رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ اکتوبر 2018ء

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

… … … … … … … … …
18؍اکتوبر 2018ء بروز جمعرات
… … … … … … … … …

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح سوا چھ بجے ’’مسجد بیت العافیت‘‘ (فلاڈلفیا) میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دنیا کے مختلف ممالک سے بذریعہ FAXاور ای میل آنے والے خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔ نیز حضورِانور کی مختلف دفتری امور کی ادائیگی میں مصروفیت رہی۔

فیملی ملاقاتیں

دو بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ’’مسجد بیت العافیت‘‘ تشریف لا کر نمازِظہر و عصر جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔ آج شام فیملی ملاقاتوں کا پروگرام تھا۔ چھ بجے حضورِانور اپنے دفتر تشریف لائے اور ملاقاتوں کا آغاز ہوا۔آج شام کے اس سیشن میں 58 فیملیز اور 12 احباب نے انفرادی طورپر ملاقات کی سعادت پائی۔ اس طرح آج مجموعی طور پر 292 افراد نے اپنے پیارے آقاسے شرف ملاقات پایا۔ ان سبھی افراد نے حضورِانور کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت زیر تعلیم طلباء اور طالبات کوقلم عطافرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطافرمائے۔

آج فلاڈلفیا کی جماعت کے علاوہ بوسٹن (Boston)، روچسٹر (Rochester) ولنگبرو (Willingboro) اور Liberiaکی جماعتوں سے آنے والی فیملیز نے بھی شرف ملاقات پایا۔ ان جماعتوں سے آنے والے احباب اور فیملیز تین صد میل سے زائد کا فاصلہ پانچ سے چھ گھنٹوں میں طے کرکے پہنچے تھے۔ ان کے علاوہ لائبیریا سے آنے والے ایک دوست نے بھی حضورانور سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔

آج ملاقات کرنے والی فیملیز میں بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی جو پاکستان سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے اور اپنی زندگیوں میں پہلی بار حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ سے مل رہے تھے۔ ان کی خوشی ناقابل بیان تھی۔ انہوں نے اپنے پیارے آقا کے قرب میں جو چند دن گزارے وہ ان کی ساری زندگی کا سرمایہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک برکتیں سمیٹتے ہوئے باہر آیا اور ان کی تکالیف اور پریشانیاں راحت و سکون میں بدل گئیں۔

ایک نوجوان ذیشان طارق صاحب نے بتایا کہ مَیں دو سال قبل پاکستان سے ہجرت کرکے فلاڈلفیا امریکہ آیا تھا۔ میری پہلے کبھی بھی خلیفہ وقت سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ملاقات سے قبل ایک بیتابی اور گھبراہٹ تھی۔ جونہی میں حضورِانور کے دفتر میں داخل ہوا تو حضورِانور کے نورانی چہرہ پر نظر پڑتے ہی سب بے چینی اور گھبراہٹ دور ہوگئی اور مجھے ایک سکون مل گیا۔

ایک خاتون روبینہ صاحبہ جو اپنے بچوں کے ہمراہ تھیں، کہنے لگیں کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ ملاقات کا حال بیان کروں۔ پیارے آقا کو اپنے سامنے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مجسم نور آسمان سے اُتر آیا ہے۔ ملاقات کے یہ مبارک لمحات اتنی جلدی گزر گئے کہ دل چاہتا تھا کہ یہ لمبے ہوجائیں اور ہم زیادہ وقت حضور کے قرب میں گزاریں۔

ایک نوجوان دائود احمد بٹ صاحب جو چار ماہ قبل پاکستان سے فلاڈلفیا پہنچے تھے۔ کہنے لگے کہ یہ میری زندگی میں حضورِانور کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔ پاکستان میں یہی سوچا کرتا تھا کہ شاید زندگی میں کبھی خلیفہ وقت سے مل نہ سکوں گا لیکن آج جب میں نے حضورِانور کو دیکھا تو یوں لگا کہ کھلی آنکھوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہوں۔ حضورِانور نے مجھے ایک قلم بھی عطا فرمایا۔

ایک دوست محمد اسلم صاحب جو دو سال قبل پاکستان سے ہجرت کرکے فلاڈلفیا امریکہ پہنچے ہیں اپنی فیملی کے ساتھ حضورِانور سے ملے۔ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کے لئے الفاظ نہیں پاتاکہ اُس نے ہمیں ہماری زندگی میں یہ مبارک دن دکھایا اور ہمیں حضور کا دیدار اور قرب نصیب ہوا۔

ایک چوبیس سالہ نوجوان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس سے بات نہیں ہورہی تھی۔ کہنے لگا کہ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں بیان کرسکوں کہ میں نے آج کیا پایا۔ میرا ایک خواب تھا جو آج اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے پورا کردیا۔

عمرشریف صاحب ایک افریقن امریکن احمدی ہیں۔ موصوف چار سال قبل سُنّی مکتبہ فکر سے احمدیت میں داخل ہوئے تھے۔ کہنے لگے کہ حضورِانور سے ملاقات کو الفاظ میں ڈھالا نہیں جاسکتا۔ حضورِانور سے مل کر یوں احساس ہوتا تھا کہ جیسے حضورِانور ایک شفیق باپ کی طرح اپنے روحانی بچوں سے مل رہے ہیں۔ ملاقات سے قبل ایک گھبراہٹ تھی لیکن جیسے ہی ہم حضورِانور کے دفتر میں داخل ہوئے اور حضورِانور کے چہرہ مبارک پر نظر پڑی تو ساری گھبراہٹ اور بے چینی دورہوگئی۔

ایک دوست نمیر بھٹی صاحب کہنے لگے کہ آج میری فیملی کی پہلی ملاقات تھی۔ جب حضورِانور کے چہرہ مبارک پر نظر پڑی تو آنکھیں چہرہ سے ہٹتی نہیں تھیں۔ ملاقات سے باہر آکر ان پرکپکپی طاری تھی اور کہنے لگے کہ میرا جسم کانپ رہا ہے۔ ان کی اہلیہ جو پاکستان سے آئی تھیں بیان کرنے لگیں کہ خلیفہ وقت سے ملاقات ہم اکثرپاکستانیوں کے لئے محض ایک خواب ہے لیکن آج میرے لئے یہ خواب حقیقت میں بدل گیا۔ حضورِانور سے مل کر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میری زندگی ہی بدل گئی ہے۔

نداء عاقل صاحبہ جو پانچ سال قبل شادی کرکے پاکستان سے آئی تھیں، کہنے لگیں کہ آج ہماری پہلی ملاقات تھی۔ حضورِانور کا پُرنور چہرہ دیکھ دل کی ایک ایسی حالت ہوئی کہ جو کہنا چاہتی تھی وہ بھول گئی۔ بس حضورِانور کے چہرہ کو ہی دیکھتی رہی۔ حضورِ انور میرے نانا جان ماسٹرولی اللہ خان صاحب کو جانتے تھے۔ دوران ملاقات میری بیٹی کی طرف دیکھ کر حضورِانور نے فرمایا کہ یہ دو سال کی ہے؟ عموماً لوگ سمجھتے ہیں کہ بیٹی کی عمر ابھی کم ہے۔ لیکن ہم حضورِانور کی اس بات سے حیران ہوگئے کیونکہ آج ہی ہماری بیٹی دو سال کی ہوئی ہے۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت میری بیٹی کو دوسال کا ہونے پر دو چاکلیٹ عطافرمائیں۔

ایک افریقن امریکن دوست عبدالودود ہاچر صاحب نے بیان کیا کہ انہوں نے تین سال قبل خلیفہ وقت کے ہاتھ پر لندن میں بیعت کی تھی۔ آج اپنی فیملی کے ہمراہ ان کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ دوران ملاقات حضورِانور سے عرض کیا کہ اگر شادی میں میاں بیوی میں بعض دفعہ ناچاقیاں پیدا جائیں تو ان کو کیسے دور کیا جائے تو اس پر حضورِانور نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی اچھائیوں پر نظر رکھیں اور خامیوں سے صرفِ نظر کریں تو ناچاقیاں پیدا ہی نہیں ہوتیں۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام نو بجے تک جاری رہا۔ بعدازاں حضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’مسجد بیت العافیت‘‘ میں تشریف لا کر نمازِمغرب و عشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

… … … … … … … … …
19؍اکتوبر 2018ء بروز جمعہ
… … … … … … … … …

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بج کر پندرہ منٹ پر مسجد ’بیت العافیت‘ (فلاڈلفیا) میں تشریف لا کر نمازِفجر پڑھائی۔ نمازِفجر کی ادائیگی کے بعد حضورِانور اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔

آج جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ آج کا یہ دن اس لحاظ سے بھی ایک تاریخی دن ہے کہ امریکہ کے علاقہ فلاڈلفیا کی سرزمین سے خلیفۃ المسیح کا یہ پہلا ایسا خطبہ جمعہ ہے جو MTA انٹرنیشنل کے ذریعہ ساری دنیا میں Live نشر ہوا۔ اس سے قبل امریکہ کے مشرقی حصہ واشنگٹن DC، Harrisburgاور مغربی علاقہ لاس اینجلیز سے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات جمعہ MTAپر Liveنشر ہوچکے ہیں۔

مسجد ’بیت العافیت‘ کا افتتاح

نمازِجمعہ میں جماعت فلاڈلفیا کے علاوہ امریکہ کی دوسری مختلف جماعتوں سے احباب جماعت بڑے لمبے اور طویل سفر طے کرکے شامل ہوئے۔ شامل ہونے والوں میں ایک تعداد ایسی بھی تھی جو تین سے ساڑھے تین ہزار میل کا سفر طے کرکے آئی تھی۔ نمازِجمعہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد چار ہزار سات صد سے زائد تھی۔

آج کا دن جماعت احمدیہ امریکہ کی تاریخ میں اس لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل دن تھا کہ فلاڈلفیا (Philadelphia) کی اُس سرزمین سے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ ساری دنیا میں Live نشر ہورہا تھا اور یہاں کی پہلی مسجد ’’بیت العافیت‘‘ کا افتتاح ہورہا تھا جہاں سے امریکہ میں فروری 1920ء میں احمدیت کا آغاز ہوا تھا۔

جب حضرت مصلح موعودؓ کے حکم پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب امریکہ کے پہلے مبلغ کے طور پر 15 فروری 1920ء کو فلاڈلفیا کے ساحل پر اُترے تھے تو اُس وقت کی حکومت نے آپ کو قید کردیا تھا۔ اُس وقت آپ کو قید کئے جانے پر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا:

امریکہ ہمیں ہرگز شکست نہیں دے سکتا کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ امریکہ میں ایک دن لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی صدا گونجے گی اور ضرور گونجے گی۔

آج حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ جمعہ کے ذریعہ اس سرزمین سے لاالہ الا للہ محمد رسول اللہ کی صدا نہ صرف سارے امریکہ میں بیک وقت گونجی بلکہ اس سرزمین سے لاالہ الا اللہ کی صدا کل عالم میں گونجی۔ جہاں سے اس آواز کو روکا گیا تھا۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

پروگرام کے مطابق ایک بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد بیت العافیت تشریف لائے اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔

خطبہ جمعہ

تشہد،تعوذ ،تسمیہ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃ توبہ کی آیت 18کی تلاوت کی اور ترجمہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد کی تعمیر کے مقاصد بیان فرماکر احمدیوں کو اِن مقاصد کے حصول اور نماز باجماعت ادائیگی کی طرف توجہ دلائی۔

حضورانور نے اپنے خطبہ جمعہ میں احمدیت کے امریکہ میں نفوذ کی مختصر تاریخ بھی بیان فرمائی۔ خطبہ کے آخر میں حسبِ روایت حضورانور نے مسجد ’’بیت العافیت‘‘ کے مختلف کوائف بیان فرمائے۔

… … … … … … …

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس خطبہ جمعہ کا مکمل متن 02؍نومبر 2018ء کے شمارہ میں شائع ہو چکا ہے۔

… … … … … … … …

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ خطبہ جمعہ ایک بج کر پچاس منٹ تک جاری رہا۔ بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نمازِجمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کرکے پڑھائی۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد میں لجنہ کے ہال میں تشریف لے گئے جہاں خواتین نے شرف زیارت پایا۔ بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد کے بیرونی احاطہ میں خواتین کی مارکیز میں بھی تشریف لائے۔ تعداد زیادہ ہونے کے باعث خواتین کے لئے علیحدہ مارکیز بھی لگائی گئی تھیں۔ حضورِانور نے تمام خواتین کو السلام علیکم کہا۔ یہاں بھی خواتین حضورانور کی زیارت سے فیضیاب ہوئیں۔بعدازاں حضورِانور ازراہِ شفقت خواتین کی کھانا کھانے والی مارکی میں تشریف لے گئے اور انتظامات کا معائنہ فرمایا۔ اس کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

……………………………

فلاڈلفیا کے میئر اور
کانگریس مَین کی ملاقات

پروگرام کے مطابق پانچ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے۔ جہاں فلاڈلفیا شہر کے میئر James Kenney صاحب اور کانگرس مین Hon. Dwight Evans صاحب نے حضورِانور سے ملاقات کی سعادت پائی۔ میئر نے مسجد کی تعمیر پر مبارکباد دی اور کہا کہ بڑی خوبصورت مسجد بنی ہے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ معاشرہ میں ہمیں مل جل کر اکٹھا رہنا چاہئے اور ایک دوسرے کے ساتھ رواداری دکھانی چاہئے۔حضورِانور نے میئر کا شکریہ ادا کیا اور دریافت فرمایا کہ آپ کے کام کرنے کا سسٹم کیا ہے اور میئر کتنے عرصہ کے لئے منتخب ہوتا ہے۔ اس پر میئر نے عرض کیا کہ ان کے تحت 17 کونسلرز ہیں جو اپنے اپنے ایریا میں کام کرتے ہیں اور میئر دو ٹرم کے لئے منتخب ہوسکتا ہے۔ ایک ٹرم چار سال کی ہوتی ہے۔ پہلی ٹرم 2021ء میں ختم ہوگی۔

میئر نے عرض کیا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ گوئٹے مالا میں اپنا ہسپتال کھول رہے ہیں۔ یہ بڑی اچھی بات ہے۔ اس طرح آپ انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔

کانگرس مین Dwight Evans صاحب نے عرض کیا کہ مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہے اور آج آپ سے ملاقات اور آپ کے پروگرام میں شامل ہونا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ موصوف نے کہا کہ میں حکومت کی ایگریکلچر کے بارہ میں کمیٹی کا ممبر ہوں۔ زراعت کی بہت اہمیت ہے۔ ہر کوئی کھانا پینا پسند کرتا ہے اور اس کی ہمیشہ بہت ضرورت رہتی ہے۔ حضورِانور نے زراعت کے حوالہ سے مختلف امور پر گفتگو فرمائی۔ نیز سمندر کے ذریعہ ٹریڈ کے حوالہ سے دریافت فرمایا کہ کس طرح ہوتی ہے۔ پورٹ بزنس کیسا ہے۔ اس پر کانگرس مین نے عرض کیا کہ ہمارا یہاں کا ٹریڈ نیویارک کی نسبت چھوٹا ہے۔ ہماری خصوصیت یہ ہے کہ ہم آنے والے جہازوں کو جلدی فارغ کردیتے ہیں۔

حضورِانور کے استفسار پر موصوف نے عرض کیا کہ فلاڈلفیا سے کانگرس میں دو کانگرس مین کی نمائندگی ہوتی ہے۔

یہ ملاقات پانچ بجکر پندرہ منٹ تک جاری رہی۔

پریس کانفرنس

اس کے بعد پروگرام کے مطابق پریس کانفرنس ہوئی۔ جس میں الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے درج ذیل صحافی حضرات جرنلسٹ اور نمائندگان شامل ہوئے۔

Religious News Service (RNS)۔ یہ ادارہ 1934ء سے قائم ہے۔ ان کے ایک سینئر صحافی اور ادارہ کی سوشل میڈیا کی مینیجر نے پریس کانفرنس میں شرکت کی۔

TVنیوز چینلز CBS 3 Philadelphia کے معروف رپورٹر نے شرکت کی۔

Metro US Philadelphiaفلاڈلفیا کا چوتھا بڑا اخبار ہے۔ اس اخبار کے نیوز ایڈیٹر اور سینئر صحافی نے شرکت کی۔

State Broadcast News ۔ (یہ ادارہ آڈیو، ویڈیو اور تصویری صحافت کے لئے مواد تیار کرتا ہے اور دوسرے ادارے اس مواد کو لے کر آگے استعمال کرتے ہیں) اس ادارہ کے فلاڈلفیا اور نیوجرسی کے علاقہ کے ایڈیٹر نے شرکت کی۔

Philadelphia Daily News۔ یہ اخبار فلاڈلفیا کے بڑے اخبارات میں دوسرے نمبر پر ہے۔اس کے کالم نگار نے شرکت کی۔

Philadelphia Ttribune یہ اخبار امریکہ میں شائع ہونے والا سب سے پرانا افریقن امریکن اخبار ہے۔ اس کے نمائندہ نے شرکت کی۔

Freelance Journalists۔ دو فری لانس کام کرنے والے صحافی جن کے مضامین مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں، انہوں نے بھی اس پریس کانفرنس میں شرکت کی۔

ایسے مسلمانوں کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہ جو اسلام کے نام پر انتہا پسندی پھیلاتے ہیں، حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا:

جو کچھ بھی میں کہتا آیا ہوں وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے اور اسلام لفظ کا مطلب ہی امن ہے۔ پس اگر کوئی مسلمان اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہوئے ان تعلیمات پر عمل نہیں کرتا تو یہ اُس کا اپنا رویہ ہے اور اُس کا اپنا عمل ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں تو صرف اپنے بارے میں اور اپنی جماعت کے بارے میں کہہ سکتا ہوں۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔

ایک جرنلسٹ نے سوال کیا : پھر آپ لوگوں کا ایسے رویوں پر کیا ردِ عمل ہے؟

اس کے جواب میں حضور انور نے فرمایا: ہم اسلام کی حقیقی تعلیمات پھیلاتے ہیں۔ ہم کسی کو مجبور نہیں کرسکتے۔ ہم صرف اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ آپ لوگ ہم سے کوئی ایسا رویہ نہیں دیکھیں گے۔ ہم صرف انہیں سمجھانے کی کوشش کرسکتے ہیں اگر وہ سمجھ جائیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیمات تو صرف محبت، پیار اور امن کا پرچار کرتی ہیں۔

ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ آپ فلاڈلفیا کے لوگوں کو اس مسجد اور اس مسجد میں آنے والوں کے حوالہ سے کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا کہ میں مسجد کے افتتاح کے موقع پر اس حوالہ سے تفصیل سے بات کروں گا۔

ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ اس علاقہ میں مسجد بنانے کی کیا اہمیت ہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا:

جہاں کہیں بھی ہماری جماعت قائم ہے، ہم وہاں مسجد بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک مذہبی جماعت کے لئے عبادت کرنے کی جگہ اشد ضروری ہے۔ خوش قسمتی سے ہمیں یہاں پر ایک اچھی جگہ میسر آگئی ہے۔ اگر ہمیں ڈاؤن ٹاؤن میں بھی جگہ ملتی تو ہم نے وہاں بنا لینی تھی۔ ہم نے اب یہاں فلاڈلفیا شہر کے اندر مسجد بنائی ہے، اس جگہ کاانتخاب کرنے میں کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ یہاں ہمیں اچھی قیمت پر اچھی زمین مل گئی ہے، اس لئے ہم نے یہاں مسجد تعمیر کرنے کا انتخاب کیا۔

ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ آپ یہاں فلاڈلفیا میں پہلی مرتبہ تشریف لائے ہیں۔ آپ نے کوئی مقامی کھانا کھایا ہے؟

اس کےجواب میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا :

میرے لوگوں نے مجھے اس حوالہ سے بتایا ہی نہیں کہ یہاں کوئی خاص مقامی کھانا ہے۔ انہیں چاہئے تھا کہ مجھے بتاتے۔ اگر آپ کوئی خاص چیز تجویز کرتے ہیں تو میں کوشش کروں گا۔ مجھے مختلف کھانے چیک کرنے کا شوق ہے۔

اس پر سوال کرنے والے نے عرض کی کہ میں Cheese Steak تجویز کروں گا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ احمدیہ جماعت کو یہاں امریکہ اور باقی دنیا میں کیا چیلنجز درپیش ہیں؟

اس کے جواب میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا:

آجکل لوگ اپنے خالق کو بھلاتے جارہے ہیں۔ ہم ایک مذہبی جماعت ہیں۔ احمدیہ جماعت کے بانی نے فرمایا تھا کہ میں دو اہم مقاصد لیکر آیا ہوں۔ پہلا یہ کہ لوگ اپنے خالق کو پہچانیں اور دوسرا یہ کہ لوگ ایک دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ کریں۔ تو یہاں امریکہ اور باقی دنیا میں ہمارے چیلنجز یہی دونوں مقاصد ہیں۔

سوال کرنے والے نے عرض کی کہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے آپ کا کیا پیغام ہے؟

اس پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا :

یہ پیغام ہے کہ ہمیں اکھٹے مل کر رہنا چاہئے۔ مذہب کا معاملہ انسان کے دل کے ساتھ ہوتا ہے اور اسلام اور قرآنِ کریم بڑے واضح انداز میں کہتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں تو بطور انسان مل جُل کر رہنا چاہئے اور باہمی پیار، محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہئے۔

ایک خاتون صحافی نے سوال کیا کہ آپ امریکہ میں اگلی چند دہائیوں میں احمدیہ مسلم جماعت کی کیا ترقی ہوتی دیکھ رہے ہیں؟

اس حوالہ سے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا

کہ ہم تو ہمیشہ پُر امید رہتے ہیں۔ مذہبی جماعتوں کی بڑھوتی بہت آہستہ ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ بالآخر ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم بنی نوع انسان کو اپنے خالق کے حقوق اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف لیکر جائیں۔ یہ وہ پیغام ہے جو کوئی بھی عقل رکھنے والا مسترد نہیں کرسکتا تاہم اس پیغام کو ماننے میں لوگوں کیلئے بعض دیگر رکاوٹیں حائل ہیں۔لیکن یہ پیغام بڑے وسیع پیمانے پر ان معنوں میں تسلیم کیا جاچکا ہے کہ اس پیغام کو سراہا جارہا ہے۔

٭یہ پریس کانفرنس ساڑھے پانج بجے تک جاری رہی۔

آج ’’مسجد بیت العافیت‘‘ کے افتتاح کے حوالہ سے مسجد کے ملٹی پرپز ہال (multi-purpose hall) میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔اس تقریب میں مختلف جماعتوں سے آنے والے جماعتی عہدیداران کے علاوہ 176 غیرمسلم اور غیرازجماعت مہمانوں نے شرکت کی۔ ان مہمانوںمیں درج ذیل احباب شامل تھے:

۔فلاڈلفیا کے میئر Hon. James Kenny،
۔کانگرس مین Hon. Dwight Evans،
۔ Mr. Tifaany Chang Lawson (موصوف ایشین پسیفک امریکن افیئرز کے حوالہ سے گورنر ٹام وولف (Tom Wolf)کمیشن کے ایگزیکٹوڈائریکٹر ہیں)،
۔Mr. Sharif Street سٹیٹ سینیٹرز Pennsylvania،
۔Mr. Keven Boyle (ممبر House of Pennsylvania Representatives)،
۔Mr. Al Taubenbergerسیٹی کونسل مین فلاڈلفیا،
۔Mrs. Jannie Blackwellسیٹی کونسل وومین فلاڈلفیا،
۔کونسل مین Mr. Curtis Jones،
۔کونسل وومین Mrs. Maria Quiones Sanchez،
۔کونسل مین Mr. Derek Green،
۔پروفیسر Istvan Varkonyi (Phd) موصوف پریذیڈنٹ آف ٹمپل یونیورسٹی کے نمائندہ کے طور پر آئے تھے۔
۔پروفیسر Heidi Grunwald (Phd) Co-Director ٹمپل یونیورسٹی سنٹر فار پبلک ہیلتھ لاء ریسرچ،
۔ Mr. Brian Goeddeکالج پروفیسر، کمیونٹی کالج فلاڈلفیا،
۔Judge Harry Schwartz،
۔Pastor Dr. Reverend John L. Payne

علاوہ ازیں ڈاکٹرز، ٹیچرز، وکلاء، جرنلسٹ، میڈیا کے نمائندے، تھنک ٹینک، سیکیورٹی کے اداروں کے نمائندے اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مہمان شامل تھے۔

(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button