کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

جو خدا کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا

جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گُناہوں سے بچوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ مجھے اپنے بھائیوں، قریبی رشتہ داروں اور سب دوستوں سے قطع تعلّق ہی کرنا پڑے مگر میں خدا تعالیٰ کو سب سے مقّدم رکھونگا اور اسی کے لئے اپنے تعلقات چھوڑتا ہوں۔ایسے لوگوں پر خدا کا فضل ہوتا ہے کیونکہ انہی کی توبہ دلی توبہ ہوتی ہے۔

…اس شرط سے دین کو کبھی قبول نہ کرنا چاہیے کہ میں مالدار ہو جائوں گا۔مجھے فلاں عہدہ مل جاوے گا۔یاد رکھو کہ شرطی ایمان لانے والے سے خدا بیزار ہے۔بعض وقت مصلحت الٰہی یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مُراد حاصل نہیں ہوتی۔طرح طرح کے آفات، بلائیں، بیماریاں اور نامُرادیاں لاحق حال ہوتی ہیں مگر ان سے گھبرانا نہ چاہیے۔موت ہر ایک کے واسطے کھڑی ہے اگر بادشاہ ہو جاوے گا تو کیا موت سے بچ جاوے گا؟ غریبی میں بھی مَرنا ہے۔بادشاہی میں بھی مَرنا ہے اس لیے سچی توبہ کرنے والے کو اپنے ارادوں میں دنیا کی خواہش نہ ملانی چاہیے۔

خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہرگزنہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے وہ اسے خائب وخاسر کرے اور ذلّت کی موت دیوے جو اس کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا سے سچا تعلق تھا اور پھر وہ نا مُراد رہا۔خدا تعالیٰ بندے سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشیں اس کے حضور پیش نہ کرے اورخالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے جو اس طرح جھکتا ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور ہر ایک مشکل سے خودبخود اس کے واسطے ر اہ نکل آتی ہے جیسے کہ وہ خود وعدہ فرماتا ہے مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۳ ،۴) اس جگہ رزق سے مُراد روٹی وغیرہ نہیں بلکہ عزّت، علم وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کوضرورت ہے اس میںداخل ہیں۔خدا تعالیٰ سے جو ذرّہ بھربھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ (الزلزال:۸)…

خدا تعالیٰ اپنے بندوں کا حامی ہو جاتا ہے۔دشمن چاہتے ہیں کہ ان کو نیست ونا بودکریں مگر وہ روز بروزترقی پا تے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آتے جاتے ہیں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ (المجادلۃ:۲۲) یعنی خدا تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے اوّل اوّل جب انسان خدا تعالیٰ سے تعلق شروع کرتا ہے تو وہ سب کی نظروں میں حقیر اورذلیل ہوتا ہے مگر جوں جوں وہ تعلقات الٰہی میں ترقی کرتا ہے توںتوں اس کی شہرت زیادہ ہوتی ہے حتّٰی کہ وہ ایک بڑابزرگ بن جاتا ہے جیسے خدا تعالیٰ بڑا ہے اسی طرح جو کوئی اس کی طرف زیادہ قدم بڑھا تا ہے وہ بھی بڑا ہو جاتا ہے حتّٰی کہ آخرکا ر خدا کا خلیفہ بن جاتا ہے۔

(ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۳و۲۴، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

مزید پڑھیں: اپنے بھائیوں کے عیوب اور معاصی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button