رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ و گوئٹے مالا 2018ء (22؍ اکتوبر)

… … … … … … … … …
22؍اکتوبر 2018ء بروز سوموار
(حصہ دوم)
… … … … … … … … …

ممبران جماعت گوئٹے مالا کی اجتماعی ملاقات

٭ معائنہ کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد کے ہال میں تشریف لے آئے۔ جہاں احباب جماعت گوئٹے مالا کی حضورِانور کے ساتھ اجتماعی ملاقات تھی۔ ان کی تعداد یکصد کے لگ بھگ تھی جن میں 44 مرد اور 46خواتین تھیں اور باقی بچے تھے۔

٭ اس کے علاوہ میکسیکو کا علاقہ Chiapa جو گوئٹے مالا کے بارڈر کے ساتھ لگتا ہے اور یہاں گوئٹے مالا کے ذریعہ جماعت قائم ہوئی تھی۔ یہاں کے احمدی احباب، نومبائعین بھی اس ملاقات میں شامل تھے۔ ان کی تعداد 32 تھی۔ یہ لوگ ہزار میل سے زائد کا بڑالمبا سفر طے کرکے پہنچے تھے۔

یہ قریباً سبھی وہ لوگ تھے جو اپنی زندگی میں پہلی بار حضورِانور سے ملاقات کی سعادت پا رہے تھے۔
٭ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان سب سے دریافت فرمایا کہ کیا حال ہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا الحمدللہ۔ حضورِانور کے دریافت فرمانے پر کہ کہاں کہاں سے آئے ہیں۔ امیر صاحب گوئٹے مالا نے عرض کیا کہ گوئٹے مالا کے مختلف علاقوں سے ہیں۔ جہاں گزشتہ سالوں میں بیعتیں ہوئی ہیں، وہاں سے بھی آئے ہیں۔ اسی طرح میکسیکو کے Chiapa کے علاقہ سے بھی آئے ہیں۔

٭ حضورِانور نے ازراہِ شفقت بچوں سے دریافت فرمایا کہ کیا سب سکول جاتے ہیں جس پر بچوںنے عرض کیا کہ ہم سکول جاتے ہیں۔ ایک بچے نے حضورانور کے دریافت فرمانے پر بتایا کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے۔ ایک بچے نے عرض کیا کہ وہ چوتھی کلاس میں پڑھتا ہے۔ حضورِانور نے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب نے پڑھنا ہے۔ کسی ایک بچے نے بھی بغیر پڑھائی کے نہیں رہنا۔ کوئی ڈاکٹر بنے، کوئی انجینئر، کوئی وکیل اور کوئی ٹیچر بنے۔ ہر ایک نے کچھ نہ کچھ پڑھنا ہے۔

٭ ملک میکسیکو (Mexico) سے ایک نوجوان طالبعلم جامعہ احمدیہ کینیڈا میں داخل ہوئے ہیں اور جامعہ کے پہلے سال میں ہیں۔ حضورِانور نے ان سے دریافت فرمایا کہ اردو کتنی سیکھ لی ہے۔ موصوف نے عرض کیا کہ ابھی تھوڑی تھوڑی سیکھی ہے۔

عزیز کو نصیحت کرتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا: جامعہ میں اپنی تعلیم پر توجہ دو، دینی تعلیم سیکھو، پانچ نمازیں باقاعدہ پڑھو اور باجماعت پڑھو۔ فجر سے پہلے کم از کم دو نفل باقاعدہ پڑھو اور اس کی مستقل عادت ڈالو۔ اردو زبان سیکھنے کے لئے جماعت کے کسی رسالہ سے کوئی ایک صفحہ پڑھو۔ ہفت روزہ الفضل ہے، اس میں سے کوئی پیراگراف پڑھو۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب ہیں، جو آسان اردو میں ہیں وہ پڑھو، روزانہ سونے سے پہلے ملفوظات کا ایک صفحہ پڑھا کرو۔

٭ حضورِانور نے بچیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ ہماری جماعت میں بچیاں زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی ہیں۔ آپ سب نے پڑھائی میں لڑکوں سے آگے نکلنا ہے۔ بچوں اور بچیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں دوڑ لگنی چاہئے۔

٭ دو گوئٹے مالن بچیوں نے حضورِانور کی خدمت میں پھول پیش کئے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا : جزاکم اللہ۔

٭ ایک نومبائع دوست نے سوال کیا کہ نماز کس طرح اچھے طریق پر ادا کی جاسکتی ہے۔

اس کے جواب میں حضورِانور نے فرمایا: نماز پڑھتے ہوئے یہ خیال رکھیں کہ ہم خدا کے سامنے کھڑے ہیں۔ خداہمیں دیکھ رہا ہے۔ اِس لئے عاجزی کے ساتھ نماز کے لئے کھڑے ہوں اور جو الفاظ دہرا رہے ہوں وہ بھی سمجھ کر دہرائیں۔

حضورِانور نے فرمایا سورۃ فاتحہ یاد کریں۔ ایاک نعبد وایا ک نستعین باربار دہرایا کریں کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ جب نماز پڑھ رہے ہو تو تم یہ خیال رکھو کہ تم خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو یا کم از کم خداتمہیں دیکھ رہا ہے۔ جب یہ خیال ہوجائے گا کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر عاجزی پیدا ہوگی اور نماز کی طرف توجہ بھی ہوگی۔

٭ ایک نومبائع نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اگر ہمیں بیٹا یا بیٹی عطا فرمائے تو اس کا کون سا اسلامی نام رکھنا چاہئے۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا: جو اسلامی نام پسند آئے رکھ لیں۔ محمد نام رکھنا ہے تو رکھ لیں۔ حضورِانور نے فرمایا: اصل یہ دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ نیک اور صالح اولاد عطا فرمائے۔ جو خدا کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والی ہو۔ بہت سارے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں گوئٹے مالا میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی تو بہت بچے بگڑ جاتے ہیں، خراب کاموں میں پڑ جاتے ہیں، نشے میں پڑ جاتے ہیں، پھر جرائم ہوتے ہیں اور جیلوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ خداتعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ جو بھی اولاد دے نیک اور صالح اولاد ہو۔

٭ ایک طالبعلم نے عرض کیا کہ وہ جامعہ کینیڈا یا جامعہ یوکے میں جانا چاہتا ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ اگر مربی بننا چاہتے ہیں تو پھر ایک فیصلہ کرو اور اس پر قائم رہو۔ اگر جامعہ احمدیہ جانا چاہتے ہو تو پھر جامعہ احمدیہ کینیڈا جائو۔ جامعہ کینیڈا کو باقاعدہ ایجوکیشنل یونٹ، ایک تعلیمی ادارہ کا سٹیٹس ملا ہوا ہے۔ اس لئے تم کینیڈا جاسکتے ہو۔ لیکن یوکے نہیں جاسکتے۔ یوکے جامعہ کے پاس ابھی ایسا سٹیٹس نہیں ہے۔ کینیڈا یا گھانا یہ دو چائسز (choices) ہیں۔ کسی ایک میں جاسکتے ہو۔

٭ ایک نومبائع نے سوال کیا کہ ایک اچھا مسلمان بننے کے لئے کون سی چیز ضروری ہے؟

اس پر حضورِانور نے فرمایا: آپ خدا تعالیٰ سے کوئی بھی عمل چھپا نہیں سکتے۔ لوگوں سے چھپا سکتے ہو۔ جب بھی کوئی کام کریں تو یہ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جو بنیادی حکم دئیے ہیں ان پر عمل کرو، خدا کی عبادت کرو، اچھے اخلاق اپنائو، لوگوں کے حق ادا کرو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔

حضورِانور نے فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ میں اچھا احمدی بننے کے لئے کیا کروں اور کیا نہ کروں؟ تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا نے مجھے الہاماً کہا ہے تمہیں بھی بتا دیتا ہوں کہ ’’خدا سے ڈر۔ پھر جو چاہے کر۔‘‘ (الہام 11مارچ 1891ء)

حضورِانور نے فرمایا: پس جو خدا تعالیٰ سے ڈرے گا وہ غلط کام نہیں کرسکتا۔ وہ ایک اچھا مسلمان بن جاتا ہے۔

٭ گوئٹے مالا کے ایک نومبائع نے عرض کیا کہ ہمارے لئے دعا کریں، ہماری مدد کریں، ہم اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں، خدا ہم کو ہدایت دے۔

اس پرحضورِانور نے فرمایا:خدا تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دی ہے نور کی طرف، روشنی کی طرف لے کر آیا ہے۔ اب آپ کا کام ہے کہ یہ پیغام دوسروں تک پہنچائیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرو وہ دوسروں کے لئے بھی پسند کرو۔ آپ نے اپنے لئے اسلام کو پسند کیا ہے اب یہ احمدیت کا پیغام دوسروں کو بھی پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ اس کام کو سرانجام دے سکیں۔

٭ ایک نومبائع خاتون نے کہا کہ میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ یہاں امریکہ میں سے ڈاکٹرز آتے ہیں اور جماعت کے میڈیکل کیمپ لگتے ہیں اور ایک سکول بھی کھلا ہوا ہے۔ یہاں بہت ضرورت ہے۔ اس پر امیر صاحب گوئٹے مالا نے عرض کیا کہ ہیومینٹی فرسٹ امریکہ کے تحت ’’مسرور سکول‘‘ جاری ہے۔

حضورِانور نے فرمایا: سکول کو جاری رکھیں۔ نیز فرمایا کہ ہم یہ خدمت کررہے ہیں۔ جہاں بھی ہمارے لئے ممکن ہوتا ہے ہم یہ خدمت کرتے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام قادیان میں بہت سے مریضوں کودیکھا کرتے تھے اور دوا دیا کرتے تھے۔ غریب عورتیں جمگھٹوں کی صورت میں آجاتی تھیں۔ آپ ان کا علاج کرتے تھے۔ کسی نے آپؑ سے عرض کیا کہ اس طرح تو آپؑ کا بہت سا وقت ان لوگوں کے لئے صرف ہو جاتا ہے۔ اس آپؑ نے فرمایا۔ یہ غریب لوگ ہیں۔ یہاں علاج کی ضرورت رہتی ہے۔ قریب کوئی دواخانہ نہیں ہے۔ اس لئے میں دوائیاں منگوا کر رکھتا ہوں جو ان کے علاج کے لئے کام آجاتی ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: یہی کام ہے جو ہم نے بھی جاری رکھنا ہے اور ہم ہر جگہ یہ کر رہے ہیں اور ہم اَور بھی سکول اور ہسپتال کھولیں گے۔

٭ ایک خاتون نے عرض کیا کہ میں حضورِانور کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ حضور ہمارے ملک تشریف لائے ہیں۔ آج میرا بیٹا آ نہیں سکا۔ اس کو کام سے چھٹی نہیں مل سکی۔ اس نے کمپیوٹر سائنس کیا ہواہے۔ میری خواہش ہے کہ وہ بھی جامعہ میں داخل ہو۔ اس پر حضورِانور نے خاتون کو قلم عطا فرمایا اور فرمایا کہ یہ اپنے بیٹے کو دے دینا۔

٭ ایک خاتون نے عرض کیا کہ حضور ہم عورتوں کے لئے کوئی نصیحت فرمائیں۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا: ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے عورت کو بہت بڑا مقام دیا ہے۔ ایک تو عورت حمل کے عرصہ میں تکالیف اُٹھاتی ہے۔ پھر وضع حمل تکلیف کا وقت ہوتا ہے۔ پھر پیدائش کے بعد بچے پالنا، اس کا یہ عرصہ مشکلات اور تکلیف برداشت کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ اس لئے بچے کا فرض بن جاتا ہے کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کرے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جنت تک پہنچنے کے لئے بچوں کو اپنی ماں کی خدمت کرنی چاہئے۔

بچے کی پیدائش کے بعد اس کی سب سے زیادہ خدمت ماں کررہی ہوتی ہے۔ اس لئے ماں کو یہ مقام دے دیا اور بچے کو حکم دے دیا کہ ماں کی خدمت کرو تاکہ جنت حاصل کرسکو۔ دوسری طرف ماں پر یہ ذمہ داری ڈال دی کہ تمہارے قدموںتلے جنت اُس وقت بن سکتی ہے جب تم صحیح طرح بچوں کی تربیت کرو گی۔ ماں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ بچوں کی نیک تربیت ہو، بچوں کو بُرے ماحول سے بچایا جائے۔ جب احمدیت قبولی کرلی ہے تو بچوں کو دین سکھائیں، ان کو صحیح عابد بنائیں اور اعلیٰ اخلاق والا بنائیں۔

ایک واقعہ ہے جس کاذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی کیا ہے۔ ایک بچہ بچپن میں چوریاں کرتا تھا۔ پھر چوری کرنا اس کی عادت بن گئی اور بڑا ہو کر ڈاکو بن گیا اور پھر اُس نے قتل کرنے شروع کردئے۔ آخر وہ پکڑا گیا اور اُسے پھانسی کی سزا ملی۔ سزا سے قبل اُس سے پوچھا گیا کہ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ میری آخری خواہش یہ ہے کہ میں اپنی ماں کی زبان چوسنا چاہتا ہوں۔ پیار کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ ماں کو بلایا گیا اور لڑکا ماں کے قریب ہوا اور اُس نے اس زور سے زبان کاٹی کہ دو ٹکڑے ہوگئی۔ اس پر لوگوں نے اُسے کہا تم ظالم انسان ہو۔ تم نے ساری عمر ظلم کئے اور اب پھانسی لگنے لگے ہو تو ماں کو دکھ دے کر جارہے ہو۔ اِس پر اِس نے کہا کہ میںنے اپنی ماں کی زبان اس لئے کاٹی ہے کہ جب میں چوریاں کیا کرتا تھا اور لوگ شکایت لے کر میری ماں کے پاس آتے تھے تو ماں میری پردہ پوشی کرتی تھی اور مجھے کہتی تھی کہ کچھ نہیں ہوا۔ اگر اُس وقت اُس نے مجھے سمجھایا ہوتا اور میری صحیح تربیت کی ہوتی تو آج میں ڈاکو نہ بنتا اور پھانسی نہ چڑھتا۔ میں نے اپنی ماں کی زبان کو اس لئے کاٹا تھا کہ یہ تربیت کرنے والی نہیں تھی بلکہ میری زندگی برباد کرنے والی تھی۔

حضورِانو نے فرمایا: احمدی مائوں کو ایسا بننا چاہئے کہ اپنے بچوں کی اچھی طرح تربیت کرکے ان کو نیک اور عابد بنائیں جو ملک کی خدمت کرنے والے ہوں۔ آپ کی نوجوان نسل نے اس ملک کی ترقی کے لئے کردار ادا کرنا ہے۔

٭ آخر پر Chiapa میکسیکو سے آنے والی ایک خاتون نے عرض کیا کہ وہ آج بیعت کرنا چاہتی ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ بیعت فارم پُر کردو اور بیعت کرلو۔ نیز حضورِانور نے امیر صاحب گوئٹے مالا سے فرمایا کہ نمازِمغرب وعشاء کے بعد بیعت کا پروگرام رکھنا ہے تو رکھ لیں۔

ملاقات کے اختتام پر حضورِانور نے فرمایا: اللہ آپ سب کا حافظ وناصر ہو۔

بیلیز کے وفد کی ملاقات

٭ بعدازاں ملک بیلیز (Belize) سے آنے والے وفد نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت پائی۔ بیلیز سے 21 افراد پر مشتمل وفد گوئٹے مالا پہنچا تھا۔

٭ ایک نو احمدی خاتون نے عرض کیا کہ جماعت ضرورتمند لوگوں کی جو خدمت اور مددکررہی ہے۔ اس نے بھی مجھے بہت متأثر کیا ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ ہم ہر جگہ ضرورتمندوں کی مدد کرتے ہیں۔ رفاہِ عامہ کے لئے ہمارے مختلف پروگرام جاری ہیں۔

٭ ایک خاتون نے عرض کیا کہ میں دو سال قبل احمدی ہوئی ہوں۔ اب میں دوسروں کو جماعت کی تبلیغ کررہی ہوں، پیغام پہنچا رہی ہوں، احمدیہ کمیونٹی بڑی اچھی کمیونٹی ہے۔ لیکن بعض لوگوں کی جماعت کے بارہ میں منفی سوچ بھی ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ میڈیا نے اسلام کو بدنام کیا ہوا ہے اور اسلام کو بُرے رنگ میں پیش کیا جارہا ہے۔ اس وجہ سے بعض لوگ منفی سوچ رکھتے ہیں۔

٭ ایک احمدی خاتون خدیجہ صاحبہ بھی وفد میں شامل تھیں۔ حضورِانور نے فرمایا کہ آپ تو جلسہ سالانہ یوکے پر آئی تھیں۔ اس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ سال 2015ء میں جلسہ یوکے پر آئی تھی۔ موصوفہ نے عرض کیا کہ میں لجنہ میں تبلیغ کی انچارج ہوں۔ خواتین بیعت کرتی ہیں۔ احمدی ہورہی ہیں۔ لیکن ان کے لئے کچھ مشکلات ہیں، ان کے کچھ مسائل ہیں۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ بیلیز میں تو احمدیت قبول کرنے والے سب مقامی ہیں۔ وہاں تو کوئی پاکستانی نہیں ہے۔ تو پھر ان کو اپنے میں شامل کرنے اور جذب کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ حضورِانور نے فرمایا ان خواتین کو اسلام کی تعلیم بتائیں۔ جو اُن کے مسائل ہیں اسلام کی تعلیم کے مطابق حل کریں۔ مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے۔ خدا تعالیٰ کے قریب ہوں، اعلیٰ اخلاق اپنائیں۔ حضورِانور نے فرمایا کہ آپ کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔ ان کی تربیت کرنی پڑے گی اور ٹریننگ کرنی پڑے گی۔ ہم دعا کریں گے آپ تبلیغ کریں اور مضبوط احمدی بنائیں۔

حضورِانور نے فرمایا: تبلیغ تو ایک مسلسل جہاد ہے۔ بڑی محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ایک رات میں دل نہیں بدل سکتے، کسی کا ذہن نہیں بدلا جاسکتا۔ ایک لمبی کوشش ہے۔ خدا تعالیٰ ہر احمدی کی مدد فرمائے، نصرت فرمائے۔

٭ حضورِانور نے فرمایا کہ بیلیز سے خواتین زیادہ آئی ہیں، مرد نہیں آئے۔ اپنے خاوندوں اور لڑکوں نوجوانوں کو بھی لانا تھا۔ ان کے ایمان بھی مضبوط کریں۔

٭ ایک خاتون نے عرض کیا کہ وہ گزشتہ چار سال سے احمدی ہیں۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا آئندہ سال جلسہ سالانہ یوکے پر آنے کا پروگرام بنائیں۔ موصوفہ نے عرض کیا کہ ہماری درخواست ہے کہ جب ہماری بیلیز کی مسجد تعمیر ہو جائے تو حضوراس کے افتتاح کے لئے آئیں۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا۔ انشاء اللہ تعالیٰ جب تعمیر ہوجائے گی تو مَیں آنے کی کوشش کروں گا۔

٭ بعدازاں بیلیز کی چار مقامی بچیوں نے کورَس کی صورت میں نظم ’’ہے دست قبلہ نما لاالٰہ الا اللہ‘‘ ترنم کے ساتھ پڑھی۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت MTA والوں کو بلایا کہ آکر اس کی ریکارڈنگ کریں۔

فرمایا: آپ نے جس طریق سے پڑھا ہے مجھے پسند آیا ہے۔ خدا برکت دے۔ نیز فرمایا اب آپ اس نظم کا مطلب بھی سیکھیں اور اپنے مشنری کو کہیں کہ وہ آپ کو اس کا مطلب سکھائے۔

٭ کینیڈا میں ریجائنا جماعت میں جن احباب نے وہاں کی مسجد تعمیر کی تھی وہ بیلیز کی مسجد کے لئے نقشہ تیارکرکے ساتھ لائے تھے۔ انہوں نے حضورِانور کی خدمت میں وہ نقشہ پیش کیا۔ اُس پر حضورِانور نے فرمایا: آپ یہ نقشہ لندن بھجوا دیں۔ وہاں دیکھ کر بتائیں گے کہ کیا کرنا ہے۔

٭ آخر پر وفد کے تمام ممبران نے باری باری حضورِانور کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔

٭ بیلیز کے وفد کا حضورِانور کے ساتھ ملاقات کا یہ پروگرام ساڑھے سات بجے تک جاری رہا۔

مختلف ممالک کے وفود کی ملاقات

بعد ازاں پروگرام کے مطابق درج ذیل ممالک سے آنے والے وفود کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ملاقات تھی۔

میکسیکو (Mexico)، ہنڈورس (Honduras)، ایکواڈور (Ecuador)، پانامہ (Panama)، پیراگوئے (Paraguay)، کوسٹا ریکا (Costa Rica)، ایل سلواڈور (El Salvador)۔

٭ ملک میکسیکو سے 34 افراد پر مشتمل وفد آیا تھا۔ وفد کے ممبران کی اکثریت نو مبائعین کی تھی۔ ان میں چند ایسے احباب بھی تھے جو زیرتبلیغ ہیں۔ یہ وفد میکسیکو کی تین جماعتوں Mexico City، Queretaroاور مریڈا (Merida) سے آیا تھا۔ وفد کی اکثریت بذریعہ سڑک 30 گھنٹوں کا سفر طے کرکے پہنچی تھی۔

٭ ہنڈورس سے 10 افراد پر مشتمل اور ایکواڈور سے آٹھ افراد پر مشتمل وفد گوئٹے مالا پہنچا تھا۔ جبکہ پانامہ اور کوسٹاریکا سے تین تین افراد پر مشتمل وفد اور ایل سلواڈور اور پیراگوئے سے چار چار افراد پر مشتمل وفد آیا تھا۔ اور یہ سب لوگ آج کی اس ملاقات میں شامل تھے۔

٭ ایک بچی نے عرض کیا کہ فیملی لائف بڑی اہم ہوتی ہے۔ بعض خواتین گھر میں وقت نہیں دے سکتیں۔ میں شادی شدہ ہوں، پڑھ بھی رہی ہوں اور جاب (Job) بھی کرنا چاہتی ہوں۔ میرے ابھی بچے نہیں ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: ابھی تو بیوی کی ذمہ داری ہے، ماں کی نہیں پڑی۔ اگر پڑھنا ہے تو خاوند سے پوچھنا چاہئے۔ اس کی مرضی اور رضامندی بھی شامل ہو تاکہ گھر کے حالات اچھے رہیں۔

اس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ میرے خاوند تو چاہیں گے کہ میں گھر پر رہوں لیکن میں اپنے خاوند کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔

حضورِانور نے فرمایا: جہاں تک عورت کی تعلیم کا سوال ہے، عورت کو ضرور تعلیم حاصل کرنی چاہئے تا کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرسکے۔

حضورِانور نے فرمایا: اسلام میں گھریلو سطح پر عورت کی ذمہ داری ہے، عورت کو خدا نے کہا ہے کہ گھر پر رہو اور گھر کے کام کرو، بچوں کو سنبھالو اور ان کی تربیت کرو۔ دوسری طرف مرد کو کہا ہے کہ تمام گھریلو اخراجات کی ذمہ داری ادا کرو اور بیوی بچوں کی جو ضروریات ہیں وہ پوری کرو۔

حضورِانور نے فرمایا: اگر میڈیکل پروفیشن ہے تو اس میں انسانیت کی خدمت ہے۔ اگر کچھ عرصہ جاب کرنا پڑے اور خاوند بھی خوش ہو کہ انسانیت کی خدمت کرو تو پھر جاب کرلو۔ یہ مدنظر رہے کہ پیسے نہیں کمانے بلکہ انسانیت کی خدمت کرنی ہے۔

حضورِانور نے فرمایا: اسلام قناعت چاہتا ہے کہ جو میسر ہے اُس پر گزارہ کرو۔ انسان کی خواہشات بڑھتی رہتی ہیں۔ کم نہیں ہوتیں اور کچھ ختم نہیں ہوتیں۔ ان بڑھتی ہوئی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ملازمت کرنا یہ غلط ہے۔ ہاں ضروریات کے لئے ملازمت کرنا ٹھیک ہے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ اصل یہ ہے کہ آئندہ کے لئے ایک ایسی اچھی نسل چھوڑیں جو ملک وقوم کی خدمت کرنے والی ہو۔ اگر احمدی مائیں اپنی اس ذمہ داری کو سمجھ لیں کہ نسلوں کی تربیت ہو اور وہ تعلیم یافتہ ہوں تو آئندہ پچاس سال میں یا بعد میں وقت آئے گا کہ ایسے ممالک جو گوئٹے مالا کی طرح ہیں، ان میں احمدیت کی وجہ سے ترقی ہوگی۔ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے کہ صرف اپنی نسلوں میں ہی نہیں بلکہ آئندہ نسلوں میں بھی ٹرانسفر کرنے کے لئے ضروری ہے۔

٭ پیراگوئے سے آنے والے وفد کے ایک ممبر نے عرض کیا کہ ہمارا پیراگوئے میں پہلا جلسہ سالانہ ہونے والا ہے۔ حضور ہمارے جلسہ کے لئے دعا کریں۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔

ملک ایکواڈور سے آنے والے ایک نومبائع نے سوال کیا کہ ہم اپنے بچے کے لئے کس طرح اچھے والدین بن سکتے ہیں۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا: میرے خطبات جمعہ سنا کریں، میں اکثر والدین کو ان کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں، جو نئے اور پرانے احمدی ہوں۔ سب کے لئے ضروری ہے کہ خلافت سے جڑے رہیں اور مضبوط تعلق کی کوشش کریں۔ تربیت کے لئے سب سے بہترین چیز نمونہ ہے۔ جب تک گھر میں، اپنے اخلاق میں، اپنے اعمال میں، اپنی عادات میں نمونہ قائم نہیں کریں گے، اُس وقت تک بچوں کی صحیح تربیت نہیں ہوسکے گی۔ بچہ بڑا ہوتا ہے اور دیکھتاہے کہ میری ماں کے ساتھ میرے باپ کا سلوک اچھا نہیں ہے تو بچے کی تربیت پر اس کا بُرا اثر پڑے گا۔ باپ کہتا ہے کہ سچ بولو، لیکن اگر وہ خود سچ نہیں بولتا تو بچہ کہے گا کہ میری غلط تربیت کررہا ہے۔ خود تو کچھ اور کرتا ہے اور کہتا ہے اور مجھے کچھ اور کرنے کو کہتا ہے۔ بچوں کی تربیت کے لئے ضروری ہے کہ ماں باپ کا عمل صحیح ہو۔ ان کی اچھی عادات ہوں۔ اچھے اخلاق ہوں۔

٭ ملک پانامہ (Panama) سے آنے والے ایک نومبائع نے عرض کیا کہ میں حضورِانور کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں بہت بیمار تھا۔ Prostate کی تکلیف تھی۔ حضورِانور کی خدمت میں دعائوں کی درخواست کرتا رہا۔ اب میرا آپریشن ہوگیا ہے، اب میں صحت مند ہوں۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا: الحمدللہ۔ اللہ تعالیٰ نے شفا دی ہے۔

٭ ملک ہنڈورس (Honduras)سے آنے والے ایک نومبائع نے عرض کیا کہ مجھے بیعت کئے ہوئے ایک سال ہوگیا ہے۔ گھروالوں کی طرف سے بھی اور میرے ساتھیوں کی طرف سے بھی میری مخالفت ہے۔ میں انٹرنیشنل لاء پڑھ رہا ہوں۔ میری ابھی شادی نہیں ہوئی۔ میں اردو اور انگریزی زبان سیکھنا چاہتا ہوں۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔

٭ ملک Paraguay سے وہاں کے ڈپٹی منسٹر آف ایجوکیشن Robert Cano صاحب تشریف لائے تھے۔ موصوف ڈپٹی منسٹر آف ریلیجئن بھی ہیں۔ موصوف نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں عرض کیا کہ اُن کے گوئٹے مالا آنے کا مقصد Ministry of Education کی طرف سے حضورِانور کی خدمت میں ایک خط پیش کرنا ہے کہ ہماری وزارت تعلیم مستقبل میں جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔ چنانچہ موصوف نے خود یہ خط حضورِانور کی خدمت میں پیش کیا۔

٭ ایک نومبائع نے سوال کیا کہ آجکل مادہ پرستی بہت زیادہ ہے۔ ایک ایمان لانے والا شخص کس طرح اس ماحول میں اپنے آپ کو بہتر کرسکتاہے۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا: خدا کی طرف جھکو، عبادتوں کی طرف توجہ دو، اسلامی تعلیمات پر چلنے کی کوشش کرو، اخلاق کے اعلیٰ معیار حاصل کرو تو تبھی خدا تعالیٰ کی رضا پاسکتے ہو۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں اس لئے آیاہوں کہ بندے کو خدا کے نزدیک کروں اور جو دوری پیدا ہو چکی ہے اس کو ختم کروں۔

حضورِانور نے فرمایا: آپ پانچوں نمازیں اس طرح ادا کریں کہ اگر نماز میں خدا کو نہیں دیکھ رہے تو یہ بات آپ کے سامنے ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے تو اس سے عاجزی پیدا ہوگی۔

حضورِانور نے فرمایا: ہر دن اس بات کا جائزہ لیتے ہوئے گزرنا چاہئے کہ میں نے کیا ترقی کی ہے۔ کون سی برائیاں چھوڑی ہیں اور کون سی نیکیاں اختیار کی ہیں۔ دین کی ترجیحات ہونی چاہئیں، آپ کے لئے بہتر ہے۔

٭ ملک میکسیکو سے آنے والے ایک نوجوان خادم نے عرض کیا کہ وہ قائد مجلس خدام الاحمدیہ ہے۔ تبلیغ کے ہمارے چند پروگرام ہورہے ہیں، ان کے لئے دعا کی درخواست ہے۔ ہم نے واپسی کابھی 28سے 30 گھنٹے کا سفر طے کرنا ہے۔ اس کے لئے بھی دعا کی درخواست ہے۔ قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے کے لئے بھی دعا کی درخواست ہے۔

اِس پر حضورِانور نے فرمایا: خدا تعالیٰ آپ کی تمام خواہشات قبول فرمائے اور نیکیوں میں آگے بڑھائے۔
٭ قائد خدام الاحمدیہ نے حضورِانور کی خدمت میں میکسیکو کا جھنڈا پیش کیا۔ حضورِانور نے اس جھنڈے کومیز پر موجود ایک گفٹ بیگ کے کونے میں کھڑا کرکے رکھا اور ساتھ فرمایا کہ جھنڈا دیا ہے تو اس کو کھڑا رکھنا چاہئے۔

٭ میکسیکو سے آنے والے ایک نومبائع کے سوال کے جواب میں حضورِانور نے فرمایا:

آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ آخری دنوں میں مسیح ومہدی مبعوث ہوگا۔ تم اس تک پہنچنا اور اُسے ملنا اور میرا سلام اُسے پہنچانا۔ چنانچہ جب حضرت مسیح موعودؑ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق مبعوث ہوئے اور مسیح ومہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو لوگوں نے آپؑ کو قبول نہ کیا اور آپؑ کے خلاف فتوے جاری کئے۔ آغاز میں چند لوگوں نے آپ کو قبول کیا۔ پھر آہستہ آہستہ تعداد بڑھتی رہی۔ آج یہ تعداد کروڑوں میں داخل ہوچکی ہے۔ آہستہ آہستہ ہم بڑھ رہے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: ہمیں اُمید ہے کہ ایک دن مسلمانوں کی بڑی اکثریت احمدیت قبول کرے گی۔ کب ایسا ہوگا یہ بتا نہیں سکتے لیکن ضرور ایسا ہوگا۔

حضورِانور نے فرمایا: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میں موسوی مسیح کے قدموں پر آیا ہوں۔ موسوی مسیح کا پیغام تین صدیوں میں پھیلا تھا۔ آپؑ نے فرمایا کہ تین سو سال نہیں گزریں گے کہ دنیا کی اکثریت احمدیت قبول کرلے گی۔ ابھی تو 130 سال گزرے ہیں۔ آپ اُمید رکھیں۔ انشاء اللہ دنیا قبول کرے گی۔

اس وقت ملّاں کی طرف سے، جماعت کے مخالفین کی طرف سے ہر جگہ جماعت کی مخالفت ہے لیکن ہم اپنا کام کررہے ہیں۔ انشاء اللہ ایک دن آپ اس کا نتیجہ دیکھیں گے۔

٭ آخر پر میکسیکو کی لجنہ اور بچیوں نے سپینش زبان میں خوش الحانی سے ایک نظم پیش کی۔ بعدازاں سبھی احباب نے حضورِانور سے شرف مصافحہ حاصل کیا۔ اس کے بعد سوا آٹھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لے آئے جہاں فیملی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ مبلغین کرام اور بعض مقامی احباب نے مع فیملیز حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرف ملاقات پایا۔ ان سبھی نے حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

تقریب بیعت

٭ بعدازاں آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد میں تشریف لے آئے اور نمازِمغرب وعشاء جمع کرے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد بیعت کی تقریب ہوئی۔ اس موقع پر مختلف ممالک سے آنے والے تمام نومبائعین اور پرانے احمدیوں نے حضورِانور کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آخر پر حضورِانور نے دعا کروائی۔

٭ اس کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد بیت الاول گوئٹے مالا سے روانہ ہو کر دس بجے اپنی رہائشگاہ Porta Hotel تشریف لے آئے۔

٭ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے درج ذیل اقوام کے نومبائعین نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرف ملاقات پایا۔

Costarican, Paraguayan, Mexican, Honduran, Panamese, Ecudorian, El Salvadorian, Guatemalan, Belizean۔

یہ سب وہ اقوام ہیں جن کے خوش نصیب اور سعادت مند لوگ گزشتہ چند سالوں میں احمدیت میں داخل ہوئے۔ سنٹرل امریکہ اور سائوتھ امریکہ کے ممالک کی یہ وہ نئی اقوام ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے چشمہ سے سیراب ہوئی ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا۔

’’ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا۔ یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔‘‘

(تجلیاتِ الٰہیہ۔ روحانی خزائن جلد20 صفحہ409)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مصداق ان نئی اقوام کے یہ نومبائعین آج اپنی زندگیوں میں پہلی مرتبہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات اور دیدار کی سعادت پارہے تھے اور آج یہ لوگ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے چشمہ سے سیراب ہورہے تھے۔ آج کا دن ان لوگوں کی زندگی میں تاریخی دن تھا۔ ان کے احساسات اور جذبات ناقابل بیان ہیں۔ بعضوں نے اپنے دل کی کیفیات کا اظہار کیا ہے۔

نومبائعین کے تأثرات

٭ میکسیکو کے ایک نو مبائع اِوان فرانسیسکو صاحب (Ivan Francisco) بیان کرتے ہیں: میں نے ایک ایمان سے بھری ہوئی شخصیت کو دیکھا ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے لئے ہادی کے طور پر اور میرے ایمان کو بڑھانے کیلئے بھیجے گئے ہیں۔ جب ہم نے خلیفۃ المسیح کے ہاتھ پر بیعت کی تو وہ ایک ایسا لمحہ تھا جو کہ لفظوں میں نہیں بیان کیا جا سکتا۔ اُس لمحے مجھے جسمانی طور پر ایسا محسوس ہوا جیسے میرا سارا جسم گرم ہوگیا اور میرے پسینے چھوٹنے لگے اور ایسا لگا جیسے ایک کرنٹ میرے جسم میں سے دوڑ رہا ہے اور جاتے جاتے اپنے ساتھ میرے تمام گناہ بھی لے گیا۔ خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں خلیفۃ المسیح عطا کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ میرے لئے اچھائی کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم ہے اور میرے اندر ایک تبدیلی لائے گا۔

٭ میکسیکو سے اِرلاندا میریا صاحبہ (Irlanda Mireya) اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ میں پیارے حضور سے ملوں۔ میں اپنے آنسوؤں کو روک نہیں سکی۔ جب میں نے حضور کو دیکھا تو مجھے بہت سکون محسوس ہوا اور میں یقین نہیں کر سکتی تھی کہ حضور انور میرے سامنے موجود ہیں۔

٭ میکسیکو سے آنے والی ایک نومبائع خاتون لائورا ماٹیلدے صاحبہ (Laura Matilde ) بیان کرتی ہیں: میرے اس گوئٹے مالا کے سفر کے بعد ایک بات میرے دل میں پختہ ہو گئی ہے کہ جہاں خدا تعالیٰ مجھے چاہتا ہے میں وہیں پر ہوں۔ میرے دل میں اس بارہ میں کوئی شک نہیں کہ میں روحانی اور جذباتی طور پر بہت اطمینان اور امن محسوس کررہی ہوں۔ دوسرے ممالک کے احمدی بہن بھائیو ں سے مل کر بھی ایمان تازہ ہوا اور اس سے بھی بڑھ کر پیارے حضور کے پیچھے نمازیں ادا کر کے میرا ایمان اللہ تعالیٰ اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں اور بھی پختہ ہوا ہے۔ میں بہت امن محسوس کر رہی ہوں اور میری خواہش ہے کہ میں اس راستہ پر قائم رہوں۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔

٭ ویسینتے بریونیس صاحب (Vicente Briones) لکھتے ہیں: میرا تعلق میکسیکو سٹی جماعت سے ہے۔ جب مجھے بتایا گیا کہ مجھے گوئٹےمالا جانے کا موقع مل رہا ہے تو میں بہت خوش ہوا مگر یہ سن کر کہ وہاں پر پیارے خلیفہ سے ملاقات ہوگی میری خوشی اور بھی بڑھ گئی۔ جب ہماری حضور سے ملاقات ہوئی تو میں بہت خوش ہوا کیونکہ مجھے اُن کے پاس کافی دیر بیٹھنے کا موقع ملا۔ میں نے تھوڑا عرصہ پہلے میکسیکو سٹی میں بیعت کی تھی مگرحضور کے ہاتھ پر بیعت کرنا میری زندگی کا ایک ایسا واقعہ تھا جس کو میں الفاظ میں بیان ہی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اپنے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہا کہ یہ میری زندگی کا سب سے حسین دن تھا۔

٭ میکسیکو سے آنے والے ایک نو مبائع میگل آنخیل صاحب (Miguel Angel) بیان کرتےہیں: میں تہِ دل سے حضور کا شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں اس بات کی اجازت دی کہ ہم اُن کے ساتھ چند لمحات گزار سکیں۔ نیز گوئٹے مالا کی جماعت میں بہت سارے نئےدوست بنائے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اسلام احمدیت میں کوئی border نہیں ہے نیز کسی قسم کی تفریق نہیں ہے جو ہمیں علیحدہ کر سکے۔ کسی ملک کا بارڈر ہمیں علیحدہ نہیں کر سکتا۔ ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ اگر فرق ہوتا ہے تو زبان کا، ورنہ ہم سب بھائی ہیں۔ پیارے حضور کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئےبھی بیشک ہم 10 سے 15 مختلف ممالک سے آئےہوئے لوگ تھے مگر ہم ایک تھے اور ایک خلیفہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔

٭ میکسیکو کی ایک نومبائع کلارا خوانا گونزالیس رامیریس صاحبہ (Clara Juana Gonzalez Ramirez )بیان کرتی ہیں: میکسیکو کے وفد کے ساتھ حضور انور کی ملاقات اور بیعت کی تقریب میں حصہ لینے کے متعلق عرض کرنا چاہتی ہوں کہ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں ہیں جو میرے جذبات کا اظہار کر سکیں۔ میں بہت خوش ہوں اور بہت مطمئن ہوں۔ اور سمجھتی ہوں کہ بیعت کی تقریب اور حضور انور کے ساتھ ملاقات کے ذریعہ میرا ایمان مزید مضبوط ہوا ہے کیونکہ میری زندگی میں میرے ارد گرد ایسے لوگ ہیں جو اسلام کے مذہب کو نہیں سمجھتے اور میرے سے دور رہنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں جماعت کے ساتھ رہوں یا اُن کےساتھ رہوں تو میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں جماعت کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ میں امید کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اسلام کی تعلیمات سیکھتی رہوں اور جماعت کی خدمت بھی کرتی رہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو بڑھاتا جائے۔ آمین۔

٭ ملک ہنڈورس سے آنے والی ایک نو مبائع روزا ڈلمی ریواس صاحبہ (Ms. Rosa Delmi Rivas Abaloy) اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: یہ پہلی دفعہ تھا کہ مجھے اپنے ملک سے باہر جانے کا موقع ملا اور اتنا لمباسفر اختیار کرنا پڑا۔ ہمیں ہنڈورس سے گوئٹے مالا جاتے ہوئے 16گھنٹے لگے۔ گو ہمیں سفر میں مختلف صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن جیسے ہی جماعت کی مسجد اور حضرت خلیفۃ المسیح کو دیکھا تو سفر کی مشکلات کا احساس فوراً ذہن سے اُتر گیا۔ جماعت کے بہت ہی پیارے اور اچھے لوگوں کیساتھ ملنے کا موقع ملا جنہوں نے میرے ساتھ اپنی فیملی کے ممبر کی مانند سلوک کیا۔ امریکہ سے آئی ہوئی ایک احمدی خاتون نے مجھ سے کہا کہ میں ان کی بیٹی جیسی ہوں۔ اس سفر کا سب سے بہترین حصہ خلیفہ وقت کیساتھ ملاقات تھی۔ میں حضرت خلیفۃ المسیح سے ذاتی طور پر کوئی بات نہیں کر پائی تھی کیونکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں ایک الگ ہی دنیا میں ہوں۔ اور میں چاہتی تھی کہ بس بیٹھ کر خلیفہ وقت کو دیکھتی رہوں اور ان کی باتیں سنتی رہوں۔ ایک ایسا تجربہ تھا جو نا قابل بیان ہے۔ اس سفر کے دوران جماعت کی تعلیمات کے ضمن میں میرے علم میں مزید اضافہ ہوا۔ جب خلیفہ وقت مسجد میں تشریف لائے تو حضور انور کے سامنے ایک نظم پڑھنے کا بھی موقع ملا۔ اسی طرح اجتماعی ملاقات کے دوران بھی نظم پڑھنے کا موقع ملا۔

٭ ہنڈورس سے آنے والے منولو حوضے اسکوتو صاحب ( Mr. Manolo Jose Escoto Quiñonez) جو کہ ایک ٹی وی رپورٹرہیں اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ دورہ میرے لئےایک نہایت ہی خوش کن تجربہ تھا۔ مجھے جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد اور خدمت خلق کی کاوشوں کے بارہ میں مزید معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس دفعہ ناصر ہسپتا ل کا افتتاح کیا گیا جس کے ذریعہ ہزاروں غرباء کی مدد کی جائے گی۔ خلیفہ وقت کے خیالات سے آگاہی حاصل کرنا ایک عجیب اور منفرد تجربہ ہوتا ہے۔ خلیفہ وقت کے پیغام کا مرکزی نقطہ ہمیشہ امن اور عالمی بھائی چارہ ہوتا ہے۔ خلیفہ وقت لوگوں کے ذہنی معیار اور سوچ کے مطابق بات کرتے ہیں۔ اور مسلمانوں سے متعلق معاشرہ میں قائم شدہ بُرے اثرات کو دور کرتے ہیں۔

٭ ایڈون ارماندو مونتویا صاحب (Mr. Edwin Armando Montoya Bentura) جو کہ ہنڈورس جماعت کے ممبر خدام الاحمدیہ ہیں۔ اپنےخیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: میرے نزدیک خلیفہ وقت کے سامنے بیٹھنا، آپ کے پیغام کو سننا اور اس پر عمل کرنا تاکہ اپنے ایمان میں ترقی کر سکیں، ایک نہایت ہی دل ربا تجربہ تھا۔ اس دورہ کی سب سے اچھی بات یہ لگی کہ خلیفہ وقت کیساتھ ملاقات کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضور انو ر نے از راہ شفقت مجھے ایک قلم بھی عطا فرمایا۔ مجھے امید ہے کہ خلیفہ وقت جلد ہمارے ملک ہنڈورس بھی تشریف لائیں گے۔ خلیفہ وقت نہایت پُر حکمت انداز میں کلام کرتے ہیں۔ جب آپ کسی سوال کا جواب دیتے ہیں تو بہت اچھا پُرحکمت اور جامع جواب دیتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ خلیفہ وقت کی تائید و نصرت فرمائے ۔

٭ سحر چوہدری صاحبہ جو کہ ہنڈورس میں متعین جماعت کے مبلغ کی اہلیہ ہیں وفد کے سفر کے حوالہ سے لکھتی ہیں: حضور انور کو دیکھنے کے لئے ہمارے وفد کا گوئٹے مالا کاسفر ایسا تھا جو میں کبھی نہیں بھول سکتی۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا جس کا حصہ بننے کی ہمیں توفیق ملی۔ الحمد للہ۔ ہنڈورس کے وفد میں میرے اور میرے خاوند کے علاوہ دو ممبران جماعت اور ایک رپورٹر بھی شامل تھے۔ گوئٹے مالا کے سفر کے دوران راستہ میں کچھ مشکلات بھی پیش آئیں۔ راستہ کے لئے ہم جس GPS کا سہارا لے رہے تھے وہ ہمیں ایک ایسے راستہ سے لے کر گیا جو پہاڑی تھا اور سڑک کچی اور نہایت خطر ناک تھی جس پر گاڑی کو پہاڑ سے گرنے سے بچانے کے لئے کسی قسم کا حفاظتی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے ہماری حفاظت فرماتے ہوئے ہمیں اس خطرناک مرحلے سے بچایا۔

اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز یہ بات تھی کہ جو 2نومبائعین ہمارے ساتھ تھے بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ فکر نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے، ہم اللہ کی راہ میں جا رہے ہیں۔ ہم حضور انور کی آمد سے ایک روز قبل گوئٹے مالا پہنچے اور حضور کی آمد کے انتظار میں یہ دن ہماری زندگی کا سب سے لمبا دن معلوم ہورہا تھا۔ دو دن جب حضور گوئٹے مالا میں موجود تھے نہایت ہی بابرکت دن تھے۔ ہم سب نہایت خوش نصیب ہیں کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز سے ملاقات ہوئی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اقتدا میں نمازیں پڑھنے کا موقع ملا۔ بیعت کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔ ناصر ہسپتال کی افتتاحی تقریب اور اس تاریخی موقع میں شرکت کی توفیق ملی۔ حضور انور کا خطاب نہایت متأثر کن تھا جس کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ حقیقی طور پر انسانیت اور بھائی چارہ کا کیا مطلب ہے اور حقیقی محبت اور ہمدردی کیا ہے۔

٭ ملک ایکواڈور کے ایک نومبائع احمدی اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: خلیفہ وقت کی موجودگی میں مجھے ایک نادر خزانہ عطا ہوا اور روحانیت، امن، خوشی اور مسرت کے جذبات میرے اندر سما گئے ہیں اور مجھے بہت سکون حاصل ہوا۔ بیعت کے دوران جب آپ نے اپنا دست مبارک میرے ہاتھ پر رکھا تو یہ ایک ایسی سعادت تھی جو مجھے اس سے پہلے کبھی نصیب نہ ہو ئی تھی۔

٭ ایکواڈور سے ایک ممبر لجنہ اماءاللہ جو تقریباً ایک سال قبل احمدی ہوئیں تھیں ان کو پہلی بار حضور انور سے ملاقات کا موقع ملا، وہ کہتی ہیں: گوئٹے مالا کا سفر میرے اور میرے بیٹے کے لئے نہایت خوشگوار تھا۔ جب ہم نے پہلی بار حضور انور کو دیکھا تو یہ ہمارے لئے ایک خاص موقع تھا کیونکہ اس سے ہمیں امن، محبت اور صبر نصیب ہوا اور ہمیں خلیفۃ المسیح کی ذات میں ایک الٰہی نور نظر آیا۔ پھر ملاقات کے دوران جب میرے بیٹے نے حضرت خلیفۃالمسیح سے معانقہ کیا تو ہمیں بہت خوشی ہوئی اور ہم اسے اپنے لئے ایک خوش نصیبی اور برکت کا باعث سمجھتے ہیں۔ ایکواڈور واپسی کا سفر ہمارے لئے بہت افسردہ ہوگا کیونکہ ہمیں اپنے احمدی بہن بھائی اور ہمارے محبوب خلیفہ بہت یاد آئیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جلد ہم دوبارہ اپنے خلیفہ کو دیکھنے کا شرف حاصل کریں گے۔

٭ ایکواڈور سے آنے والے ایک صحافی بیان کرتے ہیں: خلیفۃ المسیح سے ملاقات میرے لئے ایک منفرد تجربہ تھا اور میں ایسے جذبات سے پر تھا جنہیں بیان کرنا مشکل ہے۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن سے میں اپنے احساسات کو بیان کر سکوں۔ میں بہت امیدوں کے ساتھ خدا کے بندے ’’خلیفۃ المسیح ‘‘کو ملنے گیا تھا۔ صرف ان کے دیدار سے ہی میں پرسکون ہو گیا اور ایک امن کی حالت مجھ پر طاری ہو گئی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ وقت اور جگہ اس قدر اہم ہیں کہ آئندہ کبھی مجھے نصیب نہیں ہونگے۔ خلیفہ کا پیغام ہمیشہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ لوگ انسانیت کی خدمت کیلئے کیا کر رہے ہیں۔ خلیفہ کا پیغام ہمیشہ کمزوروں کی مدد، ان کی تعلیم و بہبود اور معاشرہ میں عدل کا درس دیتا ہے۔

خلیفہ کے خطابات ہمیشہ پرحکمت ہوتے ہیں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ دل کی گہرائیوں سے اپنا پیغام دیتے ہیں۔ آپ ہمیشہ دنیا کی بھلائی، باہمی اتحاد، عدل اور حقوقِ انسانی کا درس دیتے ہیں۔ خلیفہ کے الفاظ مقناطیس جیسے ہیں۔ باوجود زبان نہ سمجھنے کے میں بڑے غور سے ان کا ہر ایک لفظ سنتا ہوں۔

٭ گوئٹے مالا سے ایک نو مبائع سلیمان رودریگز (Soliman Rodrigez)صاحب بیان کرتے ہیں: خلیفۃ المسیح کا گوئٹے مالا آنا ہمارے لیے بڑی خوش قسمتی کا باعث ہے۔ ہماری جماعت پر اللہ کا بڑا فضل ہے کہ خلیفہ وقت ہماری جماعت میں تشریف لائے۔ جب ہمیں یہ پتہ چلا کہ حضور گوئٹے مالا تشریف لارہے ہیں تو ہمارے اندر خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی ۔ میرے اندر ایک روحانی مضبوطی پیدا ہونے لگ گئی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اب میں نے اپنے اند ر بہت تبدیلی محسوس کی۔میری حضور سے درخواست ہے کہ آپ ہماری جماعت کو اپنی خاص دعاؤں میں یاد رکھیں ۔

٭ گوئٹے مالا سے ایک نو مبائع لیزا پنتو (Liza Pinto) صاحبہ اپنے تأثرات اس طرح بیان کرتی ہیں: میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ خلیفۃ المسیح گوئٹے مالا تشریف لائے۔ میرے لئے بہت فخر اور عزت کی بات ہے اور میرے لئے ایک عظیم تجربہ ہے اور میرا دل خوشی سے بھر گیا۔ اور خلیفہ وقت کے با برکت وجود کو دیکھ کر خوشی سے میرے آنسو نکل آئے اور میرے ایمان کو تازگی اور تقویت ملی۔

٭ گوئٹے مالا سے دومینگو تیول صاحب (Doming Tiul) بیان کرتے ہیں: میرا تعلق cabun جماعت سے ہے۔ حضور انور کی آمد پر میں نے اپنے آپ کو ایمانی و روحانی لحاظ سے بہت پر جوش پایا۔ حضور انور کی آمد پر میں بہت خوش ہوں۔ مجھے خلیفہ وقت کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع بھی ملا میں اُس شخص سے ملا جو خدا تعالیٰ کے بہت قریب ہے۔

گوئٹے مالا سے مارتیزا تیول صاحبہ (Martiza Tiul) اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں: حضور انور کے اتنے قریب رہنے کا پہلے کبھی موقع نہیں ملا۔ پہلے صرف تصویروں میں دیکھا تھا پہلی بار امام وقت کو اپنے سامنے دیکھنے کا موقع ملا ہے اس پر میں خدا تعالیٰ کی شکر گزار ہوں۔ حضور انور سے بات کرنے کا موقع میری زندگی کا بہترین موقع تھا۔

٭ گوئٹے مالا سے میگیل صاحب (Miguel Panzos) اپنے تأثرات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ہماری زندگی کا بہترین موقع تھا کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں پہلی مرتبہ خلیفہ وقت کو دیکھا۔ ہسپتال کا قیام ہمارے لئے ایک نعمت سے کم نہیں پہلے کسی بھی مذہب نے انسانیت کے بارے میں ایسا نہیں سوچا تھا۔ میں بہت خوش ہوں کہ خلیفہ وقت کو اپنے درمیان پایا اور اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہم نے اپنے درمیان مختلف ممالک کے احمدی بھائیوں کو پایا۔ خدا تعالیٰ کا شکرہے کہ خلیفہ وقت کی وجہ سے ہمارے اند ر ایک روحانی تبدیلی پیدا ہوئی۔

٭ عالیہ توراعیدہ صاحبہ (Aliya Turaida) نے بیان کیا: خلیفہ وقت کو اپنے سامنے دیکھ کر میں نے اپنے اندر ایک خوشی، ایک فخر محسوس کیا۔ آج مجھے اپنے آپ پر فخر ہے کہ میں احمدی ہوں اور اس وجہ سے اسلام کی بہترین تعلیم لوگوں تک پہنچانے کی کو شش کروں گی۔

٭ کلاؤڈیا صاحبہ (Claudia) نے اپنے تأثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ: میں بہت خوش ہوں اور اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ خلیفۃ المسیح کو اپنے اس ملک میں دیکھا۔ میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتی ہوں کہ یہ ملاقات میرے اور میرے گھر والوں کے لئے برکتوں والی ثابت ہو۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنے احساسات کو بیان کرسکوں۔ جب میں اجتماعی ملاقات میں حضور کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی اُس وقت میرے ذہن میں آرہا تھا کہ میں حضور سے بہت باتیں کروں گی لیکن میرے جذبات ان سب پر حاوی ہوگئے اور میں کچھ نہ کہہ سکی۔ میری درخواست ہے کہ حضور میرے اور میری فیملی کے لئے دُعا کریں اور میری شادی کو 10 سال ہو چکے ہیں اور میری اولاد نہیں اللہ تعالیٰ مجھے اولاد کی نعمت سے نوازے۔

٭ جماعت چیاپس (Chiapas) میکسیکو سے خدیجہ گومز صاحبہ اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ خلیفۃ المسیح سے ملنے کا موقع ملا اور ہمارے سوالات کے جوابات ملے۔ میری محبت اسلام کی طرف بڑھی ہے۔ بیعت کرنے سے میرا ایمان نئے سرے سے زندہ ہوا ہے۔ میں پیارے حضور سے دعا کی درخواست کرتی ہوں کہ میری اور پوری جماعت چیاپس کے ایمان اور عرفان میں اضافہ ہو۔

ثریہ گومز صاحبہ نے بیان کیا کہ: میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے خلیفۃ المسیح کو اس موقع پر دیکھنے کا موقع ملا۔ قبل ازیں میں حضورکی تقاریر سنتی تھی لیکن حضور کو دیکھنا یہ ایک ایسا تجربہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اس کو کیسے بیان کروں۔ یہ میرے ایسے جذبات ہیں جو میرے دل کی گہرائیوں سے نکل رہے ہیں۔ میں اجتماعی ملاقات میں موجود تھی۔ حضور سے ملاقات نے مجھے ایک بہت بڑا سبق دیا ہے جو میں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گی۔

٭ یاسمین گومز صاحبہ اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ: ملاقات میں موجود ہونا ایک بہت ہی خوبصورت یاد ہے کیونکہ میرے لئے حضور انور کو قریب سے دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ اور میرے جذبات ایسے تھے کہ مجھے خوشی سے رونا آرہا تھا۔ حضور نے جو بھی بیان کیا اس سے مجھے اپنی زندگی میں بہتری لانے کا موقع ملے گا۔

٭ میکسیکو کے ایک نومبائع Jesus Vallejo Segura (خیسوس وایےخو سیگورا) صاحب نے کہا : جماعت احمدیہ کا تعارف اور جماعت سے تعلق بنانا ایک بہت بڑا انعام ہے۔ میری یہ خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعائیں سنیں۔ میں اندھیرے میں تھا اللہ تعالیٰ خود مجھے اور میری فیملی کوروشنی کی طرف لے کر آیا اور مجھے اپنی زندگی میں تبدیلی کا موقع ملا۔ میں حضور کا گوئٹے مالا کے دورہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور مزید یہ کہ آپ نے میرے سوال کا جو عبادت کے متعلق تھا بڑا تسلی بخش جواب دیا۔

……………………(جاری ہے )

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button