صحابہؓ کے انفاق فی سبیل اللہ کا ایک اعلیٰ نمونہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل کی گئی: لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَتم ہر گز نیکی حاصل نہیں کر سکو گے تا وقتیکہ تم اس سے خرچ نہ کروجو تمہیں پیاری ہے۔ حضرت ابوطلحہؓ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہؐ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :تم ہر گز نیکی حاصل نہیں کر سکو گے تا وقتیکہ تم اس سے خرچ نہ کروجو تمہیں پیاری ہے اور میری جائیدادوں میںسب سے پیارا مجھے بیرحاءہے اور یہ باغ اللہ کے لیے صدقہ ہے۔ میں اس کے ثواب کی امید رکھتا ہوں اور یہ کہ اللہ کے پاس (میرے لیے) بطور ذخیرہ ہو گا۔اس لیے یا رسول اللہؐ! جہاں اللہ آپؐ کو مناسب سمجھائے وہاں صَرف کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :واہ واہ یہ تو بڑا اچھا مال ہے اور میں نے سن لیا ہے جو تم نے کہا ہے۔اور میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اس کو رشتہ داروں میں تقسیم کرو۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا :یا رسول اللہؐ! مَیں یہی کروں گا۔چنانچہ حضرت ابو طلحہؓ نے اس مال کواپنے رشتہ داروں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کیا۔ (صحيح البخاري،كتاب تفسير القرآن،حدیث نمبر:۴۵۵۴)




