خطاب حضور انور

جلسہ سالانہ جرمنی2018ء کے موقع پر امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کااختتامی خطاب

فرمودہ09؍ستمبر 2018ء بروز اتوار بمقام کالسروئے جرمنی

(اس خطاب کا متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

َٔشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَیَأْبَی اللہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ۔ ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ۔ (التوبۃ32:-33)

ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور اللہ (ہر دوسری بات) ردّ کرتا ہے سوائے اس کے کہ اپنے نور کو مکمل کر دے خواہ کافر کیسا ہی ناپسند کریں۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے خواہ مشرک کیسا ہی ناپسند کریں۔

یہ وہ آیات ہیں جو تمام ان لوگوں کے لئے واضح اور کھل کر اعلان کر رہی ہیں کہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے دنیا میں اپنی خوبصورت تعلیم کے ساتھ پھیلنا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو انسانی کوششیں بجھا نہیں سکتیں۔ قرآن کریم وہ کامل شریعت ہے جو دنیا کی ہدایت کا سامان کر سکتی ہے اور اس کے علاوہ کوئی دین اور کوئی شریعت نہیں جو دنیا کو ہدایت اور نجات کے سامان مہیا کر سکے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور اب آپ کے بعد کوئی شرعی نبی نہیں آ سکتا۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کے مطابق کہ اب تمام دینوں پر غلبہ دین اسلام کو ہی ہو گا اور بعد میں آنے والے زمانے میں اس ہدایت کی اشاعت کی تکمیل کے لئے وہ ہدایت جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو آپ کی غلامی میں اللہ تعالیٰ ظلی اور غیر شرعی نبی کا درجہ دے کر مسیح موعود اور مہدی معہود کے نام سے بھیجے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس وعدے اور اعلان کے پورا کرنے کے لئے اس نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مسیح موعود اور مہدی معہود بنا کر بھیجا جنہوں نے اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اسلام کے پیغام کو پہنچایا۔ آپ کے زمانے میں بھی اسلام کا پیغام یورپ میں بھی آ گیا امریکہ تک چلا گیا اور وہ جماعت آپ نے قائم کی جو اس کام کو خلافت کے نظام کے تحت جاری رکھے ہوئے ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ان آیات کے حوالے سے ایک جگہ اسلام کے مخالفین کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’یہ لوگ اپنے منہ کی لاف و گزاف سے بکتے ہیں کہ اس دین کو کبھی کامیابی نہ ہو گی یہ دین ہمارے ہاتھ سے تباہ ہو جاوے گا‘‘۔ فرمایا ’’لیکن خدا کبھی اس دین کو ضائع نہیں کرے گا اور نہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کرے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’…اب قرآن شریف موجود ہے۔ حافظ بھی بیٹھے ہیں (بہت سارے حفاظ دنیا میں ہیں) دیکھ لیجئے کہ کفار نے کس دعوے کے ساتھ اپنی رائیں ظاہر کیں کہ یہ دین ضرور معدوم ہو جائے گا اور ہم اس کو کالعدم کر دیں گے اور ان کے مقابل پر یہ پیشینگوئی کی گئی جو قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہرگز تباہ نہیں ہو گا۔‘‘ فرمایا کہ ’’یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائے گا اور پھیل جائے گا اور اس میں بادشاہ ہوں گے۔‘‘ (جنگِ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 290-291)

پس یہ اس وقت جبکہ کمزوری کی حالت تھی اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا اور اسلام پھیلا اور کوئی کوشش اسے ختم نہ کرسکی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخالفین اسلام کو کہا کہ آج بھی تم اسے ختم نہیں کر سکتے یہ کھلا چیلنج ہے۔ آپ نے دنیا کو بتایا کہ اسلام کے احیائے نو کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں بھیجا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے اذن اور مدد سے تمام دنیا میں اسلام کی اعلیٰ تعلیم کو پھیلاؤں گا بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود میری حفاظت فرماتے ہوئے فرمایا کہ’’ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘۔ (تذکرہ صفحہ 260 ایڈیشن چہارم)

اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل حال ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے یہ بھی کہا کہ میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے جو جماعت قائم فرمائی ہے وہ اب اسلام کے جھنڈے کو لے کر دنیا کے کونے کونے میں جائے گی اور اس خوبصورت تعلیم کے ذریعہ سے دلوںکو جیتے گی نہ کہ کسی تلوار اور بندوق سے اور سعید فطرت لوگوں کو اللہ تعالیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لائے گا۔ آپ نے تمام مسلمانوں کو بھی کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو سنو اور اس کو سمجھو اور آنے والے مسیح موعود اور مہدی معہود کے ساتھ جڑ کر اپنے ایمان اور ایقان میں ترقی کرو اور پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے تمہارے ساتھ بھی کس طرح پورے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نئی شان عطا فرمائے گا لیکن نام نہاد علماء کی باتوں میںآ کر مسلمانوں کی اکثریت اس طرف توجہ نہیں دے رہی بلکہ علماء کی کوشش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے کام میں روکیں ڈالیں اور اسے ختم کریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ ہر مخالفت کے بعد آگے سے آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سعید فطرت لوگوں کو احمدیت اور حقیقی اسلام کی آغوش میں لارہا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی الہاماً فرمایا تھا اس وقت میں نے یہ براہین احمدیہ میں بھی لکھا۔ اس وقت جبکہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مسیح موعود اور مہدی معہود کے مقام کے ساتھ کھڑا کرے گا۔ یہ پہلے میں نے آپ کے الفاظ کا خلاصہ بیان کیا ہے پھر آگے آپ کے الفاظ یہ ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ

دیکھو یہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئی ہے جو ابتدا سے اکثر علماء کہتے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے حق میں ہے۔ یہ جوآیات تلاوت کی گئی ہیں یہ پیشگوئی مسیح موعود کے حق میں بھی ہے اور اس وقت پوری ہو گی یعنی مسیح موعود کے آنے کے وقت ہی پوری ہو گی تاکہ مسیح موعود کے ذریعہ سے تمام ادیان پر اسلام کو غالب کرے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’سترہ برس سے یعنی جب آپ نے یہ فرمایا اس وقت اس پیشگوئی کو سترہ برس ہو چکے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ نے مسیح موعود کے دعوے سے پہلے لکھی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ سترہ برس سے یہ درج ہے (اور مسیح موعود کے دعوے سے بہت پہلے سے یہ درج ہے) تا خدا ان لوگوں کو شرمندہ کرے کہ جو اس عاجز کے دعوے کو انسان کا افترا خیال کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ براہین خود گواہی دیتی ہے کہ اس وقت اس عاجز کو اپنی نسبت مسیح موعود ہونے کا خیال بھی نہیں تھا اور پرانے عقیدے پر نظر تھی لیکن خدا کے الہام نے اسی وقت گواہی دی تھی کہ تُو مسیح موعود ہے کیونکہ جو کچھ آثار نبویہ نے مسیح کے حق میں فرمایا تھا الہام الٰہی نے اس عاجز پر جما دیا تھا۔(ماخوذ از سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 43)

آپ نے فرمایا پس اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور اب یہ اللہ تعالیٰ کا نور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں مجھے عطا ہوا ہے نہ ان مولویوں کی پھونکوں سے نہ اسلام مخالف طاقتوں کی پھونکوں سے بجھایا جاسکتا ہے۔ آپؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ ’’منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں؟ یہی کسی نے ٹھگ کہہ دیا۔ کسی نے دوکاندار اور کافرو بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔‘‘ فرمایا کہ ’’نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہو جاتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 186)

آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی الہاماً فرمایا ہے کہ’’ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفُوْا عَرْضَکَ اِنِّی مَعَکَ وَ مَعَ اَھْلِکَ۔‘‘ (ملفوظات جلد 4صفحہ 90)کہ دشمن ارادہ کریں گے کہ تیرے نور کو بجھا دیں وہ تیری ہتک کرنی چاہیں گے مگر مَیں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔

پس تمام مخالفتوں کے باوجود جو اپنوں اور غیروں یعنی مسلمان علماء اور ان کے زیر اثر مسلمان حکومتوں اور لوگوں کی طرف سے ہوئیں اور ہو رہی ہیں اور اسی طرح غیر مذاہب کی طرف سے بھی یا غیر طاقتوں کی طرف سے بھی، اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اپنے نور کو دنیامیں پھیلاتا چلا جا رہا ہے۔ لاکھوں لوگ ہر سال ان تمام مخالفتوں کے باوجود اور علماء کے مکروں اور حیلوں کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اور ان کی شمولیت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنے کے ایسے ایسے واقعات ہیں کہ ہر سننے والے کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین بڑھتا چلا جاتا ہے۔ صرف اس سال کے بعض واقعات میں اس وقت آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

غانا سے ہمارے ایک مبلغ بلال صاحب لکھتے ہیں کہ اَپر ایسٹ ریجن کے ایک گاؤں زوگا (Zoga) میں ہمارے تین لوکل معلمین تبلیغ کے لئے گئے اور جس گھر میں ان کی رہائش کا بندوبست ہوا وہاں ایک غیر مسلم عمر رسیدہ عورت آوینی اڈورزیلے (Awini Adorzele) رہتی ہیں۔ وہ ان معلمین کے آنے پر بہت خوش ہوئی۔ اس عورت نے بتایا کہ میں نے سات سال پہلے ایک خواب دیکھا تھا کہ تین آدمی جو دینی علم سکھانے کے لئے آئے ہیں میرے گھر آئے ہیں اور میں انہیں پانی پلاتی ہوں اور یہ معلم پھر گاؤں کے بچوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور ان کو مذہبی تعلیم دیتے ہیں اور ان کو نماز پڑھاتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہتی ہیں کہ یہ تمام واقعات عین اسی طرح پیش آئے جس طرح مَیں نے سات سال پہلے دیکھا تھا۔ ان معلمین نے اسی طرح گاؤں کے بچوں کو اکٹھا کیا۔ ان کو اسلامی تعلیمات دیں۔ نمازوں کی امامت کروائی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر اس گاؤں سے اس عورت اور اس کے خاندان سمیت 92افراد نے احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ اور یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے تھوڑے عرصہ میں ایک جماعت کا قیام عمل میں آ گیا۔ اب کیا یہ کسی انسان کا کام ہے کہ سات سال پہلے افریقہ کے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والی ایک عورت کو جو مسلمان بھی نہیں ہے اللہ تعالیٰ خواب دکھاتا ہے اور پھر سات سال کے بعد وہ خواب اسی طرح پوری ہو جاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس گاؤں کے 92 افراد کے دل میں ڈالتا ہے کہ تمہارے پر جو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہے اسے قبول کرو اور وہ قبول کر لیتے ہیں۔

پھر بینن کے ریجن لوکاسا کے معلم دیسی صاحب کہتے ہیں کہ ہم ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے تو وہاں بعض مسلمانوں نے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دیں اور نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بھی غلط الفاظ استعمال کرتے رہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ لوگ یہی کہتے ہیں ناں کہ گالیاں دیتے ہیں دکاندار ہے، بے دین ہے، کافر ہے۔ بہرحال یہ لوگ اسی طرح گالیاں دیتے ہیں۔ چنانچہ ہم وہاں سے واپس آگئے اور گاؤں سے نکل کر راستے میں نماز ادا کی اور دعا کی کہ اے اللہ آج ہم تیرے مسیح کا پیغام پہنچانے کے لئے نکلے ہیں ہمیں ناکام مت لوٹانا چنانچہ کہتے ہیں جونہی ہم نے نماز ختم کی ہم نے دیکھا ایک شخص ہمارے انتظار میں کھڑا تھا۔ ہم نے اپنا تعارف کرایا تو کہنے لگا کہ ساتھ ہی میرا گاؤں ہے۔ کیا آپ میرے گاؤں چل سکتے ہیں؟ ہم اس شخص کے گاؤں پہنچے تو اس نے گاؤں کے کافی افراد کو جمع کر لیا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام پہنچایا گیا۔ یہ معلم صاحب کہتے ہیں کہ اس تبلیغ کے نتیجہ میں اس دن 65 افراد بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے اور یوں اس گاؤں میں پودا لگ گیا۔ اب جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ گالیاں ہی دیتے ہیں لیکن کیا ان گالیوں سے اللہ تعالیٰ کا نور ختم ہو سکتا ہے۔ کبھی نہیں۔ ایک جگہ سے گالیاں پڑیں تو دوسری جگہ جہاں ان احمدی لوگوں اور معلم کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا وہاں کا ایک شخص خود آ جاتا ہے یا اللہ تعالیٰ اسے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کی فطرت سعید ہے جاؤ میرے مسیح کے پیغام پہنچانے والے آئے ہوئے ہیں انہیں اپنے گاؤں میں لاؤ اور اس پیغام کو قبول کرو اور سنو اور قبول کرو۔

پھر ایک مثال ہے اللہ تعالیٰ کس طرح تبلیغ کرنے والوں کی مایوسی کے بعد تھوڑے ہی عرصہ میں ان کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے پھل عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے برکینا فاسو کے ریجن بوبو کے معلم سیندے صاحب لکھتے ہیں کہ ہم نے ایک گاؤں میں کافی تبلیغ کی مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جاتے ہوئے میں نے چند لوگوںکو کہا کہ آپ جب شہر آئیں تو میرے گھر ضرور آنا۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد ان میں سے ایک آدمی الحسن ہمارے گھر آئے تو مَیں نے اسے ایم ٹی اے لگا دیا اور تھوڑی ہی دیر بعد جب ایم ٹی اے پر میرا خطبہ یا کوئی پروگرام آ رہا تھا مجھے اس میں دیکھا تو کہنے لگا اس شخص کو تو میں نے پہلے خواب میں دیکھا ہے۔ چنانچہ وہ اسی وقت بغیر کسی دلیل کے احمدیت میں داخل ہو گیا اور واپس اپنے گاؤں جا کر گاؤں والوں کو بتایا اور گاؤں کے کافی لوگوں نے اس بات پر احمدیت کو قبول کیا اور خدا کے فضل سے وہاں ایک مضبوط جماعت قائم ہو چکی ہے۔

جلسہ سالانہ جرمنی 2018ء کے اختتامی اجلاس کا ایک منظر

پھر آصف صاحب مبلغ سلسلہ لائبیریا کہتے ہیں کہ کیپ ماؤنٹ کاؤنٹی کے ایک گاؤں مامبو میں احمدیت کے نفوذ کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن وہاں کے مولویوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ہردفعہ جب جاتے تھے تو مولوی جیسی ان کی عادت ہے۔ ٹولہ بن کے اور گالیاں دیتے ہوئے آ جاتے تھے۔ کہتے ہیں کچھ عرصہ قبل اس گاؤں کے ایک فرد محمد الفرید ثانی سے ملاقات ہوئی یہ گورنمنٹ ٹیچر ہیںا ور دمشق سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں اور اس گاؤں میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کو جماعت احمدیہ کے بارے میں تفصیلاً آگاہی دی گئی۔ بتایا گیا اور نظام جماعت اور عقائد کے بارے میں سمجھایا گیا۔ موصوف نے جماعتی پروگرامز اجتماعات اور جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو احمدیت کی طرف مائل کیا۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں خود ہی احمدیت کا پیغام پہنچایا اور تبلیغ شروع کر دی۔ خدا تعالیٰ نے ان کی کوششوں میں برکت ڈالی جس کے نتیجہ میں وہاں 50 افراد نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی اور یہاں بھی نئی جماعت کا قیام عمل میںآیا۔ عام طور پر جو لوگ عرب ملکوں سے پڑھ کر آتے ہیں انہیں اپنی عربی دانی اور علم پر بڑا زعم ہوتا ہے کہ ہم دین کا علم سیکھ کے آئے ہیں۔ اور بہت کم ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سعید فطرت بنایا ہے اور جو بات سنتے بھی ہیں۔ لیکن ان کی بھی کوئی ادا اللہ تعالیٰ کو پسند آئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی۔

پھر خواب کے ذریعہ سے ہی قبولیت احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے مبلغ گھانا بلال صاحب کہتے ہیں کہ گھانا کے اَپرایسٹ ریجن کے ایک گاؤں میں ہم تبلیغ کے لئے گئے وہاں ہم کسی آدمی کو نہیں جانتے تھے اور نہ ہی اس گاؤں میں کوئی مسلمان تھا۔ ہم نے ایک آدمی جس کا نام امبا تھا اس سے چیف کے گھر کا پتہ پوچھا۔ وہ ہمیں اس طرح ملا گویا کہ ہمارا انتظار کر رہا ہو۔ وہ آدمی مسلمان بھی نہیں ہے لیکن مسلمانوں کا انتظار کر رہا تھا اور ساتھ ہی چیف کے پاس لے گیا۔ ہم نے چیف سے اس گاؤں میں تین دن رہنے اور تبلیغ کرنے کی اجازت مانگی جو اس نے بخوشی دے دی۔ اس پر امبا نے ہمارے رہنے کا بھی انتظام کر دیا اور کہتے ہیں اگلے دو دن تو موسلادھار بارش ہوتی رہی اور ہم کوئی پروگرام نہ کر سکے، تبلیغ نہ کر سکے۔ اور دو دن کے بعد جب تبلیغ کی تو تبلیغ کے بعد امبا صاحب نے کہا کہ وہ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اور بیعت کر لی۔ پھر انہوں نے ہمیں اپنے کچھ خواب سنائے۔ انہوں نے بتایا کہ 1999ء میں خواب میںدیکھا کہ وہ مسلمانوں کے بہت بڑے اجتماع میں ہیں اور مسلمان علماء کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر ایک دوسرے خواب میں دیکھا کہ ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں اور نماز کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے ہیں اور امبا نے اپنا ہاتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر رکھا ہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں اور وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں میں نے ان کو کہا خوابوں کی تعبیر یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی ہو چکی ہے اور ان کی بیعت کی طرف اشارہ ہے اور ان کے ماننے سے ہی صحیح اسلام پر قائم ہو سکتے ہو۔ پھر یہ بھی اسے بتایا کہ گھانا میں ہرسال ایک بہت بڑا جلسہ ہوتا ہے، مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے، جلسہ سالانہ۔ اس پر امبا صاحب بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ میں کچھ عرصہ سے کافی پریشان تھا۔ لیکن جب آپ لوگوں کو گاؤں میں دیکھا تو مجھے پتہ چل گیا کہ اب میری ساری خوابیں پوری ہو جائیں گی۔ اس کے بعد گاؤں کے چیف کے پاس گئے۔ اس نے بھی اسلام قبول کر لیا اور کہنے لگا کہ جب آپ لوگوں کے آنے سے اللہ تعالیٰ نے رحمت کی بارش برسائی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا پیغام سچا ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے گاؤں میں 18افراد نے بیعت کی۔ اس طرح یہاں نئی جماعت کا قیام عمل میںآیا اور ان کی تربیت بھی اب ہو رہی ہے۔

پھر خواب کے ذریعہ سے ہی قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے مالی سے جو افریقہ کا ایک اور ملک ہے وہاں سکاسو ریجن کے مبلغ بلال صاحب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک نوجوان ہمارے مشن ہاؤس آئے اور کہنے لگے کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں۔ ان سے بیعت کرنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ میرا بھائی گزشتہ دوسال سے احمدی ہے اور اس نے گھر میں امام مہدی علیہ السلام کی تصویر بھی لگائی ہوئی ہے اور میں آپ لوگوں کا ریڈیو بھی سنتا ہوں اور مجھے اس کے پروگرام اچھے بھی لگتے ہیں۔ یہ پہلے بھی مسلمان تھے۔ میں آپ لوگوں کو حق پر سمجھتا ہوں۔ مخالفت مجھے کوئی نہیں۔ میں آپ لوگوں کو بالکل صحیح سمجھتا ہوں لیکن اس کے باوجود مجھے بیعت کرنے کا کبھی خیال نہیں آیا۔ کہتے ہیں کل رات میں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چاروں خلفاء کے ساتھ ایک وسیع و عریض مسجد میں دیکھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو وضو کرنے کا کہا اور جب سب لوگ وضو کر کے آ گئے تو ایک انتہائی خوبصورت بزرگ مسجد میں داخل ہوئے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہی امام مہدی ہیں اور سب کو ان کی بیعت کرنی چاہئے اور یہ وہی بزرگ تھے جن کی تصویر میرے بھائی نے گھر میں لگائی ہوئی ہے۔ اس خواب کے بعد مجھے سمجھ آ گیا کہ بیعت کرنی بھی ضروری ہے اس لئے میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔

پھر افریقہ کا ایک اور ملک گنی بساؤ ہے یہاںکے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ کیتو جماعت کے ایک ممبر حسین جالو صاحب نے بیان کیا کہ جب انہوں نے احمدیت قبول کی تو گھر آ کر اپنی اہلیہ کو بتایا کہ میں نے احمدیت قبول کی ہے اور میں تمہیں بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جس امام مہدی کے آنے کی پیشگوئی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی وہ آ گئے ہیں اور آج میں نے بیعت کر کے ان کو قبول کر لیا ہے اور میں تمہیں بھی بیعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اس پر ان کی اہلیہ نے سخت مخالفت کی اور کہا کہ احمدی کافر ہیں۔ مولویوں نے تو سب کو یہی بتایا ہوا ہے۔ یہ صرف پاکستان یا ہندوستان یا عرب ممالک کی بات نہیں ہے افریقہ کے ہر ملک میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں احمدیوں کے پیچھے غیر احمدی مولوی پہنچتے ہیں، بعض پاکستان کے مولوی بھی یا عرب ممالک کے اور یہی کہتے ہیں کہ احمدی کافر ہیں۔ اس نے کہا کہ احمدی کافر ہیں یا تو احمدیت چھوڑ دو یا مجھے چھوڑ دو۔ بہرحال انہوں نے کہا احمدیت تو میں نے نہیں چھوڑنی اور ان کی بیوی ان کو چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔ جالو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کے لئے دعا کرنی شروع کر دی کہ اے اللہ جس طرح تُو نے مجھے صراط مستقیم پر آنے کی توفیق عطا فرمائی ہے میری بیوی کو بھی صراط مستقیم پر آنے کی توفیق عطا فرما اور کہتے ہیں میں مسلسل پانچ سال تک یہ دعا کرتا رہا اور اللہ تعالیٰ کے دربار سے مایوس نہیں ہوا۔ یہ ان کی ثابت قدمی ہے۔ پانچ سال بعد کہتے ہیں کہ میری بیوی نے فون کیا اور کہا کہ میں آپ سے معافی چاہتی ہوں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔جالو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ یہ تبدیلی کیسی آ گئی تم میں۔ اس پر بیوی نے بتایا کہ آج رات کو میں نے خواب دیکھا ہے اور مجھے احساس ہوا کہ میں غلط تھی اور آپ درست تھے۔ بیوی نے بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دریا کے دوسرے کنارے پر ایک خوبصورت جگہ ہے جہاں سے نور کی روشنی طلوع ہو رہی ہے اور کثرت سے لوگ دریا عبور کر کے اس طرف جارہے ہیں اور میرا بھی دل چاہا کہ میں بھی اس خوبصورت جگہ پر جاؤں۔ جب میں دریا کے قریب گئی تو ایک شخص کنارے پر کھڑا تھا اور اس نے مجھے روکا اور کہا کہ وہ جگہ تو صرف احمدی احباب کے لئے ہے جنہوں نے امام مہدی کو قبول کیا ہے۔ جس پر میں نے جواب دیا کہ میرا خاوند تو احمدی ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ خاوند کے احمدی ہونے کی وجہ سے تم وہاں نہیں جا سکتی اور ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔ جب میری آنکھ کھلی تو آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور مجھے یقین ہو گیا کہ احمدیت حقیقی اسلام ہے اور میں نے احمدیت کو قبول کر لیا۔ پس ایک تو یہ کہ دین کی خاطر بیوی کو چھوڑنا گوارا کرلیا لیکن دین کو چھوڑنا گوارا نہیں کیا۔ لیکن پھر یہی نہیں کہ چھوڑ دیا اور معاملہ ختم ہو گیا۔ پھر ایک ہمدردی تھی بیوی کے لئے، انسانیت کے لئے۔ مستقل مزاجی سے دعا کرتے رہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ پانچ سال تک دعا کرتے رہے اور پانچ سال کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے جب ان کے صبر کو اچھی طرح آزما لیا ایمان کو بھی آزما لیا تو پانچ سال کے بعد وہ دعا بھی قبول ہو گئی اور ایک نشان بھی ظاہر ہوا اور پھر یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نور بھی نظر آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اس نور کو تم بجھا نہیں سکتے وہ نور تو ہر جگہ روشن ہے اور کوئی اس کو بجھا نہیں سکتا۔

اسی طرح ایک جگہ اپنی تبلیغی کاوشوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کا ذکر کرتے ہوئے امیر صاحب گھانا لکھتے ہیں کہ گھانا کے ناردرن ریجن کے شہر یینڈی سے قریباً بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں پنجامبا ہے۔ یہاں ہماری ٹیم نے چار دن تبلیغ کی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے گاؤں کے چیف اور امام سمیت554 احباب نے احمدیت قبول کی۔ اس گاؤں کے ایک دوست حسین صاحب نے تبلیغ سننے کے بعد کہا کہ میں نے کچھ عرصہ قبل خواب میں دیکھا تھا کہ بعض لوگ مجھے جہنم کی طرف کھینچ کر لے جا رہے ہیں۔ اسی دوران اچانک بعض لوگ آئے اور مجھے ان سے چھڑا کر ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جو بہت خوبصورت تھا اور جنت کی طرف لے جاتا تھا۔ یہ دوست کہنے لگے کہ آج آپ کی تبلیغ سننے اور مسیح موعود اور امام مہدی علیہ السلام کا پیغام سننے کے بعد مجھے اپنی اس خواب کی حقیقت سمجھ آ گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کی اور جتنے دن تبلیغی ٹیم اس گاؤں میں رہی یہ ہر کام میں بڑھ بڑھ کر بھرپور تعاون کرتے رہے اور جب ہماری ٹیم اگلے گاؤں تبلیغ کے لئے چلی گئی تو وہاں بھی آ کر ملتے رہے اور مسلسل اخلاص کا اظہار کرتے رہے۔

(…………………جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button