ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۰۵)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

مامورین اور مرسلین کا استغناء

’’دیکھو موسیٰ علیہ السلام کو جب اﷲ تعالیٰ نے مامور کرنا چاہا اور فرعون کی طرف ہدایت اور تبلیغ کی خاطر بھیجنے کی بشارت دی تو انہوں نے عذر شروع کر دیا کہ میں نے اُن کا ایک خون کیا ہوا ہے بھائی کو بھیج دیا جاوے۔ یہ کیا بات تھی؟یہ ایک قسم کا استغناء اور اہل عالم سے الگ رہنے کی زندگی کو پسند کرنا تھا۔ یہی استغنا ہر مامور اور مرسل کو ہوتا ہے اور وہ اس تنہائی کی زندگی کو بہت پسند کرتا ہے اور یہی ان کے اخلاص کا نشان ہوتاہے۔اور اسی لیے اﷲتعالیٰ ان کو اپنے لیے منتخب کرتا ہے کیونکہ وہ ان کے دل پر نظر کر کے خوب دیکھ لیتاہے کہ اس میں غیر کی طرف قطعاً توجہ نہیں ہوتی اور وہ اﷲتعالیٰ کی رضا اور تعمیل امر ہی کو اپنی زندگی اور حیات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ؎

آن کس کہ تُرا شناخت جہاں را چہ کُنَد

فرزند و عیال و خانماں را چہ کُنَد

دیوانہ کنی و ہر دو جہانش بخشی

دیوانۂ تو دو جہاں را چہ کُنَد

اس کے دل میں بڑا بننے سے طبعاً نفرت اور کراہت ہوتی ہے۔ مگر وہ لوگ جو خود اس قسم کی کبریائی کی بیہودہ خواہشوں کے غلام اور اسیر ہوتے ہیں وہ اپنے نفس پر قیاس کر کے ان کی نسبت بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا بننے کی خواہشوں سے ایسے دعوے کرتے ہیں حالانکہ وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ ان کا دعویٰ تو ان پر ایک آفتوں اور مصائب کا طوفان لے آتا ہے اور ان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے۔ہر طرف سے ان کی مخالفت کے لیے ہاتھ اور زبان چلتی ہے اور کوئی دقیقہ اُن کو دکھ دینے میں اُٹھانہیں رکھا جاتا۔ پھر یہ کیسی بے انصافی اور ظلم ہے کہ ان کی نسبت یہ وہم کیا جاوے کہ وہ خواہش کبریائی سے ایسا کرتے ہیں۔ یہ بہتانِ عظیم ہے وہ تو صرف اﷲ تعالیٰ کا جلال اور اس کی عظمت کے اظہار اور اس کی کبریائی کے اعلان کو پسند کرتے ہیں اور ان کے لیے اپنی جان ایک جان کیا ہزار جان بھی دینے کو تیار ہوتے ہیں۔افسوس اہل دنیا ان کے حالات سے بے خبراور ناواقف ہوتے ہیں اس لیے اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے مصالح پسند فرماتے ہیں کہ ان کو باہر نکالا جاوے اور وہ دنیا کے سامنے نکلیں اور وہ خداجو اہلِ دنیا سے مخفی ہوتاہے ان کے وجود میں نظر آوے۔‘‘

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۷۸-۸۰، ایڈیشن۱۹۸۴ء)

تفصیل:اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی اشعار شاعر عبداللہ انصاری کےہیں جو کہ مع اعراب و اردوترجمہ ذیل میں دیے جاتے ہیں۔

آںْ کَسْ کِہْ تُرَاشَنَاخْت جَہَاںْ رَاچِہْ کُنَدْ

فَرْزَنْد و عِیَالْ و خَانُمَاںْ رَاچِہْ کُنَدْ

ترجمہ: جو شخص تجھے پہچان لے وہ جہاں کو کیا کرے، اولاد، اہل وعیال اور خاندان کوکیا کرے۔

دِیْوَانِہْ کُنِیْ و ہَرْ دُو جَہَانَشْ بَخْشِیْ

دِیْوَانِۂ تُو دُو جَہَاںْ رَاچِہْ کُنَدْ

ترجمہ: تو اپنا دیوانہ بنانے کے بعد دونوں جہان بخش دیتا ہے تیرا دیوانہ دونوں جہانوں کو کیا کرے ۔

لغوی بحث: آںْ کَسْ کِہْ(وہ جوکہ) تُرَا(تجھے)اصل میں ہے تو،را۔ شَنَاخْت(پہچان لیا) شناختن(پہچاننا) مصدرسےماضی مطلق سوم شخص مفرد۔ جَہَاںْ(جہاں)رَا(کو) چِہْ(کیا) کُنَدْ(کرے) کردن(کرنا)مصدرسے مضارع سادہ سوم شخص مفرد۔ فَرْزَنْد(اولاد)عِیَالْ(عیال) خَانُمَاںْ(خاندان) رَا(کو)چِہْ(کیا) کُنَدْ(کرے)کردن(کرنا)مصدرسے مضارع سادہ سوم شخص مفرد۔

دِیْوَانِہْ(دیوانہ)کُنِیْ(توبناتاہے؍توکرتاہے)کردن(کرنا؍بنانا)مصدرسے مضارع سادہ دوم شخص مفرد۔ وہَرْدُو(اوردونوں) جَہَانَشْ(جہان اس کو)ش برائے ضمیر متصل سوم شخص مفرد۔ بَخْشِیْ(توبخش دیتاہے؍عطاکردیتاہے) بخشیدن (بخشنا)مصدر سے مضارع سادہ دوم شخص مفرد۔ دِیْوَانِۂ تُو(تیرا دیوانہ)دُوجَہَاںْ(دوجہانوں) رَا(کو) چِہْ(کیا) کُنَدْ(کرے) کردن(کرنا) مصدرسے مضارع سادہ سوم شخص مفرد۔

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button