مجلس انصاراللہ جرمنی کے اٹھارھویں آل جرمنی علمی مقابلہ جات کا انعقاد
مکرم ڈاکٹر وسیم احمد طاہر صاحب رکن خصوصی مجلس انصاراللہ جرمنی تحریر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجلس انصاراللہ جرمنی کے ۱۸ویں آل جرمنی علمی مقابلہ جات مورخہ ۱۴؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز اتوار مسجد مبارک ویزبادن میں نہایت خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے۔

ان مقابلہ جات میں حفظ قرآن (مشترکہ)، نظم (صف اوّل و صف دوم علیحدہ)، پیغام رسانی اور بیت بازی کے مقابلے شامل تھے۔ پیغام رسانی اور بیت بازی کے مقابلے علاقائی ٹیموں کے مابین جبکہ حفظ قرآن اور نظم کے مقابلے انفرادی سطح پر منعقد ہوئے۔
مکرم بشیر احمد ریحان صاحب صدر مجلس انصاراللہ جرمنی نے مکرم شیخ محمد عمران صاحب قائد تعلیم کو ناظم اعلیٰ مقرر کیا جبکہ منتظمین اور نائب منتظمین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے پروگرام کی تیاری کے سلسلہ میں متعدد میٹنگز کیں۔

افتتاحی اجلاس مکرم صدر صاحب مجلس کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تلاوت قرآن کریم و ترجمہ، عہد اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا منظوم کلام پیش کیا گیا۔ اپنی افتتاحی تقریرمیں مکرم صدر صاحب نے انصار کو علم کے حصول، قرآن کریم کے فہم اور امام وقت کے ارشادات سے استفادہ کرنے کی تلقین کی اور اس ضمن میں حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اقتباسات پیش کیے۔ آخر میں صدر صاحب نے افتتاحی دُعا کروائی۔ بعدازاں منتظم اعلیٰ نے بھی شاملین کو خوش آمدید کہا اور علمی مقابلہ جات کی تفصیلات بیان کیں۔ مولانا عبد الباسط طارق صاحب مربی سلسلہ نے اپنے مختصر کلمات میں احباب کو علم حاصل کرتے رہنے اور حضرت اقدس مسیحِ موعودؑ کی کتب کا مطالعہ کرنے کی تلقین کی۔

مقابلہ جا ت کے لیے ہال کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ سٹیج اور اسی طرح ہال میں چاروں طرف متعدد بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے گئے تھے جن پر انصاراللہ کا عہد، ان کی ذمہ داریوں اور اسی طرح علم حاصل کرنے اور علم و معرفت میں ترقی کرنے سے متعلق اقوال و اقتباسات درج تھے۔ حفظ قرآن، نظم، پیغام رسانی اور بیت بازی کے مقابلہ جات نہایت منظم اور دلچسپ انداز میں منعقد ہوئے جن میں مختلف علاقہ جات کے انصار نے بھرپور تیاری کے ساتھ حصہ لیا۔ بیت بازی کا مقابلہ خاص طور پر سامعین کی توجہ کا مرکز رہا۔ منصفین، منتظمین اور موڈریٹر نے اپنی ذمہ داریاں احسن طریق پر نبھائیں۔
اختتامی اجلاس مکرم صدر مجلس کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد صدر صاحب نے اپنے اختتامی کلمات میں انصار کو مجلس انصار اللہ کے بنیادی لائحہ عمل کو پیش نظر رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ کے لیے عملی نمونہ بننے کی تلقین کی اور نئے شامل ہونے والے انصار کو جماعتی نظام میں مؤثر طور پر شامل کرنے پر زور دیا۔ بعد ازاں پوزیشنز حاصل کرنے والے انصار میں انعامات تقسیم کیے گئے اور دعا کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
نماز مغرب و عشاء کے بعد تمام حاضرین کے لیے کھانے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ ان علمی مقابلہ جات میں ۲۰۵؍انصار نے شرکت کی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک
(مرسلہ:عرفان احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مدرسۃ الحفظ گھانا کے ۹۹ویں اور ۱۰۰ویں طلبہ کا تکمیل حفظ کا اعزاز




