خلاصہ خطبہ جمعہ

وقف جدید کے اڑسٹھویں(۶۸)سال کے دوران افرادِ جماعت کی طرف سے پیش کی جانے والی مالی قربانیوں کا تذکرہ اور انہترویں (۶۹) سال کے آغاز کا اعلان۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۹؍جنوری ۲۰۲۶ء

٭ …وقف جدید کے اڑسٹھویں (۶۸)سال کے اختتام پر جماعت ہائے احمدیہ عالمگیر کو دورانِ سال اس مالی نظام میں پندرہ ملین پاؤنڈ کي مالي قرباني پيش کرنے کي توفيق ملي۔ يہ وصولي گذشتہ سال سے 1.3؍ملین پاؤنڈ زيادہ ہے

٭…مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مخلص احمدیوں کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات کا بیان

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۹؍جنوری ۲۰۲۶ء بمطابق ۹؍صلح ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۹؍جنوری ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ، سورة الفاتحہ اور سورت اٰلِ عمران کی آیت ۹۳کی تلاوت کے بعد اس آیتِ کریمہ کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پاسکتےجب تک اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

اس کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا: اِس کی تفسیر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی الله عنہ نے لکھا ہے کہ قرآنِ کریم میں سورۂ بقرہ میں جہاں پہلا رکوع شروع ہوتا ہے، وہاں متّقی کی نسبت فرمایا : وَمِمَّا رَزَقۡنٰھُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ یعنی جو کچھ الله نے دیا ہے اُس سے خرچ کرتے ہیں۔یہ تو پہلے رکوع کا ذکر ہے۔ پھر اِس سورت میں کئی جگہ انفاق فی سبیل الله کی بڑی تاکیدیں کی ہیں۔ پس تم حقیقی نیکی کو نہیں پا سکو گے، جب تک تم مال سے خرچ نہیں کرو گے۔ مِمَّا تُحِبُّوۡنَ کے معنے میرے نزدیک مال ہے۔ کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے : وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الۡخَیۡرِ لَشَدِیۡدٌکہ انسان کو مال بہت پیارا ہے۔

پس حقیقی نیکی پانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز مال میں سے خرچ کرتے رہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اِس کی مختلف جگہ پر تفسیر فرمائی ہے۔ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ مال کے ساتھ محبّت نہیں چاہیے۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے: لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتےجب تک کہ تم اُن چیزوں میں سے الله کی راہ میں خرچ نہ کرو، جن سے تم پیار کرتے ہو۔

پھر فرماتے ہیں کہ بے کار اور نکمّی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا، نیکی کا دروازہ تنگ ہے، پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ نکمّی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اِس میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اگر تکلیف اُٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتےتو کیونکر کامیاب اور بامُراد ہوسکتے ہو۔

حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ پس وہ لوگ جو بعض دفعہ اچھا کماتے ہیں، لیکن اپنی مالی قربانیوں میں اُس معیار پر نہیں ہوتے، جتنا ایک عام اوسط درجے کاکمانے والا احمدی ہوتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل قربانی تو یہ ہے کہ جس چیز سے تمہیں محبّت ہے، وہ اُس کی راہ میں خرچ کرو، تبھی تم الله تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن سکو گے اور اُس کے فضلوں کے وارث بن سکو گے۔

الله تعالیٰ نے صرف ایک دو جگہ نہیں بلکہ قرآنِ کریم میں متعدد جگہ انفاق فی سبیل الله کا حکم فرمایا ہے۔ مثلاً ایک جگہ الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ الله تعالیٰ کے راستے میں مال و جان خرچ کرو اَور اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اور احسان سے کام لو ، اللہ احسان کرنے والوں سے یقیناً محبّت کرتا ہے۔پس الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنا بعض دفعہ ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔

ایک طرف یہ دعویٰ کہ ہم اِس زمانے میں وقت کے امام کو ماننے والے ہیں، آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پُورا کرنے والے ہیں اور آپؐ کی پیشگوئی کے مطابق ہم مسیح موعودؑ کی جماعت میں داخل ہوئے ہیں اور دوسری طرف بعض دفعہ مالی قربانیوں میں انقباض پیدا ہونا یہ ٹھیک نہیں ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت کی اکثریت مالی قربانیوں میں بہت خوشی سے حصّہ لیتی ہے۔ لیکن بعض ایسے ہیں کہ جن میں انقباض ہوتا ہےتو اِن کو الله تعالیٰ کی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ الله کی راہ میں مال خرچ کرنا ضروری ہے۔ زیادہ کمانے والے بے شک بعض ایسے ہیں کہ جو تحریکات میں حصّہ لیتے ہیں اور بڑا بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں، لیکن یہاں ضمناً مَیں یہ بھی بتا دوں کہ وہ چندہ جو اپنا حصّہ آمد وغیرہ کا ہے، وہ صحیح شرح سے ادا نہیں کرتے اور اِس میں باقاعدہ نہیں ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو اپنا جائزہ لینا چاہیے۔

احادیث میں بھی اِس بارے میں آنحضرتؐ نے متعدد جگہ ہمیں اِس بات کی نصیحت فرمائی ہے کہ مالی قربانی کرنی چاہیے۔حضرت حسن رضی الله عنہ سے روایت ہے، یہ حدیثِ قدسی ہے، کہ آپؐ نے الله تعالیٰ کے حوالے سے فرمایا کہ اے آدم کے بیٹے!تُو اپنا خزانہ میرے پاس جمع کر کے مطمئن ہو جا، نہ آگ لگنے کا خطرہ، نہ پانی میں ڈوبنے کا اندیشہ اور نہ کسی چور کی چوری کا ڈر۔ میرے پاس رکھا گیا خزانہ مَیں پُورا تجھے دوں گا، اُس دن ، جبکہ تُو اِس کا سب سے زیادہ محتاج ہو گا۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ آج احمدیوں کی اکثریت کو اِس بات کا اِدراک ہے، وہ الله کی راہ میں بے شمار خرچ کرتے ہیں، حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں بھی اِس خرچ کی ایسی مثالیں ہیں۔ بلکہ اِن کو دیکھ کر آپؑ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ مَیں حیران ہوتا ہوں کہ کس طرح غریب لوگ دین کی خاطر اتنی قربانیاں کر رہے ہیں۔ آج بھی یہی حال ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ اکثر غرباء میں سے یا اوسط طبقے کے کمانے والے جو ہیں، وہ بہت بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں، کیونکہ اُنہیں یہ اِدراک ہے کہ الله تعالیٰ نے یہ مال ہمیں لَوٹانا ہے یا ہم الله تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے، کس طرح؟ یہ الله تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اِس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔

اصل بات یہی ہے کہ اگلے جہان میں الله تعالیٰ اُسے لَوٹائے گا، اِس کے ثواب میں شامل کرے گا اور یہ قربانیاں اُن کے لیے درجات کی بلندی کا باعث ہوں گی۔

پھر ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن حساب کتاب ختم ہونے تک انفاق فی سبیل الله کرنے والا الله کی راہ میں خرچ کیے ہوئے اپنے مال کے سائے میں رہے گا۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے تقویٰ وطہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے ۔اس کا معیار قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متّقی کے نشانوں میں ایک نشان یہ بھی رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متّقی کو مکروہاتِ دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود متکفّل ہو جاتا ہے۔

پھر ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ الله تعالیٰ اپنی خاطر قربانی کرنے والوں کو اور تقویٰ پر چلنے والوں کو بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جن کا الله تعالیٰ متولّی ہو جاتا ہے، وہ دنیا کے آلام سے نجات پاجاتے ہیں اور ایک سچی راحت اور طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اُن کے لیے الله تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مَخْرَ جًا وَّ یَرْ زُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُکہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے، الله تعالیٰ اِس کو اپنے فضل سے ہر ایک بلا ءاور اَلم سے نکال دیتا ہے، اِس کے رزق کا خود کفیل ہو جاتا ہے۔ اور ایسے طریق سے دیتا ہے کہ جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔

پھر حضورِ انور نے فرمایا کہ چونکہ اِس وقت مَیں وقفِ جدید کے حوالے سے بات کرنے والا ہوں، اِس لیے مَیں اُن لوگوں کی بعض مثالیں پیش کر دیتا ہوں ، جنہوں نے وقفِ جدید کے چندے دیے اور اُن پر الله تعالیٰ نے فضل کیے یا اُن کو الله تعالیٰ پر کتنا یقین اور مَان تھا کہ اگر وہ قربانی کر دیں ، تو الله تعالیٰ اُن کی ضروریات پوری کرے گا۔

اِس تناظر میں حضورِ انور نے فرمایا کہ انڈونیشیا کی ایک جماعت کی ایک خاتون طاہرہ صاحبہ کہتی ہیں کہ مَیں پارٹ ٹائم ٹیچر تھی ، تنخواہ بہت کم تھی، وقفِ جدید کے مالی سال کے اختتام پر مجھے نیشنل سیکرٹری صاحب کا پیغام ملا کہ میرا ایک لاکھ تیس ہزار روپیہ کا وعدہ ابھی باقی ہے۔ میرے پاس صرف اُتنی ہی رقم تھی کہ جو مَیں نے ایک چھوٹا سا کاروبار کرنے کے لیے رکھی ہوئی تھی، میرے دل میں تھوڑی کشمکش ہوئی، لیکن پھر مَیں نے الله پر توکّل کیا اور وہ ساری رقم وقفِ جدید میں دے دی۔ چنانچہ الله تعالیٰ کا ایسا کرنا ہوا کہ غیر متوقع طور پر مجھے سکول کی طرف سے بونس مل گیا جس کی مجھے اشد ضرورت تھی اور ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی ملی کہ میرا نام حکومت کی طرف سے سبسڈی ملنے والوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔ مَیں ابھی الله تعالیٰ کا ٹھیک طرح شکر بھی ادا نہیں کر پائی تھی کہ فوری طور پر میرا یہ کام ہو گیا کہ اِسی دوران میرا ٹیچر رجسٹریشن نمبر بھی جاری ہو گیا، جس کا مَیں برسوں سے انتظار کر رہی تھی، مجھے یقین ہے کہ الله تعالیٰ کا یہ فضل میرے اُس چندے کی ادائیگی کی برکت کی وجہ سے ہوا ہے۔

پھر کینیا جو مشرقی افریقہ کا ایک ملک ہے۔انڈونیشیا اور کینیا میں ہزاروں میل کا فاصلہ ہے، لیکن سوچیں کیسی ہیں، الله تعالیٰ کے فضل کیسے ہیں، ہر جگہ۔ الله تعالیٰ کس طرح اِن کو بھی نوازتا ہے۔ ایک معلّم نے ایک خاتون کا واقعہ بیان کیا کہ جو بڑی باقاعدگی سے چندوں کی ادائیگی کرتی ہیں، باوجود اِس کے کہ اِن کی کوئی خاص آمدنی نہیں ہے، لیکن چندوں کے معاملے میں بہت پکّی ہیں۔ اِس سال اُن کا وقفِ جدید کا وعدہ چار سو شلنگ تھا کہ جو اُنہوں نے ادا کر دیا، اور اُنہوں نے کہا کہ میرے پاس صرف یہی رقم تھی اور اب مَیں بالکل خالی ہاتھ ہو گئی ہوں۔ مگر الله تعالیٰ نے کیسا سلوک فرمایا! الله تعالیٰ نے اُنہیں خالی ہاتھ نہیں چھوڑا، جب اُنہوں نے کہا کہ مَیں خالی ہاتھ ہو گئی ہوں ، تو الله تعالیٰ نے کہا کہ مَیں تمہیں خالی ہاتھ نہیں چھوڑوں گا۔ کچھ دن بعد اُنہیں اُن کی بیٹی کی طرف سے چودہ سو شلنگ اِس وضاحت کے ساتھ ملے کہ اِس رقم میں سے آپ چندہ ادا کر کے باقی اپنے اخراجات پورے کر لیں۔ اِس کے بعد اُن کے داماد نے فون کیا ، وہاں یہ رواج ہے کہ شادی کے بعد بیٹی کا حق مہر والدین کو ملتا ہے، تو اُس نے حق مہر کی قیمت میں دو گائے کی قیمت نوّے ہزار شلنگ اُنہیں بھیج دی۔ کہتی ہیں کہ صرف یہی نہیں ہوا، مَیں نے تو صرف چار سو شلنگ دیے تھے، لیکن الله تعالیٰ نے بے شمار اور غیر معمولی طور پر نوازا اَور ایسی جگہ سے نوازا ، جہاں سے مجھے کوئی توقع بھی نہیں تھی۔ پھر غیر متوقع طور پر اُنہیں رشتہ داروں اور باقی بچوں کی طرف سے بھی تحائف اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے رقمیں پہنچنی شروع ہو گئیں، جس پر اُنہوں نے الله تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اِس بات پر اُن کا یقین کامل ہوا کہ یہ چندے کی برکات تھیں۔

چندوں کی ادائیگی سے ایک تو الله تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں اور ساتھ ہی الله تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ کر لوگوں کے ایمان میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

پھر قازقستان کے ایک مخلص دوست علی بیگ صاحب کا واقعہ ہے، چندے دینے میں بڑے باقاعدہ ہیں، ہر مہینے وقت پر چندہ ادا کرتے ہیں۔ کچھ عرصے سے مجبوری کی وجہ سے چندہ نہیں دے پا رہے تھے، یہاں تک کہ لازمی چندہ اور وقفِ جدید کا چندہ بھی اِس کاسال ختم ہونے پر ادا نہیں کر سکے تھے، بڑے پریشان تھے۔ایک دن جمعہ کی نماز کے بعد خودہی کہنے لگے کہ قرض بہت چڑھ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے بینک نے اکاؤنٹ ہی بند کر دیا تھا اور اِسی وجہ سے مَیں چندہ بھی نہیں دے پا رہا۔ دعا کر رہا تھا کہ الله تعالیٰ فضل کرے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، وہاں کے افسر نے ہمیں ایک اچھی رقم بطور بونس دی، جس کا ہم ایک سال سے انتظار کر رہے تھے۔ لیکن اِس کے ملنے کی کوئی صورت نظر نہ آ رہی تھی، بہرحال رقم مل گئی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے قرض بھی اُتر گیا اور چندے کا بقایا بھی ادا کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا یہ پختہ یقین ہے کہ یہ فضل محض اِس وجہ سے ہوا کہ مَیں اپنا چندہ ادا کر سکوں۔

گوادےلوپ ساؤتھ امریکہ کا ایک ملک ہے، وہاں ایک نومبائع ہیں، اُن کی عمر اٹھائیس سال ہے۔ ابھی طالبعلم بھی ہیں، پڑھائی کے ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی کرتے ہیں، غریب ملک ہے۔ اِن کو وقفِ جدید کی اہمیت و برکات سے آگاہ کیا گیا، جب اِن کو بتایا گیا تو وہ کہنے لگے کہ میری خواہش ہے کہ مَیں اِس میں شامل ہو جاؤں، لیکن ابھی میرے پاس بالکل بھی پیسے نہیں ہیں اور یہ بھی نہیں جانتا کہ مہینہ کیسے گزارنا ہے؟

اب ایسی حالت میں خواہش رکھنا، جب ہاتھ میں کچھ بھی نہ ہو اور پتا بھی نہ ہو کہ مہینہ کیسے گزرے گا، بہت مشکل کام ہے۔ اور آدمی کے پاس رقم آ جائے تو پہلے اپنے اُوپر خرچ کرتا ہے، لیکن ایمان لانے کے بعد اِن لوگوں کے عجیب رویّے ہیں۔ مبلغ نے اِنہیں کہا کہ آپ سٹوڈنٹ ہیں، زیادہ بڑی قربانی کی ضرورت نہیں ہے، بے شک ایک یا دو یورو دے دیں کہ جتنی آپ کی توفیق ہے، الله تعالیٰ تو نیّتوں کے مطابق ثواب دیتا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ ایک ہفتے کے بعد وہ مشن ہاؤس آئے اور ایک سو ساٹھ یورو چندہ وقفِ جدید ادا کر دیا۔ کہنے لگے کہ جس دن وقفِ جدید کی قربانی کا ارادہ کیا تھا، الله تعالیٰ نے اُسی ہفتے میرے اَمول میں برکت ڈال دی۔ جہاں مَیں پارٹ ٹائم جاب کر رہا تھا، اُنہوں نے مجھے میری تنخواہ وقت سے پہلے دے دی اور بلاوجہ زیادہ بھی دی اور مجھے خود بھی سمجھ نہیں آئی کہ کیوں زیادہ دی ہے؟ اور پھر کچھ دن بعد دوبارہ بتایا کہ ایک اور معجزہ ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ جس دن مَیں نے ایک سو ساٹھ یورو ادا کیے، میری خواہش تھی کہ مزید ادا کروں ، لیکن گنجائش نہیں تھی۔ لیکن چندہ دینے کے کچھ دن بعد ہی غیر متوقع طور پر کافی اچھی رقم مل گئی۔ مَیں نے ایک ٹریننگ سینٹر سے کچھ پیسے وصول کرنے تھے، جو باوجود کئی مرتبہ کہنے کےنہیں مل رہے تھے، لیکن الله تعالیٰ نے چندے کی برکت سے میری وہ رقم بھی دلا دی۔ چنانچہ موصوف نے مزید ایک سو چالیس یورو وقفِ جدید میں ادا کر دیے۔

کہاں تو یہ حالت ہے کہ فاقے سے زندگی گزر رہی ہے، کہاں یہ حالت ہے کہ تین سو یورو چندہ بھی دے دیا!

وقفِ جدید کے مالی جہاد میں قربانی کرنے والے مخلصین کے متفرق ایمان افروز واقعات اور اُن پر نازل ہونے والے خدا تعالیٰ کے غیر معمولی افضال کا تذکرہ کرنے کے بعد حضورِ انور نے ممالک اور جماعتوں کی پوزیشن بیان فرمائی جس کی تفصیل درج ذیل لنک پر موجود ہے۔

وقفِ جدید کے مختصر کوائف بیان کرنے کے بعد آخر پر حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ اِن سب قربانی کرنے والوں کےاَموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔ بعض جماعتوں کے نام مَیں اِس لیے پڑھ دیتا ہوں کہ اِن کو خیال ہوتا ہے کہ کیا پوزیشن ہے ہمیں بتایا جائے، اِس لیے روایت کے مطابق پڑھا جاتا ہے۔

خطبہ ثانیہ سے قبل حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے مالی قربانی کی اہمیت پر مبنی ایک اقتباس کی روشنی میں فرمایا کہ پس یہ الله تعالیٰ کا خاص فضل ہے اور ہم نے تجربہ بھی کیا ہے کہ کس طرح الله تعالیٰ لوگوں کو نوازتا چلا جاتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ الله تعالیٰ کے پاس ہی سارے خزانے ہیں، وہ آخری جہان میں اِن سے نوازے گا، لیکن اِس دنیا میں بھی نوازتا چلا جائے گا۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح الله تعالیٰ ہمیں نوا ز رہا ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں جہاں مالی قربانیوں کی توفیق آئندہ دیتا رہے، وہاں ہمارے ایمان اور یقین میں بھی اضافہ کرتا چلا جائے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button