افریقہ

بینن کے شہر جُگّو (Djougou) میں بین المذاہب کانفرنس کا بابرکت انعقاد

(رپورٹ:منتظر احمد صاحب۔ مبلغ سلسلہ جُگّو)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ بینن کو مؤرخہ 3نومبر 2018ء جگو شہر میں بین المذاہب کانفرنس منعقد کرنے کی توفیق ملی۔

جگو شہر بینن کے پرانے اور بڑے شہروں میں سے ایک ہے جو ملک کے شمال میں بورکینا فاسو اور ٹوگو کی سرحد پر واقع ہے۔اس شہرمیں بنیادی طور پر 5اقوام دِیندی، یوم،فلفل ،باریبااورلوپاآباد ہیں۔شہر کی 95 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ کئی مدرسے قائم ہیں جس کی وجہ سے عربی اور قرآن کریم کی مروّجہ تعلیم کے لئے اساتذہ کاایک جم غفیر ہے۔اور جماعت احمدیہ کی یہاں مخالفت بھی زوروں پر ہے۔بہر حال شہر کی انتظامیہ اور پڑھا لکھا طبقہ جماعت کی اخلاقی اقدار اور خدمت خلق کی سرِعام تعریف اور حمایت کرتا ہے ۔

کانفرنس کے انعقاد سے قبل مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مدعو کیا گیا جن میں شہر کی انتظامیہ، مسیحی برادران اور اُن کے پادری، مسلمان علماء اور عام پبلک شامل تھے۔

میڈیا کوریج کے لئے بینن کے دو بڑے نیوز چینلزجن میں سے ایک نیشنل ٹی وی ہے کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا میں سے نیشنل اخبار کو مدعو کیا گیانیز شہر کے لوکل ریڈیو سے بھی 2نمائندگان بروقت کوریج کے لئے پہنچ گئے۔

بینن کے شہر جُگّو (Djougou) میں بین المذاہب کانفرنس کی ایک جھلک

پروگرام میں شرکت کے لئے مکرم رانا فاروق احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ بینن مع وفد بھی آئے۔ 3نومبر 2018ء صبح10بجکر15منٹ پر تلاوت قرآن کریم کے ساتھ پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔تلاوت کے لئے ایک غیر احمدی مد رسہ کے زیرِتبلیغ طالبعلم نے سورۃ الحجرات کی آیات 11تا 14 کی تلاوت کی۔

بعدازاں نائب میئر اوّل مکرم آمادو ادریسو (Amadou Idrissou)صاحب نےاوربینن کی نیشنل پولیس کے متعدد نمائندگان میں سے ایک نمائندہ مکرم دیناہو لوئس(Denahou Louis) صاحب نے باری باری اظہار خیال کیا اورجماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا نیز جماعت کی امنِ عالم کے لئے کوششوں کو سراہا۔

اس کے بعد جماعت کی طرف سے لوکل مشنری مکرم یحیٰ حسینی صاحب نےاس کانفرنس کے مرکزی خیال ’’مختلف مذاہب اور معاشرتی اتحاد ‘‘ کے موضوع پر تقریر کی اور بتایا کہ در اصل تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات ہمیں باہمی اتحاد اور حقوق انسانیت کی ادائیگی کی طرف لے کر جاتی ہیں۔

بعد ازاںچرچ کے نمائندہ مکرم نچا ڈیوڈ (Ncha David) صاحب نے پُر سکون اور منظم ماحول کو دیکھتے ہوئے نیز مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو دیکھ کر جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا۔

ائمہ کے نمائندہ نے سینٹرل امام کی جانب سے پیغام دیا اور جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ بادشاہوں کے نمائندہ نے تما م بادشاہوں کی جانب سے جماعت احمدیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جماعت کی حیثیت اندھیرے میں روشنی جیسی ہے۔

دیگر مہمانا ن نے بھی اپنی رائے کا اظہا ر کیا اور جماعت کے لئے جذباتِ تشکر اور کلماتِ تحسین کا اظہار کرتے رہے۔

پروگرام کے آخر پر مکرم امیر صاحب بینن نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔آپ نے اپنی تقریر میں قرآن کریم کی مختلف آیات سے مذاہب کے بھائی چارہ اور معاشرتی اتحاد پر روشنی ڈالی نیز تمام مکاتب فکر کو دعوت دی کہ وہ بھی اِن حقیقی تعلیمات کو اپنائیں کیونکہ مذاہب کے احترام کی جو تعلیم اسلام نے ہمیں سکھائی ہے وہ دراصل ہر نبی نے اپنے ماننے والوں کوسکھائی تھی۔

دعاکے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔ اس کے بعد تمام شاملین کی خدمت میں ظہرانہ پیش کیا گیا۔ مہمانوں کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کتاب World Crisis and the Pathway to Peaceتحفۃً پیش کی گئی۔پروگرام کی کل حاضری 327تھی۔الحمد للہ

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close