متفرق مضامینمضامین

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کئے جاتے ہیں۔

احمدی ڈاکٹرز کی طبّی خدمات
احمدی ڈاکٹرز ہمیشہ اپنے اپنے دائرہ کار میں خدمت خلق کرتے رہتے ہیں۔ تاہم روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سالانہ نمبر 2011ء میں احمدی ڈاکٹرز کی جماعتی نظام کے تحت طبّی خدمات سے متعلق مکرم ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
22 مارچ 1908ء کو مسجد مبارک قادیان میں 9 ڈاکٹروں اور طبیبوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مجلس اطباء و ڈاکٹران جماعت احمدیہ تشکیل پائی۔ اس مجلس کے صدر حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحبؓ اور سیکرٹری جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب قرار پائے۔ اس اجلاس میں کئی فیصلے ہوئے جن میں اپنی مدد آپ کے تحت ایک ہسپتال کا قیام بھی تھا۔ روئداد میں بڑی تڑپ کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا گیا تھا کہ دیگر مذاہب کے لوگ مثلاً عیسائی دور دراز ملکوں میں تالیف قلوب کے لیے ڈسپنسریاں اور شفا خانے بناتے ہیں تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ سلسلہ حقّہ کی اشاعت کے لئے اگر سرِدست شہر بشہر نہیں تو کم از کم حضرت مسیح موعودؑکے رہائشی مقام یعنی قادیان میں ایک بڑا ہسپتال بناویں۔ چنانچہ ابتدائی طور پر کئی حضرات نے چندہ دینے کا وعدہ کیا اور 81 روپے وصول ہوئے۔
طبّ سے وابستہ احمدی افراد کی یہ پہلی تنظیم تھی۔ اس کے قیام کے بعد مدرسہ تعلیم الاسلام کے ابتدائی وقت سے قائم ایک ڈسپنسری کو صدرانجمن احمدیہ کی ڈسپنسری میں تبدیل کردیا گیا۔
حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ اگرچہ اس اجلاس میں موجو دنہ تھے مگر بعد میں جب اُن کو روئداد جلسہ دکھائی گئی تو انہوں نے اس سے اتفاق رائے ظاہر کرتے ہوئے مبلغ بیس روپیہ بطور عطیہ کے دینے کا وعدہ فرمایا۔ نیز فرمایا کہ ہم شفاخانہ کی عمارت کو ایک دو اَور احباب کو شریک کر کے اپنی گرہ سے بنوا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
٭ قادیان میں ’’نور ہسپتال ‘‘ کی بنیاد حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کی کوشش سے 21 جون 1917 ء کو رکھی گئی۔ 1919ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ارشاد پرحضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحبؓ ریاست پٹیالہ سے ہسپتال کے لئے بلوائے گئے۔ ترقی کرتے کرتے 1930ء میں یہ ہسپتال سیکنڈ گریڈ کی حیثیت حاصل کرگیا۔ لیکن تقسیم ہند کے بعد اسے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔
٭ 1918ء میں ہندوستان میں انفلو ائنزا کی خوفناک وبا کے دوران حضرت مصلح موعودؓ کے زیر ہدایت قادیان کے اردگرد سات میل کے علاقہ میں احمدی ڈاکٹرز نے ہزارہا افراد کی خدمت کی اور سینکڑوں کی جان بچائی۔
٭ ربوہ میں نور ہسپتال 1958ء تک کام کرتا رہا۔ اس کے بعد صدر انجمن احمد یہ نے فضل عمر ہسپتال جاری کیا۔ 200 سے زائد بیڈز کے اس ہسپتال میں تمام اہم شعبے قائم ہیں۔ 40 سے زائد ڈاکٹروں میں سے 20 سپیشلسٹ ہیں۔ صرف ایک سال (2009-10ء) میں اس ہسپتال سے دو لاکھ ستّر ہزار آؤٹ ڈور اور بارہ ہزار اِنڈور مریضوں نے استفادہ کیا۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے 24مئی 1970ء کو مسجد فضل لندن میں مجلس نصرت جہاں کے قیام کا اعلان فرمایا تو افریقہ میں ہسپتالوں کے قیام کے لئے مختلف ممالک کے احمد ی ڈاکٹر ز نے اس تحریک پر والہانہ لبّیک کہا۔
1970ء میں ورلڈ احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن بھی قائم ہوئی جس کے کئی اجلاسات میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ بھی تشریف لاتے رہے۔ مجلس نصرت جہاں کے تحت افریقہ میں ڈاکٹرز بھجوانے کے سلسلہ میں ایسوسی ایشن نے اہم کردار ادا کیا ۔ گو بعد میں ناگزیر وجوہات کی بِنا پر یہ ایسوسی ایشن فعّال نہ رہ سکی۔
٭ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی ہدایت پر مختلف ممالک (مثلاً امریکا، یوکے، ماریشس وغیرہ) میں احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشنیں قائم ہوئیں۔ پاکستان میں بھی 1989ء میں اس کا قیام ہوا لیکن اس کا زیادہ تر کام میڈیکل کیمپس تک محدود رہا۔ 2005ء کے خوفناک زلزلہ کے بعد اسے منظم اور متحرّک کرکے ذیلی تنظیموں اور ’ہیومینیٹی فرسٹ‘ کے ساتھ مل کر خدمت خلق کا کام شروع ہوا۔ 2007ء میں حضور انور ایدہ اللہ کی منظوری سے اس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری کا تقرّر کرکے سیکرٹریٹ قائم کیا گیا اور 2008ء سے اس کا سالانہ کنونشن باقاعدگی سے ہرسال منعقد کیا جارہا ہے۔ ان کنونشنز میں احمدی ڈاکٹرز اپنے تجربات کی روشنی میں اعلیٰ درجہ کی تحقیقا ت پیش کرتے ہیں۔ نیز ایسوسی ایشن کی مختلف سطحوں پر معلوماتی لیکچرز کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خصوصی شفقت کے نتیجہ میں ’’نُور ہسپتال‘‘ قادیان کا سنگ بنیاد 8 نومبر 1998ء کو رکھا گیا جس کا افتتاح حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ نے 2006ء میں فرمایا۔
٭ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ کا آغا ز ستمبر2007ء میں ہوا۔ یہاں اینجیو پلاسٹی اور بائی پاس کی اعلیٰ سہولتیں میسر ہیں۔ اس میں کام کرنے والے 20 ڈاکٹر وں میں سے 5 سپیشلسٹ ہیں۔ صرف ایک سال (2010ء) میں قریباً 54ہزار مریضوں نے یہاں سے استفادہ کیا۔
٭ مجلس انصار اللہ مرکزیہ پاکستان نے صدسالہ احمد یہ جوبلی جشنِ تشکّر 1989ء کے حوالہ سے مٹھی ضلع تھرپارکر میں ایک ہسپتال کا سنگ بنیاد 8 جولائی 1993ء کو رکھا اور بعد از تکمیل 17؍مارچ 1995ء کو اسے انجمن احمد یہ وقف جد ید کے سپرد کر دیا۔ اس ہسپتال کا نام حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے ’’المہدی ہسپتال‘‘ عطا فرمایا۔
٭ امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کی احمد یہ میڈیکل ایسوسی ایشنوں کے ممبران ربوہ اور افریقہ کے احمدیہ ہسپتالوں کے لئے وقف عارضی کے علاوہ قیمتی طبّی سامان مہیا کرنے کے لئے بھی قربانی کرتے ہیں۔
٭ احمد ی ڈاکٹر ز نے 1954ء میں مشرقی پاکستان اور مشرقی پنجاب میں خوفناک سیلاب کے موقع پر خدمت کی توفیق پائی۔ مشرقی پاکستان میں برہمن بڑیہ میں ایک موبائل شفاخانہ بھی قائم کیا گیا۔
٭ مرکزی مجلس شوریٰ پاکستان نے 1993ء میں ایک تجویز پر یہ رائے دی کہ خدام الاحمدیہ، انصاراللہ اور احمد یہ میڈیکل ایسوسی ایشن کے تحت فری میڈیکل کیمپس لگائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں بڑے شہروں میں فری ڈسپنسریاں بھی قائم ہیں۔ سفارش کی جاتی ہے کہ خدمت خلق کا جو کام طبی سہولیات کی فراہمی کی موجودہ صورتوں میں رائج ہے اس کو مزید وسعت دی جائے۔
چنانچہ اس کے بعد خاص طور پر فری میڈیکل کیمپس لگائے گئے۔ صرف مجلس انصار اللہ کے تحت اگلے پانچ سال میں (یعنی 1993ء سے 1998ء تک) 924 میڈیکل کیمپس لگائے گئے جن میں 1181 ڈاکٹروں نے 82 ہزار سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا۔ پاکستان میں بہت سے میڈیکل کیمپس ہیومینیٹی فرسٹ اور احمد یہ میڈیکل ایسوسی ایشن کی مشترکہ مساعی کے نتیجہ میں لگائے جاتے ہیں۔
٭ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کی تعمیر میں معاونت کی تحریک پر احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن امریکہ کے ممبران نے خاص طور پر عطیہ جات دئیے اور وقف عارضی بھی کی۔
٭ 28 مئی 2010ء کو سانحہ لاہور کے موقع پر مقامی احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن نے زخمیوں کو خون کی فراہمی اور اُن کی ہسپتال میں دیکھ بھال اور علاج، نیز شہداء کی سردخانوں میں منتقلی کے لئے اَنتھک کوششیں کیں۔
…ژ…ژ…ژ…
سرزمین افریقہ میں خدمت خلق
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سالانہ نمبر 2011ء میں شائع ہونے والا مکرم حنیف احمد محمود صاحب کا مضمون افریقہ میں جماعت احمدیہ کے تحت ہونے والی خدمت خلق کے حوالہ سے تحریر کیا گیا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے 1970ء میں اپنے دورۂ افریقہ و یورپ کے دوران مسجد فضل لندن میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرمایا ’’گیمبیا میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے بڑی شدّت سے میرے دل میں یہ ڈالا کہ یہ وقت ہے کہ تم کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ ان ملکوں میں خرچ کرو اور اس میں اللہ تعالیٰ بہت برکت ڈالے گا‘‘۔ چنانچہ حضورؒ نے حضرت امّاں جانؓ کے نام پر ’’نصرت جہاں ریزورفنڈ‘‘ کے قیام کا اعلان فرمایا۔ بعدازاں خدمت کے لئے افریقہ جانے والے ڈاکٹروں کو خاص طور پر حضورؒ نے یہ نصیحت فرمائی کہ: ہمارا اصل کام افریقہ کی مظلوم قوموں سے پیار کرنا ہے جبکہ دنیا کی دوسری قومیں ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ان کی فطرت کے اس طبعی اور عظیم تقاضا کو پورا کریں۔ غریب لوگوں سے نہ فیس لیں اور نہ دوا کے پیسے لیں۔ درمیانہ طبقہ سے فیس نہ لیں صرف دوا کی رقم وصول کریں۔
دراصل افریقہ میںطبی و تعلیمی خدمات کا سلسلہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے دَورمیں اُس وقت سے شروع ہو چکا تھا جب آپؓ نے تحریک جدید کے تحت 1958ء میں اپاپا (نائیجیریا) میں احمدیہ ہسپتال جاری فرمایا۔ آپؓ کے تاریخ ساز دَور میں تین افریقین ممالک میں 5ہسپتال جاری ہوئے جن میں سے دو کچھ عرصہ بعد بند ہو گئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے دَور میں نصرت جہاں آگے بڑھو پروگرام کے تحت 4ممالک میں 21احمدیہ ہسپتال و کلینکس جاری ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے دَور میں ایلوپیتھی کے علاوہ ہومیو پیتھی ہسپتالوں کی بنیاد بھی ڈالی گئی اور کُل 27 ہسپتال قائم ہوئے اور مغربی افریقہ کے علاوہ مشرقی اور وسطی افریقہ بھی اس مبارک تحریک سے فیضیاب ہونے لگے۔ ان میں سے 7 ہسپتال کچھ عرصہ خدمات خلق بجا لاکر بند ہو گئے۔ حضورؒ نے 30جون 1985ء کو تحریک جدید کے تحت خلافت ثانیہ کے دَور میں قائم ہونے والے تین ہسپتالوں کو ’’نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم‘‘ میں مدغم کر دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی مبارک قیادت میں (2011ء تک) 11ہسپتال قائم ہو چکے ہیں۔ جن میں سے دو بوجوہ بند ہو گئے۔ نیز طبّی (ہربل) کلینک غانا کے اشانتی ریجن میں 2007ء میں کھولا گیا جو بوجوہ بند ہو گیا۔ اسی طرح چار خلافتوں میں 13 ممالک میں کل64ہسپتال قائم ہوئے جن میں سے 24 بوجوہ بندہو گئے اور اس وقت12ممالک میں 38 ہسپتال خدمت انسانیت کااہم فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ اس سارے دَور میں 250سے زائد احمدی واقفین ڈاکٹرز نے لاکھوں مریضوں کا علاج کیا اور ہزاروں آپریشن کئے۔
مذکورہ مضمون میں افریقہ میں قائم ہونے والے تمام ہسپتالوں کی مختصر تاریخ اور ضروری کوائف بھی دیئے گئے ہیں جن سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جو ہسپتال بوجوہ بند ہوئے یا بند کرنے پڑے وہ ناکامی کی وجہ ہر گز نہ تھی بلکہ اس بندش میں ملکی حالات ، نسلی فسادات، خانہ جنگی وغیرہ امور حائل ہوئے۔ پس احمدیہ ہسپتالوں کی خدماتِ انسانیت بلاشبہ جماعت احمدیہ کی تاریخ کا سنہری باب ہیں۔
بعض اہم سرکاری عہدیداروں اور قومی میڈیا کے تعریفی کلمات بھی اس مضمون کا حصہ ہیں۔ اور چند ایمان افروز واقعات بھی شاملِ مضمون ہیں مثلاً مکرم ڈاکٹر محمد بشیر صاحب (جو غانا کے ایک ہسپتال میں خدمت بجالارہے ہیں) بیان کرتے ہیںکہ مَیں انستھیزیا کا ڈاکٹر ہوں۔ سرجری کبھی نہیں کی تھی لیکن یہاں آغاز میںہی ایک پراسٹیٹ کا مریض آگیا۔ یہ میجر سرجری ہوتی ہے۔ پہلے تو خیال آیا کہ اِسے ریفر کردوں مگر تحریک ہوئی کہ یہ حضرت مسیح موعودؑ کے ہسپتال میں آیا ہے،اس کا علاج ہونا چاہئے چنانچہ مَیں نے آپریشن کر دیا۔ لیکن آپریشن کے بعد دو ماہ گزرنے کے باوجود (catherter) پیشاب کی نالی نکالنے سے ڈرتا تھا کہ نہ جانے پیشاب آئے یا نہ آئے۔ اسی اثناء میں دُعائوں میں مصروف تھا کہ ایک رات خواب میں مکرم ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب کو دیکھا جو میری رہنمائی کر رہے ہیں۔ مبشرکے نام میں بشارت کے معانی بھی ملتے ہیں۔ چنانچہ میں نے خواب میں بتائی گئی رہنمائی کی روشنی میں دوبارہ Minorآپریشن کیا۔ خدا کے فضل سے تین دن کے اندر مریض صحتیاب ہوگیا۔
محترم ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ ایک مریض ماریطانیہ سے ہمارے پاس آیا جو پیرس سے بھی ہوآیا تھا۔کوئی ڈاکٹر اس کا آپریشن نہیں کرتاتھا۔ 600پونڈ کے لگ بھگ اس کا وزن تھا۔ مجھے خدا نے ایک رات خواب میں اُس کے آپریشن کا طریق سمجھایا تو مَیں نے اسی خواب کے مطابق آپریشن کردیا۔ چنانچہ وہ مریض جو کسی کے سہارے بھی پائوں گھِسٹ کر چلتا تھا پھر بغیر سہارے آدھ میل تک پیدل چل کر بازار جاتا تھا۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button