کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

قبض ، بسط رزق کا سِر ایسا ہے کہ انسان کی سمجھ میں نہیں آتا

جو خدا کے آگے تقویٰ اختیار کرتا ہے خدا اس کے لئے ہر ایک تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بتادیتا ہے۔ اور فرما يا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۴) وہ متقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق آنے کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔وعدوں کے سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کون ہے۔ پس خدا پر ایمان لاؤ۔خدا سے ڈرنے والے ہرگز ضائع نہیں ہوتے۔ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا (الطلاق:۳) یہ ایک وسیع بشارت ہے۔تم تقویٰ اختیار کرو خدا تمہارا کفیل ہوگا۔اس کا جو وعدہ ہے وہ سب پورا کر دے گا۔

(ملفوظات جلد۲ صفحہ۳۴۳۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)

قبض و بسط رزق کا سِر ایسا ہے کہ انسان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ایک طرف تو مومنوں سے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں وعدے کئے ہیں مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ (الطلاق:۴) یعنی جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اس کے لیے اللہ کافی ہے مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَل لَّهٗ مَخْرَجًا وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۳ ،۴)جو اللہ تعالى کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے کہ اس کو معلوم بھی نہیں ہوتا…جب کہ اس قسم کے وعدے اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں۔پھر با وجود ان وعدوں کے دیکھا جاتا ہے کہ کئی آدمی ایسے دیکھے جاتے ہیں جو صالح اور متقی نیک بخت ہوتے ہیں اور ان کا شعائر اسلام صحیح ہوتا ہے مگر وہ رزق سے تنگ ہیں۔رات کو ہے تو دن کو نہیں اور دن کو ہے تو رات کو نہیں…غرض یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں مگر تجر بہ دلالت کرتا ہے کہ یہ امور خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔ہمارا یہ مذہب کہ وہ وعدے جو خدا تعالیٰ نے کئے ہیں کہ متقیوں کو خود اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں بیان کیا ہےیہ سب سچ ہیں۔اور سلسلہ اہل اللہ کی طرف دیکھا جاوے تو کوئی ابرار میں سے ایسا نہیں ہے کہ بھو کا مراہو۔مومنوں نے جن پر شہادت دی اور جن کو اتقیامان لیا گیا ہے۔ یہی نہیں کہ وہ فقر و فاقہ سے بچے ہوئے تھے۔گو اعلیٰ درجہ کی خوشحالیاں نہ ہوں مگر اس قسم کا اضطراری فقر و فاقہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ عذاب محسوس کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر اختیار کیا ہوا تھا۔مگر آپ کی سخاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود آپؐ نے اختیار کیا ہوا تھا، نہ کہ بطور سزا تھا۔غرض اس راہ میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔بعض لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں کہ بظا ہر متقی اور صالح ہوتے ہیں مگر رزق سے تنگ ہوتے ہیں۔ان سب حالات کو دیکھ کر آخر یہی کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے تو سب سچ ہیں لیکن انسانی کمزوری ہی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔

(ملفوظات جلد۳ صفحہ۱۲۹۔۱۳۰۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)

مزید پڑھیں: صبر بڑا جو ہر ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button