رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ و گوئٹے مالا 2018ء (22 تا 23 اکتوبر)

… … … … … … … … …
22؍اکتوبر 2018ء بروز سوموار
(حصہ سوم)
… … … … … … … …

نو مبائعین کے تأثرات (گزشتہ سے پیوستہ)

٭ لائلہ لطیفہ بنت مکرم امام ابراہیم صاحب اپنے احساسات اس طرح بیان کرتی ہیں: میرا تعلق Chiapas جماعت سے ہے۔ خلیفہ وقت سے مل کربے حد خوشی ہوئی۔ ہم پہلے حضورکو فوٹو یا ٹی وی میں دیکھتے تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا انعام ہے کہ اُس نے ہمیں حضورسے ملاقات کا شرف عطا فرمایا اور حضور کی باتیں سننے کا موقع دیا۔ مجھے حضور سے مل کر اتنی خوشی ہوئی کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ اور میں حضور سے صرف یہ دعا کی درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی احمدیوں میں شامل فرمائے۔

ملک پانامہ سے Heliodoro Almanzo صاحب اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ حضور انور کی ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ موصوف نے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا : حضور انور سے ملاقات میری زندگی کا خوشیوں سے بھر پور دن تھا جسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ حضور انور کے نورانی چہرہ کو دیکھ کر میں نے ایک عجیب روحانی کشش اپنے اندر محسوس کی۔ میرا دل حضور انور کی محبت سے بھر گیا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس مقدس وجود کے قدموں میں بیٹھنے اور مصافحہ کرنے کی مجھے سعادت نصیب ہوگی۔ خاکسار حضور انور کا شکریہ بھی ادا کرتا ہے کہ خاکسار عرصہ 5 سال سے سخت بیمار تھا اور حضور انور کی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور مجھے صحت کاملہ عطا فرمائی۔ حضور انور کی محبت اور روحانی کشش جو میرے دل میں ہے اس پر میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔

حیدر خائرو (Jairo) صاحب جو کہ ملک کوسٹاریکا سے خلیفۃ المسیح کے دیدار کے لئے آئے تھے بیان کرتے ہیں: خدا کے خلیفہ کو گوئٹے مالا میں دیکھ کر بے پناہ خوشی اور مسرت محسوس کی۔ دل کو حد درجہ سکون و اطمینان نصیب ہوا۔ حضور کی اسلام کو پھیلانے کی تڑپ محسوس کر کے میں نے بھی عہد کیا ہے کہ اسلام کا محبت بھرا پیغام پھیلانے کے لئے حد درجہ کوشش کروں گا۔ تاکہ دنیا اسلام کی پر امن تعلیمات سے آگاہ ہو اور اسلام کو قبول کرے۔ بلا شک و شبہ حضور پُر نور امن کے پیغمبر ہیں۔ خدمت انسانیت کے لئے ناصر ہسپتال کے قیام پر ہم اللہ تعالیٰ اور حضور انور کے شکر گزار ہیں۔

ملک بیلیز سے آنے والا وفد 16 گھنٹے کا طویل سفر طے کرکے پہنچا تھا۔

لجنہ کی ایک ممبر گولڈا مارٹینا صا حبہ اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: میرے اور میری فیملی کیلئے یہ ایک نہایت دلنشین اور بابرکت موقع تھا۔ میں بہت جذباتی ہو گئی تھی میں حضورِ انور کو بیلیز کے مختلف مسائل کے بارے میں بتانا چاہتی تھی۔ لازماً یہ ایک بہت اچھا سفر تھا۔ حضورِ انور سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضورِ انور کی تائید و نصرت فرماتا رہے تا حضورِ انور صراطِ مستقیم پر ہماری راہنمائی کرتے ہوئے ہمیں اللہ کی طرف لے جائیں۔ یہ ملاقات ہمیشہ ہمیش کیلئے مجھے یاد رہے گی کیونکہ مجھے یقین ہے کہ مجھے اور میرے بچوں کو اس برکت سے حصّہ ملا ہے۔

لجنہ کی ایک ممبر خدیجہ حسن صاحبہ نے بیان کیا: حضورِ انور سے ملاقات نے مجھے روحانیت میں بہت بڑھایا ہے۔ میں نے حضورِ انور کو بارہا ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے، سیاست دانوں سے گفتگو فرماتے ہوئے، مختلف ممالک کی لجنہ، خدام، واقفین کیساتھ کلاسز لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں اپنے آپ کو بہت سعادت مند محسوس کرتی ہوں کہ ذاتی طور پر حضورِ انور کی مجلس میں شامل ہوئی اور آج سوال کرنے کا موقع ملا۔ میں بہت خوش نصیب ہوں۔

لجنہ کی ایک ممبر نیکول اویلیز (Nicole Avilez)صاحبہ اپنے تأثرات بیان کرتی ہیں: میرا یہ سفر بہت خوشکن تھا۔ اور ایک بہت اچھا تجربہ تھا۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا اور سب نے مجھے اپنی فیملی کی طرح پیار کیا۔ ہمارے وفد کے تمام افراد کیساتھ تمام لوگ بہت عزت کیساتھ پیش آئے۔ میں نے ایک باہمی محبت محسوس کی۔ جب میں نے حضورِ انور کو دیکھا اور جب حضورِ انور نے میرے ساتھ گفتگو فرمائی تو میں بہت زیادہ نروس ہوگئی تھی۔ جب حضورِ انور نے مجھے یوکے جلسہ پر آنے کی دعوت دی تو میں بہت زیادہ جذباتی ہو گئی تھی، میرا جسم کانپنے لگا تھا کیونکہ میری شدید خواہش تھی کہ یوکے جاکر حضورِ انور سے ملاقات کرسکوں۔ اب انشاءاللہ مجھے یوکے جانے کا موقع ملے گا۔ خدا تعالیٰ نے میری یہ خواہش پوری کی۔ یہ بابرکت ملاقات ہمیشہ یاد رہے گی۔

لجنہ کی ایک ممبر فلورنٹینا پیریز (Florentina Perez) صاحبہ نے بیان کیا : مجھے لگا کہ یہ موقع کبھی بھی نصیب نہیں ہوگا۔ خلیفہ وقت سے ملاقات میر ے لئے بہت خوش نصیبی تھی۔ اس کی یاد میرے ساتھ مرتے دم تک رہے گی۔ حضور انور کیساتھ نمازیں پڑھنے کا بہت لطف آیا اور دل کو تسکین بھی پہنچی۔ جب حضورِ انور کمرے میں داخل ہوئے تو ایسا محسوس ہوا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور تمام پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔ ملاقات کے دوران تو مجھے کچھ کہنے کا موقع نہ ملا لیکن مجھے امید ہے کہ مستقبل میں میَں ان سے دوبارہ مل سکوں گی تاکہ ان سے کچھ کہہ سکوں۔

ایک بچّی عزیزہ جولیٹ رابٹو (Juliet Robateau) نے بیان کیا: حضورِ انور کی نمازیں لمبی اور روحانیت سے پُر تھیں۔ جب ہماری ملاقات حضورِ انور سے ہوئی تو میں بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ انکی شخصیت بہت نرم اور محبت سے پُر تھی۔ جب میری ان سے گفتگو ہوئی تو میرا دل بہت تیز دھڑک رہا تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ کچھ ایسا نہ کہہ دوں جس سے بعد میں شرمندگی ہو لیکن سب کچھ بہت اچھا رہا۔ ہم ناصرات نے حضورِ انور کی موجودگی میں نظم ’ہے دست قبلہ نما لا الٰہ الّا اللہ‘ بھی پڑھی جو ہمیں لگا کہ حضور کو بہت پسند آئی۔ حضور انور کے نصائح بہت شاندار تھے اور ملاقات بہت بابرکت تھی۔

لجنہ کی ایک ممبر پامیلا پیس کاسیو صاحبہ (Pamela Pascasio) جنہوں نے ابھی باقاعدہ بیعت تو نہیں کی لیکن اپنے آپ کو احمدی ہی سمجھتی ہیں اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: جب ہم حضورِ انور کی آمد کا انتظار کر رہے تھے تو اس بات پر مجھے بہت حیرانگی ہوئی کہ سب لوگ کتنے خیال رکھنے والے اور ملنسار ہیں۔ اس طرح لگ رہا تھا کہ میں اپنے ایک بچھڑے ہوئے دوست کو بہت دیر بعد مل رہی ہوں۔ لوگ بہت ہی مدد کرنے والے اور منظم تھے۔ انکے رویے میں اپنائیت واضح تھی۔ ہمیں بہت عزت سے نوازا گیا۔ مختلف ممالک سے لجنہ کی ملک بیلیز اور جماعت کے بارے میں جاننے میں دلچسپی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ میری خواہش ہے کہ ان لجنہ کیساتھ میری مستقل دوستی اور رابطہ قائم رہے۔ ان میں سے بعض کی ہماری جماعت کی لجنہ کو مضبوط بنانے کی تجاویز بہت اہم تھیں۔ حضورِ انور کے با برکت وجود نے ہمیں ملاقات سے نوازا۔ میں اس بات سے بہت متاثر ہوئی کہ حضور ِ انور نے ہم سب سے الگ الگ تعارف حاصل کیا۔ ہماری جماعت کی اصلاح کیلئے ہدایات دیں اور ہم سب کو الگ الگ تصاویر بنوانے کا موقع بھی عطا فرمایا۔ خدا تعالیٰ کرے کہ ایک دن حضورِ انور بیلیز بھی تشریف لائیں۔

ملک پیرا گوئے سے آنے والے وفد میں شامل وہاں کے ڈپٹی منسٹر تعلیم و ڈپٹی منسٹر مذہبی امور رابرٹ کانو (Robert Cano) صاحب اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : میں بہت مشکور ہوں کہ مجھے یہ موقع دیاگیا کہ میں احمدیہ مسلم جماعت کے ممبران سے Guatemala میں مل سکوں۔ آپکی امن، رواداری، اور بھائی چارہ کی تعلیم تمام انسانیت کیلئے مفید ہے۔

پیراگوئے سے آنے والے وفد میں شریک صحافی رچرڈ موریئرا (Richard Moreira) صاحب بیان کرتے ہیں : نیا ناصر ہسپتال بہت شاندار ہے۔ یہ علاج گاہ Guatemala کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے تعمیرکی گئی ہے۔ اور یہ احمدیہ مسلم جماعت کے فلسفہ کا خلاصہ ہے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ، ان کی سماجی حیثیت، نظریات یا رنگ و نسل کو دیکھے بغیر محبت کا سلوک کرو۔

… … … … … … … …
23؍اکتوبر 2018ء بروز منگل
… … … … … … … …

٭…حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح پانچ بجے ہوٹل Porta کے ایک ہال میں تشریف لا کر نمازِفجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی اپارٹمنٹ میں تشریف لے گئے۔

٭…صبح حضورِانور نے دفتری ڈاک، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔

٭…حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک بجے ہوٹل کے ایک ہال میں جو نمازوں کی ادائیگی کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، تشریف لا کر نمازِظہر و عصر جمع کرکے پڑھائیں۔ بعد ازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

٭…آج گوئٹے مالا میں ہیومینٹی فرسٹ امریکہ کے زیر انتظام تعمیر ہونے والے ’’ناصر ہسپتال‘‘ کے افتتاح کا پروگرام تھا۔ پروگرام کے مطابق حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ دو بج کر پچاس منٹ پر ہسپتال کے لئے روانہ ہوئے۔ پولیس نے قافلہ کو Escort کیا۔ تین بج کر بیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہسپتال تشریف آوری ہوئی۔ ہیومینٹی فرسٹ کے چیئرمین اور دیگر ممبران اور ہسپتال کے عملہ اور اس تقریب میں شامل ہونے والے سینکڑوں مہمان اور ممبران پریس نے حضورِانور کا استقبال کیا۔ اس موقع پر احباب جماعت نے نعرے بھی بلند کئے۔

٭…بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک سپیشل مارکی میں تشریف لے آئے جہاں گوئٹے مالا کے حکومتی اور سرکردہ افراد نے حضورِانور سے ملاقات کی سعادت پائی۔ درج ذیل مہمان اس مارکی میں موجود تھے۔

٭ آنریبل Mario Figueroa صاحب۔ وائس منسٹر آف ہیلتھ۔
٭ Juan Alberto Monzon وائس منسٹر برائے کلچر۔
٭ جنرل Godines Cuevas ،سیکنڈاِن کمانڈ گوئٹے مالا آرمی Peace Corp۔
٭ Edwin TZI ،چیف آف گوئٹے مالا نیشنل سول پولیس۔
٭ Kamilo Rivera ، فرسٹ وائس منسٹر آف سیکیورٹی گوئٹے مالن گورنمنٹ۔
٭ Dr. Jaun Carlos Barrios ، میئر آف ٹائون آف Santiago۔
٭ Clara Barrios میئر صاحب کی اہلیہ۔
٭ جنرل Carlos Mansilla ، پریذیڈنٹ آف پرائیویٹ گوئٹے مالا سیکیورٹی فرم۔
٭ Neftaly Aldana ، سابق صدر گوئٹے مالن کانسٹی ٹیوشنل کورٹ۔
Iliana Calles صاحبہ ، کانگریس وومین گوئٹے مالا۔

٭…حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ان سبھی مہمانوں نے حضورِانور کا شکریہ ادا کیا کہ جماعت احمدیہ نے ایک نیا ’’ناصر ہسپتال‘‘ ہیومینٹی فرسٹ کے تحت شروع کیا ہے جس کے ذریعہ ان کے ملک میں اُمید کی ایک نئی کرن طلوع ہوئی ہے۔

٭…اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ ہیومینٹی فرسٹ کے قیام کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسانیت کے اُس طبقہ کی بغیر رنگ ونسل کے امتیاز کے بے لوث خدمت کرے جو غریب اور پسماندہ ہیں۔

٭…حضورِانور نے فرمایا کہ اگر حالات موافق ہوئے تو ہیومینٹی فرسٹ مزید نئے علاقوں میں اپنے کام کو آگے بڑھائے گی۔

٭…کانگرس وومین گوئٹے مالا Iliana Calles صاحبہ جو ایئرپورٹ پر بھی حضورِانور کو خوش آمدید کہنے کے لئے موجود تھیں آج اس پروگرام میں شامل ہونے کے لئے تشریف لائی تھیں۔ حضورِانور نے ان سے پارلیمنٹ کے حوالہ سے دریافت فرمایا: جس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ ہماری پارلیمنٹ 158 ممبران پر مشتمل ہے جو قانون سازی کرتی ہے اور سینٹ نہیں ہے۔ موصوفہ نے بتایا کہ ان کا تعلق حکومتی پارٹی سے ہے۔ حضورِانور نے فرمایا: آپ ایئرپورٹ پر بھی آئی تھیں، میں ذاتی طور پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

٭…ایک مہمان نے عرض کیا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہسپتال کھلا ہے۔ گوئٹے مالا میں ہیلتھ کی، علاج کی بہت ضرورت ہے۔ ہم آپ کے بہت شکرگزار ہیں کہ آپ نے یہاں ہسپتال کھول کر علاج کی سہولت فراہم کی ہے۔

٭…حضورِانور نے فرمایا کہ اس ہسپتال کے قیام کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی اقدار کو قائم کیا جائے اور سب مل کر کام کریں اور اکٹھے رہیں۔

٭…ایک سوال کے جواب میں حضورِانور نے فرمایا کہ اب تک ہسپتال میں نے تصویروں میں دیکھا ہے، بڑا اچھا ڈیزائن کیا ہوا ہے۔

٭…اس علاقہ کے میئر بھی اس پروگرام میں موجود تھے۔ حضورِانور نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا میئر کو کونسلر منتخب کرتے ہیں تو اس پر میئر نے عرض کیا کہ لوکل لوگ منتخب کرتے ہیں۔ اگلے سال دوبارہ انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ ہے۔ میئر نے عرض کیا کہ وہ حضورِانور کے بہت شکرگزار ہیں کہ حضور ہسپتال کے افتتاح کے لئے یہاں آئے ہیں۔ ہیومینٹی فرسٹ نے بڑی جلدی ہسپتال کی تعمیر مکمل کی ہے اور ہسپتال تیار کردیا ہے۔

٭…حضورِانور نے علاقہ کی آبادی کے حوالہ سے دریافت فرمایا جو اس ہسپتال سے استفادہ کرے گی۔ اس پر عرض کیا گیا کہ یہاں اِس علاقہ کی اور ارد گرد کے علاقوں کی آبادی لاکھوں میں ہے جو اس ہسپتال سے استفادہ کرے گی۔

٭…حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اس ہسپتال میں باہر سے امریکہ سے بعض کوالیفائیڈ ڈاکٹرز آئیں گے اور ہمارے لوکل ڈاکٹرز بھی ان سے ٹریننگ حاصل کریں گے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا: اگر جذبہ انسانیت کی خدمت کا ہو تو ٹریننگ کے بعد بھی آپ کے ڈاکٹرز خدمت انسانی کے کام سرانجام دے سکتے ہیں۔

٭…ان مہمانوں کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے یہ ملاقات ساڑھے تین بجے تک جاری رہی۔

بعدازاں پروگرام کے مطابق امریکن حکام پر مشتمل وفد نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرف ملاقات پایا۔ اس وفد میں درج ذیل افراد شامل تھے۔

٭ نارما ٹاریس (Norma Torres) صاحبہ، ممبر کانگرس یوایس اے۔
٭ ڈیوڈ ہاج (David Hodge)، ڈپٹی چیف مشن امریکن ایمبیسی گوئٹے مالا۔
٭ انوپاماراجرمان (Anupa Ma Rajaraman) یوایس ایڈ ڈپٹی چیف مشن۔
٭ ڈیبرا پرل مان (Deborah Perl Man) کنٹریکٹنگ اینڈ ایگریمنٹ آفیسر۔
٭رین بائن (Rain Bian)کنٹرول آفیسر امریکن ایمبیسی گوئٹے مالا۔
٭ کرسٹن بش بائے (Kristin Bushby)، پولیٹیکل آفیسر امریکن ایمبیسی گوئٹے مالا۔
٭ ہیکٹر رامیومنیڈیز ارولا (Hector Romeo Menedez Arriola) پراجیکٹ مینیجر ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن آفس۔
٭ کرس جونز (Chris Jones)، انفارمیشن آفیسر امریکن ایمبیسی گوئٹے مالا۔
٭ لوئیس میڈینس (Luis Midence) فوٹو گرافر امریکن ایمبیسی۔
٭ بلی الفاگینس (Billy Alafogiannis) ریجنل سیکیورٹی آفیسر امریکن ایمبیسی گوئٹے مالا۔

٭ باربرہ ایمانو اوسنگ (Barbra Amono Oceng)، ڈپٹی ہیڈ آفس مشن برٹش ایمبیسی گوئٹے مالا۔

٭…حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان تمام مہمانوں سے باری باری تعارف حاصل کیا۔

٭…رکن کانگرس Norma Torres صاحبہ (جو لاس اینجلیس امریکہ سے خصوصی طور پر ہسپتال کے افتتاح کے پروگرام میں شرکت کے لئے گوئٹے مالا آئی تھیں) نے اپنے حلقہ انتخاب کا تعارف پیش کیا اور بتایا کہ ان کے علاقہ میں اکثریت گوئٹے مالن امریکنز کی ہے اور لاس اینجلیس میں گوئٹے مالا سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد بستے ہیںجن میں سے اکثریت کو ٹورس صاحبہ ذاتی طور پر جانتی ہیں۔

٭…حضورِانور نے فرمایا : نورما ٹورس صاحبہ کے دو مسکن ہیں۔ اس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ ان کی والدہ گوئٹے مالا میں مدفون ہیں۔ موصوفہ نے اس بات پر زور دیا کہ لاس اینجلیس (امریکہ) میں بسنے والے گوئٹے مالن افراد تک ہسپتال کا تعارف پہنچایا جائے تاکہ ان کو ہیومینٹی فرسٹ کے کام اور خدمت کا ادراک ہوسکے۔

٭…بعدازاں ڈپٹی چیف مشن امریکن ایمبیسی گوئٹے مالا ڈیوڈ ہاج صاحب نے عرض کیا کہ یوایس ایڈ اس علاقے میں تعلیمی اور صحت کے شعبہ میں مالی معاونت کررہی ہے۔ جس پر حضورِانور نے فرمایا کہ تعلیم پر خرچ گوئٹے مالا کو ترقی دے گا کہ یہاں کے افراد کو امریکہ جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

٭…بعدازاں یو ایس ایڈ ڈپٹی چیف مشن انوپا صاحبہ نے بتایا کہ انہوں نے ابھی حال ہی میں عہدہ سنبھالا ہے اور وہ ناصر ہسپتال کے افتتاح میں شامل ہو کر بے حد خوش ہیں۔ موصوفہ نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے ناصر ہسپتال کا دورہ کیا ہے اور ہیومینٹی فرسٹ کے ایک وفد نے بھی امریکن ایمبیسی کا دورہ کیا ہے۔

٭…وفد کے ایک رکن نے بتایا کہ ناصر ہسپتال ہیومینٹی فرسٹ ٹیم نے ایک تین سالہ امدادی پروگرام تیار کی ہے تاکہ ٹیلی میڈیسن کا ایسا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جاسکے جو کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرسکے۔ یوایس ایڈ کی جانب سے وہ اس ٹیم کے ساتھ مل کر اس پروگرام پر کام کررہے ہیں۔

٭…امریکی وفد کی ملاقات کے دوران برطانیہ ایمبیسی کی ڈپٹی چیف آف مشن باربرا امونو اوسنگ (Barbara Amono Oceng) صاحبہ بھی موجود تھیں۔

حضورِانور کے استفسار پر موصوفہ نے بتایا کہ وہ ایک ماہ سے یہاں اس عہدے پر تعینات ہیں۔ موصوفہ نے ناصر ہسپتال کے افتتاح اور ہیومینٹی فرسٹ کے صحت کے شعبوں میں دیگر مختلف پراجیکٹس کو سراہا اور خوشی کا اظہار کیا۔

گوئٹے مالا میں خالصتًا خدمتِ انسانیت کے جذبہ کے تحت قائم کیا جانے والا ’ناصر ہسپتال‘

٭…امریکن وفد کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے یہ ملاقات تین بج کر پچاس منٹ تک جاری رہی۔ بعدمیں وفد کے ممبران نے باری باری حضورِانور کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔
٭…بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ ہسپتال کے بیرونی حصہ میں تشریف لے آئے جہاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہیومینٹی فرسٹ کا پرچم لہرایا جبکہ گوئٹے مالا کے نائب وزیر صحت Hon. Mario Figueroa نے گوئٹے مالا کا قومی پرچم لہرایا۔ بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔
٭…اس کے بعد پروگرام کے مطابق حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہسپتال کی بیرونی دیوار میںنصب یادگاری تختی کی نقاب کشائی فرماکر دعا کروائی۔

٭…گوئٹے مالا میں ناصر ہسپتال کے قیام کی مختصر تاریخ اس طرح ہے کہ 2012ء میں جماعت احمدیہ مریکہ کے جلسہ سالانہ میں جماعت احمدیہ گوئٹے مالا کا 6 رکنی وفد شریک ہوا۔ دوران ملاقات ڈیوڈ گونسالس صاحب نے گوئٹے مالا میں ایک ہسپتال کے منصوبے کا بھی ذکر کیا تو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ اس منصوبہ پر اخراجات کتنے ہوں گے تو عرض کیا گیا کہ اس پراجیکٹ کی تعمیر شروع کرنے کے لئے ایک ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔

٭…اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اُس کا انشاء اللہ انتظام ہو جائے گا۔

٭…بعد ازاں جلسہ سالانہ یوکے 2013ء میں جماعت احمدیہ گوئٹے مالا کا وفد شریک ہوا۔ جس میں پارلیمنٹ کے ممبر Mr. Sergio Celisصاحب بھی شامل تھے۔ دوران ملاقات ہسپتال کے پراجیکٹ کا بھی تذکرہ ہوا تو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے Sergio Celis سے فرمایا کہ اگر حکومت زمین مہیا کر دے تو ہم ہسپتال بنا دیں گے۔ چنانچہ جلسہ سالانہ سے واپسی پر ممبر پارلیمنٹ نے اپنے علاقہ کے قصبہ Alotenango میں ایک بلڈنگ جو میونسپلٹی نے تعمیر کروائی تھی مگر اس کی تکمیل نہ ہو سکی ہسپتال کے لئے مختص کروانے کی کوشش شروع کر دی اور میونسپلٹی بھی رضا مند ہو گئی کہ اس بلڈنگ کو ہسپتال میں تبدیل کر دیا جائے لیکن بعدازاں کچھ وجوہات کی وجہ سے اس جگہ ہسپتال نہ بنایا جا سکا اور اپنی زمین خرید کر بلڈنگ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

٭…ہسپتال کے پروجیکٹ کو عملی شکل دینے کے لئے ہیومینٹی فرسٹامریکہ کے وفود مختلف اوقات میں گوئٹے مالا آتے رہے۔ جن میں منعم نعیم صاحب چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ امریکہ، ڈاکٹر وسیم سید صاحب، ڈاکٹر قریشی محمود احمد صاحب، ڈاکٹر خالد عطاء صاحب، ڈاکٹر امین بخاری صاحب، ڈاکٹر امتیاز چوہدری صاحب، ڈاکٹر چوہدری اشرف میلو صاحب، ڈاکٹر احسن خان صاحب، ڈاکٹر آغا خان صاحب اور دیگر ڈاکٹر صاحبان شامل ہیں۔

٭…جنرل سیکرٹری جماعت گوئٹے مالا ڈیوڈ گونسالس صاحب نے ہسپتال کے لئے مناسب زمین تلاش کرنے کے لئے کافی محنت کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد بیت الاوّل سے 17 کلومیٹر کے فاصلہ پر بہت ہی مناسب زمین خرید لی گئی۔ ہسپتال کے تعمیراتی منصوبہ کی ذمہ داری کیپٹن ماجد خان صاحب کے سپرد کی گئی۔ مختلف آرکیٹیکٹس اور تعمیراتی کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا اور ایک مشہور آرکیٹیکٹ Mr. Armando Mendoza کی خدمات حاصل کی گئیں۔

تقریب سنگ بنیاد ناصر ہسپتال (گوئٹے مالا)

٭…سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ خصوصی مولانا مبارک احمد نذیر صاحب مشنری انچارج کینیڈا نے مورخہ 4جون 2016ء کو ایک پُر وقار تقریب میں ناصر ہسپتال گوئٹے مالا کا سنگ بنیاد دعاؤں کے ساتھ رکھا۔

٭…اس موقع پر وائس منسٹر آف ہیلتھ Mr. Rodolfo نے ہیومینٹی فرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ناصر ہسپتال کے منصوبہ کو اس علاقے کے لوگوں کے لئے ایک عظیم نعمت قرار دیا۔

٭…بعد ازاں گورنر سٹیٹ، ممبر پارلیمنٹ، ڈائریکٹر ہیلتھ اور تین میئر صاحبان نے خطابات کئے اور ہیومینٹی فرسٹ کی خدمات کو سراہا۔

٭…اس ہسپتال کی بنیاد میں وزیر صحت، گورنر صاحب، ممبر پارلیمنٹ و دیگر معززین نے بھی اینٹیں رکھنے کی سعادت حاصل کی۔

’ناصر ہسپتال‘  گوئٹے مالا کا بابرکت افتتاح

مختصر کوائف ناصر ہسپتال

٭…27؍اکتوبر 2015ء کو ناصر ہسپتال کے لئے قطعہ زمین خریدا گیا۔ جس کا رقبہ 8788 مربع فٹ ہے۔

٭… یہ ہسپتال مسجد بیت الاوّل سے 17 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ 19؍اپریل 2016ء کو ناصر

سپتال کی تعمیر کے سلسلہ میں گوئٹے مالا کی ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔

٭…اس ہسپتال کی تعمیر اور مکمل تیاری پر 2.8 ملین ڈالرز کے اخراجات آئے ہیں۔

٭…ناصر ہسپتال میں خدا تعالیٰ کے فضل سے دو Wingsہیں جن کے تحت کئی شعبہ جات فعال ہیں:

٭…Out Patient Wing کے تحت شعبہ Gynaecology،Radiology، Paediatrics، Internal Medicine نیز Ophthalmology کی سہولیات میسر ہیں۔ Medical Diagnosis Centre بھی موجود ہے۔ ایک مکمل Clinical Laboratory قائم کی گئی ہے جس کے ساتھ بلڈبنک بھی ہے نیز Proctology،Immunology، Haematology، Serology اور Urine Test کی سہولیات بھی میسر ہیں۔ X-Ray اور Ultrasound کا الگ شعبہ ہے۔ Electro Cardiagram کی سہولت بھی موجود ہے۔

٭…In-Patient Wing کے تحت ایک Emergency کا شعبہ ہے۔ Maternity کا الگ شعبہ ہے جہاں پوسٹ مارٹم، Intensive Care اور Neonatal سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح سرجری کا الگ شعبہ ہے۔ Intensive Care Unit بھی موجود ہے۔

٭…مجموعی طور پر ہسپتال میں چوبیس کمرے، تین انتظارگاہیں، ایک Open Air Auditorium، چار گارڈنز (Gardens)، کولیکشن سینٹر (Collection Center)، ایک پانی کا کنواں، ایک پانی کا ٹینک جس کی گنجائش چالیس بیرل پانی ہے، سیورج کے لئے پلانٹ، میڈیکل گیس کواٹر، ایک بجلی کا پلانٹ اور ٹرانسفارمر شامل ہے۔

٭…نقاب کشائی کی تقریب کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ناصر ہسپتال کا معائنہ فرمایا۔

٭…سب سے قبل حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز استقبالیہ (Reception) میں تشریف لے آئے۔ بعدازاں حضورِانور نے ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ کا معائنہ فرمایا۔ یہاں بھی جدید یونٹ نصب کئے گئے ہیں۔

٭…اس کے بعد حضورِانور نے شعبہ الٹرا سائونڈ (UltraSound)اور شعبہ X-Ray اور لیبارٹری کا معائنہ فرمایا۔

٭…اس کے بعد حضورِانور نے فارمیسی کا معائنہ فرمایا۔ بعدازاں حضورِانور نے شعبہ ایمرجنسی (Emergency) اور Intensive Care Unit کا معائنہ فرمایا۔ حضورِانور لیبرروم اور لیبر وارڈ میں بھی تشریف لے گئے اور جملہ سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد حضورِانور نے آپریشن تھیٹر اور آپریٹنگ روم کا معائنہ فرمایا۔ ان سبھی جگہوں پر جدید مشینری اور سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔

٭… بعد ازاں حضورِانور جنرل وارڈ میں تشریف لے گئے اور اس میں موجود سہولیات کا معائنہ فرمایا۔ اس کے بعد حضورِانور نے ہسپتال کے کچن، دفاتر، ایڈمنسٹریشن آفس بلاک کامعائنہ فرمایا۔

اس تفصیلی معائنہ کے بعد ہیومینٹی فرسٹ کے ڈائریکٹرز نے حضورِانور کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائی۔ بعدازاں ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور پھر لیڈی ڈاکٹرز نے گروپ فوٹوز بنوائیں۔

بعدازاں پروگرام کے مطابق حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اُس بڑی مارکی میں تشریف لے آئے جہاں ہسپتال کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا جارہا تھا۔ حضورِانور کی آمد سے قبل اس تقریب میں شامل ہونے والے جملہ مہمان حضرات اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔

چاربج کر دس منٹ پر پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو ڈاکٹر خالد منہاس صاحب نے کی۔ بعدازاں اس کا سپینش زبان میں ترجمہ Yussef Randhu Moralesصاحب نے پیش کیا۔

اس کے بعد ہیومینٹی فرسٹ امریکہ کے چیئرمین مکرم منعم نعیم صاحب نے تعارفی ایڈریس پیش کیا۔ موصوف نے دنیا کے مختلف ممالک میں ہیومینٹی فرسٹ کی مختلف میدانوں میں خدمات اور پروگراموں کا ذکر کیا اور ہیومینٹی فرسٹ کے قیام کی تاریخ بھی بتائی۔ آخر پر گوئٹے مالا میں ناصر ہسپتال کے قیام اور اس کی مرحلہ وار تعمیر اور اخراجات کے لئے رقم مہیا کرنے والوں کی مالی قربانیوں اور کارکنان کی کوششوں کا ذکر کیا۔

بعدازاں مکرم ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن صاحب نے جو سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے، سٹیج پر براجمان مہمانوں کا تعارف کروایا نیز اس تقریب میں شامل بعض دوسرے اہم مہمانوں کا بھی تعارف کروایا۔
اس کے بعد پروگرام کے مطابق دو مہمانوں کانگریس وومین Norma Torresصاحبہ امریکہ اور وائس منسٹر آف ہیلتھ گوئٹے مالا نے اپنے ایڈریسز پیش کئے۔

کانگریس وومین Norma Torres صاحبہ نے جن کا تعلق کیلیفورنیاامریکہ سے ہے (خاص طور پر ناصر ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے امریکہ سے گوئٹے مالا آئی تھیں)اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا:

یہ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں اس پروگرام میں شامل ہوئی ہوں جہاں آپ ناصر ہسپتال کے افتتاح کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ یہ ہسپتال بہت اہمیت کا حامل ہے اور میں احمدیہ مسلم جماعت گوئٹے مالا کے ساتھ کام کرکے بہت فخر محسوس کرتی ہوں۔ پہلے میں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے ہیں۔ ہم آپ کی قیادت اور یہاں کی عوام کی خدمت کے جذبہ سے بہت متاثر ہیں۔ ہمیں گوئٹے مالا میں طبی سہولیات بہتر کرنے میں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں پر جرائم کی نسبت ذیابیطس سے زیادہ افراد مرتے ہیں۔ پھر حاملہ خواتین کی ہلاکت کی شرح یوایس اے سے بہت زیادہ ہے۔ یہ شرح دیہاتی علاقوں میں اور بھی زیادہ ہے جہاں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ گوئٹے مالا معاشی ترقی نہیں کرپارہا جس کی اسے بہت ضرورت ہے۔
پس اس ہسپتال کا قیام ترقی کی طرف ایک قدم ہے۔ اور ہیومینٹی فرسٹ اور احمدیہ مسلم جماعت سے بڑھ کر اس کام کو اور کوئی نہیں کرسکتا۔ گزشتہ کئی سالوں سے میں Chino میں احمدیہ مسجد کی وجہ سے احمدیہ جماعت سے واقف ہوں۔ احمدی ہمارے معاشرے کے فعال ممبر ہیں، فلاحی کاموں میں پیش پیش ہیں اور سخاوت میں مثالی ہیں۔ ہم یہاں گوئٹے مالا میں احمدیہ مسلم جماعت کی خدمات سے بہت متاثر ہیں۔ احمدی ڈاکٹرز کی ٹیمیں یہاں آنکھوں کے مفت آپریشن کرنے کیلئے آتی ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ یہاں ہسپتالوں کی کمی ہے۔ چنانچہ وہ چُپ کرکے نہیں بیٹھے، بلکہ انہوں نے قدم آگے بڑھایا اور اب یہاں ہسپتال قائم کردیا ہے۔ اس کے لئے بہت سی محنت، کوشش ، پلاننگ اور وسائل کی ضرورت تھی۔ آج ہم بالآخر اس کے افتتاح کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ میں حضورِ انور کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ میں ہیومینٹی فرسٹ اور احمدیہ مسلم جماعت کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

موصوفہ نے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کی خدمت میں ایک یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔
اس کے بعدگوئٹے مالا کے وائس منسٹر آف ہیلتھ نے بھی سپینش زبان میں اپنا مختصر ایڈریس پیش کیا۔انہوں نے کہا:

مجھے اس پروگرام میں شرکت کرکے بہت خوشی ہوئی ہے ۔ میں حضورِ انور اور ہیومینٹی فرسٹ اور احمدیہ مسلم جماعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یوایس اے سے ڈاکٹرز نے بہت معاونت کی ہے، ان کا بھی بہت شکریہ۔ آپ لوگوں نےدنیا کے اس حصہ میں آکر ہسپتال قائم کیا ہے اور ضرورتمند کمیونٹیز کی مدد کیلئے آگے بڑھے ہیں۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اس کے بعدچار بجکر پچاس منٹ پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطاب فرمایا۔یہاں اس خطاب کا اردو مفہوم پیش کیا جا رہا ہے۔

تشہّد، تعوّذ و تسمیہ کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا:

آپ سب پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی اور برکات نازل ہوں۔ میں پہلےتمام معزز مہمانوں کا جو آج یہاں گوئٹے مالا میں اس پروگرام میں شرکت کررہے ہیں، شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ بے شک آج احمدیہ مسلم جماعت کیلئے بہت خوشی اور مسرت کا موقع ہے۔ کیونکہ ہیومینٹی فرسٹ کا وسطی یا جنوبی امریکہ میں یہ پہلا ہسپتال قائم ہورہا ہے۔ اسلئے ہم اس کو نہایت اہم اور تاریخ ساز موقع سمجھتے ہیں۔ اگرچہ ہیومینٹی فرسٹ ایک آزاد فلاحی ادارہ ہے اور اسکا اپنا منشور اور حکمتِ عملی ہے۔ لیکن اصل میں اس کی بنیاد احمدیہ مسلم جماعت نے رکھی ہے۔ دنیا بھر میں احمدی مالی قربانیوں اوردیگر ذرائع سے ہیومینٹی فرسٹ کی معاونت کرتے ہیں تاکہ ہیومینٹی فرسٹ خدمتِ انسانیت کے معیار بلند کرسکے اور اپنے پروگرامز وسیع کرسکے۔ پس ہیومینٹی فرسٹ کا احمدیہ مسلم جماعت سے ایک گہرا تعلق ہے۔ اسلئے آج یہ صرف ہیومینٹی فرسٹ کیلئے مسرت کا موقع نہیں بلکہ تمام دنیا میں موجود احمدی مسلمانوں کے لئے بھی خوشی کا باعث ہے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے یہ ہسپتال کیوں تعمیر کیا ہے۔ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ اس ہسپتال کو خالصتاًصرف ایک ہی نیت کے تحت تعمیر کیاگیا ہے اور یہ نیت خدمتِ انسانیت کی ہے تاکہ اس ملک کے لوگوں کو اعلیٰ معیار کا علاج فراہم کیا جائے۔ میں شروع میں ہی آپ کو بتاتا چلوں کہ اس ادارہ کا قیام ہماری اس ملک کیلئے خدمات کی انتہا نہیں ہے، بلکہ میری دعا ہے کہ اس ریجن میں ہیومینٹی فرسٹ کی جانب سے بے شمار خدمتِ انسانیت کے پروگراموں کیلئے یہ ادارہ ایک سنگِ میل ثابت ہو۔ یقیناً میں امید رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہاں پر ہسپتال کا قیام ایک لانچ پیڈ (launch pad) کا کام دے جو کہ ہیومینٹی فرسٹ کو یہاں اور باقی دنیا میں ریلیف اور سپورٹ کے دیگر پروگرامز کو بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔

حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ناصر ہسپتال کی تقریبِ افتتاح سے خطاب فرما رہے ہیں

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: شاید ہمارے بعض مہمان حیران ہوں یا یہ کہنا چاہئے کہ شاید وہ پریشان ہوں کہ کیوں ایک مسلمان جماعت غیر مسلموں کی مدد کرنے کا اس قدر جذبہ اور جوش رکھتی ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ احمدیہ مسلم جماعت اپنے آغاز سے لے کر آج تک بنی نوع انسان کی خدمت کرنے میں ہمیشہ صفِ اوّل میں شمار ہوتی رہی ہے۔ چاہے یہ مدد براہِ راست ہماری جماعت کی جانب سےجاری کردہ سکیموں کے ذریعہ ہو یا پھر ہیومینٹی فرسٹ اور دیگر فلاحی اداروں کی مدد کرنے کی شکل میں ہو۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند دہائیوں میں احمدیہ مسلم جماعت نےافریقہ میں بہت سے ہسپتال اور سکول قائم کئے ہیں۔ جن کے ذریعہ بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب اور سماج کے مقامی افراد کو طبی سہولیات اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ افریقہ میں ہمارے ہسپتالوں میں آنے والے مریض اور ہمارے سکولوں میں آنے والے طلباء کی اکثریت غیر مسلموں کی ہے۔ ہمارے سکولوں میں پڑھنے والے نوّے فیصد کے قریب بچے غیر مسلم ہیں۔ پس ہم کسی گروہ یا قوم کی کوئی تفریق نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے احمدی بچوں کو کوئی فوقیت دیتے ہیں۔ ہمارے ادارے پرائمری سکولنگ سے لیکر ہائیر سیکنڈری ایجوکیشن تک تعلیم فراہم کررہے ہیں۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ تمام بچے تعلیم حاصل کریں اور ان کی تعلیمی بنیاد بہت پختہ ہو جس پر وہ اپنے روشن مستقبل کی عمارت قائم کریں۔ پھر ایسے قابل طلباء کو ہم سکالر شپ بھی دیتے ہیں جو ہائیرایجوکیشن کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تاکہ وہ اپنی صلاحیتیں بہتر رنگ میں بروئے کار لاسکیں اور اپنے لئے اور اپنی قوم کیلئے بہتر مستقبل بناسکیں۔ اس طرح احمدیہ مسلم جماعت کی اپنے طور پر یا ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ انسانی خدمت کرنے کی اور ایسے افراد کو جو غربت کی زندگی گزار رہے ہیں سہولتیں مہیا کرنے اور ان کی مدد کرنے کے حوالہ سے ایک لمبی تاریخ ہے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: ہم ان خدمات کے بدلےکوئی تعریف یاصلہ کا مطالبہ نہیں کرتے، کیونکہ ہم وہ کرر ہےہیں جو ہمارا مذہب ہمیں تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے اندر دوسروں کی خدمت کا جذبہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔ ہر سچے مسلمان کیلئے قرآنِ کریم ہدایت کی روشنی ہے، جو کہ بانیِ اسلام حضرت محمدﷺ پر الہام کیا گیا۔ قرآنِ کریم میں بارہا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی خدمت کریں۔ اور مشکل میں گھِرے اور محروم افراد کی مدد کریں۔ قرآنِ کریم مسلمانوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بے نفس ہوکر دوسروں کی خدمت کرنے کادلی جذبہ رکھیں۔ قرآنِ کریم ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم دیگر افراد کے تحفظ اور ان کی فلاح کیلئے ہر قربانی کیلئے ہروقت تیار رہیں۔ مثلاً، قرآنِ کریم کی سورۂ آلِ عمران کی آیت 111 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سچے مسلمان وہ ہیں جو اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں اور ناانصافی سے دور رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اچھے کام کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ صرف وہ شخص دوسروں کا خیال رکھ سکتا ہے اور ان کی خدمت کرسکتا ہے جو بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی کرنے والا ہو اور مخلوقِ خدا کا درد رکھتا ہو۔ انسانیت سے ایسی اعلیٰ درجہ کی محبت صرف اُسی صورت حاصل ہوسکتی ہے جب آپ کا دل صاف ہو اور خود غرضی اور نفرت سے پاک ہو۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: قرآنِ کریم کی سورۂ بقرہ کی آیت 84 میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہر آن نیک بات کہنے اور دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے اور معاشرے کے کمزور طبقوں جیسا کہ یتامیٰ اور مساکین کی حفاظت اور انکی مدد کرنے کا حکم دیاہے۔

پھر قرآنِ کریم کی سورۃالذاریات آیت 20 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ ایک سچے مسلمان کی نمایاں خصوصیت ہے کہ وہ خدا کی تمام مخلوقات کا خیال کرتا ہے اور ضرورتمندوں کو آسانی فراہم کرنے اور ان کی مدد کرنے کیلئے کوشش کرتا ہے، خواہ وہ مدد کیلئے پکاریں یا نہ پکاریں۔ چنانچہ ایک مسلمان کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس وقت تک انتظار کرے جب تک کوئی اس کو مدد کیلئے بلائے بلکہ اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کی تکالیف کا احساس کرے اور ان کی مدد کرنے کیلئے ہر قسم کی قربانی دے تا کہ وہ اپنی مشکلات پر قابو پالیں۔

پھر قرآنِ کریم کی سورۃ البلد آیت 15تا 17 میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فاقہ زدوں کو کھانا فراہم کرنے، یتامیٰ سے شفقت کا سلوک کرنےاور ہر ایک ضرورتمند ،خاص کر ایسے افراد جو بے کس ہیں اور کمزور ہیں کی مدد کا حکم دیتاہے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہےکہ وہ ایسے بنیں کہ معاشرے کے دھتکارے ہوؤں کے ساتھ کھڑے ہوں اورخود ان کے بوجھ اٹھائیں۔مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہےکہ وہ محروم افراد کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں، اپنے مشکل حالات سے نکل سکیں اور باوقار زندگی گزار سکیں۔اسکے بدلہ میں قرآنِ کریم مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ ایسے لوگ روحانیت میں ترقی کریں گے اور خدا کے مقرب ہوں گے اور خدا کی خوشنودی کے وارث ہوں گے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: اسی طرح سورۂ بقرہ کی آیت 196 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو ذلت و تباہی سے بچانے کی خواہش رکھتا ہے تو اسے ہر حال میں بغیر کسی صلہ کے دوسروں سے شفقت اور سخاوت کرنے کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سورۂ نساء کی آیت 37 میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ مسلمانوں کو اپنے ہمسایوں سے حسنِ سلوک کرنا چاہئے اور اس بات کا پھر سے اعادہ کرتاہے کہ حقیقی مسلمان وہ ہیں جو ضرورت مندوں، یتامیٰ و مساکین کی مدد کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم مسلمانوں کو حکم دیتاہے کہ دوسروں سے حسنِ سلوک کریں اور اپنے ماتحتوں سے پیار و شفقت سے پیش آئیں۔ مثلاً اگر کام کی جگہ پر کسی مسلمان کا کوئی ماتحت ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اس سے شفقت اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے۔پھرقرآنِ کریم کی سورۂ محمد کی آیت 39 میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ مسلمان اپنی دولت دوسروں کی مدد کیلئے خرچ کریں۔ جو ایسا نہیں کرنا چاہتے انہیں بخیل قرار دیا گیا ہے اور فرمان ہے کہ ایسے بخیل اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہیں اور انسانی روح کی تاریکی کا باعث ہیں۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا:یہ آیاتِ کریمہ جو میں نے بیان کی ہیں اس بات کی اہمیت بتاتی ہیں کہ اگر مسلمان خداتعالیٰ کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں لازماً پہلے خدا کی مخلوق کی مدد کرنا ہوگی۔ یہ آیات بڑے واضح انداز میں بیان کرتی ہیں کہ اسلام کی بنیاد خدمتِ انسانیت پر ہے۔
حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: قرآن کریم کے یہ حوالہ جات پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ سب کو معلوم ہوکہ اسلام وہ نہیں ہے جوعام طور پر میڈیا میں پیش کیاجاتاہے۔یہ انتہاپسندی، فساد یا دہشت گردی کا مذہب نہیں ہے بلکہ یہ پیار، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔یہ وہ مذہب ہے جو اپنے پیروکاروں پر خدمتِ انسانیت کوبنیادی فرض قرار دیتا ہے۔اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک حقیقی مسلمان سخت دل ہو یا تکلیف زدہ اور مشکلات میں گھرے ہوئے لوگوں کی مدد نہ کرے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: قرآنِ کریم کی ان آیات کی روشنی میں مَیں اب بانی اسلام حضرت محمدﷺ کی خدمتِ انسانیت کی چند مثالیں پیش کروں گا۔ اس جدید دور میں اکثر یہ اعتراض کیاجاتاہے کہ رسولِ کریم ﷺ (نعوذباللہ) ایک جنگجو لیڈر تھے جنہوں نے اپنے پیروکاروں کو شدت پسندی کی تعلیم دی۔تاہم واضح ہو کہ یہ حقیقت کے بالکل برخلاف ہے اور آپ ﷺ کی ذات مبارکہ پر یہ الزامات سراسر ناانصافی ہے۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے تو ہر قوم ، ہرنسل اور ہرعقیدہ کے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کی اور آپ ﷺ ساری کائنات کیلئے رحمت تھے۔ آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے انسانیت کیلئے لازوال محبت پھوٹتی تھی۔ مثال کے طور پر ایک موقع پر رسولِ کریم ﷺ نے فرمایاکہ ’میں کمزور کے ساتھ ہوں۔ کیونکہ کمزور اور غریب کا ساتھ دینا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔‘ پھر آنحضرت ﷺ نے یہ تعلیم دی کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں سے بے انتہا خوش ہوتاہے جو غرباء کی امداد کرتے ہیں ، جو غریبوں کی بھوک مٹاتے ہیں اورانہیں علاج مہیاکرتے ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص سچامسلمان ہونے کا دعویٰ کرتاہے تو اس کا سب سے اہم اور ضروری فریضہ یہ ہے کہ وہ تمام مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرے اور ان کی تکلیف اور مشکل دورکرنے کے لئے بھرپورکوشش کرے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کو اُجاگر کرنے کیلئے جس شخص کو بھیجا وہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے بانی تھے جنہیں ہم مسیح موعود و مہدی معہود مانتے ہیں۔ آپ علیہ السلام اس لئے مبعوث ہوئے تادنیا کو بتائیں کہ اسلام اصل میں کیاہے اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر حصہ میں پہنچائیں۔ جہاں آپ علیہ السلام غیر مسلموں کو اسلام کی روشنی سے منور کرنے کیلئے آئے وہاں آپ مسلمانوں کی اصلاح کیلئے بھی آئے جو اپنے مذہب کی حقیقی تعلیمات کو بھُلا چکے تھےتاکہ انہیں اُس اسلام کی طرف واپس لیکر آئیں جو قرآن کریم اور رسولِ کریم ﷺ نے پیش فرمایا۔سب سے بڑھ کر آپ علیہ السلام نے بنی نوع انسان کو مسلسل اس طرف توجہ دلائی کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد اداکریں۔

ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خدمتِ انسانیت دراصل خدا تعالیٰ کی عبادت ہے۔ اسی طرح ایک اور موقع پرآپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کوئی تکلیف میں مبتلاہو اور میں فرض نماز اداکرنے میں مشغول ہوں اور مجھ تک ان کی آہ پہنچے تو میں اپنی نماز توڑ کر ان کی مدد کروں ۔

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےفرمایا کہ کسی بھائی کی بوقتِ ضرورت مدد کرنے سے انکار کرناسراسر غلط اور غیراخلاقی فعل ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایاکہ اگر کسی کے پاس مشکل میں گھر ے یا تکلیف میں مبتلاشخص کی مدد کرنے کے لئے ظاہری ذرائع موجود نہ ہوں تو وہ کم از کم خلوصِ نیت سے اللہ تعالیٰ سے دعاتو کرسکتاہے کہ وہ ایسے لوگوں کی تکالیف دورکردے۔آپ علیہ السلام نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ قبولیتِ دُعا بھی ایک پاک اور نرم دل کو چاہتی ہے۔ پس مسلمانوں کافرض ہے کہ وہ دوسروں کی زبوں حالی پر ہمدردی کا اظہارکریں اوران کی تکالیف کو اپنی تکلیف گردانیں۔

ایک اور موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دوسروں کی نسبت کہیں بڑھ کر لوگوں کی سماجت کرتاہوں کہ وہ غیرمسلموں جیساکہ ہندوؤں اور دیگر لوگوں کیساتھ اعلیٰ اخلاق اور پیار کا سلوک کریں۔

آپ علیہ السلام نے فرمایاکہ خداتعالیٰ کی مخلوق کیساتھ ایساپیارکاسلوک کریں جیسے آپ اپنے قریبی عزیزوں کیساتھ کرتے ہیں۔ بنی نوع انسان کیساتھ وہی سلوک کریں جو ایک ماں اپنے بچہ سے کرتی ہے۔ آپ کا یہ طریق ہونا چاہئے ۔ یہ نہ ہوکہ آپ کسی دوسرے کی مدد صرف اس لئے کررہے ہوں کہ بعد میں آپ کو بدلہ میں کوئی فائدہ ملے گا۔

اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ قرآن کریم کی سورۃ النحل کی آیت 91 میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتاہے کہ وہ عدل سے کام لیں اور دوسروں کیساتھ بھلائی کریں۔ یہاں تک کہ اُن لوگوں کیساتھ بھی نیک سلوک کریں جنہوں نے آپ کیساتھ کوئی بھلائی نہ کی ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر آپ کو ایسے لوگوں پر احسان کرنا چاہئے اور ان کا ایسے خیال رکھیں جیسے ایک ماں اپنے بچہ کا رکھتی ہے۔ یہ کیا ہی شاندار اور اعلیٰ تعلیم ہے! ہم سب کو ماں کی محبت کا تجربہ ہے جو اس کو اپنے بچے کے ساتھ ہوتی ہے۔ ماں اس محبت کا کوئی صلہ نہیں چاہتی اور نہ یہ چاہتی ہے کہ اس کی قدر شناسی ہو۔ ماں خود سے زیادہ اپنے بچہ سے پیارکرتی ہے اوراُس کا اپنی نسل کی حفاظت اور اس کا خیال رکھنے کاعزم کبھی ڈھیلانہیں پڑتا۔ پس اسلام مسلمانوں سے تقاضا کرتاہے کہ وہ ماں کی بے غرض محبت کی طرح اپنے دلوں میں نہ صرف اپنی اولاد کیلئے بلکہ تمام بنی نوع انسان کیلئے پیار کو اجاگرکریں۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: عملی طور پر بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دوسروں کی خدمت کرنے کا کبھی کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا ۔مثال کے طور پرانیسویں صدی میں آپ علیہ السلام انڈیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے جہاں باقاعدہ طبی سہولیات میسر نہ تھیں ۔ لیکن انسانیت کی خدمت کے جذبہ کی وجہ سے آپ علیہ السلام نے روایتی طب کا مطالعہ کیا اور گھر میں مختلف ادویات بھی رکھی ہوئی تھیں۔ چنانچہ مقامی لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آتے اور آپ علیہ السلام ذات پات اور مذہب سے بالاہو کر انہیں ان کی ضروریات کے مطابق ادویات عطافرماتے۔ بہت سے لوگ بالخصوص غریب اور بے کس لوگوں نے اس سہولت سے بہت فائدہ حاصل کیا۔ اس کے پیچھے صرف اور صرف یہی مقصد اورآرزو تھی کہ وہ انسانیت کی خدمت کرسکیں ۔ اور یہی وہ عظیم خزانہ اور قیمتی ورثہ ہے جو آپ علیہ السلام نے اپنی جماعت کیلئے چھوڑا۔ پس جماعت احمدیہ مسلمہ کی ساری دنیا میں انسانیت کی خدمت کرنے کی کوششوں کے پیچھے صرف ایک ہی آرزو ہے کہ تمام بنی نوع انسان کی تکالیف اور دُکھ کو دور کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ ہیومینٹی فرسٹ آج دنیا کے اس حصہ میں اپنا پہلا ہسپتال کھول رہی ہے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: میں دل و جان سے دعاکرتاہوں کہ یہ ہسپتال اپنا مقصد پوراکرے اور مذہب و نسل اور چھوٹے بڑے کی تفریق سے بالا ہوکر لوگوں کی تکلیف کو دور کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو۔ جیساکہ میں نے پہلے کہا کہ ہمیں دنیا سے کسی قسم کا صلہ یا تعریفی کلمات نہیں چاہئیں۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور پیارحاصل کرناہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریرہمارے لئے ہمیشہ مشعلِ راہ ہے جہاں آپ علیہ السلام نے فرمایاکہ خدمتِ انسانیت ہماری زندگیوں کا حقیقی مقصد پورا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات اور افضال حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: مجھے یقین ہے کہ اب آپ سب پر واضح ہوگیاہوگا کہ ہم نے یہ ہسپتال کوئی مالی منفعت یا شہرت حاصل کرنے کیلئے نہیں بنایا بلکہ ہمارا مقصد صرف یہی ہے کہ اس ملک کے لوگوں کو اعلیٰ طبی سہولیات مہیاکرکے ان کی خدمت کریں ۔ آپ یقین رکھیں کہ اس ہسپتال کے ذریعہ سے جو بھی فنڈز اکٹھے ہوں گے وہ گوئٹے مالاکے لوگوں کی مزید خدمت کیلئے استعمال ہوں گے اور ایک پائی بھی گوئٹے مالا سے باہر نہیں بھجوائی جائے گی۔مریضوں کی فیس کے ذریعہ جو بھی آمد ہوگی اُس کو دوبارہ گوئٹے مالا کے لوگوں پر ہی خرچ کیاجائے گا تاکہ اس بات کی یقین دہانی کروائی جاسکے کہ جو لوگ علاج نہیں کرواسکتے انہیں کم خرچ پر یا اگر ممکن ہوا تو بالکل مفت علاج مہیاکیاجائے۔اس کے علاوہ جو بھی آمد ہوگی اُسے اس ہسپتال کی سہولیات کے معیار کو برقراررکھنے یا انہیں بہتر کرنے یا بنی نوع انسان کی مزید خدمت پر استعمال کیا جائے گا۔ ہمارے گزشتہ انسانی فلاح و بہبود کے منصوبہ جات میری ان باتوں کی سچائی کو ثابت کرتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی ہم نے سکول یا ہسپتال بنائے ہیں وہاں سے حاصل کی گئی آمد کو ہم نے کبھی ملک سے باہر نہیں بھجوایابلکہ اس آمد کو ہمیشہ ہم نے اسی ملک میں اس طرح دوبارہ لگایاکہ اس سے اُس ملک کے لوگوں کو فائدہ حاصل ہو۔ اور یہاں گوئٹے مالا میں بھی بالکل ایسے ہی ہوگا۔انشاء اللہ یہ اس قوم کی خدمت کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ یقیناً میری دعاہے اور مجھے اُمید ہے کہ یہ ہسپتال انسانی فلاح و بہبود کے بہت سے منصوبوں میں سے پہلا منصوبہ ثابت ہوگا جو ہم دنیا کے اس حصہ میں شروع کریں گے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: میری دعاہے کہ ہم ہمیشہ اپنے خدمتِ انسانیت کے فریضہ اور ذمہ داری کو اداکرنے کیلئے اپنی کوششوں کو بڑھاتے چلے جائیں ۔ میر ی دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اس ہسپتال کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اوراسے زیادہ سے زیادہ ترقیات دیتا چلا جائے اور یہ ہسپتال خدمتِ انسانیت کی ایک روشن مثال بن جائے۔ میر ی دعاہے کہ یہ ہسپتال مریضوں کو ہرممکن علاج فراہم کرے اور یہاں پر کام کرنے والے ڈاکٹرز اورکارکنان لوگوں کو بالخصوص غریب اور محروم طبقہ کو آرام پہنچانے کیلئے ان تھک محنت کریں ۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹروں اور دیگر میڈیکل سٹاف کی کوششوں میں برکت ڈالے اور اپنے فضل سے ان کے ہاتھ میں مریضوں کیلئے شفا رکھ دے۔ میری دعاہے کہ اس ہسپتال کی انتظامیہ ہسپتال کو اس طرح چلائے کہ ایسے غریب لوگ جو علاج کروانے کی طاقت نہیں رکھتے انہیں نہایت سستا اور جس حد تک ممکن ہو مفت علاج مہیا کیا جائے۔ اس ہسپتال کا نام ’ناصر ہسپتال‘ رکھاگیاہے۔ ناصر کامطلب ہی دوسروں کوسہارا دینے والا اور دوسروں کی مدد کرنے والا کے ہیں۔ پس میری دعاہے کہ یہ ہسپتال ہمیشہ اور ہر رنگ میںاپنے نام کی لاج رکھنے والاہو۔میری دعاہے کہ یہ ایک ایسے نمایاں ادارہ کی حیثیت حاصل کرلے جو اپنے بلند معیار اور سب سے بڑھ کر معاشرے کے لاچار لوگوں کی مدد کرنے کے پُرعزم ارادہ کی وجہ سے جانا جائے ۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا: آخر پر میں دعاکرتاہوں کہ تمام لوگ قوم، نسل اور مذہب سے بالاہوکر بنی نوع انسان کی خدمت کیلئے متحد ہوجائیں اور معاشرہ کی فلاح و بہبود کیلئے باہمی تعاون اور پیار و محبت کے جذبہ سے کام کریں ۔ اس دورمیں دنیا ایک ’گلوبل ولیج‘ بن چکی ہے جیساکہ ہر قوم ایک دوسرے کیساتھ جڑی ہوئی ہے اور ذرائع مواصلات ہروقت مہیا ہیں۔ چنانچہ اب پہلے سے بڑھ کر بنی نوع انسان کا فرض ہے کہ وہ تمام قوموں اور تمام مذاہب میں باہمی اخوت و محبت کو فروغ دیں۔ لیکن افسوس سے کہناپڑتاہے کہ تلخ حقیقت یہی ہے کہ ہم اپنے پیار و محبت کے معیاروں کو اُونچاکرنے کی بجائے اس کے برعکس کررہے ہیں اور خودغرضی، طمع اور انانیت کا ماحول سارے معاشرے پر غالب آرہاہے۔ پس میری دلی دعاہے کہ انسان لالچ اور خود غرضی کوترک کردے اور اس کی بجائے بنی نوع انسان کی حفاظت کرنے کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کیساتھ پیار، محبت اور ہمدردی کرنے کی اہمیت کو جان لے۔ میری دعاہے کہ خدمتِ انسانیت کا جذبہ ہمیشہ کیلئے معاشرہ میں جڑ پکڑ جائے تاکہ ہم اپنے مستقبل کو محفوظ کرسکیں اور اپنے پیچھے اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے رہنے کیلئے ایک بہتر دنیا چھوڑ کرجائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں اداکرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین

ان الفاظ کے ساتھ میں ایک مرتبہ پھر سارے مہمانوں کا آج اس تقریب میں شامل ہونے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بہت شکریہ۔

……………………………

حضورِانور کا خطاب پانچ بج کر بائیس منٹ تک جاری رہا۔ اس کے آخر پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی جس میں وہاں موجود مختلف مذاہب اور طبقہ فکرسے تعلق رکھنے والے مہمان اپنے اپنے طریق پر شامل ہوئے۔

(…………جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button