صنعت وتجارت
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح ا لثالث رحمہ اللہ تعالیٰ
حضرت خلیفۃ المسیح ا لثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’دنیوی حسنات میں سے مثلاً تجارت ہے۔ اسلام میں تجارت کے جو اصول بتائے گئے ہیں ان پر عمل پیرا ہو کر تجارتیں کامیابی سے چلتی ہیں۔ اگر چہ کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت تو دعا ہے لیکن اس کے جو دوسرے اصول بتائے گئے ہیں ان کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً دیانت داری ہے ۔اسلام نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ لین دین میں دیانت داری سے کام لو اور کوئی کھوٹ نہ ہو۔ نہ طبیعت میں کھوٹ ہواور نہ مال میں تو اس سے تجارت خوب چمکتی ہے۔ چنانچہ دنیا کی تجارت کی تاریخ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تجارت میں وہی افراد اور قو میں کامیاب نظر آتی ہیں جن کی ساکھ قائم تھی۔ وہ جو کچھ کہتے تھے اس کے مطابق مال سپلائی کرتے تھے۔ لیکن اگر یہ ساکھ نہ ہو تو تجارت چل نہیں سکتی۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۶ دسمبر ۱۹۷۷ء،خطبات ناصر جلد ۷صفحہ ۳۰۰)
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)



