقامی بزنس مین، میڈیا کے اداروں کے مختلف نمائندے، حکومت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوئے۔

اجراء ریویو آف ریلیجنز سپینش ایڈیشن

٭…بعد ازاں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک کانفرنس روم میں تشریف لے آئے جو ایک چھوٹے سائز کی مارکی لگاکر تیار کیا گیا تھا۔ یہاں پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوا۔

٭…سب سے قبل حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس بابرکت موقع پر رسالہ ریویوآف ریلیجنز کے سپینش شمارے کا باقاعدہ اجراء فرمایا۔

٭…23؍اکتوبر 2018ء کا دن ہسپانوی دنیا کی تاریخ کے حوالہ سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ریویو آف ریلیجنز کی ’’سپینش ویب سائٹ‘‘ اور سپینش شمارے کا افتتاح کیا۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس عظیم الشان رسالہ اور اس کی ویب سائٹ کے ذریعہ احمدیت کا پیغام لاکھوں اور کروڑوں سپینش لوگوں کے گھروں تک پہنچے گا۔

ریویو آف ریلیجنز وہ بابرکت رسالہ ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے 1902ء میں مغربی دنیا کو اسلام کی خوبصورت اور حقیقی تعلیم سے روشناس کروانے کے لئے جاری فرمایا۔

10؍جون 2018ء کو حضورِانور نے ریویو آف ریلیجنز کے شعبہ کو دوران ملاقات یہ ہدایت فرمائی کہ اب آپ کو عنقریب سپینش ایڈیشن کی ضرورت پڑے گی۔ کیونکہ سپین کی آبادی 46 ملین ہے اور اسی طرح امریکہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں 400 ملین سے زائد آبادی سپینش زبان بولتی ہے۔

بعد میں حضورِ انور نے عطاء المنعم طارق صاحب (انچارج مرکزی سپینش ڈیسک سپین) کو اس رسالہ کا چیف ایڈیٹر اور مکرمہ ماریہ آئزابیل لوساسرنا صاحبہ کو (جن کاتعلق سپین سے ہے) اس رسالہ کا ڈپٹی ایڈیٹر اور مکرم فائز احمد صاحب گوئٹے مالا کو اس رسالہ کا کوارڈینیٹر مقرر فرمایا۔ نیز حضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ سپینش شمارے کا اجراء گوئٹے مالا میں ناصر ہسپتال کی افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوگا۔

ناصر ہسپتال کی افتتاحی تقریب کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پریس مارکی میں تشریف لائے اور ’لانچ‘ کا بٹن دبا کر سپینش ریویو آف ریلیجنز کے آن لائن ایڈیشن کا اجراء فرمایا۔

حضورِانور نے ہدایت فرمائی تھی کہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز کا جو پہلا شمارہ سپینش زبان میں شائع ہو وہ خدمت انسانیت پر مبنی اسلامی تعلیمات پر ہونا چاہئے۔ چنانچہ اس کے مطابق یہ پہلا رسالہ شائع ہوا ہے اور خدمت انسانیت کے حوالہ سے ناصرہسپتال گوئٹے مالا کوبھی کوریج دی گئی ہے۔

پریس کانفرنس

٭…اس پروگرام کے بعد پریس کانفرنس شروع ہوئی۔ اس موقع پر درج ذیل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندے موجود تھے۔

٭ Channel 7سے تین جرنلسٹ اور نمائندے
٭ Prensa Libre سے دو صحافی
٭Guatevisionسے ایک نمائندہ
٭Nuestro Diarioسے ایک نمائندہ
٭Diario De Centro America سے ایک نمائندہ
٭اور Revista Summa کا نمائندہ۔

٭…ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ ہسپتال جیسا پروجیکٹ اَور علاقوں میں بھی بنائیں گے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا: آپ نے میرا ایڈریس سنا ہوگا۔ ابھی تو ابتدا ہے، انتہا نہیں ہے۔ ہم آئندہ اور بھی رفاہ عامہ کے کام کریں گے۔ میرے ایڈریس میں آپ کے سوال کا سارا جواب آگیا ہے۔

٭…اسلامی تعلیم کے تعلق میں ایک سوال کے جواب میں حضورِانور نے فرمایا: اسلامی تعلیم وہ ہے جو قرآن کریم نے بتائی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے عمل سے کرکے دکھایا ہے اور بتایا ہے۔ میں نے اسی اسلام کا اپنے ایڈریس میں بتایا تھا۔ کوئی اور اسلام نہیں تھا۔ اصل اسلام یہی ہے وہ نہیں ہے جو میڈیا والے پیش کرتے ہیں یا بعض انتہاپسند گروپ پیش کرتے ہیں۔ ہم اسلام کی حقیقی تعلیم دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔ اس کو دیکھ کر لاکھوں لوگ اسلام میں شامل ہوتے ہیں۔

٭…ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ گوئٹے مالا میں ہیلتھ کیئر پرابلم ہے، علاج کی کمی ہے۔ کیا آپ اسی معیار کے ہسپتال دوسرے علاقوں میں بھی کھولیں گے۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا: اتنے بڑے پیمانے پر تو نہیں ہوسکتا کہ دوسرے علاقوں میں ہسپتال کھولیں۔ ہاں جس طرح ہم نے افریقہ کے مختلف علاقوں میں کلینک کھولے ہیں اور علاج کی بنیادی سہولیات مہیا کی ہیں۔ بعد میں آہستہ آہستہ پھر وہ بڑے ہسپتال بنے۔ اس طرز پر حسب حالات مزید کلینک شروع کئے جاسکتے ہیں۔

23؍اکتوبر 2018ء کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندگان کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ پریس کانفرنس

٭…ملک ایکواڈور کے ایک صحافی نے سوال کیا کہ ہسپتال کے قیام کے لئے یہ جگہ کیوں منتخب کی ہے؟

اس پر حضورِانور نے فرمایا: ہمارے اپنے وسائل ہیں۔ ہم نے اپنے وسائل میں رہ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ عموماً شہروں کے لوگوں کو سہولیات مل جاتی ہیں اور دوسرے علاقے کے لوگوں کو سہولیات کم ہوتی ہیں۔ ہمارا مقصد خدمت کرنا ہے، پیسہ کمانا نہیں۔ ہم اپنے ریسورسز کے اندر رہتے ہوئے جہاں مناسب ضرورت ہوتی ہے وہاں ہسپتال بناتے ہیں۔

٭…ایک صحافی نے عرض کیا کہ میں پیراگوئے (Paraguay) سے ہوں۔ وہاں جماعت ترقی کررہی ہے۔ اب تک تیس لوگ احمدی ہوچکے ہیں۔ جماعت کے پھیلنے اور جماعت کی ترقی کے بارہ میں حضورِ انور کا کیا خیال ہے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا: ہم ایک مذہبی جماعت ہیں۔ مذہبی جماعتیں آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک چھوٹے سے علاقے میں مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ پھر آپ کا پیغام باہر نکلا اور سینکڑوں لوگوں نے آپ کو قبول کیا۔ پھر قبول کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں، لاکھوں میں چلی گئی اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ آج ہم دنیا کے 212 ممالک میں ہیں اور ہر سال لاکھوں لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح پیراگوئے میں بھی ہم پیغام پہنچا رہے ہیں جو اس پیغام کو پسند کرتے ہیں وہ قبول کرتے ہیں۔ بعض مخالف بھی ہیں لیکن ہمارا پیغام دلوں کو چھو رہا ہے۔ دلوں میں اُترتا ہے اور لوگ قبول کرتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: ہمیں اُمید ہے کہ پیراگوئے کے لوگوںکو ہمارا پیغام اچھا لگے گا اور وہ مان لیں گے۔ ان کی آئندہ نسلیں مان لیں گی۔ ہم اپنے پیغام کو چھوڑنے والے نہیں۔

ہسپتال کا قیام اور یہ خدمت خلق کا کام اس لئے نہیں کہ لوگ اسلام قبول کریں۔ یہ تو صرف انسانیت کی خدمت کے لئے ہے۔ گوئٹے مالا کے لوگ ہوں، پیراگوئے کے ہوں یا بیلیز کے ہوں، چاہے وہ اسلام قبول کریں یا نہ کریں، ہم اپنا تبلیغی کام کرتے رہیں گے۔

حضورِانور نے فرمایا: تیس کی تعداد ابھی تھوڑی ہے۔ یہ بڑھیں گے۔ جب قادیان کے گائوں میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا تو نہ کوئی وسائل تھے، نہ ریل تھی، نہ کوئی اور ذرائع تھے اس کے باوجود آپؑ کی زندگی میں آپ کو قبول کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ گئی۔ آج 212 ممالک میں یہ تعداد ملینز تک پہنچ گئی ہے اور مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تو مذہبی جماعتیں اس طرح پھیلا کرتی ہیں۔ اس طرح انشاء اللہ پیراگوئے میں بھی ہوگا۔ آہستہ آہستہ تعداد بڑھے گی۔

حضورِانور نے فرمایا: عیسائیت کے دنیا میں نفوذ کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ لگا تھا۔ بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں مسیحؑ کے قدموں پر آیا ہوں۔ تین سو سال کا عرصہ نہیں گزرے گا کہ دنیا میں اکثریت جماعت احمدیہ کی ہوگی اور اُس اسلام کو قبول کرنے والی ہوگی جو آنحضرت ﷺ کا حقیقی اسلام ہے۔

حضورِانور نے فرمایا: اگر ایک شخص ملٹی پلائی ہوکے کروڑوں میں چلا گیا تو ان تیس میں سے ہر ایک بھی ملٹی پلائی ہو کر ہزاروں، لاکھوں میں چلے جائیں گے۔ انشاء اللہ

٭…یہ پریس کانفرنس چھ بج کر پچیس منٹ پر ختم ہوئی۔

گروپ فوٹوز

٭…بعدازاں امریکہ کے اُن ڈاکٹر صاحبان نے جو وقتاً فوقتاً ناصر ہسپتال گوئٹے مالا میں خدمات سرانجام دیں گے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے کی سعادت پائی۔

٭…اس کے بعد یو ایس اے، کینیڈا اور یوکے کے ہیومینٹی فرسٹ کے ڈائریکٹرز اور اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے دیگر کارکنان نے حضورِ انور کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف پایا۔

٭…پھر ہسپتال کے تمام سٹاف اور عملہ نے حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوائی۔

٭…بعد ازاں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہسپتال کے اندر تشریف لے آئے جہاں خواتین ڈاکٹرز نے حضورِ انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

٭…اس کے بعد پروگرام کے مطابق سات بجے یہاں سے مسجد بیت الاول کے لئے روانگی ہوئی۔ ساڑھے سات بجے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مسجد تشرف آوری ہوئی۔

٭…حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کچھ دیر کے لئے مشن کے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔ بعدازاں حضورِ انور دفتر میں تشریف لے آئے اور سینٹرل امریکہ اور سائوتھ امریکہ کے ممالک سے آنے والے مبلغین نے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے کی سعادت پائی۔

٭…بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہر مبلغ سے فرداً فرداً استفسار فرمایا کہ وہ کس ملک میں خدمت انجام دے رہے ہیں اور سپینش زبان کس کس نے سیکھ لی ہے اور اس وقت ملک میں کتنے احمدی ہیں اور جماعت کی تعداد کیا ہے۔

٭…حضورِ انور نے جائزہ کے بعد تمام مبلغین کو ہدایت فرمائی کہ جہاں پر متعین ہیں اور مقیم ہیں۔ صرف وہیں تبلیغی کوششیں نہ ہوں بلکہ وہاں سے دور جا کر دوسرے علاقوں میں بھی لوگوں تک پیغام پہنچانا چاہئے۔ خاص طور پر جہاں لوگوں کی آبادی زیادہ ہو اور اسلام میں دلچسپی بھی ہو۔

٭…حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہرمبلغ کو سال میں کم از کم ایک سو بیعتوں کے حصول کا ہدف دیا۔

٭…بعد ازاں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر مسجد میں تشریف لے آئے اور نمازِ مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ یہاں سے ہوٹل Porta کے لئے تشریف لے گئے۔ پولیس نے قافلہ کو Escort کیا۔ قریباً نو بجے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے آئے۔

ناصر ہسپتال، گوئٹے مالا کے افتتاح کے موقع پر مہمانوں کے تأثرات

٭…ناصر ہسپتال، گوئٹے مالا کے افتتاح کے موقع پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب نے مہمانوں پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے اور بہت سے مہمانوں نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا ہے۔

٭…ای لی آنا کایس(Iliana Calles) ممبر آف پارلیمنٹ گوئٹے مالا اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: یہ میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ مسلم جماعت احمدیہ کے خلیفہ کا ایئر پورٹ پر استقبال کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ علاوہ ازیں گوئٹے مالا کے لئے یہ امر بھی قابل عزت اور باعث صد افتخار ہے کہ خلیفہ اپنی بیگم صاحبہ کے ہمراہ اس ملک کو برکت دینے اور ناصر ہسپتال کا افتتاح کرنے تشریف لائے۔

آپ نے دوران گفتگو مجھے بتایا کہ جہاز سے میں نے گوئٹے ما لا کا نظارہ کیا تو گوئٹے مالا کی سر زمین کو بہت ہی سر سبز وشاداب اور خوبصورت پایا۔

خلیفہ کے استفسار پر میں نے بتایا کہ ہماری پارلیمنٹ 158 ممبران پر مشتمل ہے جو قانون سازی کرتی ہے اور سینیٹ نہیں ہے اور میرا تعلق حکومتی پارٹی سے ہے اور میں اپنے پارلیمنٹیرین گروپ کی انچارج ہوں۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ کی طرف سے پانچ کمیشن میرے سپرد ہیں جن کی میں نگران ہوں۔ اکنامکس، دفاع، کلچر، غذا اور عورتوں کے متعلق کمیشن۔ ان سب کا تعلق متعلقہ منسٹری اور انسٹیٹیوٹ سے ہے۔

خلیفہ نے صرف ہسپتال کے موقع پر جو پیغام دیا وہ ایک منفرد اور امن بخش محبت کا پیغام ہے۔ ناصر ہسپتال کا افتتاح ضرورت مندوں کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔اس مبارک تقریب میں میرے اندازے کے مطابق سات سو افراد موجود تھے جن کا تعلق د نیا کے مختلف ممالک سے تھا جو انتہائی توجہ اور انہماک سے خلیفہ کا خطاب سن رہے تھے۔ ہیومینیٹی فرسٹ اس ہسپتال کے افتتاح کےنتیجہ میں خدمت انسانیت کے حوالہ سے عالمی شہرت پائے گی۔ ہم گوئٹے مالا کے باشندے اس ہسپتال کی تعمیر سے بہت خوشی اور مسرت محسوس کرتے ہیں اور خلیفہ کے شکر گزار ہیں کہ آپ کی راہنمائی میں نا صر ہسپتال کی تعمیر ممکن ہوئی۔
میں ذاتی طور پر بھی خلیفہ کی باوقار اور پر شفقت شخصیت سے حد درجہ متاثر ہوں کہ آپ نے خدمت انسانیت، باہمی ہمدردی اور محبت کا پیغام دیا۔

٭…ماریو فیگورویا Mario Figuroa (Vice Minister of Heath) اپنےتأثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں ہسپتا ل کو اس کے ابتدائی تعمیراتی کام سے ہی دیکھ رہا ہوں۔ میں یہاں پہلے بھی کئی مرتبہ آچکا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ یہ کس طرح سامان وغیرہ کو حاصل کر رہے ہیں اور ہسپتال کے عملے کے ارکان کو کیسے تلاش کر رہے ہیں۔ اور اب یہ دیکھنے کے لائق بہت خوبصورت ہسپتال ہے اور ہمارے ملک کے لئے یہ ایک ترقی کا نشان ہے۔ یہ اس علاقہ کے قریبی لوگوں کی مدد کرے گا۔ یہ ایک بہت زبردست تقریب ہے۔ انسانیت کے حوالہ سے احمدیہ مسلم کمیونٹی کا آپس میں مثالی اتحاد ہے اور یہ ایک بہت قیمتی چیز ہے۔

٭…Congress Woman California نورما توریس صاحبہ بیان کرتی ہیں: آج کا پر وگرام بہت مؤثر اور کامیاب تھا اور ہیومینیٹی فرسٹ بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ آج خلیفہ کی معیت میں بیٹھ کر کھاناکھانے کا موقع ملا ہے ا س چیز نے اس پروگرام کو میرے لئے بہت ہی یادگار بنا دیا ہے۔ میں احمدیہ مسلم جماعت کا بھی اس پروگرام کے حوالہ سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جو آپ کی جماعت گوئٹے مالا میں کام کر رہی ہے۔ حضور بہت امن پسند شخص ہیں جو ساری دنیا کو امن محبت اور پیار کا پیغام پہنچارہے ہیں۔ گوئٹے مالا کا ناصر ہسپتال ہر مذہب، ملت اور ہر رنگ و نسل کے لوگوں کی خدمت کرے گا اور یہ بہت اچھا پیغام ہے۔

٭…SERGIO CELIS (سرخیو سیلیز) جو کہ گوئٹے مالن کانگریس میں بطور ڈپٹی نمائندہ ڈسٹرکٹ ساکا تے پے کیئز ہیں جہاں ناصر ہسپتال تعمیر کیا گیا ہے انہوں نے اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا: یہ ایک ملک اور اس ڈسٹرکٹ کے لئے بہت تاریخی موقعہ ہے کیونکہ یہ ہسپتال صرف اور صرف لوگوں کی مدد کے لئے بنایا گیا ہے جو کہ گوئٹے مالا کا ایک اہم مسئلہ اور ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے کہ یہاں کے ہیلتھ منسٹر کو بھی ایسا کام کرنے کے لئے قدم اُٹھانے کی ضرورت پڑے گی۔ میں جماعت احمدیہ اور ہیومینیٹی فرسٹ کا شکر گزار ہوں۔ چار سال پہلے لندن کے جلسہ سالانہ میں شرکت کی تھی جہاں حضور سے ہماری ملاقات ہوئی تھی جس میں ہم نے حضور سے درخواست کی تھی کہ گوئٹے مالا کو طبی سہولیات کی ضرورت ہے جس پر حضور نے فرمایا کہ ہم گوئٹے مالا میں ہسپتال بنائیں گے اور آج ہم اسے عملی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ خلیفہ ایک ایسے انسان ہیں جو دنیا میں قیام امن کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور ہر کمیونیٹی کو پیارکا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ یہ ایسی چیز ہے کہ حکومتوں اور دوسرے مذاہب کو بھی یہی پیغام پھیلانا چاہیے جیسا کہ خلیفہ نے اپنی تقریر میں ذکر کیا ہے جس سے ہر سُننے والے کے دل میں ایک سکون پیدا ہوتا ہے۔

٭…روبرتو کانو (Robert Cano) (Vice Minister Of Education Of Paraguay)نے بیان کیا: یہ ایک بہت اچھا ایونٹ تھا اور میں کافی حیران ہوں کہ یہ ایک ایسی جماعت ہے کہ اس کے افراد نے باہم مل کر تکمیل کو پہنچایا ہے۔ اور اس سے ضرورت مندوں کی مدد کی جائے گی۔ یہی ایک عمدہ طریق ہے کہ انسانوں سے عملی طوپر پیار کیا جائے۔ جیسا کہ خلیفہ نے اپنی تقریر میں ذکر کیا تھا۔ اگر انسانیت یہی پیار کا راستہ اپنائے گی تو پھر دنیا میں امن قائم ہوگا۔ اسلامی مذہب اور کلچر کو بہت قریب سے جاننے کا میرے لئے اچھا تجربہ تھا۔ جماعت احمدیہ کے بارے میں میرے بہت سے سوال تھے جن کے جوابات مجھے یہاں آکر مل گئے اور کچھ سالوں سے جماعت احمدیہ پیراگوئے میں بھی قائم ہوچکی ہے اور اُنہی کی دعوت پر یہاں آیا ہوں ۔

٭…خاسینتو کاسترو (Jacinto Castro) (Ex-governor of sacatepequez) نے اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا: میرے لئے خوش قسمتی ہے کہ ہسپتال کی بنیاد کے لئے مجھے بھی اینٹ رکھنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ یہ ہسپتال انسانیت کی مدد کے لئے تعمیر ہوچکا ہے۔ حضور کے خطاب کے حوالہ سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس میں امن اور سلامتی کا پیغام ہے۔ لندن کے جلسہ سالانہ میں مجھے ایک بار خلیفہ کی تقریر سننے کا موقع ملا تھا جو مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ ماں باپ کی عزت کرو تاکہ تم کامیاب رہو اور آج کے دن جو حضور نے تقریر کی ہے وہ بہت عمدہ ہے۔

٭… چیوا ویلاسکو (Chiva Velasco) جو کہ سیاحت اور ماین کلچر (Mayan Culture) کے انٹرنیشنل ایمبیسیڈر ہیں اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: اللہ آپ سب لوگوں کو اس عمل کا اجر دے۔ آپ کے ہسپتال بنانے کا بھی شکریہ کیونکہ ایسا ہسپتال پہلے کبھی اس ملک میں نہیں بنا۔ لوگ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ مسلمان دل کے بہت اچھے اور مہمان نواز ہیں۔

٭… ایک جرنلسٹ جن کا نام Richardہے جن کو آج کے پروگرام میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی بیان کرتے ہیں: سب سے اچھی بات یہ ہے کہ خلیفہ ایسے ملک میں آئے ہیں جو بہت غریب ہے اور لاطینی امریکہ کے کسی ملک میں پہلی دفعہ آئے ہیں۔ اُن کا آنا بہت ضروری تھا یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں اسلام کے بارے میں لوگ سنتے اور سوچتے ہیں اور معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ہم اُمید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی خلیفہ ہمارے پاس تشریف لائیں گے۔ خلیفہ کی تقریر کے حوالہ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ جماعت احمدیہ ضرور ت مندوں کی مدد اور امن اور پیار کو پھیلانے کی سوچ رکھتی ہے۔ خلیفہ نے اپنے خطاب میں جو پیغام دیا وہ بہت اچھا ہے۔

٭…Aroldo Monterroso (آرولدو مونتیروسو) نے جو کہ ایک بینک کے مینیجر ہیں اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا: یہ ایک بہت اچھا پروگرام تھا ہمیں بہت تسلی ہے کہ ہمارے ملک کو اس سے مدد ملے گی ۔یہ ایک بہت پر کشش تقریر تھی اور بہت اچھا پیغام تھا جسے حضور نے پوری اُمّتِ مسلمہ کی طرف سے دیا ہے کہ انسانیت کی مدد کرنا سب کا فرض ہے ۔ جو سب سے اچھی بات پسند آئی ہے وہ یہ کہ لوگوں کی بے لوث مدد کی جائے اور میرے لئےیہ بات بھی بہت دلچسپ تھی کہ جماعت احمدیہ کی فلاسفی کیا ہے اور جماعت اس ملک کے لیے کیا کر رہی ہے۔

٭… گوئٹے مالا کے ایک ویٹرنری ڈاکٹر گیلرمو گونزالز صاحب (Gullermo Gonzalez) بیان کرتے ہیں: یہ ایک بہت اچھا پروگرام تھا اور ہم جماعت احمدیہ کے شکر گزار ہیں کہ اس نےیہ مشن یہاں شروع کیا۔ خلیفہ کی تقریر ایسی تھی جو انسان کو احساس دلاتی ہے کہ ایک انسان کو کیسے ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے اور یہ ایک ایسا کام ہے جسے آپ کی جماعت بہت عرصہ سے کرتی چلی آرہی ہے اور ہمیں اُمید ہے کہ آپ یہ کام جاری رکھیں گے۔ اور یہ بھی سب سے اچھا لگا ہے کہ آپ لو گوں نے کوئی تفریق نہیں کی یہ ہسپتال ہر ضرورت مند کے لئے بنایا گیا ہے۔

٭…گوئٹے مالا کے ایک ڈاکٹر خورخے سمیوآ صاحب (Jorge Samayoa) نے بیان کیا کہ: آج کا event بہت خوبصورت اور زبردست تھا۔ اتنے لوگ باہر سے آئے ہیں اور سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ باہمی پیار اور محبت کو فروغ دیا جائے۔سب کا ایک ہی مقصد نظر آرہا ہے۔ خلیفہ صاحب کی تقریر نہ صرف گوئٹے مالا کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے ہے۔ گوئٹے مالا کی تاریخ میں آج کا دن محفوظ ہو گیا ہے کہ خدا کا خلیفہ گوئٹے مالا آیا ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ کہ مجھے اس بابرکت پروگرام میں شرکت کے لئے مدعو کیا۔

٭… جماعت کے ایک دوست راؤل مسیلی (Raul Meseli )نے اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا: آج میری خلیفۃ المسیح کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔ میں حضور سے مل کربہت مستفیض ہوا ہوں۔ میں نے حضور کے بارے میں سنا ہوا تھا لیکن پہلے کبھی ملا نہیں تھا ۔ حضور واقعتاً ایک سچے اور روحانی انسان ہیں اور میں اس بات کو سراہتا ہوں کہ آپ نے احمدیہ مسلم جماعت گوئٹےمالا کو یہ ہسپتال بنانے کا موقع دیا ہے اور ہم اس ہیلتھ کیئر سے حقیقی رنگ میں بہرہ ور ہوسکیں گے نیز اُس ٹریننگ سے بھی جو ہمارے لوکل ڈاکٹرز کو یہ ہسپتال مہیا کرے گا۔ میں چند لفظوں میں بتانا چاہوں گا کہ خلیفہ کو انسانیت سے پیار ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ یہاں تشریف لائے ہیں اور اسلام کے بہت سے مقاصد میں سے یہ بھی ایک مقصد ہے ۔

٭… مس دونیس (Miss Donis )جو کہ ایک اخبار کی کمرشل ڈائریکٹر ہیں بیان کرتی ہیں: آج کا پروگرام ایک بہت پیارا اور شاندار پروگرام تھا۔ میں آپ کواس پر مبارک باد بھی دینا چاہتی ہوں اور یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ ایسے پروگرام ہمارے گوئٹے مالا میں مزید ہونے چاہئیں۔ خلیفہ صاحب کا خطاب ایک بہت پیارا اور انسانیت سے پیار بھرا مضمون تھا۔ میں مبارک باد دینا چاہتی ہوں کہ آپ نےایک اتنا عظیم ہسپتال رفاہ عامہ کی خاطر قائم کیا ہے اور ہمارے ہر ضلع میں ایسے پروگرام ہونے چاہئیں۔ یہ ایک بہت قابل قدر بات ہوگی اگر ہم ایسے پروگرام اپنے ہرعلاقہ میں منعقد کریں۔

٭…ایل پیرو دیکا اخبار کے ایک صحافی جن کا نام فرناندو پی نیتا (Fernando Pineta ) ہے اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: خلیفہ صاحب کی تقریر بہت پیاری، دل پر اثر انداز ہونے والی اور محبت بھری تھی۔خلیفہ سے مل کر میں نے بہت اچھا محسوس کیا، پہلی دفعہ حضور کو اتنے قریب سے دیکھ کر میرے دل کو ایک سکون ملا ہے جس کو میں بیان نہیں کرسکتا۔ نیز یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ ناصر ہسپتال کا پراجیکٹ بہت پیارا پراجیکٹ ہے ہمیں با لکل ایسے ہی پراجیکٹ مزید چاہئیں جو ہمارے ملک گوئٹے مالا کو فائدہ پہنچائیں گے۔

٭… ملک کوستا ریکا سے آنے والے ایک نومبائع خائرو (Jairo ) صاحب نے بیان کیا کہ : آج کا event ایک اچھا ایونٹ تھا۔ میرے خیال میں گوئٹےمالا کے لوگوں میں جو بے چینی تھی کہ انکی طبی مدد کی جائے۔ اس کو دور کرنے کے لئے ناصر ہسپتال نہایت مفید ثابت ہوگا۔ انشاء اللہ۔

٭… مس پاتریسیا(Miss Patricia) جو کہ ناصر ہسپتال کی ایڈمنسٹریٹر ہیں اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں: آج کا پروگرام بہت اچھا تھا۔ کافی اہم شخصیات حضور کو ملنے آئی تھیں۔ لوگوں کا ایک جم غفیر تھا جو حضور کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے دور درا ز کے علاقوں سے یہاں اکٹھا ہوا تھا۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے اس پروجیکٹ پر اعتماد کیا اور اس ناصر ہسپتال کے لئے عطیات بھی فراہم کئے۔ حضور کا آج کا خطاب بہت عمدہ تھا اور مجھے جو بات سب سے زیادہ پسند آئی وہ یہ تھی کہ مخلوق سے ہمدردی اور شفقت کی جائے۔ یہی وہ مرکزی بات ہے جو خلیفہ نے بیان فرمائی۔ ناصر ہسپتال کے مستقبل کو لے کر مزید بیان کیا کہ یہ ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ ابھی بہت سے پلان ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانا ہے لیکن ہم بہت خوش ہیں اور آئندہ بھی محنت سے کام کریں گے۔

٭… کارلوس رانخیل (Carlos Ranjel ) جو کہ ایس اے انڈسٹریز کے نمائندہ کے طور پر اس پروگرام میں شامل ہوئے تھے اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آج کا پروگرام بہت اچھا تھا اور نہایت عمدہ طریقہ سے منعقد کیا گیا تھا۔ ہم دل کی گہرائی سے حضور کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اللہ کرے ہم بھی ناصر ہسپتال کی مدد کرسکیں۔ حضور انور کے خطاب کے بارہ میں کہا کہ حضور کا خطاب بہت اچھا تھا۔ حضور نے فرمایا کہ دوسروں سے بغیر کسی ذاتی مقصد کے محبت اور ہمدردی کی جائے۔ ہم یہ پیغام لے کر ساتھ جا رہے ہیں۔ بہت شکریہ، آپ کو اس ہسپتال کی تعمیر پر مبارکباد۔ میں امید کرتا ہوں کہ گوئٹے مالن لوگوں کی طرف سے آپ کو بھرپور تعاون حاصل رہے گا۔

٭…وکٹر ہوگو ریواس (Victor Hugo Rivas) جو کہ ایک بینک آفیسر ہیں بیان کرتے ہیں: جماعت کا ماٹوبہت اچھا ہے اور یہ پیغام جو آپکی جماعت یہاں لائی ہے کہ مخلوق کی مدد کرنا اور مختلف علاقوں میں صحت کی سہولیات مہیا کرنا جس کی ملک کو ضرورت ہے بہت ہی اچھا ہے۔ میں نے خلیفہ صاحب کا خطاب بھی سُنا۔ اس عظیم خطاب کا خلاصہ یہی تھا کہ مخلوق سے ہمدردی کرنا اور یہاں جو ناصرہسپتا ل کھولا گیا ہے یہ اس کی ایک واضح اور زندہ مثال ہے۔

٭… ایک مقامی گوئٹے مالن خاتون لوئیسا خیرون (Luisa Giron) اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: ہسپتا ل کی افتتاحی تقریب جذبات سے بھری ہوئی تھی۔ یہ ایک بہت بڑے پروجیکٹ کا آغاز ہے جس سے ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ خلیفہ کا ہسپتال کے افتتاح پر آنا ایک عظیم برکت ہے اور انکی موجودگی میں بیٹھنے سے سکون محسوس ہوا۔

٭…آرولدو مونتیروسو (Aroldo Monterroso) ایک بینک مینیجر ہیں۔ آپ بیان کرتے ہیں: یہ ایک بہت اچھا پروگرام تھا ہمیں بہت تسلی ہے کہ جو ہمارے ملک کو ناصر ہسپتال کے ذریعہ سے مدد ملے گی ۔خلیفہ کی تقریر بہت پر کشش تھی اور نہایت ہی خوبصورت آسان فہم پیغام تھا جسے حضور نے پوری امّتِ مسلمہ کی طرف سے دیا ہے کہ انسانیت کی مدد کرنا سب کا فرض ہے۔ مجھے جو سب سے اچھی بات لگی ہے وہ یہ تھی کہ لوگوں کی بے لوث مدد کی جائے اور میرے لئے یہ بات بھی بہت دلچسپ تھی۔ مَیں جماعت احمدیہ کی فلاسفی سے آج متعارف ہوا۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جماعت احمدیہ اس ملک کے لئے کیا کام کر رہی ہے۔

٭… ایک گوئٹے مالن ڈاکٹر دیانا کامپوس (Diana Campos ) نے بیان کیا کہ : حضور کے خطاب میں جو غریبوں کی مدد کرنے کا پیغام تھا میں خود بھی اس پر عمل کروں گی۔ مذہب بھی یہی سکھاتا ہے کہ خدا کا شکر اس طرح پر ادا کیا جائے کہ غرباء کی مدد کی جائے۔ خلیفہ کی تقریر اس حوالے سے بُہت اثر کرنے والی تھی کہ ہر ضرورت مندکی مدد کی جائے۔ یہ پیغام مجھے سب سے زیادہ اچھا لگا کہ جہاں حقیقی اسلام ہوگا وہاں پیار ہوگا اور یہ بھی بہت پسند آیا کہ خدا کی خاطر آپ ہر غریب کی مدد کریں گے۔ میں شکریہ بھی ادا کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے اس کام کے لئے گوئٹے مالا کا انتخاب کیا۔ ہم بحیثیت قوم اُمید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی خلیفہ وقت ہمارے پاس تشریف لائیں گے۔

٭… ایک مقامی گوئٹے مالن بزنس وومن نے اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ: مجھے آپکے خلیفہ کی طرف سے دیا جانے والا پیار اور امن کا پیغام بہت اچھا لگا ہے اور یہ بھی کہ بغیر کسی اجر کے ضرورت مند کی مدد کرنا حقیقی اسلام کی روح ہے۔ یہ بھی سن کر اچھا لگا کہ ضرورت مند کے مانگنے سے پہلے ہی اس کی مدد کردو۔

٭…خورخے ناواس (Jorge Navas) جو کہ کمرشل انڈسٹریز کی نمائندگی میں اس پروگرام میں شامل ہوئے تھے بیان کرتے ہیں: یہ پروگرام گوئٹے مالا کے لئے بہت عمدہ پروگرام تھا۔ میں شکر یہ بھی ادا کرنا چاہوں گا کہ اتنی اچھی نیت کے ساتھ آپ لو گوں نے یہ ہسپتال بنایا ہے جو گوئٹے مالا کے لوگوں کی مدد کرے گا۔

٭… ایویلن وازقس ( Evelyn Vazquez) جو ایک گوئٹے مالن صحافی ہیں، انہوں نے کہا: مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ متأثر کیا ہے وہ یہ ہے کہ مذہب میں جبر نہیں ہے بلکہ یہ بھی کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا چا ہیے اور یہی پیغام خلیفہ نے ہمیں دیا ہے نیز یہ بھی کہ ہم سب برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔ ہر انسان کو ایک عمدہ معیار زندگی ملناچاہیے جو کہ ہمارے ملک میں اس وقت مفقود ہے۔ مجھے اس با ت کی بھی خوشی ہے کہ اس ہسپتال کے افتتاح سے بہت سے لوگوں کو میڈیکل کے حوالہ سے فائدہ ہوگا اور وہ غریب طبقہ جو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز کے پاس جانے سے ڈرتا ہے یہ ہسپتال ان لوگوں کی مدد کرے گا۔

… … … … … … … … …
24؍اکتوبر2018ءبروزبدھ
… … … … … … … … …

گوئٹے مالا سے روانگی اور ہیوسٹن (امریکہ) میں ورود مسعود

٭… حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح پانچ بجے ہوٹل کے ہال میں تشریف لا کر نمازِفجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی اپارٹمنٹ میں تشریف لے گئے۔

آج پروگرام کے مطابق گوئٹے مالا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس ہیوسٹن (Houston) امریکہ کے لئے روانگی تھی۔

پروگرام کے مطابق دس بج کر چالیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہوٹل سے باہر تشریف لائے۔ احباب جماعت گوئٹے مالا مردوخواتین اور دیگر ممالک میکسیکو، بیلیز وغیرہ کے نومبائع مردوخواتین اور بچے بچیاں صبح سے ہی اپنے پیارے آقا کو الوداع کہنے کے لئے جمع ہونے شروع ہوگئے تھے۔ جونہی حضورِانور باہر تشریف لائے تو ان سب نے اپنے ہاتھ ہلاتے ہوئے حضورِانور کو الوداع کہا۔ بچیوں اور لجنہ نے اپنی لوکل زبان میں دعائیہ نظمیں پیش کیں۔ حضورِانور ازراہِ شفقت ان احباب کے پاس کچھ دیر کے لئے رونق افروز رہے۔ اس دوران سبھی اپنے آقا کے دیدار سے فیضیاب ہوتے رہے اور بچیاں نظمیں پڑھتی رہیں۔

بعدازاں دس بج کر سینتالیس منٹ پر حضورِانور نے اجتماعی دعاکروائی اور یہاں سے ایئرپورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ پولیس نے قافلہ کو Escort کیا۔ گیارہ بج کر پینتالیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ایئرپورٹ پر تشریف آوری ہوئی۔ حضورِانور کی آمد سے قبل سامان کی بکنگ اور بورڈنگ کے حصول اور امیگریشن کی کارروائی مکمل ہو چکی تھی۔ ایک خصوصی پروٹوکول انتظام کے تحت حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک سپیشل لائونج میں تشریف لے آئے۔

ایک بج کر پندرہ منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جہاز پر سوار ہوئے۔ یونائیٹڈ ایئرلائن کی پرواز UA 1903ایک بج کر تیس منٹ پر گوئٹے مالا سے ہیوسٹن امریکہ کے لئے روانہ ہوئی اور ہیوسٹن کے مقامی وقت کے مطابق جہاز پانچ بج کر دس منٹ پر جارج بش ہیوسٹن ایئرپورٹ پر اُترا۔ ہیوسٹن کا وقت گوئٹے مالا سے ایک گھنٹہ آگے ہے۔ خصوصی پروٹوکول انتظام کے تحت امیگریشن کی کارروائی ہوئی اور بعدازاں چھ بج کر دس منٹ پر یہاں سے جماعتی سینٹر مسجد بیت السمیع کے لئے روانگی ہوئی۔
ظہر وعصر کی نمازیں وقت کی مناسبت سے دوران سفر ادا کی گئیں۔

ایئرپورٹ پر مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نائب امیریوایس اے اور ڈاکٹر عطاء الرب صاحب سیکرٹری امورِخارجہ نے حضورِانور کو خوش آمدید کہا تھا۔ اس موقع پر ہیوسٹن کے میئر کے نمائندہ بھی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔

جب ایئرپورٹ سے مسجد بیت السمیع جانے کے لئے روانگی ہوئی تو پولیس کے چھ موٹرسائیکلز نے قافلہ کو Escort کیا اور مشن ہائوس تک کا تمام راستہ کلیئر کرتے رہے۔

چھ بج کر پینتیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جماعتی سینٹر بیت السمیع میں ورود ہوا۔ جہاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بڑا بھرپور اور ولولہ انگیز استقبال کیا گیا۔ ہیوسٹن اور اس کے اِردگرد کی مقامی جماعتوں کے علاوہ دوسری مختلف جماعتوں ڈلاس، Austin، بوسٹن، Silver Spring ، Laurel، لاس اینجلیز، بالٹی مور، Tennessee، Bay Point، Georgia اور شکاگو سے احباب جماعت بڑے لمبے سفر طے کرکے اپنے پیارے آقا کے استقبال کے لئے ہیوسٹن پہنچے تھے۔

لاس اینجلیز، سلورسپرنگ اور Laurel کی جماعتوں سے آنے والے احباب اور فیملیز ساڑھے تین گھنٹے جہاز کا سفر طے کرکے پہنچے تھے۔ بالٹی مور سے بذریعہ جہاز آنے والے ساڑھے تین گھنٹے کی فلائٹ اور Bay Point اور بوسٹن سے اپنے پیارے آقا کے استقبال کے لئے آنے والے احباب چارگھنٹے کی فلائٹ لے کر پہنچے تھے۔

کینیڈا اور جرمنی سے بھی بعض احباب حضورِانور کی آمد سے قبل ہیوسٹن پہنچے تھے اور آج اپنے آقا کے استقبال کے لئے موجود تھے۔

جونہی حضورِانور کی گاڑی مسجد بیت السمیع کے بیرونی گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو ان تمام احباب مردوخواتین نے بڑے پُرجوش انداز میں نعرے بلند کئے۔ بچیوں کے گروپس نے خیرمقدمی گیت پیش کئے۔ ہر ایک چھوٹابڑا، مردعورت، جوان بوڑھا اپنے ہاتھ اُٹھائے ہوئے اپنے پیارے آقا کو خوش آمدید کہہ رہا تھا اور شرف زیارت سے فیضیاب ہورہا تھا۔ ان سب کے لئے ایک بہت ہی خوشی کا سماں تھا۔ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ 22؍اکتوبر کو ہیوسٹن سے گوئٹے مالا کے لئے روانہ ہوئے تھے اور اب دو روز کے بعد واپس تشریف لائے تھے۔ شام کا وقت تھا اور اندھیرا چھا رہا تھا اور یہ سارا کمپلیکس، اس کی تمام عمارات اور درخت اور باڑ اور پودے رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا رہے تھے۔

ایک طرف سے یہ سارا علاقہ روشن تھا تو دوسری طرف سے یہاں کے مکینوں کے دل بھی خوشی و مسرت سے روشن تھے کہ حضورِانور اب دوبارہ ان کے پاس آئے ہیں اور اب چند دن یہاں قیام فرمائیں گے اور ہم دن رات اپنے پیارے آقا کے قرب سے برکتیں حاصل کریں گے۔ اپنے آقا کی اقتداء میں نمازیں ادا کریں گے اور اپنے آقا کی دعائوں سے حصہ پائیں گے اور ان مبارک اور بابرکت ایام کے لمحہ لمحہ سے اپنے ایمان کو جلا بخشیں گے اور تسکین قلب پائیں گے۔

حضورِانور نے اپنا ہاتھ بلند کرکے سب کو السلام علیکم کہا اور اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔
بعدازاں ساڑھے آٹھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تشریف لا کر نمازِمغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

… … … … … … … … …
25؍اکتوبر2018ءبروزجمعرات
… … … … … … … … …

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح ساڑھے چھ بجے مسجد بیت السمیع ہیوسٹن میں تشریف لا کر نمازِفجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دفتری ڈاک، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔ حضورِانور مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دو بجے مسجد بیت السمیع میں تشریف لا کر نمازِظہر وعصر جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

پروگرام کے مطابق ساڑھے پانچ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے دفتر تشریف لائے۔

ایک مہمان Harris County Precint 4 کے کمشنر Jack Cagleصاحب حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لئے آئے ہوئے تھے۔ کمشنر صاحب نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔

کمشنر صاحب نے جناح ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ جوانہوں نے اپنے دوست ناصر حفیظ ملک صاحب (زعیم انصاراللہ وسیکرٹری تبلیغ ہیوسٹن) سے حاصل کی تھی۔ موصوف نے کہا یہ ٹوپی ان پر جچ رہی ہے لہٰذا وہ اس ٹوپی کو رکھنا چاہیں گے۔ اس پر حضورِانور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ یہ ٹوپی رکھ سکتے ہیں۔ ناصر اپنے لئے دوسری ٹوپی خرید لیں گے۔

کمشنر Jack Cagleصاحب کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کے دوران ایک تصویر

کمشنر صاحب نے عرض کیا کہ مجھے علم ہوا ہے کہ حضور دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کرتے آرہے ہیں۔ آپ اتنا زیادہ سفر اور کام کے درمیان آرام کیسے کرتے ہیں؟ میرا عملہ تو میرا شیڈول اس طرح بناتا ہے کہ میں آرام کرسکوں۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ اگر میرے لوگ میرا شیڈیول بنائیں تو شاید یہ بالکل بھی مجھے آرام نہ کرنے دیں۔ لیکن خوش قسمتی سے میں اپنا شیڈیول خود بناتا ہوں لہٰذا آرام کے لئے وقت نکال لیتا ہوں۔
حضورِانور نے فرمایا کہ چونکہ میں نے آپ کو جناح کیپ میں آتے دیکھا تھا تو خیال کیا شاید آپ احمدی ہیں اور یہاں وزٹ کرنے آئے ہیں۔ اس پر کمشنر نے عرض کیا کہ الیکشن میں صرف ایک ہفتہ باقی ہے لیکن چونکہ حضوریہاں تشریف لائے ہوئے ہیں اس لئے میں حضور سے ملاقات کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ آخر پر کمشنر صاحب نے حضورِانور کی خدمت میں دعا کی درخواست کی اور ملاقات کے لئے وقت دینے پر شکریہ ادا کیا۔

یہ ملاقات پانچ بج کر چالیس منٹ تک جاری رہی۔ بعد ازاں پروگرام کے مطابق فیملی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔
آج شام کے اس پروگرام میں 63 فیملیز اور 16 افراد نے انفرادی طور شرف ملاقات پایا۔ مجموعی طور پر 325 افراد نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت پائی۔ ان سبھی احباب اور فیملیز نے حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف پایا۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطافرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطافرمائے۔ملاقات کرنے والی یہ فیملیز ہیوسٹن کی جماعت کے علاوہ دیگر مختلف نو جماعتوں سے آئی تھیں۔ Orlando،Atlanta اور North Carolina سے آنے والی فیملیز 960 میل سے زائد کا سفر بارہ سے چودہ گھنٹوں میں طے کرکے پہنچی تھیں۔

آج سبھی ایسے لوگوں کی ملاقات تھی جو اپنی زندگی میں پہلی بار حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرف ملاقات پا رہے تھے۔ ایک بڑی تعداد ان فیملیز کی تھی جو گزشتہ سالوں میں مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے بڑی تکالیف اور مصائب برداشت کرکے یہاں پہنچی تھیں۔آج یہ لوگ کتنے ہی خوش نصیب تھے کہ اپنے پیارے آقا کے قرب میں چند ساعتیں گزاریں، ان کے غم اور دکھ کا فور ہوئے اور دل تسکین سے بھر گئے اور کبھی نہ ختم ہونے والی دعائوں کے خزانے لے کر یہاں سے رخصت ہوئے۔

ملاقات کرنے والے ایک دوست ناہید اظہرشیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ ملاقات کا شرف حاصل کرنے آیا تھا۔ جب کمرہ میں داخل ہوکر حضورِانور کے چہرہ پر نظر پڑی تو آپ کا چہرہ خدائی نور سے پُرمعلوم ہوا۔ ان کی اہلیہ کہنے لگیں کہ مجھے اپنی خوش قسمتی پر رشک آرہا ہے کہ حضورِانور کے قرب کی چند گھڑیاں نصیب ہوئیں۔ پہلے ہم حضور کو TV پر دیکھا کرتے تھے آج اپنے سامنے دیکھ لیا۔

ایک دوست محمد سلیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ پہلے ہم حضورِانور کو TV پر ہی دیکھا کرتے تھے۔ آج ہماری زندگی کی پہلی ملاقات تھی۔ ہم دونوں میاں بیوی بہت nervous تھے کہ ہم کیسے بات کریں گے لیکن جب ہم حضورِانور کے دفتر میں داخل ہوئے تو حضورِانور نے اتنے پیار سے اور مسکرا کر بات کی کہ ہماری گھبراہٹ خود بخود دور ہوگئی۔ مجھے اور میری اہلیہ کو ملاقات کے دوران بار بار یہ احساس ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضورِانور کے آس پاس ہیں۔ میں حضورِانور کو چند بار خواب میں دیکھ چکا ہوں لیکن آج کھلی آنکھوں سے اپنے خوابوں کو پورا ہوتے دیکھ کر ایسا محسوس کررہا ہوں جیسے اب میں ایک نیا وجود ہوں۔

ایک صاحب باسط محمود صاحب نے بتایا کہ میں ابھی حضورسے ملاقات کرکے آیا ہوں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ جیسے میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ موصوف کے چھوٹے بھائی عثمان صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ ملاقات میں شامل تھے۔ کہتے ہیں ملاقات سے قبل میں بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا کہ ہم سے بات کرتے ہوئے کوئی غلطی نہ ہوجائے۔ جونہی ہم اندر داخل ہوئے حضور نے ہم سے پیار سے باتیں کیں اور ہماری ساری گھبراہٹ دور ہوگئی۔

سید مقصود احمد محبوب صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ساتھ اٹلانٹا (Atlanta) سے بارہ گھنٹے کا سفر بذریعہ کارطے کرکے پہنچے تھے۔ آج ہماری زندگی کی پہلی ملاقات تھی۔ جب ملاقات شروع ہوئی تو میں فرط محبت سے خود پر قابو نہ پاسکا اور بے اختیار رو پڑا، میری آواز بند ہوگئی۔ آج میں اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہوں۔ بارہ گھنٹے کے سفر کی تھکاوٹ حضورِانور کے ساتھ چند لمحات گزارنے سے ایسی دور ہوئی کہ گویا ہم نے کوئی سفر ہی نہیں کیا۔

ملاقات کرنے والے ایک دوست فردوس احمد صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج حضورِانور کے ساتھ میری یہ پہلی ملاقات تھی۔ میں اپنی کیفیت کو الفاظ میں ڈھال نہیں سکتا۔حضورِانور سے ملاقات کا یہ مطلب نہیں کہ میں دوسرے احمدیوں سے بہتر ہوں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب مجھے پہلے سے بڑھ کر اپنے اندر مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرنی پڑے گی۔

ایک خاتون قرۃ العین صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ آج ہماری پہلی ملاقات تھی۔ حضور سے مل کر ایک عجیب خوشی محسوس کررہی ہوں۔ حضورِانور کے چہرہ مبارک پر نور ہی نور پایا۔ حضورِانور نے میرے بچوں کے بارہ میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بچوں کو فون اور iPadوغیرہ سے دور رکھیں۔

فرید انورکاہلوں صاحب کہتے ہیں کہ خاکسار نے 2010ء میں خواب دیکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہیں اور آپؑ کے بائیں ہاتھ میں ایک چھڑی ہے اور دوسری جانب بعض احباب کھڑے ہیں۔ آپؑ خاکسار کو آگے آنے کا فرماتے ہیں اور کچھ دیر بعد فرماتے ہیں۔ ’’آئیں تصویر کھچوالیں۔‘‘ میں نے یہ خواب حضورِانور کی خدمت میں سنایا۔ حضورِانور نے فرمایا: بہت مبارک خواب ہے۔ حضورِانور سے ملاقات کرکے اور تصویر کھینچوا کر مجھے یقین ہوگیا ہے کہ میرا یہ خواب آج پورا ہوگیا ہے۔

ایک دوست اسد رسول صاحب بیان کرتے ہیں کہ میری حضورِانور سے پہلی ملاقات تھی۔ میں نے حضورِانور کے وجود میں ایک نہایت ہی شفیق اور محبت کرنے والا روحانی باپ پایا ہے جو ہمارا درد رکھتا ہے۔ دوران ملاقات جب میں نے آقا سے تبرک عطا کئے جانے کی درخواست کی تو حضورِانور نے فرمایا کہ پہلے اپنی بیوی کو پاکستان سے لے کر آئو پھر تبرک دوں گا۔

ایک افریقن نژاد نومبائع احمدی خاتون حبیبہ ڈابوح صاحبہ بیان کرتی ہیں: میں نے کچھ عرصہ قبل ہی بیعت کی ہے۔ اپنے پیارے امام کے ساتھ مل کر ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہے جو بیان نہیں کیا جاسکتا۔
ایک دوست بابر عبدالغفار صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں بہت خوش ہوں کہ آج خدا نے مجھے یہ دن دکھایا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ جیسے میرا وجود جنت میں پرواز کررہا ہے۔ دوران ملاقات جب میں اپنے احساسات پر قابو نہ پاسکا تو رو پڑا۔ اب یوں محسوس کررہا ہوں جیسے میری ایک نئی پیدائش ہوئی ہے۔

ایک صاحب مسرور عبدالقادر صاحب بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ وقت سے پہلی ملاقات تھی۔ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ اس وقت جو میرے دل کی کیفیت ہے۔ دوران ملاقات مجھے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے حضورِانور کے گرد روشنی کا ایک ہالہ ہے۔ حضورِانور کے قرب میں گزارے ہوئے یہ چند لمحات میری زندگی کے سب سے قیمتی لمحات ہیں جو میں رہتے دم تک یادرکھوں گا۔ حضورِانور سے آج کی یہ ملاقات مجھے اللہ تعالیٰ کے سو گنا اور قریب لے آئے گی۔ میں نے عزم کرلیا ہے کہ اب ہر روز اچھائی کی طرف ہی قدم بڑھائوں گا۔ انشاء اللہ۔

ایک دوست رامش خان صاحب بیان کرتے ہیں۔ حضورِانور سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ ملاقات سے پہلے مجھے گھبراہٹ اور بے چینی تھی۔ لیکن جیسے ہی میرا ہاتھ حضورِانور کے ہاتھ کو چھوا تو میری سب گھبراہٹ اور بےچینی خود بخود غائب ہوگئی اور مجھے بہت سکون اور اطمینان نصیب ہوا۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام ساڑھے نو بجے تک جاری رہا۔ بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت السمیع تشریف لا کر نمازِمغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

(جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button