اسلام آباد(پاکستان) کی ہائی کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد(پاکستان) کی ہائی کورٹ کا فیصلہ (ایک تجزیہ) (قسط نمبر5)

(ڈاکٹر مرزا سلطان احمد)

کیا 1971ء میں احمدیوں کی وجہ سے ملک ٹوٹا تھا؟ الزامات اور حقائق

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے جماعت ِ احمدیہ کے بارے میں جو تفصیلی فیصلہ تحریر کیا ہے ، اس میں جماعتِ احمدیہ کی تاریخ کا ایک طویل تجزیہ پیش کیا ہے اور اس سے کچھ نتائج نکالنے کی کوشش کی ہے ۔ ہم گزشتہ اقساط میں اس فیصلہ میں 1953ءتک کے حالات کا جو تجزیہ پیش کیا تھا ، اس پر تبصرہ کر چکے ہیں۔ اس کے بعد ہم 1960ء کی دہائی کی طرف آتے ہیں۔

جس طرح 1953ءکے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ذات کو نشانہ بنایا ہے، اسی طرح 1960ءکے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب( ایم ایم احمد ) کی ذات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اور اسی طرز پر بنایا ہے جس طرح حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ذات کو بنایا گیا تھا۔اور یہ تأثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جب پاکستان میںاحمدی اعلیٰ عہدوں پر پہنچ جاتے تھے تو وہ پاکستان کے مفادات کے لئے کام کرنے کی بجائے بڑی طاقتوںکے آلہ کار بنے رہتے تھےاور ان کے مفادات کے لئے کام کرتے اور اس کے عوض بڑی طاقتیں مدد کرتی تھیں اور اس مدد پر پاکستان کا انحصار بڑھ جاتا تھا۔گویا مالی اعداد و شمار کی مدد سے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ خدانخواستہ احمدی اپنے وطن کے وفادار نہیںبلکہ بڑی طاقتوں کے آلہ کار ہوتے ہیںاور ماضی میں بھی اکثر اس طرزپر احمدیوں کے خلاف تعصب کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی ہے۔ایک مذہبی بحث میں کبھی سیاسی اور کبھی مالی امور کا ذکر عجیب تو لگتا ہے بہر حال جن موضوعات پر اعتراضات کئے گئے ہیں ان کے حقائق سامنے رکھنا ضروری ہے۔

1952ءاور 1971ءکے دوران امریکی مدد میں نشیب و فراز کیوں آئے؟

اس فیصلہ کے صفحہ49پر لکھا ہے:

"In view of a tilt towards the US in foreign policy, the economic assistance from America which was less than $10 million in 1952 rose to $380 million in 1963. Pakistan responded with acts of friendship.’ Mirza Muzaffar Ahmad (M.M Ahmad), the grandson of Mirza Ghulam Ahmad, a notorious bureaucrat became Finance Secretary and afterwards the Deputy Chairman of the Planning Commission of Pakistan.”

ترجمہ: خارجہ پالیسی میں امریکہ کی طرف جھکائو کے پس منظر میں امریکہ کی طرف سے اقتصادی مدد جو کہ 1952ءمیں10ملین ڈالر تھی 1963ءمیںبڑھ کر 380ملین ڈالر ہو گئی ۔ اور پاکستان اس کا جواب ‘دوستی کے اقدامات ‘سے دینے لگا۔مرزا مظفر احمد( ایم ایم احمد) کو،جو کہ مرزا غلام احمد کا پوتا اور بہت بدنام سرکاری ملازم تھا پہلے سیکرٹری خزانہ اور پھر پاکستان کے پلاننگ کمیشن کا ڈپٹی چیئر مین لگا دیا گیا۔
اس طویل فیصلہ میں اپنے ہی کئی حصوں کی تردید کا مواد موجود ہے۔جیسا کہ گزشتہ قسط میں حوالے درج کئے گئے تھے کہ 1953ءمیں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ حکومت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ہٹاتے ہوئے اس لئے جھجک رہی تھی کیونکہ اگر انہیں ہٹایا جاتا تو امریکہ مدد بند کر دیتا۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے 1954 ءمیں وزارت ِ خارجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اور اوپر کے حوالے میں اعتراف کیا گیا ہے اور ہم نے گزشتہ قسط میں اعداد و شمار بھی پیش کئے تھے کہ اس کے بعد بھی 1963ءتک امریکہ کی مدد میں کئی گنا کا اضافہ ہوتا رہا۔ اور بعد کے جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تأثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ اس لئے ہو رہا تھا کہ مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو سیکرٹری خزانہ لگا دیا گیا تھا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایم ایم احمد مارچ 1963ءمیں سیکرٹری خزانہ بنے اور مئی 1966ءتک اس عہدے پر مقرر رہے۔خود اس عدالتی فیصلہ میں درج اعداد و شمار کے مطابق امریکی مدد میں بہت تیزی سے اضافہ آپ کے سیکرٹری خزانہ بننے سے قبل ہوا۔

جیسا کہ گزشتہ قسط میں عرض کیا گیا تھا کہ جب تک چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیرِ خارجہ تھے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو کوئی ملٹری ایڈ نہیں ملی تھی اور آپ کے استعفیٰ کے بعد اس مدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔ لیکن اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان سالوں میں مسلسل امریکہ کی حکومت کا موقف یہ تھا کہ پاکستان سے عسکری تعاون کیا جائے گا لیکن پاکستان کی افواج کمیونزم کے پھیلائو کو روکنے کے لئے اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادیوں کی حفاظت کے لئے امریکہ کی مدد کریں گی ۔لیکن کشمیر کے معاملہ میں اور بھارت کے ساتھ تنازعہ میں امریکہ پاکستان کی مدد نہیں کرے گا اور غیر جانبدار رہے گا۔ بحیثیت وزیرِ خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے آخری مذاکرات منیلا کانفرنس کے موقع پرتھے۔جبکہ سیٹو(SEATO)کے قیام کے لئے مذاکرات ہو رہے تھے اور امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا اور دوسرے کئی ممالک کے وزراءِ خارجہ بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ اس موقع پر بھی امریکہ نے بھی اس یادداشت کے ساتھ دستخط کئے تھے کہ امریکہ صرف کمیونزم کی جارحیت کو روکنے کے لئے عسکری طور پر اس معاہدہ میں شامل ہوگا۔ دوسری طرف چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا موقف یہ تھا پاکستان کو فائدہ تبھی ہےکہ جب بھی پاکستان کو جارحیت کا سامنا ہو اس وقت امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کی عسکری مدد کریں۔ مثلاََ اگر کشمیر پر جنگ ہوجائے تو اس معاہدے کی رُو سے ان طاقتوں کو پابند ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان کی مدد کریں۔ ورنہ پاکستان صرف یکطرفہ طور پر اپنی افواج کی مدد پیش کرنے کا پابند ہوگا۔اور اس کانفرنس کے موقع پر خاص طور پر امریکہ کے وزیرِ خارجہ Dullesاورچوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا واضح اختلاف سامنے آیا تھا۔ جب معاہدے پر دستخط کرنے کا مرحلہ آیا تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس کو منظور کر نے کے لئے دستخط نہیں کئے بلکہ اس عبارت پر دستخط کئے تھے کہ یہ معاہدہ حکومت ِ پاکستان کو بھجوایا جائے گا وہ پاکستان کے آئین کے مطابق اس معاہدے کےبارے میں فیصلہ کرے گی ۔اس کے معاََ بعد چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزارتِ خارجہ سے رخصت ہو گئے ۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے استعفیٰ کے فوراََ بعد پاکستان کے وزیر ِ اعظم محمد علی بوگرہ نے امریکہ کا دورہ کیا۔ تقریباََ تین ماہ کے بعد ہی محققین کے مطابق جن کے حوالے درج کئے جا رہے ہیں، پاکستان نےامریکہ کے دبائو کے باعث امریکہ کی سابقہ شرائط پر ہی اس معاہدہ کو منظور کر لیا ۔ اور اس کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ملٹری مدد ملنی شروع ہوئی ۔اب جبکہ ان واقعات کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں ، یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان کے مفاد میں یہی تھا کہ وہ انہی شرائط پر معاہدے میں شامل ہوتا جن کو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پیش کر رہے تھے۔

(SEATO The Failure of an Alliance Strategy, by Leszek Buszynski, published by Singapore University Press 1983 p 33-39)
(Crossed Swords, by Shuja Nawaz, published by Oxford University Press p 99)

سیاست کے میدان میں ہمیشہ مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ہر کوئی آزاد ہے جس رائے کو چاہےپسند کرے اور اس کی حمایت کرے ۔ اس تحریر کا مقصد کوئی سیاسی بحث کرنا نہیں ہے۔لیکن ان تاریخی حقائق کی موجودگی میں یہ دعویٰ کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب امریکہ کے لئے کام کر رہے تھے اور اس کے عوض امریکہ کچھ مدد کر دیتا تھا ایک بچگانہ مفروضے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔حقائق اس مفروضے کی مکمل تردید کر رہے ہیں۔

ایم ایم احمد کے سیکرٹری خزانہ بننے کے بعد امریکی مدد پر کیا اثر پڑا؟

جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اس فیصلہ میں یہ تأثر پیش کیا گیا ہے کہ ایم ایم احمد کو پاکستان کا سیکرٹری خزانہ بنایا گیا تو امریکہ کی امداد تیزی سے بڑھنی شروع ہوئی اور پاکستان کا اس امداد پر انحصاربڑھ گیا۔ اور پاکستان کو اس کے عوض امریکہ کے لئے ‘دوستی کے اقدامات ‘ اُٹھانے پڑے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلہ میںکہا گیاہے کہ 1952ءسے لے کر1963ء تک امریکہ کی مدد کئی گنا ہو گئی ۔حقیقت یہ ہے کہ اس دور کا ایم ایم احمد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ایم ایم احمد تو 6مارچ 1963ءکو سیکرٹری خزانہ بنے تھے اور 30مئی 1966ء تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔حقیقت یہ ہے کہ 1962ءمیں امریکی مدد سب سے زیادہ تھی اور اس کے بعد یہ مدد کم ہوتی رہی۔ 1963ءمیں امریکہ کی اقتصادی مدد 2066ملین ڈالر تھی اور1966ءمیں یہ مدد کم ہو کر 816ملین ڈالر رہ گئی۔ اور 1963ءمیں امریکہ کی ملٹری مدد 299ملین ڈالر تھی جو کہ1966ءمیں کم ہو کر صرف 8ملین ڈالر رہ گئی۔گویا اُن سالوں میں جن میں ایم ایم احمد سیکرٹری خزانہ تھے امریکہ کی مدد پر انحصار کئی گنا کم ہوگیا تھا۔ اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین بغیر کسی ثبوت کے جو الزامات اور مفروضے پیش کرتے ہیں، حقائق اس سے بالکل اُلٹ منظر پیش کر رہے ہیں۔حوالہ درج کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان اعداد و شمار کا خود تجزیہ کر سکے۔

(Note: All figures are in US$ )millions(. Figures are adjusted for inflation and presented in 2009 constant dollars Source: Wren Elhai, Center for Global Development, 2011
https://www.theguardian.com/global-development/poverty-matters/2011/jul/11/us-aid-to-pakistan. Accessed on 18.8.2018)

اس کے علاوہ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے فیصلے ساری حکومت کر تی ہے اور تنہا وزیرِ خارجہ یا سیکرٹری خزانہ کو ان کا ذمہ دار نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اگر ان کا الزام قبول کیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہےکہ باقی ساری حکومت یا تو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی یا کام کرنے کی بجائے خواب ِ غفلت کا شکا ر تھی جو انہیں معلوم ہی نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا گیا ہے۔

کیا ایم ایم احمد اور ان کے بنائے ہوئے پانچ سالہ منصوبوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا؟
اس کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب یہ الزام لگاتے ہیں:

"He was deemed to be responsible for creating regional imbalances in Pakistan economy in collaboration with the Zionist backed economic groups like Ford Foundation and Harvard Advisory Group. These Groups transmitted a stream of economists to the Planning Commission and Provincial Planning Departments to prepare Five Year Plans of Pakistan. The defective planning resulted in East-West disparity and consequently loss of Eastern Wing of the country. [ The Ahmadiya Movement by Bashir Ahmed M.A.] page 49

ترجمہ: ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فورڈ فاؤنڈیشن اور ہارورڈمشاورتی گروپ جیسے صیہونی گروہوں کے تعاون سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں اقتصادی عدم توازن پیدا کرنے کے ذمہ دار تھے۔ان گروہوں نے اقتصادی مشیروں کا ایک سلسلہ پلاننگ کمیشن میں اور صوبائی منصوبہ بندی کے شعبوں میں بھجوایا۔ اور جو ناقص منصوبہ بندی کی گئی اس کے نتیجہ میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان اقتصادی عدم توازن بڑھا اور آخر میں ملک کا مشرقی حصہ علیحدہ ہو گیا۔

فیصلہ کے اس حصہ میں افسانوی انداز میں یہ سنسنی پیدا کی گئی ہے کہ ایک نمایاں احمدی کی سازش اور وہ بھی صیہونی گروہوںکے ساتھ کی گئی سازش کی وجہ سے ملک میں اس طرح کی ناقص اقتصادی منصوبہ بندی کی گئی کہ ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔اور دلیل کیا ہے ؟ صرف جماعت ِ احمدیہ کے اشد ترین مخالف کی کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو کہ لکھی ہی جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت کے لئے گئی تھی۔ اور اس کتاب میں کیا دلیل پیش گئی ؟ اس کتاب میں اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں پیش کی گئی۔

بہر حال ہم اس الزام کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ خواہ وہ سیکرٹری خزانہ ہو یا منصوبہ بندی کمیشن کا ڈپٹی چیئر مین ہو وہ اکیلا اتنے بڑے اقدامات اُٹھا ہی نہیں سکتا کہ اپنی مرضی کا پانچ سالہ منصوبہ بنا دے یا ملک کے تمام اقتصادی اوردیگر معاملات کو بیرونی عناصر کے ساتھ سازش کر کے اتنا بگاڑ دے کہ ملک تقسیم ہو جائے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو۔ اتنی بڑی اور کھلم کھلا سازش ہوگئی اور پارلیمنٹ کو علم نہیں ہوا، کابینہ کو علم نہیں ہوا، اور باقی سرکاری مشینری کو بھی علم نہیں ہوا اور ملک ٹوٹ بھی گیا۔سربراہِ حکومت تو اس کمیشن کا صدر ہوتا تھا لیکن اس کمیشن کو چلانے والا عملاََاس کمیشن کاڈپٹی چیئر مین ہوتا تھا۔ سربراہ ِ حکومت کے بعد اگر کوئی شخص پانچ سالہ منصوبے پر اثر انداز ہو سکتا تھا تو وہ اس کمیشن کا ڈپٹی چیئر مین ہو سکتا تھا۔اور چند سال کے لئے ایم ایم احمد بھی اس کمیشن کے ڈپٹی چیئر مین رہے تھے۔
الزام یہ ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر ایسے پانچ سالہ منصوبے بنا ئے کہ آخر میں ملک ٹوٹ گیا۔ جب ہم ملک ٹوٹنے کے سانحہ سے قبل کے بننے والے پانچ سالہ منصوبوں کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی منصوبہ ایم ایم احمد کی نگرانی میں نہیں بنا تھا۔ ان میں سے کسی منصوبے کے بنتے وقت آپ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئر مین نہیں تھے۔پہلے پانچ سالہ منصوبے کو تیار کرنے والے زاہد حسین صاحب تھے جو کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پہلے گورنر تھے۔ اسی طرح دوسرے پانچ سالہ منصوبہ کو بنانے میں آپ کا کوئی کردار نہیں تھا۔اسی طرح تیسرا پانچ سالہ منصوبہ سعید حسن صاحب ڈپٹی چیئر مین پلاننگ کمیشن کی نگرانی میں بنا تھا ۔ اور اس کے مسودہ سے پہلے صدر ایوب اور سعید حسن صاحب کے لکھے ہوئے طویل دیباچے موجود ہیں ، ان میں ایم ایم احمد کا نام تک نہیں ہے۔ہم یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ اگر اتنا بڑا سانحہ صرف پانچ سالہ منصوبوں کی وجہ سے ہوا تھا تو پھر اُس وقت کے سربراہان ِ حکومت، زاہد حسین صاحب اور سعید حسن صاحب کو موردِ الزام کیوں نہیں ٹھہرایا جا رہا ؟ ایم ایم احمد کو الزام کیوں دیا جا رہا ہے؟ اوپر درج کی گئی معلومات اس الزام کو غلط ثابت کر دیتی ہیں۔

( تیسرا پنج سالہ منصوبہ 1965-1970، از پلاننگ کمیشن حکومت ِ پاکستان ۔پیش لفظ و دیباچہ )

ایم ایم احمد کے بارے میں بنگلہ دیش کے پہلے وزیرِ قانون کی گواہی

کسی سیاسی بحث سے احتراز کرتے ہوئےیہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اُس وقت پاکستان کے دو لخت ہونے کا سب سے بڑا سبب یہ ہوا تھا کہ انتخابات میں جیت کے بعد منتخب نمائندوں کو یعنی مشرقی پاکستان میں بھاری اکثریت حاصل کرنے والی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل نہیں ہو سکا تھا۔ اور مرکزی نکتہ یہ تھا کہ عوامی لیگ کے چھ نکات پر مغربی پاکستان کے نمائندوں ، عوامی لیگ اور اُس وقت کی حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ اور مشرقی پاکستان کے نمائندوں کو یہ شکوہ تھا کہ با وجود اس کے کہ وہ الیکشن میں اکثریت حاصل کر چکے تھے ان کے ساتھ مذاکرات میں مفاہمت کا روّیہ نہیں دکھایا گیا اور آخر میں جب ملٹری آپریشن شروع ہوا تو مفاہمت کے راستے بند ہو گئے۔ بد قسمتی سے یہ دُوریاں اتنی بڑھیں کہ آخر میں ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔بنگلہ دیش کے پہلے وزیر ِ قانون اور بنگلہ دیش کا آئین مرتب کرنے والے کمیشن کے چیئرمین کمال حسین صاحب نے ان حالات پر ایک کتاب تحریر فرمائی ہے۔وہ خود ان مذاکرات میں شامل تھے ۔ انہوں نے ان مذاکرات کا تجزیہ پیش فرمایا ہے۔اور یہ مذاکرات تقریباََ تین ماہ وقفے وقفے سے چلے تھے۔ اور کچھ مالی نکات ایسے تھے جس وجہ سے مفاہمت ہونے کے راستے بند نظر آ رہے تھے۔ان مذاکرات میں صرف ایک روز یعنی 23مارچ1971ءکے لئے ایم ایم احمد مالی معاملات کے بارے میں عوامی لیگ کے نمائندوں سے مذاکرات کرنے کے لئے شامل ہوئے تھے اور خود کمال حسین صاحب تحریر کرتے ہیں کہ اس روز مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی اور ایم ایم احمد لچک اور مفاہمت کا مظا ہرہ کر رہے تھے۔ وہ لکھتے ہیں

"Indeed M.M.Ahmed started by saying that he thought that the Six Points scheme could be given effect to with some minor practical adaptations.”

ترجمہ: حیران کن طور پر ایم ایم احمد نے بات کا آغاز ہی یہ کہہ کر کیا کہ اُن کے نزدیک چھ نکات کی سکیم کو چند معمولی تبدیلیو ں کے ساتھ اپنایا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل جب بھٹو صاحب اور عوامی لیگ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات اس بات پر رُک گئے تھے کہ بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ وہ غیر ملکی تجارت اور غیر ملکی امداد کے بارے میں اپنے موقف سے نہیں ہٹ سکتے ۔ لیکن جب ایم ایم احمد کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو کمال حسین صاحب لکھتے ہیں:

” M.M. Ahmad even showed some flexibility in respect of foreign trade and aid.”

ترجمہ: یہاں تک کہ ایم ایم احمد نے غیر ملکی تجارت اور امداد کے معاملے میں بھی کچھ لچک دکھائی۔
کمال حسین صاحب لکھتے ہیں کہ ایم ایم احمد نے اپنی تجاویز کچھ کاغذوں پر لکھ کر دیں۔ ہم ایم ایم احمد کی تجاویز لے کر عوامی لیگ کے ماہرین ِ اقتصادیات کے ساتھ میٹنگ کے لئے گئے اور ہم نے ان تجاویز کے مطابق مسودہ تیار کر لیا جس پر مفاہمت مکمل ہوجاتی ۔لیکن وہ لکھتے ہیں کہ اس سے قبل ہی یحییٰ خان صاحب اور ان کے چند ساتھی اس وقت ملٹری آپریشن کا فیصلہ کر چکے تھے اور ڈھاکہ میں اس کی تیاریاں کر رہے تھے اور جب ہم واپس آئے تو یحییٰ خان صاحب ڈھاکہ کے ایوان ِ صدر میں موجود نہیں تھے۔بہر حال ایم ایم احمد کو 24 مارچ کومغربی پاکستان واپس بھجوا دیا گیا اور25مارچ کو ملٹری آپریشن شروع ہو گیا اور ڈاکٹر کمال حسین صاحب کو بھی گرفتار کر لیا گیا ۔اس طرح مفاہمت کا یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔

کمال حسین صاحب کی کتاب کے صفحہ 59سے صفحہ 103تک ان پیچیدہ مذاکرات کی تفصیلات لکھی ہوئی ہیں۔ ہر کوئی انہیں پڑھ کر اپنی آزادانہ رائے قائم کر سکتا ہے۔ وہ مرحلہ جب ایم ایم احمد ایک روز کے لئے مذاکرات میں شامل ہوئے، ان ایک دو مواقع میں شامل تھا جب مفاہمت ہوتی نظر آ رہی تھی۔ورنہ جیسا کہ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ عمومی طور پر مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو رہی تھی۔اگر اسی طرح سب مفاہمت کی سوچ کے ساتھ مذاکرات کر کے پیش رفت کرتے تو اس سانحہ کی نوبت نہ آتی۔لیکن حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ شروع ہی سے صدر یحییٰ خان صاحب کا ارادہ ہی نہیں تھا کہ مذاکرات کامیاب ہوں ۔ چنانچہ مذاکرات کے دوران ہی ملٹری آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔

(Bangladesh Quest for Freedom and Justice, by Kamal Hossain, published by Oxford University Press 2013, p101-102)

(The Report of the Hamoodur Rahman Commission, published by Vanguard, p 88, 93)

حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی گواہی

جیسا کہ ہم حوالہ درج کر چکے ہیں ، اس فیصلہ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ1971ءمیں ملک ٹوٹنے کا سانحہ بھی ایک احمدی کی وجہ سے ہوا۔جس حوالے سے یہ الزام لگایا ہے وہ تو واضح طور پر غلط ثابت ہوتا ہے۔ لیکن کوئی معترض یہ الزام لگا سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایم ایم احمد پانچ سالہ منصوبوں کو بنانے کے انچارج نہ ہوں لیکن 1960ءکی دہائی میں ملک کے اقتصادی نظام میں آپ کا بہر حال ایک نمایاں مقام تھا ۔ اور آپ کی بنائی ہوئی اقتصادی پالیسیاں ایسی تھیں بلکہ ایک سازش کے تحت ایسی بنائی گئی تھیں کہ ملک میں ایسے حالات پیدا ہوئے اور ملک کے دو حصوں میں فرق اتنا بڑھ گیا کہ اس کی وجہ سے ملک تقسیم ہو گیا ۔ اوّل تو اس مقدمہ میں یہ موضوع غیر متعلقہ تھا لیکن اگر اس موضوع پر تبصرہ کرنا تھا تو یہ بات کیوں فراموش کر دی گئی کہ اس سانحہ کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا جس کی صدار ت پاکستان کے چیف جسٹس جناب حمود الرحمن صاحب کر رہے تھے اور اب تو اس کی رپورٹ شائع بھی ہو چکی ہے۔اس کا حوالہ دینے کی بجائے ایک غلط مفروضے کو بنیاد بنا کر نتیجہ نکالنے کی کوشش کیوں کی گئی ؟اس کمیشن کے صدر جناب حمود الرحمن صاحب کا تعلق بھی بنگال سے تھا۔اس کمیشن کی رپورٹ کا ایک باب 1960ءکی دہائی کے سیاسی اور اقتصادی حالات کے تجزیہ کے بارے میں ہے۔ اس میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ اس دہائی میں کیا حالات پیدا ہوئے کہ آخر میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔اس میں سیاسی اور آئینی غلطیوں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے اور اقتصادی عدم توازن کے الزام کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ لیکن نتیجہ یہی نکالا ہے کہ اس دہائی میں ہونے والی غلطیاں سیاسی نوعیت کی تھیں۔ اقتصادی نہیں تھیں ۔یہ دور اقتصادی ترقی کا دور تھا۔ اس باب کے آخر میں یہ نتیجہ درج ہے:

” It was a period of comparative stability and considerable development in all fields even in East Pakistan. It was a period in which Pakistan had grown in no small measure in stature and acquired prestige amongst the Nations of the world but unfortunately lacked political maturity,”
(The Report of the Hamoodur Rahman Commission, published by Vanguard, p 50)

ترجمہ : مشرقی پاکستان میں بھی یہ دور نسبتاََ استحکام اور تمام میدانوں میں خاطر خواہ ترقی کا دورتھا۔ اس دور میں پاکستان کی اہمیت میں جو اضافہ ہوا وہ ہر گز کوئی معمولی اضافہ نہیں تھا۔ اور اقوام ِ عالم میں پاکستان کو ایک وقار حاصل ہوا۔مگر بد قسمتی سے سیاسی بالغ نظری کا فقدان تھا۔

اس کی وضاحت میں اس سے آگے صدر ایوب مرحوم کی سیاسی غلطیو ں کا ذکرہے جنہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔اگر مقصد یہ تھا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کا ذمہ دار کون تھا تو صحیح نتیجہ شورش صاحب کی کتابیں ، یا اللہ وسایا صاحب کی کتاب یا جماعت ِ احمدیہ کے خلاف لکھی گئی وسیم احمد صاحب کی کتاب پڑھ کر نہیں نکالا جا سکتا۔اور نہ ہی کوئی ذی ہوش اسے درست معیار قرار دے سکتا ہے۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار کون تھا؟

عدالت کے لئے مناسب ہوتا کہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی طرف توجہ کرتی ۔اس رپورٹ کے آخر میں اس سانحہ کے ذمہ دار افراد کا تعین کیا گیا ہے اور خاص طور پر صفحہ 536تا538پر ان افراد کے نام درج کر کے ان پر بغیر تاخیر کے مقدمات چلانے کی سفارش کی گئی ہے۔ان میں سے ایک بھی احمدی نہیں تھا۔ البتہ ایک ہی جنرل تھا جس نے اس جنگ میں فرائض ادا کرتے ہوئے اپنی جان قربان کی اور وہ جنرل احمدی تھا۔ یعنی میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید۔ یہ وہ واحد جنرل ہیں جن کے بارےمیں حمود الرحمن کمیشن نے’Bold and Capable commander’کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اَور کسی جرنیل کے لئے یہ الفاظ استعمال نہیں کئے گئے۔آپ کے سپرد چھمب کا سیکٹر تھا۔اس سیکٹر کی پاکستان کے لئے یہ اہمیت تھی کہ اگر اس محاذ پر مدِ مقابل افواج آگے بڑھتیں تو صرف35-40میل کے فاصلہ پر جی ٹی روڈ تھی ، اس کو خطرہ ہو سکتا تھا اور یہ خطرہ بہت بڑا خطرہ تھا۔اور مرالہ بیراج بھی خطرے میں آ سکتا تھا۔اور یہ بیراج بہت سی دفاعی اہمیت کی حامل نہروں کو سپلائی کرتا تھا۔ 1965ء کی جنگ میں اس محاذ پر ایک اور احمدی جنرل یعنی لیفٹننٹ جنرل اختر حسین ملک صاحب تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے کہ انہیں دوران ِ جنگ تبدیل کر کے جنرل یحییٰ خان صاحب کو مقرر کر دیا اور ساری پیش رفت رک گئی۔1971ءمیں بھارت کی طرف سے اس محاذ پر بھرپور تیاریاں کی گئی تھیں۔ اس جنگ میں پاکستان کی 23ڈویژ ن کی قیادت احمدی جنرل میجر جنرل افتخار جنجوعہ کر رہے تھے۔ انہیں یہ ہدف دیا گیا تھا کہ جنگ کے آغاز میں پیش قدمی کر کے دریائے تویؔ کے مغربی کنارے پر قبضہ کرلیں تاکہ مدِ مقابل فوج آگے نہ بڑھ سکے۔ پہلے انہوں نے سیکٹر کے شمال میں پیش قدمی کی کوشش کی۔ کچھ پیش قدمی ہوئی بھی لیکن پھر رُک گئی۔اس مرحلہ پر یعنی 7دسمبر کو انہوں نے حکمت ِ عملی تبدیل کرتے ہوئے سیکٹر کے جنوب سے حملہ کر کے چھمب اور مناور پر قبضہ کر لیا اور پاکستانی فوج دریا کے مغربی کنارے پر قابض ہو گئی اور دریا سے مغرب کی طرف مدِ مقابل فوج کی طرف سے مزاحمت ختم ہو گئی۔ ان کو جنگ میں حاصل کرنے کے لئے جو اہداف دیئے گئے تھے وہ پورے ہو گئے تھے لیکن اس وقت مدِ مقابل فوج افراتفری کا شکار تھی ۔اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے جنرل جنجوعہ نے اپنی افواج کے کچھ افسران کو دوپہر اڑھائی بجے حکم دیا کہ وہ دریا عبور کر کے دریا سے مشرق کی طرف Pallanwala پر بھی قبضہ کر لیں۔ بعض افسران کی طرف سے عذر پیش کیا گیا کہ یہ ممکن نہیں۔ اس پر جنرل جنجوعہ نے دوبارہ یہی حکم دیا۔ لیکن پھر عذر پیش کیا گیا کہ وہ بٹالینز جنہوں نے حملہ کرنا ہے locate نہیں ہو رہیں۔ اس طرح حملہ میں تاخیر ہوگئی۔جنرل جنجوعہ کے حکم کی فوری تعمیل میں دیر کیوں ہوئی اس بارے میں آغا ہمایوں امین صاحب نے اپنی تحقیق شائع کی ہے ، جس کا حوالہ درج کیا جا رہا ہے۔ پھر9دسمبر کی شام کوجنرل افتخار جنجوعہ ہیلی کاپٹر کے حادثہ میں شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کے بعد 23ڈویژن نے کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ اس دوران اس مقام پر مزید افواج جمع کر کے بھارت نے اپنے دفاع کو مضبوط کر لیا تھا۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کی افواج نے خاطر خواہ علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔اور اس جنگ میں پاکستانی افواج کو کہیں اور اتنی کامیابی نہیں ملی اور دوسرے اکثر محاذوں پر پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔حمود الرحمن کمیشن نے جنرل جنجوعہ شہید کی شاندار الفاظ میں تعریف کرنے کے ساتھ ان کی کارکردگی کا بھی ناقدانہ جائزہ لیا اور یہ رائے دی کہ انہیں صرف اتنے علاقے پر ہی قبضہ کرنا چاہیے تھا جس کا ہدف دیا گیا تھا اور جی ایچ کیو کو چاہیے تھا کہ انہیں مزید پیش رفت سے روکتا۔ ہم اس کے عسکری پہلو پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے لیکن اس قسم کے اعتراض صرف مُحبِّ وطن اور بہادر فوجیوں پر ہوتے ہیں ۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین پر اس قسم کا اعتراض کبھی نہیں ہوا ہوگا۔

دوسری یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ اس کے بعد جب بھارت کی عسکری تاریخ Indian Army After Independence کے نام سے لکھی گئی تو اس کے مصنف K.C. Pravalنےجنرل جنجوعہ کے اس فیصلہ کو کہ دریائے توی کے مشرق کی طرف حملہ کر کے Pallanwalaپر قبضہ کیا جائے نہ صرف ضروری اور پاکستان کے لئے عمدہ فیصلہ قرار دیا اور چونکہ انہیں پاکستان کی طرف کے حالات کا علم نہیں تھا، اس لئے انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار بھی کیا کہ ہماری افواج اس سیکٹر میں افراتفری کا شکار تھیں، پاکستان نے اسی وقت مزید پیش قدمی کیوں نہیں کی۔ اس کتاب کے بعد پاکستان کی طرف سے آغا ہمایوں امین صاحب نے چھمب کے معرکہ پر تحقیق کر کے مقالہ شائع کیا۔ ان کے مطابق جنرل افتخار جنجوعہ کی خوبی یہ تھی کہ وہ ڈویژن ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر جنگ کی کمان کرنے کی بجائے محاذِ جنگ کے Frontپر کھڑے ہو کر کمان کرتے تھے اور یہ طرز برصغیر کی فوجی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور اس معرکے میں ان کے فوجیوں نے بھی غیر معمولی بہادری دکھائی اور اس جنگ میں سب سے زیادہ اس محاذ پر فوجیوں نے جام ِ شہادت نوش کیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کے ماتحت کام کرنے والے زیادہ تربریگیڈ کمانڈر اس طرح frontپر کھڑے ہو کر جنگ کی قیادت کرنے کے عادی نہیں تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ جب پاکستان کے لئے نادر موقع تھاکہ اپنی کامیابی کو اور وسیع کرتااور Pallanwala پر بھی قبضہ کر لیتا تووہ اس وقت بریگیڈ کمانڈر جنرل جنجوعہ کی اس ہدایت پر عمل نہ کر سکے کہ فوراََ دریا عبور کر کے مزید پیش قدمی شروع کر دو۔اس وقت یہ قبضہ آسانی سے ہو سکتا تھا اور اس کے بعد بھارت اور کشمیر کو ملانے والی سڑک کے راستے میں صرف اکھفور حائل رہ جاتا۔بہر حال یہ دلچسپ بحث ہے۔ نیچے حوالے درج کئے جا رہے ہیں ۔

(The Battle of Chamb-1971 by Major Agha Hamayun Amin.
http://www.defencejournal.com/sept99/chamb.htm. accessed on 22.8.2018)
(Indian Army After Independence By Major K.C. Praval. Chapter 1971 operations –case west)
(The Report of the Hamoodur Rahman Commission, published by Vanguard, p 213-215)

جنرل جنجوعہ کی صلاحیتوں اور جرأت کا اعتراف بھارت کے عسکری مؤرخوں نے بھی کیا۔چنانچہ KC Parvalلکھتے ہیں:

"Major General Iftikhar Khan, the Divisional Commander, showed skill and determination in carrying out his mission.”
(K.C Praval- Indian Army after Independence – Page.496)

ترجمہ : میجر جنرل افتخار خان ڈویژنل کمانڈرنے اس آپریشن کو چلاتے ہوئے مہارت اور عزم کا مظاہرہ کیا
پھر وہ لکھتے ہیں:

"The enemy commander showed commendable flexibility. Having achieved surprise by using the northern approach, he switched to the south when he found himself firmly checked at Mandiala crossings.”(page 488)

ترجمہ : دشمن کے کمانڈر نے قابل ِ تعریف لچک کا مظاہرہ کیا اور پہلے شمال میں حملہ کر کے حیران کیا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ یہاں پر انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے تو انہوں نے وہ حملہ جنوب میں منتقل کر دیا۔

الزامات کا معیار

اگر جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے جماعت کے کسی مخالف گروہ پر الزام لگایا جائے اور یہ الزام لگاتے ہوئے صرف جماعت ِ احمدیہ کی کسی کتاب کا حوالہ دیا جائے تو یقیناََ کوئی بھی اسے قبول نہیں کرے گا اور سب کہیں گے کہ یہ تو آپ کی اپنی کتاب کا حوالہ ہے جو آپ نے اپنے مخالف کے خلاف پیش کیا ہے ۔ آپ کو اگر الزام لگانا ہے تو کوئی اور ثبوت پیش کریں، عقل کی رو سے اس الزام کو ثابت کریں ، یا کم از کم اس موضوع پر کسی غیرجانبدار معیاری تحقیق کا حوالہ پیش کریں۔ اسی طرح جب تاریخی واقعات کے حوالے سے جماعت ِ احمدیہ پر ایسے سنگین الزامات لگائے جا رہے ہوں اور خاص طور پر عدالت کے فیصلہ میں انہیں درج کر کے نفرت انگیزی کی جا رہی ہو تو جماعت ِ احمدیہ کے اشد مخالفین کی کتب کے حوالے جو کہ لکھی ہی جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت میں گئی تھیں کوئی ثبوت نہیں کہلا سکتیں۔ لیکن اس عدالتی فیصلہ میں صرف ایسی کتب کو نام نہاد ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اور جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت میں ہمیشہ سے یہی طریق اختیار کیا گیا ہے کہ جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت میں لکھی گئی اناپ شناپ تحریروں کو ثبوت کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اُوٹ پٹانگ الزام کہ 1971ءمیں ملک کے ٹوٹنے کا سانحہ احمدیوں کی سازش کی وجہ سے ہوا 1974ءکی قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی میں بھی پیش کیا گیا تھا۔ اور بالکل اسی طرح۔یہ الزام اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب نے 7اگست 1974ءکو لگایا تھا۔اور اپنی دلیل کے طور پر ایک انگریزی جریدہ کا طویل حوالہ پڑھنا شروع کیا۔ جریدہ کا نام Impactتھا اور یہ 27جون1973ءکا حوالہ تھا۔ابھی یہ بھی واضح نہیں ہوا تھا کہ وہ کیا فرمانا چاہ رہے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس جریدہ کی اس تحریر کے متعلق ان سے استفسار فرمایاWho is the writer??یعنی اس تحریر کو لکھنے والا کون ہے؟اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کمال قول سدید سے فرمایاI really do not know.: یعنی حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔حضور نے اگلاسوال یہ فرمایا What is the standing of this publication? یعنی اس اشاعت یا جریدہ کی حیثیت کیا ہے؟یعنی کیا یہ کوئی معیاری جریدہ ہے یا کوئی غیر معیاری جریدہ ہے۔اس کی حیثیت ایسی ہے بھی کہ نہیں کہ اس کے لکھے کو ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔چونکہ یہ ایک غیر معروف نام تھا اس لیے اس سوال کی ضرورت پیش آئی۔اس سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر نہایت بے نفسی سے فرمایا May be nothing at all, Sir یعنی جناب شاید اس کی وقعت کچھ بھی نہیں ہے۔خیر اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے دریافت فرمایاHave we anything to do with this? یعنی کیا ہمارا اس تحریر سے کوئی تعلق ہے؟اس کا جواب یہ موصول ہوا Nothing I do not say you have any thing to do…….یعنی کوئی نہیں ،مَیں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ کا اس سے کوئی تعلق ہے ۔

اب یہ ایک عجیب مضحکہ خیز منظر تھا کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی میں ایک جریدہ کی ایک تحریر بطور دلیل کے پیش کر رہا ہے اور اسے ایک جماعت کے غدار ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اسے یہ بھی علم نہیں کہ یہ تحریر لکھی کس کی ہوئی ہے ،اسے یہ بھی خبر نہیں کہ اس جریدہ کی کوئی حیثیت بھی ہے کہ نہیں۔

(The National Assembly of Pakistan. Proceedings of the special committee of the whole house held in camera to consider the Qadiani issue.7th August 1974 p 364-367)

جس وقت اٹارنی جنرل آف پاکستان نے ان کمزور بیساکھیوں کے سہارے جماعت ِ احمدیہ پر یہ الزام لگانے کی کوشش کی ، اُس وقت حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ حکومت کے پاس آ چکی تھی اور ظاہر ہے اس رپورٹ میں جماعتِ احمدیہ کو اس سانحہ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔اس رپورٹ میں ان لوگوں کی فہرست دی گئی تھی جو کہ اس سانحےکے ذمہ دار تھے اور یہ سفارش کی تھی کہ ان پر فوری طور پر مقدمہ چلایا جائے۔حکومت نے یہ رپورٹ خفیہ رکھی اور بجائے اس کے کہ ان افراد پر مقدمات چلائے جائیں ، ان میں سے ایک کو ترقی دے کر فوج کا سربراہ مقرر کر دیا۔اور قومی اسمبلی میں اس نامعقول انداز میںیہ الزام جماعتِ احمدیہ پر لگانے کی کوشش کی۔ ایسے موقعوں پر Plato کی Republic میں درج ایک مباحثہ میں Thrasymachusکا یہ قول یاد آ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک :

Justice is nothing else than the interest of the stronger

انصاف طاقتور کے مفادات کے تحفظ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

جماعتِ احمدیہ پر الزام لگانے والے Thrasymachusکی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جیسا کہ ہم پہلے نشاندہی کر چکے ہیں کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کی وابستگی جماعت ِ اسلامی سے تھی اور انہوں نے جماعت ِ اسلامی کے ٹکٹ پر ایک مرتبہ انتخاب بھی لڑا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے تھے ۔ چونکہ ماضی قریب میں1971ءکے دوران جماعت ِ اسلامی کے اراکین کے کردار پر سوال اُٹھایا گیا ہے اور ان میں سے بعض کو بنگلہ دیش میں سزا بھی ہوئی ، شاید اس لئے بھی اب ان کے حلقے کی طرف سے 1971ءکے سانحے کا الزام جماعت ِ احمدیہ کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ یہ واضح کر دیا جائے کہ جماعت ِ اسلامی کی طرف سے ان الزامات کو غلط اور سیاسی انتقام قرار دیا گیا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس بارے میں اصل حقائق کیا تھے؟ اس ذکر کا مقصد کسی ایک کے موقف کو صحیح یا غلط قرار دینا نہیں تھا۔لیکن یہ پس منظر ذہن میں ہونا ضروری ہے۔اگر ہم کچھ دیر کے لئے اس عدالتی فیصلہ کو فراموش بھی کردیںاور صرف جماعت ِ احمدیہ کی عمومی مخالفت کی طرف توجہ کریں تو یہ ظاہر ہے کہ اس کی نفسیات سمجھنی ضروری ہے۔

کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ جب اعتدال اور توازن کے راستے سے ہٹ جاتا ہے تو اس کی کیفیت نفسیاتی بیماری کی ہوتی ہے۔ اب پہلے کی نسبت نفسیات کے علم نے کافی ترقی کی ہے اور بہت سی نفسیاتی بیماریوں کی علامات کے بارے میں نئے نئے حقائق سامنے آرہے ہیں۔ ان میں سے ایک بیماری Narcissistic High Conflict Personality ہے۔نرگسیت یا خود پسندی کا پہلو تو یہ ہے کہ اس کیفیت کے شکار اشخاص سمجھتے ہیں کہ اُن میں وہ خوبیاں ہیں جو درحقیقت موجود نہیں ہوتیں لیکن وہ خود اپنے دل میں اپنا ایک فرضی مقام تجویز کر لیتے ہیں اور اس پر یقین بھی رکھتے ہیں۔لیکن اپنے اندر موجود کمی کو محسوس کرنے کی بجائے وہ اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لئے دوسروں پر مسلسل بے تکان اور بے بنیاد الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں اور اس الزام تراشی سے ان کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اپنے ذہن میں یہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو برتر ثابت کر رہے ہیں۔درحقیقت وہ اپنا بھی تماشا بنا رہے ہوتے ہیں اور معاشرے میں بھی زہر گھول رہے ہوتے ہیں۔ اختلاف تو ہر ایک کا حق ہے لیکن جماعت ِ احمدیہ کے خلاف نفرت انگیزی کرنے والوں کی اکثر کیفیت Narcissistic High Conflict Personality والی ہی ہوتی ہے۔

……………

(باقی آئندہ)

اگلی قسط کے لیے…
گزشتہ قسط کے لیے…

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button