الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم ودلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کئے جاتے ہیں۔

…………………………

مکرم عبدالرزاق بٹ صاحب مربی سلسلہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ11؍اکتوبر 2012ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق مکرم عبدالرزاق بٹ صاحب مربی سلسلہ 6؍اکتوبر 2012ء کو بعمر 65سال کسی غلط دوائی کے استعمال کے نتیجہ میں حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پا گئے۔ آپ موصی تھے۔

مکرم عبدالرزاق بٹ صاحب کے آبائو اجداد آزاد کشمیر سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ آپ 4؍اپریل 1947ء کو عالم گڑھ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ مڈل کرنے کے بعد ربوہ آ گئے اور جامعہ احمدیہ میںداخلہ لیا، 1971ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کر کے اسی سال میں مولوی فاضل اور میٹرک کے امتحانات پاس کئے۔ چند سال پاکستان کے مختلف علاقوں میں بطور مربی خدمات سرانجام دیں اور پھر 1975ء تا 1989ء غانا میں خدمت کی توفیق پائی۔ اس دوران 1979ء سے 1989 تک پرنسپل احمدیہ مشنری ٹریننگ کالج رہے۔ 1989ء میں یہ پاکستان آ گئے اور مختلف جگہوںپر مربی رہے۔ پھر اصلاح و ارشاد مرکزیہ کے تحت تربیتِ نَومبائعین میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اصلاحی کمیٹی کے بڑے کامیاب ممبر رہے۔ اِن کا سمجھانے کا انداز بڑا خوبصورت تھا۔ 2002ء سے تا وقت وفات نظارت اصلاح و ارشاد (نَومبائعین) اور اصلاحی کمیٹی میں خدمات بجا لاتے رہے۔

مکرم عبدالرزاق صاحب اعلیٰ صفات کے مالک ، بڑے خوش مزاج، ملنسار، ہنس مکھ، مہمان نواز ، غریبوں کے ہمدرد، ہر دلعزیز اور پسندیدہ شخصیت تھے۔ خلافت احمدیہ کے ساتھ والہانہ محبت اور عشق کا تعلق تھا۔ خاص طو رپر غانا میںحضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کو بہت یاد کرتے تھے۔ مرحوم کی طبیعت میں بہت خو د داری، قناعت اور کفایت شعاری پائی جاتی تھی۔ ہر حال میں خداتعالیٰ کا شکر ادا کرنے والے تھے۔ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ بہت محبت اور شفقت کرنے والے اور ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک روا رکھتے تھے۔ مسجد میں جاکر پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی کرتے، تہجدگزار اور بہت دعاگو تھے۔

مرحوم کی شادی 14؍دسمبر 1973ء کو محترم مولانا محمدمنور صاحب مرحوم مربی سلسلہ کی اکلو تی بیٹی محترمہ امۃالنور طاہرہ صاحبہ سے ہوئی۔ آپ کی اولاد میں 3بیٹے اور 5بیٹیاں شامل ہیں۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 12؍اکتوبر 2012ء کے خطبہ جمعہ میں مرحوم کا ذکر فرمایا اور بعدازاں نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

حضورانور نے فرمایا کہ مکرم عبدالرزاق بٹ صاحب کے والد غلام محمد کشمیری گجرات کے رہنے والے تھے اور بچپن سے ہی نماز کے بڑے عادی تھے اور اس وجہ سے اپنے علاقہ میں مولوی کہلاتے تھے۔ 1930ء میں انہوں نے بیعت کی تو ان کی اہلیہ ان کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ اُس وقت اُن کی ایک غیر احمدی سہیلی نے اُن سے پوچھا کہ کیا اُس نے احمدی ہوکر نمازیں پڑھنی چھوڑ دی ہیں؟ تو ان کی بیوی نے (یعنی رزاق بٹ صاحب کی والدہ نے) اُسے کہا کہ نہیں، نمازیں تو پہلے سے زیادہ پڑھنے لگ گئے ہیں۔ تو اس سہیلی نے کہا کہ پھر وہ کافر کس طرح ہوگیا۔ تو بہرحال پھر وہ واپس آگئیں، نیک فطرت تھیں۔

حضورانور نے فرمایا کہ عبدالرزاق صاحب کا کام تو فیلڈ میں مَیں نے دیکھا ہے۔ گھانا میں مَیں اُن کے ساتھ رہا ہوں۔ جس بے نفسی سے انہوں نے کام کیا ہے بہت کم مبلغین اس طرح کام کرتے ہیں۔ ان کا بیوی بچوں سے بڑا دوستانہ تعلق تھا۔ ہر جمعہ کو سب بیٹیوں کو دعوت پر بلایا کرتے تھے اور پھر سب کے ساتھ بیٹھ کے ٹی وی پر جمعہ کا خطبہ سنتے تھے۔ اپنی والدہ کی انہوں نے بڑی خدمت کی ہے۔ اپنے کامیاب وقف کا کریڈٹ بھی ہمیشہ اپنی والدہ کو دیتے تھے۔ ہمیشہ اپنے بچوں کو نمازوں اور دعاؤں کی تلقین کرتے رہتے۔ جو نمازیں پڑھنے والے بچے تھے، اُن سے زیادہ پیار اور محبت کا سلوک اور خوشی کا اظہار کرتے۔ ان کی پانچ چھ بچیاں تھیں۔ جب ان بچیوں کے رشتے آئے تو کوئی پوچھتا کہ کون لوگ ہیں، تو ان کو ہمیشہ انہوں نے یہی جواب دیا ہے کہ لڑکا نمازیں پڑھتا ہے اور چندے دیتا ہے تو اَور کیاچاہئے اور اگر میری بچی کے نصیب ہیں تو خالی گھر بھی بھر دے گی اور اگر نصیب میں نہ ہوا تو پھر بہت ساری لڑکیاں ایسی ہیں جو بھرے ہوئے گھر بھی خالی کر دیتی ہیں۔

حضورانور نے فرمایا کہ ان کو خلافت سے بڑی گہری محبت تھی۔ ان کے بیٹے کو کسی وجہ سے تعزیر ہو گئی تو جب تک اُس کی معافی نہیں ہوئی اُس سے بات نہیں کی اور کہتے تھے کہ جس سے خلیفۂ وقت ناراض ہے تو مَیں اُسے کس طرح گوارا کر لوں۔ یہاں بھی 2009ء میں آئے ہیں تو ان کے بیٹے کو سزا تھی لیکن مجھ سے کبھی اشارۃً بھی بات نہیں کی کہ اُس کو معاف کر دیں یا کیا صحیح ہے یا غلط ہے۔ بس یہی کہا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ اُس کو عقل دے۔ ہمیشہ نظام جماعت اور خلافت کے پابند رہے اور بچوں کو اسی کی تلقین کرتے رہے۔ بیماری کی حالت میں بھی عموماً چھٹی نہیں لیا کرتے تھے۔ اگر کوئی چھٹی کا کہتا تو کہتے جب دفتر جاؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔ اگر بچے کبھی مطالبہ کرتے کہ چھٹیاں ہیں، سیر پر لے جائیں تو کہتے تھے میری تو ساری زندگی جماعت کے لئے وقف ہے۔ اور یہ فقرہ یقینا اُن کا سطحی فقرہ نہیں تھا۔ انہوں نے ہر لمحہ جماعت کی خدمت کے لئے وقف کیا ہوا تھا اور اس کو انہوں نے کر کے بھی دکھایا۔

افریقہ میں مَیں ان کے ساتھ رہا ہوں۔ اُس وقت بڑے تنگ حالات ہوتے تھے۔ لیکن بڑی خوشی سے انہوں نے وہاں اپنے دن گزارے ہیں۔ بیمار بہت زیادہ ہوتے رہے۔ ملیریا ہو جاتا تھا۔ ہسپتالوں میں داخل ہوتے رہے، لیکن جب بھی ٹھیک ہوتے فوراً اپنا کام شروع کر دیتے اور وہاں بھی محبت اور پیار کی وجہ سے لوگ ان کے بہت قائل تھے۔ میں جب وہاں گیا ہوں تو یہ پہلے سے وہاں مشنری تھے۔ انہوں نے بہت کچھ وہاں کے حالات کے بارہ میں اور بہت ساری چیزوں کے بارے میں مجھے بتایا، سمجھایا۔ اس طرح میری کافی رہنمائی کرتے رہے۔

…………

مکرمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ13؍اکتوبر 2012ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ 6؍اکتوبر 2012ء کو کینیڈا میں 75 برس کی عمر میں برین ہیمرج سے وفات پاگئیں۔ حضورانور ایدہ اللہ نے 12؍اکتوبر2012ء کے خطبہ جمعہ میں مرحومہ کا ذکرخیر فرمایا اور بعدازاں نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

حضورانور نے فرمایا کہ مکرمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ نے 1964ء میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور سے MBBS کیا۔ ہاؤس جاب کرنے کے بعد ترقی کے کافی مواقع تھے مگر فضل عمر ہسپتال ربوہ میں گائنی کے شعبہ میں ڈاکٹر کی ضرورت تھی، اس لئے وہاں چلی گئیں اور 1965ء سے فضل عمر ہسپتال جوائن کر لیا۔ 1964ء میں ایچی سن ہسپتال لاہور میں ہاؤس جاب کر رہی تھیں کہ اس دوران انگلینڈ میں جاب کے لئے درخواست دی جس پر ان کو ایمپلائمنٹ واچر مل گیا۔ ٹکٹ کا انتظام بھی ہو گیا۔ انگلینڈ جانے کی تیاریاں مکمل تھیں کہ الفضل میں فضل عمر ہسپتال ربوہ میں لیڈی ڈاکٹر کی اسامی کا اشتہار دیکھا۔ ساتھ ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا پیغام بھی تھا کہ اگر کوئی احمدی لیڈی ڈاکٹر نہیں آتی تو کسی عیسائی ڈاکٹر کا انتظام کر لیں۔ اس پر انہوں نے لندن جانے کا پروگرام کینسل کیا۔ باوجود اس کے کہ گھر میں سفید پوشی اور دس بہن بھائی تھے۔ والد سیکشن افسر تھے لیکن بہر حال مالی تنگی تھی اور والد نے بھی اُدھار لے کر ان کو ایم بی بی ایس کروایا تھا۔ ان حالات کے باوجود اُسی دن لاہور سے ربوہ آنے کے لئے تیاری شروع کر دی۔ اپنے ہسپتال میں جا کر اپنی MS سے اجازت طلب کی تو اُس نے پوچھا کہ تمہیں وہاں تنخواہ کیا ملے گی؟ اِنہوں نے بتایا کہ شاید 230 روپے ماہانہ الاؤنس ملے گا تو اُس نے کہا مَیں تمہیں ساڑے پانچ سو روپے دلواتی ہوں، تمہارا مستقبل بھی اس جاب سے وابستہ ہے۔ مگر انہوں نے یہ آفر منظور نہ کی اور کہا کہ میں پیسوں کی خاطر تو نہیں جا رہی، میرے پاس تو انگلینڈ کا ایمپلائمنٹ واچر بھی موجود ہے، ٹکٹ کا انتظام بھی ہے اور وہاں داخلہ بھی ہو چکا ہے۔ مگر میں یہ سب کچھ چھوڑ کر ربوہ جارہی ہوں۔ اس پر MS نے جواب دیا کہ آپ بہت عظیم عورت ہیں، اپنی جماعت کی خاطر اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ اُس نے اِن کو اپنی بہترین ہاؤس جاب اسسٹنٹ کا سرٹیفکیٹ دیا اور یوں وہ ربوہ آگئیں اور 1984ء تک فضل عمر ہسپتال میں بطور لیڈی ڈاکٹر خدمت کی توفیق پائی۔

ربوہ میں اُس زمانے میں لیڈی ڈاکٹر کوئی نہیں تھی بلکہ ارد گرد کے علاقوں میں بھی کوئی نہیں تھی۔ سردی ہو یا گرمی، رات کو بھی دو یا تین بجے، کسی بھی وقت کوئی مریض آتا تو فوراً بستر چھوڑ کر مریض دیکھنے چلی جاتیں۔ ان کے بارہ میں بیان ہوتا ہے کہ ولیمہ والے دن دلہن بن کے بیٹھی تھیں کہ ہسپتال سے ایمرجینسی کی کال آگئی تو اپنے اُسی لباس میں وہاں سے اُٹھیں اور ہسپتال چلی گئیں اور مہمانوں نے ان کے بغیر ہی بعد میں کھانا کھا لیا۔ بہرحال انہوں نے وقف کی روح کے ساتھ اپنے خدمت کے عہد کو نبھایا۔

غریبوں کی بڑی مدد کیا کرتی تھیں۔ ان کا مفت علاج کر دیا کرتی تھیں۔ وہاں علاقہ میں رواج ہے، لوگ جھوٹ بول کے اپنی مشکل بیان کر دیتے ہیں تو کبھی یہ نہیں کہا کہ تم جھوٹی سچی ہو، تحقیق کروں گی۔ جو کسی نے کہا اعتبار کر لیا اور مفت علاج بھی کیا اور ساتھ دوائیاں بھی دے دیں۔ ان کے میاں کہتے ہیں کہ کئی دفعہ اس طرح ہوا کہ وہ رات ہسپتال میں گزارتی تھیں۔ صبح میاں کام پر جارہے ہوتے تھے اور وہ ہسپتال سے واپس آرہی ہوتی تھیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ایک دفعہ مجلس شوریٰ میں ان کے پردہ کی بھی مثال دی تھی کہ کسی نے پردہ میں رہ کر کام کرنا سیکھنا ہے تو ڈاکٹر فہمیدہ سے سیکھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بھی ان کے متعلق فرمایا کہ بڑی قربانی کرنے والی عورت ہیں اور بہت کم لوگوں کو ایسی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ جب انہوں نے 1964ء میں ہسپتال جائن (join) کیا تو حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کو ملنے گئیں تو حضورؓ نے فوراً الحمدللہ کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں۔

ایک دفعہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں اعتکاف بیٹھنا چاہتی ہوں تو انہوں نے فرمایا: میرے مریض دیکھو۔ مَیں تمہارے لئے بہت دعائیں کروں گا، آپ کا اعتکاف یہی ہے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو ان کی شاعری بہت پسند تھی۔ بڑی اچھی شاعرہ تھیں۔ بے ساختگی بھی تھی اور پختگی بھی تھی، دلی جذبات بھی تھے۔ سات شعری مجموعے ان کے چھپ چکے ہیں۔ خلیفۃ المسیح الرابعؒ جب ہجرت کے بعد یہاں آئے ہیں تو انہوں نے اپنی نظم بھیجی جس کا ایک شعر تھا کہ

گھر پہ تالا پڑا ہے مدّت سے

اُس سے کہہ دو کہ اپنے گھر آئے

تو حضور رحمہ اللہ نے اس شعر کو بڑا سراہا۔ فرمایا کہ ڈاکٹر فہمیدہ کا یہ بڑی بوڑھیوں کے سے انداز سے ڈانٹنا مجھے بڑا پسند آیا ہے۔

مرحومہ نے ہمیشہ اپنے بچوں کو، بہن بھائیوں کو نصیحت کی کہ اگر دنیا میں عزت چاہتے ہو تو خلافت سے ایسے وابستہ ہو جاؤ کہ اپنی ہستی کو اس راہ میں مٹادو۔

ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ کہتی ہیں کہ بہت تحمّل مزاج اور خوش اخلاق ڈاکٹر تھیں۔ اُس وقت نامساعد حالات تھے۔ سہولتیں بھی موجود نہیں تھیں لیکن انتہائی لگن اور محنت سے انہوں نے کام کیا۔ اپنے کام میں اعلیٰ درجہ کی مہارت تھی۔ مریضوں کے ساتھ بہت مروّت اور محبت کا سلوک تھا اور ان کے مریض ان کو آج بھی یاد رکھتے ہیں۔

ایک دفعہ نظمیں کہنے کا مقابلہ تھا اور ایک مصرعہ دیا گیا۔ ان کی یہ عادت تھی کہ کافی عاجز تھیں تو انہوں نے اس کے آخر میں نام پتہ کی جگہ پر لکھا: ’’خدمتِ خلق، لکھنا لکھانا، خانہ داری، دعائے خاتمہ بالخیر‘‘۔

یہ صرف الفاظ ہی نہیں ہیں بلکہ یہ بے نفس خاتون تھیں اور انہوں نے بڑی بے نفس خدمت کی ہے۔ اپنی زندگی کا خلاصہ انہوں نے بیان کیا اور یقیناً یہ خدمتِ خلق کرنے والی تھیں اور گھریلو ذمہ داریوں کو نبھانے والی تھیں۔ آخرت پر نظر رکھنے والی تھیں۔ بڑی نافع الناس وجود تھیں اور ان کا خاتمہ بھی مَیں سمجھتا ہوں خاتمہ بالخیر ہی ہوا ہے۔ کیونکہ حدیث کے مطابق جب لوگ کسی کی تعریف کریں تو جنت اُس پر واجب ہو جاتی ہے اور یہ اُنہی لوگوں میں سے ایک تھیں۔

…………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button