نماز جنازہ حاضر و غائب

نماز جنازہ حاضر و غائب

نماز جنازہ حاضر

مکرم ڈاکٹر راؤ حبیب الرحمٰن صاحب (آف لندن)

8مئی 2018ء کو لمبی علالت کے بعد92سال کی عمرمیںبقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ 1952ء میں خود بیعت کرکے جماعت میں شامل ہوئے اور اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے ۔ جماعت کے لئے بہت غیر ت رکھتے تھے ۔ میانوالی میں صدر جماعت کے علاوہ محلہ دارالرحمت ربوہ میں سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی توفیق پائی ۔ 1990ء میں پاکستان سے ہالینڈ منتقل ہوگئے ۔ اور وہاں اپنی جماعت کے صدر اور نیشنل سیکرٹری وقف نو کی حیثیت سے خدمت بجالاتے رہے۔مرحوم نمازوں کے پابند ، چندوں میں باقاعدہ، جماعتی خدمت کا شوق رکھنے والے، بہت ہمدرد اور شفیق انسان تھے ۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹیاں اور چار بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔ آپ مکرم جمیل الرحمان جمیل صاحب کے والد اور مکرم سردارنصیر الدین ہمایوں صاحب (کارکن حفاظت خاص لندن) کے خسر تھے ۔

نماز جناز ہ غائب

1۔مکرم چوہدری حنیف محمود بھٹی صاحب (Mainz۔جرمنی)

گزشتہ دنوں 53 سال کی عمر میںوفات پاگئے۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ صوم وصلوۃ کے پابند، بہت ہمدرد ، ہر دلعزیز ، انتہائی مخلص اور خلافت کے جان نثار تھے۔ ہر چھوٹے بڑے سے کمال شفقت سے پیش آتے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا ، ایک پوتا اور پوتی یادگار چھوڑے ہیں ۔

2۔مکرمہ مقبول بیگم بٹ صاحبہ(کرائیڈن ۔یوکے)

3 اپریل کو 2018ء کو 91 سال کی عمر میں وفات پاگئیں ۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت میاں کرم الٰہی صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعودؑ کی پوتی تھیں۔ مرحومہ نیک، تہجد گزار،مالی قربانی کرنے والی، غریب پرور اور دعا گو خاتون تھیں ۔رمضان المبارک میں چار پانچ مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کرتی تھیں ۔خلافت سے محبت اور نظام جماعت سے گہری وابستگی تھی اور اپنی اولاد کو بھی اس کی تلقین کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں ۔ پسماندگان میں تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔آپ مکرم نسیم افضل بٹ صاحب (نائب سیکرٹری جائید اد یوکے) کی والدہ تھیں۔

3۔مکرم منیر احمد سنوری صاحب ابن مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب مرحوم (ریڈ برج۔یوکے)

5 ؍اپریل 2018 ء کو 73 سال کی عمر میں وفات پاگئے ۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم حضرت چوہدری محمد علی صاحب ؓصحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے ۔ مرحوم بہت نیک، نمازوں کے پابند اور جماعت کے ساتھ پختہ تعلق رکھنے والے مخلص اور باوفا انسان تھے ۔

4۔مکرم احسان اللہ کرم علی صاحب(سکندر آباددکن ۔انڈیا)

18 جنوری 2018 ءکو 73 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے نانا حضرت غلام قادر شرق صاحب (آف سکندر آباد)کو بذریعہ خط حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔ آپ کو بطور سیکرٹری اصلاح و ارشاد اور زعیم انصار اللہ جماعتی خدمت کی توفیق ملی۔ آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت بھی پائی۔ گھر میں سب سے پہلے آپ نے MTA کی ڈش نصب کروا ئی اور پھر احباب جماعت کو اس سے استفادہ کرنے کی طرف توجہ دلاتے اور اس موقعہ پر مہمانوں کی خوب تواضع کیا کرتے تھے ۔ خلافت سے بہت اخلاص اور محبت کا تعلق تھا ۔ نمازوں کے پابند تھے اور اپنی اولاد کو بھی اس طرف توجہ دلا یا کرتے تھے۔

5۔مکرم حضور احمد صابر صاحب (تخت ہزارہ ۔ضلع سرگودھا)

2 اپریل 2018 کو پاکستان میں وفات پا گئے۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم کے دادا مکرم حسن محمد صاحب ؓ حضرت مسیح موعودؑ کے صحابی تھے۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت کرکے آپ تخت ہزارہ میں آباد ہو ئے۔ مشکل وقت میں بڑے صبر سے گزارا کیا اور ہر طرح کے حالات میں جماعت کے ساتھ مخلصانہ طورپر وابستہ رہے۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند بہت نیک اور باوفا انسان تھے ۔

6۔مکرم خالد محمود صاحب ابن مکرم ماسٹر محمد صدیق صاحب (جرمنی)

25 جولائی2017 ء کوبقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نہایت خوش اخلاق اور ملنسار تھے۔ خدمت خلق کا جذبہ بہت نمایاں تھا۔ جرمن زبان پر کافی عبور تھا جس سے نئے آنے والوں کی ہرقسم کی مدد کیا کرتے تھے۔ اپنے سسر کی عیادت کے لئے پاکستان گئےتھے اوروہاں معمولی ایکسیڈنٹ ہوا آخر دس ماہ بیمار رہنے کے بعد وفات پاگئے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور 2 بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔

7۔مکرمہ فرحت الطاف صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر الطاف الرحمان صاحب (فضل عمر ہسپتال ربوہ)

6 فروری 2018ء کو 73سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مولانا شیرعلی صاحب رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت حافظ عبدالعلی صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں۔بہت سی خوبیوں کی مالک،ملنسار ، مہمان نواز، نیک اور مخلص خاتون تھیں ۔ دوسروں کے جذبات کا بڑی باریک بینی سے خیال رکھتی تھیں۔ حلقہ گلبرگ(لاہور) میں صدر لجنہ کے علاوہ سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی توفیق پائی ۔ اسی طرح شعبہ اصلاح وارشاد میں بھی خدمت بجالاتی رہیں۔ رسالہ مصباح میں مضامین بھی لکھا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں ۔ پسماندگان میں بوڑھی والدہ اور میاں کے علاوہ چار بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑےہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر کرنے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

*…مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ بتاریخ19مئی 2018ءبروز ہفتہ 12بجےصبح حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےمسجد فضل لندن کے باہر تشریف لاکر مکرمہ پروفیسر امۃ المجید چوہدری صاحبہ(اسلام آباد۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرمہ پروفیسرامۃ المجید چوہدری صاحبہ(اسلام آباد۔یوکے)

17مئی 2018ء کو لمبی علالت کے بعد بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانیؓ کی نواسی ، مکرم چوہدری وزیر محمد صاحب آف پٹیالہ کی بیٹی اور حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحبؓکی سگی بھانجی تھیں۔پنجاب یونیورسٹی لاہور سے عربی زبان اور ایم اے لٹریچر میں اوّل پوزیشن حاصل کی اور دو گولڈ اور ایک سلور میڈل حاصل کیا ۔ اور پھر عربی کے لیکچرار کے طور پر کام کیا ۔بعد ازاں تقریباً17سال نائیجیریا میں مسلم گرلز سکول میں پرنسپل کے طور پر فرائض انجام دیتی رہیں۔1985ء میں آپ نے زندگی وقف کرنے کی توفیق پائی۔1988ء میں ریو یوآف ریلیجنز کےManaging Editor کے طور پر آپ کا تقرر ہوا۔تقریباً دس سال تک آپ کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی ترجمۃالقرآن کلاس اور خطبات جمعہ کا انگریزی ترجمہ کرنے کی توفیق ملی ۔ آپ کو اسلام آباد کی لوکل صدر لجنہ کے علاوہ لمبا عرصہ ریجنل صدر کے طور پر بھی خدمت کاموقعہ ملا اور پھر لجنہ یوکے کی آنریری ممبر ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کے بابرکت دور میں آپ شعبہ تصنیف سے منسلک ہوگئیں ۔جب تک صحت رہی تمام خدمات کو احسن رنگ میں اد ا کرتی رہیں۔ صوم وصلوۃ کے پابند، چندوں میں باقاعدہ ، مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی ، بہت خوش اخلاق ،نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے سچی محبت کرنے والی تھیں۔مرحومہ اللہ کے فضل سے موصیہ تھیں۔

نماز جناز ہ غائب:

1۔مکرمہ غلام سکینہ صاحبہ اہلیہ مکرم محمود احمد صاحب (حسن آباد ضلع ملتان )

14 نومبر 2017 ءکو 69 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ صوم و صلوٰۃ کی پابند انتہائی دعا گو ، صاحب رؤیا وکشوف بزرگ خاتون تھیں۔ باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔بہت سے احمدی اور غیر احمدی بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی توفیق پائی۔چندہ جات میں باقاعدہ تھیں اور ہرمالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتی تھیں۔ مقامی لجنہ میں سیکرٹری تعلیم و تربیت اور سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔خلافت سے والہانہ محبت کرنے والی فدائی خاتون تھیں۔ نڈر داعی الی اللہ تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں ۔

2۔مکرمہ نوال الناصر صاحبہ( آف سیریا)

29 اپریل 2018ءکوبقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کو مکرم ڈاکٹر وسام البراقی صاحب کے ذریعہ جماعت کا تعارف ہوا اور بیعت کی توفیق ملی۔ وفات کے وقت یہ اردن میں مقیم تھیں۔ بےسروسامانی کے باوجود دوسروں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ بہت رحم دل،مہمان نواز اور نیک خاتون تھیں۔لجنہ کے اجلاسات میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرتی تھیں۔ خلافت سے والہانہ اطاعت کا تعلق تھا۔

3۔مکرم حفیظ احمد صاحب(سڈنی ۔آسٹریلیا)

28 ؍اپریل 2018ء کو 88 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کےدادا حضرت چوہدری فتح دین صاحب ؓنے کسوف و خسوف کا نشان دیکھ کر احمدیت قبول کی ۔ مرحوم کو فرقان فورس میں خدمت کا موقع ملا اور مجاہد کا خطاب حاصل کیا۔آپ کو جماعتی کاموں سے بہت لگاؤ تھا ۔ مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ۔ بہت نیک ،شریف النفس، پرہیز گار اور صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے ۔مرحوم موصی تھے ۔ پسماندگان میں4 بیٹیاں اور 2 بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔

4۔مکرمہ ناصرہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم میاں محمد احمد خان صاحب ( چک نمبر 166 مراد ضلع بہاول نگر )

25 مارچ2018ءکو83سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ صوم وصلوٰۃ کی پابند، ، تہجد گزار، ملنسار، ہنس مکھ، غریب پرور، مہمان نواز ، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔رمضان المبارک میں دومرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کیا کرتی تھیں اور پورے روزے اہتمام کے ساتھ رکھتی تھیں۔ خلافت سے انتہا درجے کا عشق تھا ۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور سات بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔ آپ مکرم انس محمود منہاس صاحب (حلقہ مسجد فضل لندن) کی والدہ تھیں۔

5۔مکرم رفیق احمد شاہد صاحب (جرمنی)

21 ؍اپریل2018ءکو لمبی علالت کے بعد وفات پا گئے۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مولوی عبد الحق صاحب مرحوم بدوملہی صحابی حضرت مسیح موعود ؑکے پڑپوتے اور مکرم رشید احمد صاحب مرحوم (رشید بوٹ ہاؤس ربوہ ) کے منجھلے بیٹے تھے ۔صوم و صلوٰۃ کے پابند،اچھے اخلاق کے مالک، سادہ مزاج، شریف النفس انسان تھے۔ جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ۔ حلقہ مسجد نور فرینکفرٹ میں صدر جماعت کے علاوہ زعیم انصاراللہ اور سیکرٹری وقف نو کے طور پر خدمت کی توفیق پائی ۔ اپنی بیماری کا تمام عرصہ بڑے صبر سے گزارا ۔ خلافت سے والہانہ محبت کا تعلق تھا۔مرحوم موصی تھے ۔پسماندگا ن میں بوڑھی والدہ اور اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔

6۔ مکرمہ صفیہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم ماسٹر محمد شفیع صاحب مرحوم

19؍اپریل 2018ءکو54 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ صوم و صلوٰۃ کی پابند ،غیرت مند، حق بات پر ڈٹ جانے والی بہت نیک خاتون تھیں۔ خلافت سے سچی محبت کرنے والی تھیں۔ پسماندگان میں آٹھ بیٹیاںاور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔آپ مکرم امتیاز احمد صاحب(مربی سلسلہ 194 رب لاٹھیانوالہ ضلع فیصل آباد) کی والدہ تھیں۔

7۔مکرم عبدالقادر صاحب ( سمن آباد لاہور)

12 جنوری 2018ء کو 66 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نہایت شفیق ، خوب سیرت ، صحت مند، ایماندار ، خوددار اور متوکل علی اللہ انسان تھے۔ساری زندگی دین اور جماعت کی خدمت میں گزاری۔ سمن آباد میں سیکرٹری جائیداد کے علاوہ مختلف عہدوں پرخدمت کی توفیق پائی۔ سیکورٹی ڈیوٹی کے فرائض بھی نہایت ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

8۔مکرم مقصود احمد بھٹی صاحب(گرمولہ ورکاںضلع گوجرا نوالہ )

یکم مارچ 2018ء کو 53 سال کی عمر میں وفات پاگئے ۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اپنی مقامی جماعت میں نائب صدر اور سیکرٹری امور عامہ کے طور پر خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ قبل ازیں لمبا عرصہ سیکرٹری اصلاح و ارشاد اور قائد مجلس خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے بھی خدمت کی توفیق پائی۔جماعتی خدمت کے جذبہ سےسرشار ،بہت ہمدرد ،دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے مخلص ، باوفا اور نیک انسان تھے ۔

9۔مکرمہ زاہدہ تنویر صاحبہ اہلیہ مکرم محمد لقمان خان صاحب (ماڈل ٹاؤن ۔لاہور)

23 فروری 2018 ءکو 69 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ پنجوقۃ نمازوں کی پابند، دوسروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والی، اچھے اخلاق کی مالک ایک نیک خاتون تھیں ۔ باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کیاکرتی تھیں۔چندہ جات بھی بڑی باقاعدگی سے ادا کیا کرتی تھیں۔

10۔ مکرم عبد الماجد صاحب ابن مکرم محمد حسین صاحب (آسٹریا)

5؍مئی2018 ءکوبقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّالِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ 38 سا ل سے آسٹریا میں مقیم تھے ۔آپ کو آسٹریا جماعت کے پہلے صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔آپ نے اور آپ کی اہلیہ نے آسٹریا میں آنے والے ابتدائی احمدیوں کی بڑے اخلاص کے ساتھ خدمت کی ۔وہاں مسجد کی تعمیر کے لئے ایک خطیر رقم پیش کرنے کی توفیق پائی۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور دوبیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر کرنے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button