افریقہ

تنزانیہ میں مسجد بیت الکبیر کا بابرکت افتتاح

(وسیم احمد خان۔ مبلغ سلسلہ تنزانیہ)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے سال2018ءمیں جماعت احمدیہ تنزانیہ کو ملک کے مختلف صوبوں میں کئی چھوٹی بڑی مساجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی۔ ان مساجد میں ایک مسجد ــــ’’مسجد بیت الکبیر ‘‘بھی ہے جو تنزانیہ کے دوسرے بڑے شہر موانزہ میں تعمیر کی گئی ہے۔مکرم طاہر محمود چوہدری صاحب امیرجماعت احمدیہ تنزانیہ نےمورخہ 13جولائی 2018ء بروزجمعۃالمبارک اس مسجد کاافتتاح کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت اس مسجد کا نام ’’مسجد بیت الکبیر‘‘ عطا فرمایا ہے۔

1968ء میں اس مقام پر جماعت کی طرف سے پہلے معلم جماعت ’’عبداللہ علی نگامباگے صاحب‘‘کو بھجوایا گیا۔ معلم صاحب نے مختلف جگہوں پر پھیلے ہوئے افراد کو جماعت کی شکل دی اور تبلیغ و تربیت کا کام شروع کیا۔ نماز کی ادائیگی ، نمازجمعہ اور دیگر تربیتی پروگرامزکے لئے ابتدائی طورپر کرائے پر ایک گھر لے کر نماز سینٹر بنایا گیا۔ جو کئی سال موانزہ شہر کی جماعت کا مرکز رہا۔

1980ءمیںجگہ کم پڑ جانے کی وجہ سے بڑی مسجد تعمیر کرنے کی کوششیں کی گئیں اور 1992ء میں ایک پلاٹ بھی خریدا گیا لیکن مسجد تعمیر نہ ہو سکی۔

بالآخر 2000ء میں یہاں کے ایک مخلص احمدی مکرم سالوم احمد ثانی صاحب نے عارضی طورپر ایک چھوٹی مسجد بنانے کے لئے اپنے گھر اور کمرشل پلاٹ کا ایک حصہ پیش کیا تاکہ جماعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک مسجد بنائی جائے ۔ یہ پلاٹ موانزہ شہر کے بس سٹینڈ Nyegeziکے بالکل قریب ہے۔ چنانچہ وہاں کے احمدیوں نے نہ صرف مالی قربانی کی بلکہ دن رات ایک کر کے وقارعمل کے ذریعہ ایک چھوٹی مسجد بنالی جس میں 70سے 80نمازیوں کی گنجائش تھی ۔ لیکن جلد ہی یہ مسجد بھی چھوٹی پڑ گئی ۔

اس کے بعد موانزہ کے اردگرد تین ریجنز شیانگا، سیمیواور گئےٹاGetitaمیں کئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ اس لحاظ سے بھی موانزہ اِن ریجنز کے لئے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کرچکاہے ۔اس کے پیش نظر یہ فیصلہ ہوا کہ ایک بڑی مسجد تعمیر کی جائے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس شہر کے معروف حصہ میں شیانگا سے موانزہ آنے والی مرکزی شاہراہ پر ایک پلاٹ خریداگیا اوراکتوبر2017ء میں مسجد کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ مسجد کی تعمیر کے لئے بڑی رقم مرکز سے مہیا کی گئی تھی۔جبکہ موانزہ کے افراد جماعت نے بھی مالی قربانی میں حصہ لیااور9ماہ کی قلیل مدت یعنی جون 2018ء میں مسجد بیت الکبیر کی تعمیر مکمل ہوگئی۔الحمدللہ۔

اس مسجد میں550نمازیوں کی گنجائش ہے۔ مورخہ13جولائی 2018ء بروز جمعۃ المبارک مسجد بیت الکبیر کی باقاعدہ افتتاحی تقریب میں مختلف سرکاری و غیرسرکاری مہمانوںکومدعوکیاگیاتھا۔مرکزسے مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ تنزانیہ اپنے وفد کے ساتھ تشریف لائے ۔ نمازِجمعہ سے پہلے امیر صاحب تنزانیہ نے دعاکے ساتھ باقاعدہ طور پر مسجد کا افتتاح کیا۔

نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد افتتاحی تقریب میں موانزہ ریجن کے کمشنر صاحب کے نمائندہ جو نائب میئر بھی ہیں بطور مہمان خصوصی شامل ہوئے نیز پانچ کونسلرز اور پولیس کمشنر کے نمائندہ بھی اس تقریب میں موجود تھے۔غیراز جماعت افراد بھی کثرت سے تشریف لائے ۔ مسجد کا ہال لوگوں سے بھرا ہواتھا اس لئے باہر شامیانے لگائے گئے تھے۔میڈیا کے نمائندوں نے اس تقریب کو کوریج دی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ موانزہ جماعت کے ایک معمر بزرگ مکرم سعید Sisimkaa صاحب کو تلاوت کرنے کی سعادت ملی۔ اس کے بعد مکرم سالوم ثانی صاحب زونل صدر نے نظم پڑھی۔بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے دعاکرائی اور سیکرٹری صاحب جماعت موانزہ مکرم سعید Mgeleka صاحب نے تعارفی ایڈریس پیش کیا۔ مکرم یاسمین ضمین صاحب نے حاضر مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب تنزانیہ مکرم نے اپنی تقریر میں مساجد کی تعمیر کی اہمیت، مقاصد اور عبادت کی صحیح روح کے ساتھ مساجد آباد کرنے کے حوالہ سے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

اس کے بعد نمائندہ کمشنرصاحب یعنی نائب مئیر نے کمشنر صاحب کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نےکہا:

’مجھے خوشی ہے کہ جماعت احمدیہ اپنی ریجنل مسجد کا افتتاح کرنے جارہی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ مسجد سارے علاقے میں محبت اور امن و آشتی پھیلانے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔جماعت احمدیہ کی تنزانیہ کے لئے جو خدمات ہیں گورنمنٹ ان کا اعتراف کرتی ہے اور مختلف شعبوں میں جماعت کے تعاون پر جماعت کی مشکور ہے۔ ‘

اس کے بعد مکرم امیر صاحب تنزانیہ نے دعاکرائی جس کے بعد تمام شاملین کی خدمت میں طعام پیش کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پروگرام بہت کامیاب رہا اور اس کی حاضری تقریباً 600رہی۔ اگلے دن مسجد بیت الکبیر کے افتتاح کی تفصیلی رپورٹ سٹار ٹی وی پردکھائی گئی

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button