رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ اکتوبر، نومبر 2018ء

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

… … … … … … … … …
19؍اکتوبر 2018ء بروز جمعہ
(حصہ سوم)
… … … … … … … … …


مسجد بیت العافیت کے افتتاح کے
موقع پر حضورانور کے خطاب پر
مہمانوں کے تأثرات


حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے آج کے خطاب نے مہمانوں پر گہرا اثر چھوڑا اور بہت سے مہمانوں نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔

٭ فلاڈلفیا شہر کے میئرJim Kenney نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میرا جماعت کے افراد سے دو سال قبل رابطہ ہوا تھا۔ اس وقت یہ تعمیر ابتدائی مراحل میں تھی۔ اب یہ بہت عمدہ اور خوبصورت عمارت بن چکی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی انویسٹمنٹ ہے۔ یہ جگہ بہت ہی مناسب ہے۔ میں جماعت کے بارے میں کہنا چاہتاہوں کہ یہ خدمت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم سب اور اس شہر کے باسیوں کو یہی خدمت چاہئے۔ اگر اس مسجد میں آنے والے ہمارے آس پاس کےپڑوس میں لوگوں کو ان کے بچوں کو اچھا شہری بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ان میں احساسِ ذمہ داری اور سنجیدگی قائم کردیں تو یہ ہمارے شہر اور اس علاقہ کیلئے ایک بہت بڑی تبدیلی ہوگی۔

حضورِ انور سے مل کر بہت اچھا لگا۔ آپ ایک عظیم روحانی شخصیت ہیں۔ آپ وسیع النظر ہیں۔ حضور کی موجودگی کا احساس ہی ہمیں یہ باور کرواتا ہے کہ یہ کتنی عظیم شخصیت ہیں اوراسی وجہ سے اللہ نے انہیں اس عظیم مقام کیلئے چُنا ہے۔حضورِ انور سے ملاقات بہت شاندار رہی۔ آپ نے فلاڈلفیا کے حالات اور حکومت کے حوالہ سے سوال کئے۔ آپ نے یہاں کی انڈسٹری اور درآمدات کے حوالہ سے پوچھا۔زراعت کے حوالہ سے بات ہوئی۔ تو آپ کو ہماری فکر تھی۔ میئر اور کونسل کے اختیارات کے حوالہ سے بات ہوئی۔ حضورِ انور سے یہ تمام بات چیت بہت ہی دلچسپ رہی۔

اس ملک میں مذہبی آزادی ہے۔ یہاں کئی مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ میں ذاتی طور پر ایک خدا پر یقین رکھتا ہوں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم سب مل کر معاشرہ کی بہتری کیلئے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ میرا خیال ہے کہ خدا ہم سے یہی چاہتا ہے۔

یہاں پر آپ لوگوں نے بہت بڑی انویسٹمنٹ کی ہے ، میرا خیال ہے کوئی چھ سات ملین ڈالر کی۔ یہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ایک روشن مثال ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کی مدد کرنے میں بہت سخی ہیں۔ آپ لوگوں میں دوسروں کی مدد کا جذبہ بہت مثالی ہے۔

حضورِ انور کا پیغام بہت ہی شاندار ہے۔ یہ امن، پیار اور محبت ہی ہے ، جس کے ذریعہ سے ہم مل کرترقی کرسکتے ہیں اور اس شہر کو مزید بھائی چارہ میں بڑھا سکتے ہیں۔ حضورِ انور کے پیغام سے میں بہت متأثر ہوا ہوں۔ حضورِ انور بہت وسیع النظر ہیں، بہت شفیق اور بنی نوع انسان کی مدد کرنے والے انسان ہیں۔ بہت متأثر کُن شخصیت ہے۔

٭ کانگریس مینDwight Evans نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حضورِ انور نے امن قائم کرنے کے حوالہ سے بہت ہی عمدہ پیغام دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم امریکہ میں ایک تاریک دور سے گزر رہے ہیں اور ایسے دور میں یہ پیغام بہت شاندار تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کمیونٹی نہ صرف امریکہ بلکہ تمام دنیا کیلئے کتنی اہم ہے۔ بطور کانگریس مین مَیں حضورِ انور کو دلی خوش آمدید کہتا ہوں۔

ہمیں مستقبل میں امید اور امن چاہئے۔فلاڈلفیا کی مذہبی آزادی کے حوالہ سے ایک اہمیت ہے اور میں دل کی گہرائیوں سے حضورِ انور کو اور آپ کی جماعت کو اس مسجد کی مبارک بادپیش کرتا ہوں اور بطور یو ایس کانگریس مین میں یہ کہتا ہوں کہ میں ہر وقت آپ اور آپ کی جماعت کے ساتھ کھڑا ہوں۔ حضورِ انور سے ملاقات بہت دلچسپ رہی۔ خوراک کے حوالہ سے بات ہوئی۔ میرا تعلق چونکہ زراعت سے ہے اسلئے فوڈ پالیسی پر بات ہوئی۔ عالمی سطح پر یہ معاملہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔حضورِ انور سے اس حوالہ سے بات کر کے بہت خوشی ہوئی۔

٭ اس پروگرام میں ایک جج Harry Schwartz بھی شامل ہوئے تھے۔ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

یہاں مدعو کئے جانا میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔ بہت سے احمدیوں سے ملاقات ہوئی ہے۔ میں اس جماعت سے 25 سال سے واقف ہوں۔ کئی سال سے یہاں کے لوکل صدر میرے اچھے دوست اور ہمسایہ ہیں۔ کئی مرتبہ ان سے ڈنر پر مختلف مسائل پر بات ہوئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے کیلئے مل بیٹھنا بہت ضروری ہے۔حضورِ انور کی شخصیت بہت شاندار ہے۔ آپ نے کئی جگہوں کا دورہ کیا ہے اور خطاب کیا ہے۔ حضورِ انور کا محبت، ہم آہنگی اور مل بیٹھنے کا پیغام اگر سمجھ لیا جائے تو میرے خیال میں ہم سب بہت بہتر حالت میں ہوں۔

٭ فلاڈلفیا پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ایک کیپٹن بھی اس پروگرام میں شریک تھے۔ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں :

مجھے یہاں کیپٹن کے طو رپر کام کرتے ہوئے دو سال ہوئے ہیں اور اس مسجد کی تعمیر سات سال پر محیط رہی ہے۔ ہمارے یہاں مختلف کمیونٹیز کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ یہ مسجد اس کمیونٹی کا ایک نیا رُخ ہے۔ میں دیگر پولیس کے افرادکے ساتھ یہاں اس لئے آیا ہوں کہ میں اپنی طرف سے یکجہتی کا اظہار کروں کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں اور اسلام اور یہاں کے مقامی افراد کے درمیان رابطہ کا کام کررہے ہیں۔میں یہ دیکھنا چاہتاہوں کہ یہ مسجد یہاں رہنے والوں کیلئے کیا آفر کرتی ہے اور اس میں پولیس اپنا کیا مثبت کردار ادا کرسکتی ہے۔ہم دیگر کمیونٹیز کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور اسی طرح مسجد کے ساتھ بھی کام کریں گے۔ اس مسجد کیلئے جب بھی ہمیں بلایا گیا ہے ہم نے بھرپور تعاون کیا ہے۔ یہاں کی جماعت کی انتظامیہ بہت قابل ہے، ہمیں تو کچھ بھی نہیں کرنا پڑا۔ مقامی لوگوں سے رابطوں وغیرہ میں یہاں کی جماعت نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

٭ ایک خاتون نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں نے حضورِ انور کو بہت ہی منکسر المزاج پایا ہے۔ آپ کا بولنے کا انداز بہت نرم ہے۔ ہر ایک سے ملنے میں آپ بہت مہربان ہیں۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو ان میں ایک دکھاوا آجاتا ہے۔ حضورِ انور کی ذات اس سے بالکل پاک ہے۔ آپ کی ذات میں بہت عاجزی پائی جاتی ہے۔

٭ ایک افریقن امریکن نو مسلم عبد العزیز نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :

یہاں مسجد کی بہت ضرورت تھی۔ یہ بہت اچھا سنٹر بن گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ماحول کو بہتر کرنے کیلئے دس سال لگتے ہیں۔ میں نے دو سال میں معاشرہ بہتر ہوتا دیکھا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر لگن ہو تو اکٹھے مل کر یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ حضورِ انور نے جو فرمایا ہے یہی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز پیغام ہے۔ آپ کی ہر بات دل کو لگتی ہے۔

٭ ایک افریقن امریکن خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ یہ اپنے چرچ کی ٹرسٹی بھی ہیں۔

یہاں پر ہم دیگر مسلمان تنظیموں سے بھی رابطے کرتے ہیں لیکن رابطوں میں احمدیوں سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ یہ خود آگے بڑھ کر رابطے کرتے ہیں اور تعلقات استوار کرتے ہیں۔ یہ ہمیں اپنے پروگراموں پر مدعو کرتے ہیں تا کہ ہم زیادہ سے زیادہ اسلام کے بارے میں سیکھ سکیں۔ میں ایک عرصہ سے احمدیہ جماعت سے رابطہ میں ہوں۔ یہ شاندار عمارت اس جماعت میں ایک بہت اچھا اضافہ ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر ایک کو مدعو کیا گیا ہے، ہر ایک اس مسجد میں آسکتا ہے۔ آپ لوگوں کا موٹو ’محبت سب کیلئے ، نفرت کسی سے نہیں‘ بہت شاندار ہے۔ یہ بہت گہرا سبق ہے۔ یہ ہمارے نوجوانوں کو سکھاتا ہے کہ باہمی محبت کتنی ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ مسجد ایک بہت حسین اضافہ ہے۔

٭ ایک افریقن امریکن خاتون حبیبہ مسلمہ صاحبہ نے کہا:

اس علاقہ میں مسجد کا اضافہ بہت ہی اچھا قدم ہے۔ اس سے ہمیں اکٹھے ہونے کا ایک مقام مل گیا ہے۔ ایسی عمارتیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ کیا آپ ہر ایک کو کمیونٹی سنٹر میں کھلے دل سے قبول کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ یہاں ہر ایک کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا گیا ہے۔ یہی اصل اسلام ہے۔اور یہی احمدیوں کی نمایاں خصوصیت ہے۔ حضورِ انور کی تقریر بہت اچھی تھی۔ اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ امید ہے کہ ہم اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بھی بنائیں گے۔ حضورِ انور کی شخصیت سے عاجزی جھلکتی ہے۔ اگر حضورِ انور کے ارشادات پر عمل کریں تو ہم یقیناً صراطِ مستقیم پر ہیں۔

٭ ایک مسلم خاتون حانیہ اور ان کی والدہ بھی اس پروگرام میں شامل ہوئیں۔

کہتی ہیں کہ حضورِ انور کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ایک دوسرے سے مل کر بہت سی اچھی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔ مسجد کی تعمیر بہت ہی اچھا قدم ہے۔ جو پیغام آپ لوگوں نے دیا ہے اس کے ذریعہ سے اسلام کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا۔ بہت خوشی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا ایک اور سنٹر بن گیا ہے۔ لوگوں میں اسلام کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے، جو کہ سراسر غلط ہے۔ حضورِ انور کا پیغام بہت مضبوط تھا۔ میں امید کرتی ہوں کہ حضورِ انور کا پیغام زیادہ سے زیادہ پھیلے اور امریکہ کے لوگ اسلام کی حقیقت جانیں۔ آپ لوگوں کا بہت شکریہ، یہاں آکر بہت اچھا لگا۔

٭ ایک لوکل کونسلر بھی اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ یہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

حضورِ انور کا امن کا پیغام بہت ہی ضروری تھا۔ خاص کر موجودہ حالات کے تناظر میں یہ پیغام اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ میرے لئے یہاں آنا بہت اعزاز کی بات ہے۔ میں نے اس مسجد کو اپنے سامنے تعمیر ہوتے دیکھا ہے۔ یہاں اس مسجد کا قیام اس علاقہ کیلئے بہت ہی برکت کا باعث ہے۔ حضورِ انور نے جو یہ پیغام دیا ہے کہ آپ لوگ ہمسایوں کی ضرورت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، میرے خیال میں صرف یہاں فلاڈلفیا میں ہی نہیں تمام امریکہ میں اس پیغام کی ضرورت ہے۔ حضورِ انور نے جو یہاں کے باسیوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیاہے اور امید کا اظہار کیا ہے، میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ شہر بھائی چارہ کا شہر ہے اور یہ اس پیغام اور اس امید پر پورا اتریں گے۔

٭ ایک غیر احمدی امام بھی اس پروگرام میں شامل تھے۔ یہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں :

میرا احمدیوں سے پہلاتعلق جماعت کی جانب سے کئے گئے قرآنِ کریم کے ترجمہ کی وجہ سے ہوا تھا۔یہ ترجمہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ حضورِ انور کا پیغام بہت ہی شاندار تھا۔ میں حضورِ انور سے سو فیصدی اتفاق کرتا ہوں۔ یہی ہمارا مشن اور ہمارا مقصد ہے۔ ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کا معیارِ زندگی بڑھانے کیلئے کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ ہم نے مل کر آنحضرتﷺ کے حقیقی پیغام کو پھیلانا ہے۔

٭ ایک فلسطینی مسلمان خاتون بھی اس پروگرام میں شامل تھیں۔ یہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:

یہاں مدعو کرنے کا بہت شکریہ۔ یہ بہت خوبصورت مسجد ہے۔ مجھے آج آپ لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ حضورِ انور کا پیغام بہت اہم تھا۔ میرا تعلق فلسطین کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ وہ حقیقی تعلیمات جو میں نے بچپن میں سیکھی ہیں، وہ آج حضورِ انور کے خطاب میں دیکھنے کو ملی ہیں۔ یہی حقیقی اسلام ہے، جس کا انہوں نے ذکر کیا ہے۔ ہم جس بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں، ہمارا فرض ہے کہ امن کیلئے متحد ہو کر کام کریں۔ حضورِ انور کی امن کیلئے خدمات بہت شاندار ہیں۔ ہمسایوں کا خیال رکھو،مختلف رنگوں، فرقوں، مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور ہمیں بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کیلئے متحد ہونا چاہئے، یہ ایک شاندار پیغام تھا۔ آپ نے حقیقی رنگ میں تمام مسلمان کمیونٹیز کی نمائندگی کی ہے۔

٭ ایک سکول کی ڈائریکٹر خاتون بھی اس پروگرام میں شامل ہوئیں۔ یہ کہتی ہیں کہ میرے لئے یہاں آنا ایک اعزاز کی بات ہے۔ میں چار پانچ سال سے اس کی تعمیر کا انتظار کررہی تھی، بالآخر یہ ایک بہت خوبصورت مسجد بن گئی ہے۔

٭ ایک مہمان نے کہا: ہمارے معاشرے کیلئے سب سے اہم چیز اتحاد ہے۔ یہی ہم لوگوں کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ ایک ہوں۔ الگ الگ ہونے میں نقصان ہے۔ حضورِ انور کے اس پیغام کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور ہر وقت اسی ایک پیغام کا پرچار کرتے رہنا چاہئے۔ سب سے ضروری چیز یہی ہے۔

٭ ایک خاتون ٹیچر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ یہاں آکر مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں اپنے گھر میں ہوں۔ حضورِ انور کا پیغام، امن کا پیغام بہت شاندار تھا۔ گو کہ میں کیتھولک ہوں، لیکن حضورِ انور کے ایک ایک لفظ سے اتفاق کرتی ہوں۔ میں یقین سے کہتی ہوں کہ اسلام امن کا پیغام دیتاہے۔اسلام خدمتِ انسانیت کا درس دیتا ہے۔ میری سٹوڈنٹ ماریہ عرفان نے مجھے دعوت دی ہے، میں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ مجھے اتنے اچھے پروگرام میں بلایا ہے۔ ہمیں مل کر معاشرے کی بہتری کیلئے کام کرنا ہے۔ہمسایوں کے حوالہ سے حضورِ انور کا پیغام بہت ہی ضروری ہے۔بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ یہ باتیں تو معلوم ہیں، لیکن ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی نہ کوئی توجہ دلائے اور جب اتنی عظیم شخصیت توجہ دلائے تو ایک نئی روح پیدا ہوجاتی ہے۔ میں آپ کا بہت شکریہ ادا کرتی ہوں۔

٭ ایک آرکیٹیکٹ Richardنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

مجھے مدعو کرنے کا بہت شکریہ۔ میں حضورِ انور کے خطاب سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ آپ نے جو امن کا پیغام دیا ہے، یہ بہت ہی شاندار ہے۔آجکل کے حالات کی وجہ سے اس پیغام کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ میرے لئے یہ پیغام اور بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ میرا تعلق فلاڈلفیا سے ہی ہے۔ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ بالآخر یہ جگہ لوگوں سے بھر گئی ہے۔ میں شروع سے اس عمارت سے وابستہ رہا ہوں، یہ عمارت میرے سامنے بنی ہے، خوشی ہے کہ اب یہ کاغذات سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ ہر آرکیٹیکٹ کیلئے آخری پروڈکٹ دیکھا بہت بڑی خواہش ہوتی ہے، چاہے وہ گھر ہو، کوئی میوزیم ہو یا کوئی عبادت کی جگہ۔ مجھے آج اس عمارت کو دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے، یہ میرے لئے ایک بہت خوبصورت انعام ہے۔ اب یہ ڈیزائن کے فیز سے نکل کر عملی شکل میں آچکی ہے اور اب یہ معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرتی رہے گی۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ میں اس عظیم عمارت کی تعمیر کا حصہ رہا ہوں۔

٭ ایک پروفیسر جو اپنی یونیورسٹی کی پریذیڈنٹ کی نمائندگی کررہے تھے، اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

میرے لئے یہ بہت ہی شاندار موقع تھا۔میں نے یہ بات نوٹ کی کہ جیسے ہی حضور ہال میں تشریف لائے ایک عجیب سا سکون محفل پر طاری ہوگیا۔میں بالکل حضور کے نزدیک بیٹھا ہوا تھا اور حضور کے بھائی جو یہاں امیر ہیں، ان کے بھی قریب تھا۔ یہ قرب ایسا تھا کہ جیسے میں جنت میں ہوں۔ اس قرب میں بہت جلال اور مضبوطی تھی۔حضور کا طرز کلام ایسا دل نشیں ہے کہ ہر لفظ روح میں اُترتا معلوم ہوتا تھا۔ مجھے یہ بھی موقع ملا کہ میں حضور سے مختصر سی بات کرسکوں۔ میں نے حضور کو بتایا کہ میں کبابیر بھی گیا ہوں اور وہاں پر بھی حیفا میں جماعت کی مسجد دیکھی ہے اور احمدیہ جماعت سے ملا ہوں۔ یہ میرے لئے بہت اچھا تجربہ تھا۔ میں جرمن لٹریچر کا پروفیسر ہوں۔ میں نے حضور سے اس خواہش کا اظہار کیاہے کہ میں حضور کے اگلے جلسہ جرمنی میں بھی شامل ہونا چاہتا ہوں۔ مجھے بہت خوشی ہوئی جب حضور نے فرمایا کہ میں ضرورشامل ہوں۔ مجھے جذباتی طور پر اس مختصر سے مکالمے نے بہت متاثر کیا ہے۔ مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوئی۔

حضورِ انور نے جو ہمسایہ کی تعریف کی ہے۔ مجھے یہ بہت اچھا لگا ہے۔ میری یونیورسٹی یہاں سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے۔ میرے لئے یہ بہت حیران کُن تھا کہ یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ نے اپنا پیغام بھجواتے ہوئے کہا کہ اب ہم ہمسائے ہیں، آئیں ہم مل کر طلباء اور فلاڈلفیا کے لوگوں کے اتحاد کیلئے کام کریں۔جب حضور نے یہی مضمون بیان کیا تو مجھے سمجھ آئی کہ یہی حقیقت ہے اور ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے سے کیا مراد ہے۔حضورِ انو رنے جو اس شہر کے لوگوں کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ان کا تعلق اب سے نہیں بلکہ آنے والے وقت سے ہے۔ایک چیز جو میں نے حضورِ انور میں دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ وہ صرف موجودہ وقت کی بات نہیں کررہے ہوتے، بلکہ ان کی نظر آنے والے وقت پر ہوتی ہے۔ انہوں نے آنے والے وقت تک بھی فلاڈلفیا کیلئے برکتیں چھوڑی ہیں۔میں کہنا چاہتا ہوں کہ حضور انور نے یہاں ایک بیج بو دیا ہے، اب یہ ہمارا کام ہے کہ اس کی نگہداشت کریں اور اسے بڑھائیں اور اس کو بھائی چارہ اور محبت کے مضبوط درخت میں تبدیل کریں۔

٭ ایک خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حضورِ انور نے جو یہ فرمایا ہے کہ ہم آپ لوگوں کے آنسو پونچھیں گے۔ کتنے لوگ ہیں جو یہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ بہت حیرت انگیز تھا۔ میں اپنے جذبات پر قابونہیں رکھ سکی۔اپنا پیغام دینے کیلئے ضروری نہیں ہے کہ اونچی اور جوشیلی تقریر ہو، وہ پیغام آپ نے بہت ہی محبت اور پیارے انداز میں دے دیا۔ آپ کی موجودگی ہی حیرت انگیز اثررکھتی ہے۔ کم ازکم میرے لئے تو آپ کی موجودگی ہی کافی ہے۔ آپ کی خاموش موجودگی ہی سب کچھ کہہ دیتی ہے اور یہ خاموشی جوشیلی تقریروں سے بہت زیادہ اثر رکھنے والی ہے۔ یہ موجودگی بہت پرسکون ہے۔ حضور نے فرمایا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہر ممکنہ مدد کیلئے تیارہوں گے۔ میں نے کوئی رہنماایسا نہیں دیکھا۔ چاہے کوئی سیاسی لیڈر ہو، مذہبی ہو، یا کوئی بھی۔ ہمارے پاس ایسا کوئی لیڈر نہیں۔ حضور کی موجودگی میں ایک عجیب سکون ہے۔ میرا یقین کریں، یہ بہت عجیب احساس ہے۔ آپ نے مجھے یقین دلا دیاہے کہ آپ میری پریشانی اور ضرورت کے وقت میرے ساتھ ہوں گے۔میری بہت ہی خوش قسمتی ہے کہ میں یہاں آئی ہوں۔

٭ ایک لوکل خاتون اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:

یہ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں اس پروگرام میں شریک ہوئی۔ میں خواتین کی طرف گئی اور صرف چند منٹ وہاں گزارے اور بہت متاثر ہوئی۔ حضورِ انور کا پیغام بہت ہی شاندار تھا۔ مجھے مدعو کرنے کا بہت شکریہ۔حضورِ انور کا خطاب تمام ضروری باتیں اپنے اندر لئے ہوئے تھا۔ آپ لوگوں کا موٹو ’محبت سب کیلئے ، نفرت کسی سے نہیں‘ ایک عالمی پیغام ہے اور یہی وقت کی ضرورت ہے۔

٭ ایک مہمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:


حضور انور کے کلام میں بہت تاثیر ہے۔ حضور نے پیغام دیاہے کہ وہ اور ان کی کمیونٹی ہر وقت لوکل کمیونٹی کی مدد کیلئے تیار ہے۔ یہ ایک بہت شاندار پیغام ہے۔ حضورکو دیکھنا ایک بہت اچھا تجربہ تھا۔

٭ ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :

خلیفہ نے جو پیغام دیاہے وہ ہمارے معاشرے کیلئے بہت ضروری ہے۔ لوگ جس ملک میں رہتے ہیں، جہاں ٹیکس ادا کرتے ہیں، جہاں ان کے بچے پرورش پاتے ہیں، وہ ایسا ملک نہیں ہونا چاہئےجہاں کسی بھی قسم کا معاشرے میں خوف ہو۔ اس لئے خلیفہ کا امن کا پیغام ہمارے لئے اور ہمارے معاشرے کیلئے ایک امید کی کرن ہے۔ یہ پیغام بہت اہم ہے اور ہم سب کو اس مقصد کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ اس ماحول میں محبت اور امن پھیلانا بہت اہم اقدام ہے۔ یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہے۔ آپ لوگوں کا بہت شکریہ۔

٭ ایک مہمان نے کہا :


خلیفہ کا امن کا پیغام بہت اہم تھا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔ یہی امن کا منبع ہے۔ اگر ایک دوسرے سے محبت کریں گے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں گے تو امن قائم ہوجائیگا۔ یہ بہت اہم پیغام ہے۔ یہ پروگرام بہت آرگنائزڈ تھا۔ دعوت دینے کا بہت شکریہ۔

٭ ایک مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :

مجھے افسوس ہوا ہے کہ خلیفہ کو یہاں آکر اس قسم کا پیغام دینا پڑا ہے کہ اسلام سے یہاں کے پڑوسیوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس حد تک گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے کہ یہاں آکر آپ کو یہ کہنا پڑا ہے کہ آپ ہمسایوں کا خیال کریں گے اور محبت پھیلائیں گے۔

٭ ایک اور مہمان نے کہا :

بطور عیسائی میں محبت پر یقین رکھتا ہوں۔ میں اس جماعت کو تیس چالیس سال سے جانتا ہوں۔ یقیناً یہ ہمارے لئے افسوس کا مقام ہے کہ خلیفہ کو یہ پیغام دینا پڑا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ جو لوگ یہاں آئیں گے، وہ خدا کی محبت حاصل کریں گے، امن قائم کریں گے اور لوگوں کی خدمت کریں گے۔ حضورِ انور کی آمد سے یہاں برکت نازل ہوئی ہے۔

٭ ایک مہمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

یہاں آنے سے قبل میں حضورِ انور کو نہیں جانتا تھا۔ اب میں آپ سے مل چکا ہوں۔ آپ ایک عالمی لیڈر ہیں اور آپ کی شخصیت انتہائی متاثر کن ہے۔میں نے آپ کے الفاظ سنے ہیں، آپ کی سوچ دیکھی ہے، یہ بہت ہی عظیم شخصیت ہیں اور دنیا کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے بہت ہی عظیم پیغام لے کر آئے ہیں۔ ہم سب کو اس پیغام کو اپنانا چاہئے۔ آج کی دنیا میں یہ پیغام بہت ہی شاندار اور ضروری ہے۔ برداشت، ہم آہنگی، ایک دوسرے کو بہتر انداز میں جاننے کی کوشش کرنا، یہ بہت مضبوط پیغام ہے۔

٭ Mr. Convery انسپکٹر فلاڈلفیا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

ہمارے شہر اور معاشرہ میں امن کے قیام کی خاطر جماعت احمدیہ کی طرف سے پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش نہایت ہی خوشی کا باعث ہے۔ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کا خطاب سُن کر ہال میں بیٹھا ہرشخص محسوس کررہا تھا کہ جیسے یہ خطاب اُسی کے لئے ہے۔

٭ Mr. Ryan Barksdale Community Relations Officer نے کہا:

آپکی جماعت کی طرف سے مدعو کئے جانے پر نہایت خوش ہوں۔ہمارے شہر میں آپکی اس مسجد کا افتتاح اور اسلام کے خلیفہ کا ورود مسعود نیز اُن کا خطاب بے شک ایک تاریخی امر ہے اور آج ہم بھی اس تاریخی واقعہ کا مشاہدہ کرکے امن کی اس تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہورہی ہے۔

٭ Ms. Hajja Kiniaya Sharrieff نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں اس سے قبل گھانا، سالٹ پونڈ کے قریب جماعت احمدیہ کی مسجد اور سکول دیکھ چکی ہوں۔ آج جماعت احمدیہ کے خلیفہ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ حضور کا خطاب ایک جامع اور نہایت ہی پُر کشش خطاب تھا۔ آپکے خطاب میں خاص طور پر اُن لوگوں کو بھی مخاطب کیا گیا ہے جو کہ غیر مسلم ہیں اوراسلام کے متعلق کچھ خاص نہیں جانتے۔آپکی مسجد بھی بہت خوبصورت ہے۔ نیز آپکی جماعت کی طرف سے تمام مہمانوں کو جو اعزاز و اکرام کے ساتھ نوازا گیا ہے اُس نے بھی میرے دل پر کافی گہرا اثر چھوڑا ہے۔

٭ Ms. Queen Samiyah Mu`el نے کہا:

آپکی مسجد بہت خوبصورت ہے اور ہمارے شہر کے وسط میں شہر کی زینت کو دوبالا کرنے کا باعث بن گئی ہے۔میرا تعلق سنیگال کے ایک صوفی مکتبہ فکر سے ہے۔ لہٰذا جب آپ کے خلیفہ کا خطاب سُنا تو اُنکی ہر بات نے دل پر گہرا اثر کیا ہےآپکی جماعت کی مہمان نوازی نے بھی میرے دل پر ایک نہایت گہرا اثر چھوڑا ہے۔

٭ Mr. Ibrahim Branham نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

آپکی جماعت کے رفاہی کام نیز حکومت کے اعلیٰ افسران کے ساتھ آپکے تعلقات کی عکاسی اُن افسران کی یہاں موجودگی سے ظاہر ہے۔ نیز ہر قسم کے طبقہ سے لوگ یہاں دیکھ کر دل پُر مسرت ہوگیا ہے۔میں نےجماعت احمدیہ کے خلیفہ کو پہلی دفعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ آپکے خلیفہ کی شخصیت نہایت پُر وقار اور بارعب ہے۔ نیزاُن کا خطاب ہر اُس شخص کو جو اپنی ذات میں امن و آشتی کا خواہاں ہے ضرور اپنی طرف کھینچے گا۔ آپکے خلیفہ کی ہمارے شہر میں آمد بے شک ہمارے شہر کی image کو دنیا کے سامنے بہتر کرکے پیش کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرے گی۔

٭ Ms. Roseanna Newood نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

خلیفہ کا خطاب سمجھنے کے لحاظ سے نہایت ہی سہل تھا۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے نکل کر سامعین کے دل میں داخل ہورہے تھے۔میں اُمید کرتی ہوں کہ جماعت احمدیہ کی یہ خوبصورت مسجد ہمارے شہر میں خوشحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ آپکی جماعت نے ہمارے شہر کو ایک نئی اُمید عطا کی ہے جس کے لئے ہم دل سے آپ کی جماعت کے مشکور ہیں۔

٭ Ms. Diane Bridges نے بیان کیا:

جماعت احمدیہ مسلمہ کے خلیفہ کا پیغام ایک مثبت پیغام ہے اور اپنی ذات میں منفرد بھی ہے کیونکہ آج کے دور میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو دل کی گہرائی سے امن کے خواہاں ہیں اور اپنے عمل سے اُس کا پرچار کرکے دنیا میں امن قائم کررہے ہیں۔

٭ Mr. Bernard Smith نے کہا:

میری عمر 85 سال ہے اور اپنی زندگی میں پہلی بار خلیفۃ المسیح کو دیکھ کر اور اُن کا روح پرور خطاب سُن کر بہت متاثر ہوا ہوں۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ خلیفۃ المسیح کا خطاب ہمارے شہر کے مکینوں کے لئے اُمید سحر لے کر طلوع ہوگا۔آپکی مسجد بھی بہت خوبصورت ہے۔ میں درحقیقت آپکی مسجد بیت العافیت کے قریب ہی رہتا ہوں اور اس مسجد کی تعمیرمیری آنکھوں کے سامنے تکمیل کو پہنچی ہے۔ اسکی تکمیل کو دیکھ کر نہایت خوشی محسوس کر رہا ہوں۔

٭ Sister Sylvia Strahler نے کہا:

میں پاکستان میں کیتھولک کمیونٹی کے میڈیکل مشن کے ساتھ 52سال کام کرچکی ہوں ۔ آپکے رہنما کی تقریر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ لوگ معاشرہ میں امن کے قیام کے لئے نیز غربت دور کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ خدا آپ کی مدد کرے تا آپ معاشرہ میں امن کے قیام میں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں ۔

٭ Ms. Terry Guerra نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں نے آج پہلی مرتبہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے پروگرام میں شرکت کی ہے۔ اور آج آپکے خلیفہ کی تقریر سُن کر میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ آپ لوگ مذہب اسلام کے نہایت ہی اچھے سفیر ہیں۔میں چونکہ مذہباً کیتھولک عیسائی ہوں لہٰذا آپ کے خلیفہ کا خطاب سُن کے یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہماری کیتھولک کمیونٹی کے پوپ خطاب کررہے ہیں۔ آج میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ گو ہمارا مذہب آپکے مذہب سے مختلف سہی لیکن دونوں مذاہب کے در پردہ ایک ہی روح کارفرما ہے۔

٭ Sister Maria Hornung نے بیان کیا:

میں آپکی کمیونٹی سے پہلے سے متعارف ہوں۔ میں گھانا میں اُس وقت کیتھولک مشن کے ساتھ کام کرچکی ہوں جب آپکے خلیفہ غانا میں خدمت بجا لا رہے تھے۔لہٰذا آج آپ کی مسجد میں آکر آپ کے خلیفہ کی تقریر سُن کر مجھے یہ احساس ہوتا تھا کہ گویا میں اپنے ہی گھر میں ہوں۔ جس خوبصورت انداز میں آپکے خلیفہ نے خطاب فرماکر اپنے پختہ عز م کا ہمارے شہر کے لئےا ظہار کیا ہے یقیناً ہمارے دلوں میں دیر تک رہے گا۔

… … … … …(جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button