متفرق مضامین

جب گھانا لرز اٹھا!

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ سیرالیون)

گھانا میں تاریخ کا سب سےہولناک اور تباہ کن زلزلہ۱۹۳۹ء

میں نے براہین احمدیہ اور بہت سی اپنی کتابوں میں یہ خبر دی تھی کہ میرے زمانہ میں دنیا میں بہت سے غیر معمولی زلزلے آئیں گے اور دوسری آفات بھی آئیں گی اور ایک دنیا اُن سے ہلاک ہوجائے گی۔ پس اِس میں کیا شک ہے کہ میری پیشگوئیوں کے بعد دُنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے ایک نشان ہے۔ یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو مگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں جو اور ملکوں کے رہنے والے ہیں جن کو اس رسول کی خبر بھی نہیں۔ جیسا کہ نوح کے وقت میں ہوا کہ ایک قوم کی تکذیب سے ایک دنیا پر عذاب آیا بلکہ پرند چرند بھی اس عذاب سے باہر نہ رہے۔ غرض عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کسی صادق کی حد سے زیادہ تکذیب کی جائے یا اُس کو ستایا جائے تو دنیا میں طرح طرح کی بلائیں آتی ہیں۔ (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)

۱۹۳۹ء کا سال جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف قادیان اور دنیا بھر کے احمدی ’’خلافتِ ثانیہ سلور جوبلی و جماعت احمدیہ کی گولڈن جوبلی‘‘ کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ آئندہ فتوحات عالم پر اپنا علم لہرانے کے لیے لوائے احمدیت کی تیاری بھی جاری تھی۔ سال کے شروع جنوری میں چلّی میں تباہ کن زلزلہ آیا اور دسمبر میں ترکی میں زلزلہ آیا۔ دونوں زلزلوں میں تیس تیس ہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے۔ اسی سال کے عین وسط میں دنیا کے تاریک براعظم کے مغربی کنارے کے ملک گھانا میں خدا تعالیٰ نے بھی اپنا جلال دکھایا۔ اور اس طرح یہ سال گھانا کی مقامی جماعتی تاریخ کا بھی ایک سنگِ میل ٹھہرا۔

برطانوی نو آبادیاتی دور میں گھانا برٹش کالونی میں شامل تھا اور گولڈکوسٹ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جمعرات ۲۲؍جون ۱۹۳۹ء کو مغربی افریقہ کے ملک گھانا میں ایسا تباہ کن زلزلہ آیا جو اس ملک کی معلوم تین صدیوں میں نہ آیا تھا۔ یہ زلزلہ دنیا میں کئی مقامات پر ریکارڈ کیا گیا۔ ڈیڑھ صد لوگ متاثر ہوئے اور دس لاکھ پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔ لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے۔۱۵۰۰؍گھروں کو انتہائی مخدوش قرار دے کر از سرِ نو تعمیر کیا گیا جبکہ ۶۰۰؍گھروں کو مرمت کے بعد قابلِ رہائش قرار دیا گیا۔ زیادہ تر کچے بلاکس (mud blocks) سے تعمیر شدہ گھر متاثر ہوئے۔نقصان کا پھیلاؤ دارالحکومت اکرا سے تقریباً ۱۰۰؍کلومیٹر تک محیط تھا۔

(https://www.ngdc.noaa.gov/hazel/view/hazards/earthquake/event-more-info/3642)

اس زلزلے سے قبل گھانا میں آنے والے دو بڑے زلازل کے سالوں یعنی ۱۸۶۲ء اور ۱۹۰۶ء کو اگر دیکھا جائے تو یہ بھی مسیح و مہدی کے ظہور کے سا میں سے ہیں۔ پرانی کتب کی پیشگوئیوں میں مسیح کے نزول کے وقت زلازل کی خبر دی گئی تھی۔ تاہم ان دو زلزلوں سے ناواقف لوگوں نے دوبارہ زلزلے کو بطور نشان مانگنا شروع کر دیا۔ آئیے! ۱۹۳۹ء میں گھانا کے زلزلے کے نشان کے پسِ منظر کو جانتے ہیں۔

زلزلہ کا پسِ منظر

گھانا میں ۱۹۲۱ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم نیّر صاحبؓ کے توسط سےباقاعدہ جماعت احمدیہ کے دار التبلیغ کی بنا پڑی اور ابتدائی مبلغین کی بے لوث اور انتھک محنت سے قریباً ڈیڑھ دہائی کے دوران وہاں مخلصین اور فدائیانِ امام الزماں کی ایک جماعت قائم ہوگئی۔

حضرت مولانا عبد الرحیم نیّر صاحب ؓکی رپورٹس میں سراہا نامی قصبے کا ذکر موجود ہے۔ (الفضل ۳؍نومبر ۱۹۲۱ء) اسی علاقے کے ایک صاحب سعید اینڈرسن (Saeed Entsie Anderson) گھانا کے ساحل پر حضرت مولانا عبد الرحیم نیّر صاحبؓ کا استقبال کرنے والوں میں بھی شامل تھے۔ سعید اینڈرسن صاحب ایک نڈر اور بے باک مبلغ تھے۔ تبلیغ کے دوران ببانگِ دہل اعلان کرتے کہ مسیح آ گیا ہے اور سب توبہ کریں۔

ان کے بیٹے عبداللہ بن سعید اینڈرسن جو اس وقت پندرہ سال کے تھے، اس زلزلے کے چشمدید گواہ تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ۱۹۳۹ء میں ایک غیر احمدی مسلمان نے ان کے والد سے ان کی ہمشیرہ کا رشتہ طلب کیا۔ سعید صاحب نے زور دیا کہ وہ پہلے اسلام احمدیت قبول کرے، تب ہی نکاح ممکن ہوگا۔ وہ غیر احمدی شخص اس شرط پر راضی ہوا، اس نے احمدیت قبول کی اور پھر نکاح عمل میں آیا۔ آدم کوبینا کم(Adam Kobina Kum)، جو اس علاقے کے ایک غیر احمدی امام تھے، جب انہیں ان کے احمدیت میں شامل ہونے کا علم ہوا تو وہ بہت ناراض ہوئے۔ وہ عربی زبان کے عالم تھے اور کھلے عام یہ تبلیغ کرنے لگے کہ امام مہدی کا ظہور ابھی نہیں ہوا اور احمدی لوگ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ سعید صاحب نے اس عالم کو چیلنج کیا اور اسے دعوت دی کہ وہ سالٹ پانڈ آ کر مولانا نذیر احمد مبشر (جو اس وقت گھانا جماعت کے امیر تھے) سے اس معاملے پر ملاقات کرے، لیکن امام نے انکار کر دیا۔ (بحوالہ: خلافت صد سالہ جوبلی سووینئر، گھانا ۲۰۰۸ء، صفحہ ۵۹-۶۰)

پہلا مطالبہ کہ مکہ احمدی نہیں ہوا

احمدی مبلغین کرام کا یہ طریق عمل رہا ہے کہ حق کے بیان میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں وہ خود ساقی بن کر پیاسے کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ چنانچہ مولانا نذیر احمد مبشر صاحب خود اس مقام Ekumfi Immuna پر تشریف لے گئے جہاں یہ دونوں صاحبان رہتے تھے۔ آپ لکھتے ہیں کہ صراحہ غیراحمدی مخالفین کا سینٹر ہے پچھلے دنوں ایک حاجی مکہ سے آیا تھا جس نے ہمارے خلاف سخت پروپیگنڈا کیا۔ جب مجھے اطلاع ملی تو میں بھی پہہنچا۔ میرے جانے پر جب ان کو اطلاع ہوئی تو وہ میرے پاس آئے اور میرے آنے کا مقصد پوچھا۔ میں نے کہا کہ ہمارے خلاف جو آپ نے غلط پروپیگنڈا کیا ہے میں اس کے ازالے کے لیے آیا ہوں۔ اس پر انہوں نے حیلے بہانے کرنے شروع کر دیے جس کا مطلب یہ تھا کہ میرا یہاں کوئی لیکچر نہیں ہوگا۔ تاہم میں نے ان کو راضی کر لیا۔ اور ایک میدان میں ہم سب جمع ہوئے۔ پہلے دن جب میں نے لیکچر شروع کیا تو انہوں نے شور ڈالنا شروع کیا اور شام تک بدستور یہی حالت رہی دوسرے دن پھر بمشکل لوگوں کو میدان میں جمع کیا اور عرب صاحب بھی آئے۔اس وقت میں نے چار گھنٹے علامات ظہور مہدی پر لیکچر دیا۔ کیونکہ حاجی صاحب نے یہی تقریر کی تھی کہ امام مہدی ابھی نہیں آیا۔ دوران لیکچر پھر شور ڈالنا شروع کیا کہ ہم قرآن سے استدلال کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ میں نے پبلک کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ دیکھو! یہ علماء قرآن مجید پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس پر وہ شرمندہ ہوکر خاموش ہوگئے۔ لیکچر کے بعد اس عرب حاجی نے تقریر کی۔ لیکن میرے دلائل کو اس نے چھؤا تک نہیں۔ صرف یہی کہتا رہا کہ چونکہ مکہ والے ایمان نہیں لائے اس لیے ہم ہرگز ماننے کے لیے تیار نہیں۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ مکہ والوں نے تو آنحضرتﷺ کو بھی نہیں مانا تھا بلکہ مکہ سے نکال بھی دیا تھا لیکن آخر تک وہ یہی رٹ لگاتے رہے۔ سمجھدار طبقہ ہمارے دلائل سے بے حد متاثر تھا۔ (الفضل ۶؍جون ۱۹۳۹ء)

دوسرا مطالبہ نشانِ زلزلہ

آپ کے واپس آ جانے پر یہ گروہ اپنی مخالفت سے باز نہ آیا اور کھل کر نشانِ زلزلہ کا طلبگار ہوا۔ یہ واقعہ قدرے تفصیل سے خود محترم مولانا نذیر احمد مبشر صاحب (امیر جماعت ہائے احمدیہ سالٹ پانڈ) کے قلم سے ہی تحریر کردہ ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ ’’میرے پہلے تبلیغی دورہ گولڈ کوسٹ (غانا) کے دوران ۱۹۳۹ء میں گولڈ کوسٹ کا ایک نوجوان باشندہ بچپن میں اپنے والد کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں حج کے لیے گیا تھا اور اپنی پوری جوانی تک مکہ میں رہا تھا۔ اپنے وطن گولڈ کوسٹ واپس ہونے پر ایک گاؤں بنام صرؔاحہ میں اُس نے اقامت اختیار کی۔ اُس نے واپس پہنچتے ہی پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ مہدی علیہ السلام ہرگز ظاہر نہیں ہوئے اور یہ کہ احمدیت نعوذباللہ باطل ہے۔ جب اس غیر احمدی نوجوان کا چرچا اس علاقہ میں زیادہ ہوا تو علاقہ کے احمدی چیف(رئیس) میرے پاس لوکل مرکز سالٹ پانڈ میں آئے اور بیان کیا کہ اس قسم کا ایک غیراحمدی نوجوان مکہ سے واپس آیا ہے جو ہمارے علاقہ میں احمدیہ کے خلاف لوگوں کو اُکسا رہا ہے۔ اُس کے اثر کو زائل کرنے کے لیے آپ کو وہاں جا کر اس کے ساتھ مناظرہ کرنا چاہیے۔ اور یہ کہ اگر اس کے اثر کو جلد زائل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو وہ بعض کمزور احمدیوں کی ٹھوکر کا باعث ہوگا۔ اُس کی گفتگو سن کر میں نے کہا۔ میں انشاء اللہ ضرور جاؤں گا اور اس سے مناظرہ ضرور کروں گا۔ چنانچہ دوسرے دن ہی اُس علاقہ میں گیا اور بمقام صرؔاحہ جو کہ احمدیت کی مخالفت کا پرانا مرکز ہے، پہنچا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ہی اردگرد کے احمدی احباب وہاں موجود تھے۔ میں نے ایک کثیر مجمع کے سامنے اس غیراحمدی نوجوان سے گفتگو شروع کر دی۔ اور اُسے چیلنج دیا کہ اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام ظاہر نہیں ہوئے اور احمدیت نعوذ باللہ باطل ہے تو میرے ساتھ مناظرہ کرے لیکن اُس نے مناظرہ سے بالکل انکار کر دیا۔ وہ اور اُس کے ہمنوا غیراحمدی کہنے لگے کہ مناظرہ کی بجائے آپ ظہور مہدی علیہ السلام اور اُن کی صداقت پر لیکچر دیں۔ ہم سنتے ہیں۔ آپ کے لیکچر کے بعد ہم آپ پر کچھ سوالات کریں گے۔ چنانچہ خاکسار نے اڑھائی گھنٹے تک ایک مبسوط تقریر علامات ظہور مہدی و مسیح پر کی۔ تقریر کے بعد ایک شخص نے صرف دو سوال مجھے پر کئے جن کے جواب دیئے گئے اور یہ خیال کرنے پر کہ ممکن ہے کہ وہ لوگ مزید استفسار کریں میں اس گاؤں میں ایک روزہ ٹھہر گیا۔ لیکن کسی نے کوئی بات دریافت نہ کی اور میں دوسرے دن واپس سالٹ پانڈ چلا آیا ‘‘۔

مبلغ احمدیت کی واپسی پر مخالفین کا طرزِ عمل

مولاناصاحب لکھتے ہیں کہ میری واپسی کے ایک دن بعدصراؔحہ گاؤں اور اُس کے آس پاس کے غیر احمدی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے سفید لٹھے کا جھنڈا بنایا اور اپنے سروں اور کلائیوں پر سفید لٹھے کی پٹیاں باندھیں جسے وہاں فتحیابی کی علامت قرار دیا جاتا ہے اور مختلف دیہات میں بطور جلسہ گھومے اور نعرے لگائے کہ ہم نے امیر جماعت احمدیہ گولڈکوسٹ کو شکست دے دی ہے اور ساتھ ہی وہ فیسی میں گاتے جاتے تھے کہ’’ مہدی ظاہر نہیں ہوا‘‘، کیونکہ ’’زلزلہ نہیں آیا‘‘ گویا اُن کے نزدیک مہدی کے آنے کی بڑی علامت زلزلہ کا آنا تھا۔ اور وہ اُن کے ملک میں نہیں آیا۔

مجھے جب ان کے اس رویّہ کی خبر پہنچی تو میں نے چند دن نہایت التزام کے ساتھ دعا اور اللہ تعالیٰ سے التجاء کی کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کے اظہار اور اس کی تائید کے لیے اس ملک میں زلزلہ کا نشان ظاہر فرمائے۔ چند دنوں کی دعا کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ گولڈ کوسٹ میں ضرور زلزلہ کا نشان مخالفین حضرت مسیح موعودؑ کو دکھلائیگا۔

چنانچہ اس یقین اور وثوق کی بناء پر میں نے اس علاقہ کی احمدی جماعتوں کو ایک سر کلر بھیجا کہ فلاں فلاں تاریخ کو فلاں فلاں گاؤں میں اجلاس منعقد کریں۔ اس کے ارد گرد کی جماعتیں وہاں پہنچ جائیں۔ چنانچہ اس علاقہ کے تین گاؤں یعنی افرانسی(Afransi)، اکوامکرم (Ekwamkrom)اور مدینہ پیتودواسی(Medina Petuduasi) جو ایک دوسرے سے کافی فاصلہ پر واقع ہیں، کے متعلق اعلان کیا گیا۔ اوّل الذکر دونوں دیہات میں مقررہ تواریخ پر پبلک اجلاس منعقد کئے گئے جن میں احمدیوں کے علاوہ غیراحمدی، مشرک اور عیسائی بھی شریک ہوئے۔ ان اجلاسوں میں مَیں نے اپنے مناظرے کے چیلنج اور تقریر کا ذکر کیا۔ اور اصل حقیقت سے پبلک کو آگاہ کیا کہ مکہ سے واپس آنے والے نوجوان نے میری ایک بات کا بھی جواب نہ دیا اور نہ ہی اس نے میری تقریر پر اعتراض کرنے کی جرأت کی۔ صرف ایک شخص نے دو سوال دریافت کئے جن کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے۔ اور بجائے اس کے کہ یہ لوگ ندامت سے اپنا سر نیچا کرتے اُلٹا انہوں نے اپنی جھوٹی فتحیابی کے گانے اور ناچنے کا اظہار کیا۔ نیز ہر دو دیہات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں متعلقہ زلازل بیان کر کے عام پبلک میں ببانگ دہل اعلان کیا کہ دنیا کے سارے دوسرے ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق زلازل آچکے ہیں اور اب گولڈ کوسٹ (غانا) کی باری ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کے ثبوت میں ضرور جلد ہی گولڈ کوسٹ کی زمین کو زلزلہ سے ہلا کر آپؑ کے مخالفین کو ملزم کرے گا۔

اس دورہ کو جاری رکھتے ہوئے جب تیسرے گاؤں مدینہ پیتودواسی (Medina Petuduasi) بروز جمعرات پہنچا۔ اور دوسرے دن جس تاریخ مقررہ پر اجلاس منعقد ہونا تھا تو دورہ کے تیسرے اجلاس کے منعقد ہونے سے پہلے جمعرات کی رات کو قریباً آٹھ بجے شام شدید زلزلہ آیا جس کے جھٹکے رات کو بعد میں بھی محسوس ہوتے رہے۔ اس زلزلہ سے گولڈ کوسٹ میں بہت سے مکانات مسمار ہوئے اور بعض مقامات پر غیر ازجماعت لوگ بوجہ خوف اپنی جانیں بچانے کے لیے احمد یہ مساجد میں جا گھسے۔

چنانچہ اس زلزلہ کے نشان کو دیکھ کر بعض مشرک اور عیسائی اپنے ستار بجا بجا کر’’ مہدی ظاہر ہو گیا ہے‘‘ کا گیت گاتے تھے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ زلزلہ آگیا ہے۔

یہ زلزلہ جولائی ۱۹۳۹ء میں آیا جو ایک طرف تو اس عاجز کی دعا کی قبولیت کا ثبوت تھا۔ اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا ایک زبردست نشان تھا۔ اور اس کا ایک نمایاں اثر یہ ہوا کہ جب خاکسار دورہ کے بعد سالٹ پانڈ میں لوٹا تو ایک اشتہار مشتمل بر پیشگوئیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام متعلقہ زلازل عربی اور انگریزی میں فوراً شائع کیا اور ایک ماہ کے اندر ۱۸۰؍نَو مبائعین جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔ الحمد للہ علی ذالک‘‘ (رسالہ انصار اللہ دسمبر ۱۹۶۴ء بحوالہ برہانِ ہدایت از ابو ظفر عبدالرحمٰن مبشر مولوی فاضل صفحہ۱۳۸-۱۴۰)(حضور انور ایدہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ ۱۸؍مارچ ۲۰۱۱ء میں بھی اس واقعہ کا ذکر فرمایا۔)

اس زلزلے کے آفٹر شاکس جولائی تک جاری رہے تھے، شاید اسی سبب جولائی کی یادداشت درج ہے۔ یا یہ مضمون قریباً پچیس سال بعد ضبطِ تحریر میں لایا گیا اس لیےسہواً جولائی ہوا۔ بہر حال اسی سال کے روزنامہ الفضل قادیان میں اس زلزلے کی تاریخ اور وقت دونوں درست درج ہیں۔

زلزلہ کی رپورٹ

زلزلہ کی بابت الفضل قادیان میں لکھا ہے کہ ’’ ۲۲۔جون کو ساڑھے سات بجے شام گولڈ کوسٹ میں ایک شدید زلزلہ آیا۔ جس سے بھاری نقصان ہوا، اور گولڈ کوسٹ کے سینکڑوں آدمی بے خانماں ہو گئے۔ گورنمنٹ کی بعض عمارتیں پھٹ گئیں۔ اور بس مٹی کا ڈھیر ہو گئیں۔ ۱۳۷ نفوس گولڈ کوسٹ دارالحکومت میں اس زلزلہ کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ زلزلے کے بعد بھی خفیف جھٹکے آتے رہے۔ اس جگہ یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ ۳۷ء میں جماعت گولڈ کوسٹ کی طرف سے ایک اشتہارA Cry in the wilderness مشتمل برپیشگوئیاں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام متعلقہ زلزلہ شائع کیا گیا تھا۔ اور بکثرت ملک میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اور آنے والے مصائب سے قبل از وقت آگاہ کیا گیا تھا۔ زلزلہ کے بعد عام طور پر عیسائی اور مشرک لوگ بھی اس امر کے اظہار سے نہ رہ سکے اور انہوں نے اقرار کیا کہ جماعت احمدیہ نے قبل از وقت بذریعہ اشتہار اس زلزلے کی خبر دی تھی۔ اس زلزلہ کی وجہ سے لوگوں کا عام رجحان سلسلہ کے لٹریچر کے مطالعہ کی طرف ہو گیا ہے‘‘۔ (الفضل قادیان ۵؍اگست ۱۹۳۹ء کالم ۴،۳)

زلزلے کے دوران کیا ہوا؟

زلزلے کے بعد آفٹرشاکس کا سلسلہ جاری رہا۔ مولانا مبشر صاحب کہتے ہیں کہ زلزلہ کے دوران یوں ہوا کہ اسی رات عشا کے وقت شدید قسم کا زلزلہ آیا اور ساری رات زمین ہلتی رہی… لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور رات باہر کھلے میدان میں بسر کی۔ (الفضل ۱۴؍جون ۲۰۰۶ء صفحہ ۴ کالم ۲)

زلزلہ رونما ہوا تو ان لوگوں کے دلو ں میں خوف پیدا ہوا اوراس عذابِ الٰہی سے پناہ کی خاطر احمدیہ مسجدمیں بھاگے آئے۔ چنانچہ عبداللہ بن سعید صاحب ہی بتاتےہیں کہ ’’مدینہ پیتودواسی(Medina Petuduasi) میں ہونے والی مجلس سے ایک رات قبل، جنوبی گھانا میں ایک زبردست زلزلہ آیا۔ مولانا مبشر صاحب، الحاج ایم اے اسحٰق کے ہمراہ مجلس کے لیے پہلے ہی مدینہ پیتودواسی پہنچ چکے تھے کہ اسی رات زلزلہ واقع ہوگیا۔ اس طرح جنوبی گھانا نے مسیح کی آمد کا نشان دیکھ لیا جس کے متعلق انگریزی اور اردو میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے۔ زلزلے کے دوران، ایکمفی ایمونا(Ekumfi Immuna) کے تمام لوگ، جن میں غیر احمدی بھی شامل تھے، احمدیہ مسجد میں پناہ لینے کے لیے آ گئے، جبکہ دیگر لوگ سعید اینڈرسن صاحب کے گھر جمع ہو گئے اور ان سے دعاؤں کی درخواست کی۔

بعد سفید رومال لہرانے کی باری اب احمدیوں کی تھی۔ احمدیوں نے خوشی کے ترانے گائے اور اسمعوا صوت السماء جاء المسیح جاء المسیح کے نعرے لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بہت سے لوگ سعید اینڈرسن صاحب کے پاس قطار لگا کر کھڑے ہوگئے اور احمدیت قبول کر نے لگے۔ وہ غیر احمدی امام دو ہفتے تک کہیں جا کر روپوش ہوگئے۔ اورپھر واپس آکر بالآخروہ بھی احمدی ہو گئے۔ بعد ازاں بیعت کرکے مقامی احمدی امام بن گئے اورEkumfiکے جنوب میں احمدیت کی اشاعت کے لیے سینہ سپر رہے۔‘‘(خلافت صد سالہ جوبلی سووینئر، گھانا ۲۰۰۸ء، صفحات ۵۹-۶۰)

مولانا مبشر صاحب کہتےہیں کہ دلچسپ صورتحال یہ پیدا ہوگئی کہ بعض مقامات پر عیسائیوں اور مشرکوں نے مل کر گیت گانے شروع کر دیے کہ مسیح آگیا ہے کیونکہ زلزلہ آگیا ہے۔ جب میں وہاں سے روانہ ہوا تو سڑک پر واقع گاؤں کے لوگ مجھے دیکھ کر کہتے تھے کہ یہی وہ شخص ہے جس نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس ملک میں زلزلہ آئے گا۔ اس واقعہ کے بعد کثیر تعداد نے احمدیت قبول کی۔ (الفضل ۱۴؍جون ۲۰۰۶ء صفحہ ۴ کالم ۲)

ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج

جس کی فِطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار

بیرونی دلائل

ان واقعات کی تفصیل کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اس زلزلے کے غیر معمولی ہونے اور تاریخ کے خوفناک زلزلے ہونے کے متعلق ماہرین کی شہادتیں بھی موجود ہیں۔ زلزلے کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’اگرچہ گھانا دنیا کے بڑے زلزلہ خیز علاقوں سے بہت دور واقع ہے پھر بھی یہ ملک زلزلوں کی تباہ کاریوں کا شکار رہا ہے۔ گھانا میں تباہ کن زلزلوں کا ریکارڈ کم از کم۱۶۳۶ء تک موجود ہے۔ گزشتہ تین بڑے زلزلے ۱۸۶۲ء، ۱۹۰۶ء اور ۱۹۳۹ء میں آئے۔ سب سے زیادہ تباہ کن زلزلہ ۲۲۔جون ۱۹۳۹ء کو اُس وقت کے گولڈ کوسٹ (موجودہ گھانا) میں آیا، جس نے وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ اس زلزلے میں ۱۷۔ افراد جاں بحق اور ۱۳۳ زخمی ہوئے۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت۶.۵ (چھ اعشاریہ پانچ)تھی۔۱۹۳۹ء کے زلزلے کے بعد بھی زلزلے کی سرگرمیاں(آفٹر شاکس) جاری رہیں۔ اس کے بعد ۱۹۹۷ء میں ۸؍جنوری، ۱۴؍فروری اور ۶؍مارچ کو ۴.۰ شدت کا زلزلہ ریکارڈ ہوا۔‘‘

(https://ui.adsabs.harvard.edu/abs/2003EAEJA….14097A/abstract)

تاہم مذکورہ بالا حوالے کے علاوہ ۱۸۶۲ء، ۱۹۰۶ء اور ۱۹۳۹ء کے زلازل پر کئی ریسرچ پیپرز انٹرنیٹ پر بھی مہیا ہیں۔ چند پیش ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے تقریباً تین لاکھ مربع میل کے رقبے میں محسوس کیے گئے، اور بعض مقامات پر یہ جھٹکے اکرا سے پانچ سو میل سے بھی زیادہ فاصلے تک محسوس کیے گئے۔ چونکہ زلزلے کا مرکز غالباً اکرا سے تقریباً پچیس میل دور سمندر میں واقع تھا، اس لیے اگر پورا علاقہ آباد ہوتا تو اندازہ ہے کہ یہ زلزلہ چھ لاکھ مربع میل سے زیادہ رقبے پر محسوس کیا جاتا۔

https://www.nature.com/articles/147751a0

ایک مضمون بعنوان Seismic activity in Ghana: past, present and future by Paulina Ekua Amponsah (Geological Survey Department, Accra, Ghana) سے اعداد و شمار پیش ہیں جو قارئین کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے۔

The most destructive earthquake in Ghana that caused a lot of damage and loss of life and property occurred on 22 June 1939. The earthquake occurred at about 7:20 p.m. and was felt for about 20 to 30 seconds. The earthquake was assigned a magnitude of 6.5 on the Richter scale and a maximum intensity of IX (Junner,1941). Ambraseys and Adams (1986) estimated the surface wave and body wave magnitudes tobe 6.4 and 6.8 respectively and the maximum intensity as IX (uncertain). Quaah (1980) also estimated the magnitude ( M L ) to be 6.4. The intensity of the shock was greatest in James town, suburb of Accra. Seventeen people were killed,133 injured and an estimated one million pounds worth of damage done to buildings (Junner,1941). The earthquake was extensively felt. Per-sons over an area of about 750000 square kilo-metres and at places more than 800 kilometers from Accra felt it. The epicentre was rather out to sea otherwise the felt area would have been more than the estimated figure. The earthquake was recorded tele seismically at various observatories around the world. The epicentre was located at 5.18°N,0.13°W (International Seismological Summary (ISS),1939) with a focal depth of 13 kilometres. The most prominent geological effect of the 1939 earthquake was a line of fissure in the alluvium bordering the Akwapim scarp between Weija and Fete (Junner, 1941). In April 1939, two minor shocks believed to be foreshocks of the 1939 earthquake occurred in Accra. As many as five aftershocks were felt in a day. This trend continued until July 1939. On 11 March 1964 and 9 February 1969 earth tremors of magnitudes( M L ) 4.5 and 4.7were recorded respectively (Quaah,1980).Both events were felt in Accra.

یعنی گھانا کی تاریخ کا سب سے تباہ کن زلزلہ، جس نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا، ۲۲ جون ۱۹۳۹ء کو آیا۔ یہ زلزلہ شام تقریباً سات بج کر بیس منٹ پر آیا اور اس کے جھٹکے ۲۰ سے ۳۰ سیکنڈ تک محسوس کیے گئے۔ اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.5 ریکارڈ کی گئی جبکہ زیادہ سے زیادہ شدت IX (نو) درج کی گئی۔(Junner,1941)۔

امبریسِیس اور ایڈمز (۱۹۸۶ء) نے سطحی اور اندرونی لہروں کی شدت بالترتیب 6.4 اور 6.8 بتائی، جبکہ زیادہ سے زیادہ شدت IX بتائی گئی، لیکن اس پر کچھ غیر یقینی بھی ظاہر کی گئی۔ کوآہ (۱۹۸۰ء) نے اس کی شدت (ML) 6.4 بتائی۔

اس زلزلے کی سب سے شدید تباہی جیمز ٹاؤن (اکرا کے ایک نواحی علاقے) میں محسوس کی گئی۔ اس سانحے میں ۱۷۔ افراد جاں بحق ہوئے، ۱۳۳ زخمی ہوئے، اور عمارتوں کو تقریباً دس لاکھ پاؤنڈ کا نقصان پہنچا۔(جونر، ۱۹۴۱ء)

یہ زلزلہ بہت وسیع علاقے میں محسوس کیا گیا۔ تقریباً 7,50,000 مربع کلومیٹر کے رقبے میں، حتیٰ کہ اکرا سے ۸۰۰ کلومیٹر دور مقامات پر بھی لوگ اس کے جھٹکے محسوس کرسکے۔ اگر زلزلے کا مرکز سمندر کے اندر نہ ہوتا تو جھٹکوں کا دائرہِ اثر اور بھی وسیع ہو سکتا تھا۔

International Seismological Summary کی رپورٹ کے مطابق یہ زلزلہ دنیا بھر کی مختلف زلزلہ پیما گاہوں (observatories) میں دور سے ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا مرکز (epicentre 5.18) شمال اور 0.13 مغرب (بین الاقوامی زلزلہ شماریاتی رپورٹ، ۱۹۳۹ء) جبکہ اس کی گہرائی ۱۳؍کلومیٹر تھی۔

۱۹۳۹ء کے اس زلزلے کا سب سے نمایاں ارضیاتی اثر، ویجا (Weija) اور فیٹے (Fete) کے درمیان آکواپم (Akwapim) پہاڑی کے دامن میں مٹیالی زمین (alluvium) میں دراڑوں کی ایک لمبی لکیر کی صورت میں ظاہر ہوا (جونر، ۱۹۴۱ء)۔

یاد رہے کہ اپریل ۱۹۳۹ء میں بھی دو غیر محسوس زلزلے آئے تھے جنہیں بعد ازاں اسی بڑے زلزلے کے ابتدائی جھٹکے (fore-shocks) خیال کیا جاتا رہا ہے۔ زلزلے کے بعد ایک دن میں پانچ مرتبہ جھٹکے تک محسوس کیے گئے اور یہ سلسلہ جولائی ۱۹۳۹ء تک جاری رہا۔

۲۰۱۳ء کے زلزلے کے بعد یونیورسٹی آف غانا کی ایک تحقیق ہوئی جس میں لکھا ہے کہ

اس تحقیق کا مقصد ۱۹۳۹ء کے اکرا (Accra) زلزلے کی نئی تعبیر پیش کرنا، اکرا کے حالیہ زلزلہ خیزی (seismicity) کی نوعیت اور وجوہات کو واضح کرنا، اور اکرا کے علاقے اور جنوبی گھانا میں مستقبل میں کسی بڑے دورانیہ والے زلزلے کے امکان کا جائزہ لینا ہے۔

اس مطالعے میں گھانا کے تاریخی زلزلوں کے ریکارڈ کی نئی تشریح کو تازہ فیلڈ ڈیٹا کے ساتھ ملا کر اکرا ریجن کی زلزلہ خیزی کی نوعیت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۳۹ء کا اکرا زلزلہ ایک کم گہرائی میں آنے والا ٹیکٹونک (tectonic) واقعہ تھا، جو کہ اکرا سے چالیس کلومیٹر جنوب میں واقع رومینچے فالٹ زون (Romanche Falt Zone) کے مشرقی حصے میں زیرِآب ہائی اینگل اسٹرائیک-سلپ فالٹس (high-angle submarine strike-slip faults) کی وجہ سے آیا۔

اکرا ریجن میں حالیہ زلزلہ خیزی بھی انہی آف شور فالٹ سسٹمز سے تعلق رکھتی ہے جن سے ۱۹۳۹ء کا زلزلہ منسلک تھا۔ تاہم، ۱۹۳۹ء کے زلزلے کی ساختی نوعیت اور اس کا میکانزم (mechanism) اس بات کو رد کرتے ہیں کہ یہ کسی خطے میں دورانیہ (cyclic) زلزلوں کے پیٹرن کا حصہ ہو۔

تاہم، تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ کسی بڑے دورانیہ والے زلزلے کا امکان کم ہے، لیکن کسی اہم اور بےترتیب (random) زلزلے کا امکان اب یا مستقبل میں اکرا یا جنوبی گھانا کے دیگر حصوں میں موجود ہے، کیونکہ اس علاقے میں کئی خودمختار سرگرم فالٹ سسٹمز موجود ہیں جو زلزلوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس کے بعد تحقیق میں ماہرین نے جغرافیائی پیٹرن پیش کیا ہے کہ

The magnitude was estimated at the magnitude 6.5, but it apparently was higher, as it originated as a submarine quake some 40 kilometres offshore, where the magnitude could well be 7.0 on the Richter scale. Major earthquakes of magnitudes greater than 7.0 are rare onshore in Ghana, and seismic data are limited.

Seismicity based on earthquake cycle intervals is unknown in Ghana; if even a cycle exists the pattern is not evident.

The statistics in Table 3 does not give a clear pattern of occurrence. The emerging patterns are based on the 77 years interval (1862–1939 Accra cycle?) or 74 years interval (1939–2013 Accra cycle?). The 77 years interval is intersected by the 1862–1906 time gap (44 year-cycle) and 1906–1939 gap (33 year-cycle) as shown in Table 3. In southern Ghana, including Accra region, there are no known major earthquake sequences, and no clustered concentration of earthquakes have occurred at the end of the 74-year presumed seismic cycle.

یعنی زلزلے کی شدت کا اندازہ 6.5 لگایا گیا، لیکن بظاہر یہ اس سے زیادہ تھی، کیونکہ یہ زلزلہ سمندر میں سطح زمین سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور پیدا ہوا، جہاں شدت ممکنہ طور پر ریکٹر اسکیل پر 7.0 ہو سکتی ہے۔ گھانا میں خشکی پر 7.0 یا اس سے زیادہ شدت کے بڑے زلزلے بہت کم ریکارڈ ہوئے ہیں، اور دستیاب زلزلہ ڈیٹا بھی محدود ہے۔

زلزلے کے چکروں (earthquake cycle intervals) کی بنیاد پر گھانا میں زلزلہ خیزی کا کوئی واضح انداز معلوم نہیں۔ اگرچہ کوئی مخصوص چکر موجود بھی ہو، تب بھی اس کا کوئی ٹھوس نمونہ سامنے نہیں آتا … اعداد و شمار زلزلوں کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی واضح تسلسل ظاہر نہیں کرتے۔ جو ممکنہ پیٹرن سامنے آتا ہے، وہ ۷۷ سال کے وقفے (۱۸۶۲ء – ۱۹۳۹ء کا ممکنہ اکرا زلزلہ سائیکل) یا ۷۴ سال کے وقفے (۱۹۳۹ء – ۲۰۱۳ء اکرا سائیکل) پر مبنی ہے۔ اس ۷۷ سالہ وقفے کے درمیان دو درمیانی ادوار بھی آتے ہیں: ۱۸۶۲ء سے ۱۹۰۶ء تک کا ۴۴ سالہ وقفہ، اور ۱۹۰۶ء سے ۱۹۳۹ء تک کا ۳۳ سالہ وقفہ۔

جنوبی گھانا، خصوصاً اکرا کے علاقے میں، نہ تو کسی بڑی زلزلہ کی ترتیب (sequence) کا سراغ ملا ہے اور نہ ہی زلزلوں کی کوئی جھرمٹ (cluster) کسی متعین مدت کے اختتام پر ریکارڈ ہوئی ہے جیسا کہ ۷۴ سالہ زلزلہ چکر کے مفروضے کے اختتام پر متوقع ہوتا۔دراصل یہ ’’زلزلے کا خلا‘‘ (seismic gaps) ہے،جو زمینی پلیٹوں کی فالٹ لائنوں (faulting) میں پایا جاتا ہے اورجو مستقبل کے بڑے زلزلوں کی نشاندہی کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس کے بعد نتیجہ یوں نکالا گیا ہے کہ

Conclusions are presented on the results of the re-interpretation of the 1939 Accra tremor, the nature and causes of the seismicity of the region, and likelihood of recurrence of major cyclic earthquake in the region.

The 1939 Accra earthquake was moderate or large size, shallow-focus tectonic event that ruptured 40 kilometres offshore south of Accra. The causative fault was a high-angle sinistral strike-slip submarine fault. The assigned onshore magnitude of 6.5 and maximum onshore intensity of IX-X in the Accra region are most probably lower than the actual offshore magnitude which may likely have reached magnitude 7 (Richter scale). The earthquake was heavily damped both offshore and onshore.

The Accra Coastal Fault and Akwapim Fault form a cross-fault at Kokrobite west of Accra. These faults are fault splays linked to and in interactions with the Romanche and adjacent fracture zones; and their movements are related to the causes of 1939 Accra Earthquake and recent seismicity of the region. The current seismicity of the region future appears to emanate from complex system of transform-fracture zone movements and small crustal stabilization adjustments of the Accra region block locked between the adjoining Birimian and Dahomeyide blocks.

(https://www.researchgate.net/publication/277653928_Recent_seismicity_of_southern_Ghana_and_re-interpretation_of_the_1939_Accra_earthquake_implications_for_recurrence_of_major_earthquake)

یہ نتائج ۱۹۳۹ء کے اکرا زلزلے کی نئی تعبیر، اس علاقے میں زلزلوں کی نوعیت اور اسباب اور مستقبل میں کسی بڑے دورانیے والے زلزلے کے امکانات کے تجزیے پر مبنی ہیں۔

۱۹۳۹ء میں اکرا زلزلہ درمیانے یا بڑے درجے کا، کم گہرائی میں پیدا ہونے والا ایک ارضیاتی واقعہ تھا، جو اکرا کے جنوب میں سمندر کے اندر چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر زمین پھٹنے سے پیدا ہوا۔ اس زلزلے کا سبب ایک تیز زاویے والی بائیں طرف سرکنے والی (sinistral strike-slip) زیرِآب فالٹ لائن تھی۔ زمین پر اس کی شدت ۶.۵؍بتائی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ شدت IX-X (ریکٹر اسکیل پر) اکرا کے علاقے میں محسوس کی گئی، جو ممکنہ طور پر اصل زیرِسمندر شدت سے کم ہے، جو کہ ریکٹر اسکیل پر غالباً ۷تک پہنچ گئی تھی۔ یہ زلزلہ سمندر اور خشکی دونوں پر خاصا مدھم محسوس کیا گیا۔اکرا کوسٹل فالٹ اور آکواپم فالٹ، اکرا کے مغرب میں کوکروبیٹے کے مقام پر ایک کراس فالٹ بناتے ہیں۔ یہ فالٹ لائنیں رومینچے فالٹ زون اور اس سے ملحقہ فالٹس سے جڑی ہوئی ہیں اور ان کے ساتھ باہمی تعامل رکھتی ہیں۔ ان کی حرکات کا تعلق ۱۹۳۹ء کے اکرا زلزلے اور حالیہ زلزلہ خیزی سے ہے۔مستقبل میں اس علاقے میں زلزلہ خیزی کا امکان ایک پیچیدہ فالٹ سسٹم سے جڑا ہوا ہے، جو مختلف فالٹ زونز میں حرکات اور زمینی سطح میں ہلکی نوعیت کی استحکامی تبدیلیوں سے پیدا ہو سکتا ہے۔ اکرا کا علاقہ برِیمیئن (Birimian) اور ڈاہومیائیڈ (Dahomeyide) زمینی بلاکس کے درمیان واقع ہے۔ اور ان کے درمیان کی بندش اس زلزلہ خیزی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اگر مذکورہ بالا تحقیقات کو درست تسلیم کیا جائے تو مستقبل میں گھانا میں ایک بڑا زلزلہ آنے کا تصوّر بھی پیدا ہورہا ہے جس کے متعلق آئے دن ماہرین خبردار کر رہے ہیں۔ جس کا جغرافیائی دلائل کی بنا پر واضح امکان موجود ہے۔

آسماں پر شور ہے پر کچھ نہیں تم کو خبر

دن تو روشن تھا مگر ہے بڑھ گئی گرد و غبار

اِک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد

جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر اور مرغزار

آئے گا قہرِ خدا سے خلق پر اِک اِنقلاب

اِک برہنہ سے نہ یہ ہو گا کہ تا باندھے اِزار

یک بیک اِک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے

کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار

تاہم موجودہ معلوم تاریخ میں گھانا میں۱۶۳۶ء سے ۱۹۳۹ء تک کے زلزلوں میں ۱۹۳۹ء جیسے ہولناک زلزلے اور تباہی کی اور کوئی مثال نہیں ملتی۔

صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں

اِک نشاں کافی ہے گر دِل میں ہے خوفِ کردگار

مسیحِ دوراںؑ کے ایک مبلغ کی دعاؤں کے نتیجے میں برپا ہونے والے اس زلزلے میں تا حال کئی جغرافیائی راز دفن ہیں۔ کیسے ان دعاؤں اور خدائے قادر کی قدرت نے ایک ساتھ کام دکھایا اور کئی سعید روحوں کو ایمان نصیب ہوا۔ خداتعالیٰ کی اس قدرت پر زمینی رازوں کی سمجھ بوجھ کا دعویٰ کرنے والے ماہرین بھی انگشت بدندان فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ کے مصداق ٹھہرتے ہیں۔

کیا یہ زلزلہ

حضرت مسیح موعودؑ کی تکذیب کی وجہ سے آیا؟

اس سوال کا جواب حضرت مسیح موعودؑ کے بابرکت الفاظ میں ہی درج ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ تمام زلزلے جو سان فرانسسکو وغیرہ مقامات میں آئے ہیں یہ محض میری تکذیب کی وجہ سے آئے ہیں کسی اور امر کا اِس میں دخل نہیں۔ ہاں میں کہتا ہوں کہ میری تکذیب اِن زلزلوں کے ظہور کا باعث ہوئی ہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام نبی اِس بات پر متفق ہیں کہ عادت اللہ ہمیشہ سے اِس طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہو جاتے ہیں تب اس زمانہ میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے اور کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے تب اُس کا مبعوث ہونا دو سرے شریر لوگوں کی سزا دینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہو چکے ہیں ایک محرک ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے گذشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے اُ س کے لئے اِس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا (بنی اسرائیل: ۱۶) پس اس سے زیادہ میرا مطلب نہ تھا کہ ان زلزلوں کا موجب میری تکذیب ہو سکتی ہے۔ یہی قدیم سے سُنت اللہ ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا سو سان فرانسسکو وغیرہ مقامات کے رہنے والے جو زلزلہ اور دوسری آفات سے ہلاک ہو گئے ہیں اگرچہ اصل سبب اُن پر عذاب نازل ہونے کا اُن کے گذشتہ گناہ تھے مگر یہ زلزلے اُن کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے کیونکہ قدیم سنت اللہ کے موافق شریر لوگ کسی رسول کے آنے کے وقت ہلاک کئے جاتے ہیں اور نیز اِس وجہ سے کہ میں نے براہین احمدیہ اور بہت سی اپنی کتابوں میں یہ خبر دی تھی کہ میرے زمانہ میں دنیا میں بہت سے غیر معمولی زلزلے آئیں گے اور دوسری آفات بھی آئیں گی اور ایک دنیا اُن سے ہلاک ہو جائے گی۔ پس اِس میں کیا شک ہے کہ میری پیشگوئیوں کے بعد دُنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے ایک نشان ہے۔ یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو مگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں جو اور ملکوں کے رہنے والے ہیں جن کو اس رسول کی خبر بھی نہیں۔ جیسا کہ نوح کے وقت میں ہوا کہ ایک قوم کی تکذیب سے ایک دنیا پر عذاب آیا بلکہ پرند چرند بھی اس عذاب سے باہر نہ رہے۔ غرض عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کسی صادق کی حد سے زیادہ تکذیب کی جائے یا اُس کو ستایا جائے تو دنیا میں طرح طرح کی بلائیں آتی ہیں۔…خلاصہ کلام یہ کہ سُنّت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اُس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا ا س تکذیب سے کچھ تعلق نہیں پھر رفتہ رفتہ ائمۃ الکفر پکڑے جاتے ہیں اور سب سے آخر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا (الرعد:۴۲) یعنی ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں۔ اِس میرے بیان میں اُن بعض نادانوں کے اعتراضات کا جواب آگیا ہے جو کہتے ہیں کہ تکفیر تو مولویوں نے کی تھی اور غریب آدمی طاعون سے مارے گئے۔ اور کانگڑہ اور بھاگسو کے پہاڑ کے صدہا آدمی زلزلہ سے ہلاک ہو گئے۔ اُن کا کیا قصور تھا۔ اُنہوں نے کونسی تکذیب کی تھی۔ سو یاد رہے کہ جب خدا کے کسی مُرسل کی تکذیب کی جاتی ہے خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے اور آسمان سے عام طور پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصل شریر پیچھے سے پکڑے جاتے ہیں جو اصل مبدء فساد ہوتے ہیں جیسا کہ اُن قہری نشانوں سے جو حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے۔ فرعون کا کچھ نقصان نہ ہوا صرف غریب مارے گئے لیکن آخر کار خدا نے فرعون کو مع اُس کے لشکر کے غرق کیا۔ یہ سُنّت اللہ ہے جس سے کوئی واقف کار انکار نہیں کرسکتا۔ (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۴-۱۶۷)

دلچسپ استنباط

ہمارے استادِ محترم مرزا محمد الدین ناز صاحب مرحوم (سابق صدر،صدر انجمن احمدیہ)ناموں کے معانی اور تفائول سے واقعات کے ظہور کا خوب استنباط و استدلال فرمایا کرتے تھے۔ اسی ضمن میں خاکسار یہ ایک استدلال پیش کرتا ہے۔

حسنِ اتفاق دیکھئے کہ مغربی افریقہ میں احمدیت کا پیغام لے کر حضرت مولانا عبد الرحیم نیر صاحبؓ پہنچے۔ دوسری جانب آخری زمانہ میں مغرب سےسورج نکلنے کی واضح پیشگوئی موجود ہے۔ تو یہ پیشگوئی اس لحاظ سے بھی پوری ہوئی کہ مغربی افریقہ میں اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے والے مبلغ نیّرِ احمدیت کے لقب سے موسوم ہوئے۔ ان کے بعد مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے افضالِ الٰہیہ کاسلسلہ جاری فرمایا اور گھانا کے ابتدائی مخدوش حالات کے باوجود جماعت احمدیہ خدائے رحمٰن کے فضل سے مضبوط تر ہوتی گئی۔ مولانا نذیر احمد علی صاحب مختلف فتنوں جیسے جماعت احمدیہ لاہور، مسیحیوں اور مقامی چیفس کی شورشوں کے مقابل سیف قاطع واقع ہوئے۔آپ کے دور میں سیرالیون میں کئی اشد ترین مخالف اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے۔

اور گھانا میں جس وقت خدا تعالیٰ کے جلالی نشان کی تجلی کا مطالبہ ہوا تو اس وقت گھانا میں مولانا نذیر احمد مبشر صاحب بطور امیر خدمات بجا لا رہے تھے۔ اور آپ کے ذریعہ ہی اہلِ گھانا کو زلازل اور آفات کا بتایا گیا۔ آپ کے نام سے یہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ گھانا میں خدا تعالیٰ کی انذاری تجلی ظاہر ہوگی لیکن اس کے ساتھ ساتھ بشارت کا پہلو بھی ہوگا۔

سو اے گھانا کی سرزمین تجھے مبارک ہو کہ خدا تعالیٰ کا انذار تبشیری رنگ لیے ہوئے تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس زلزلے کے واقعہ میں جہاں قریباً ۱۵۰؍شہری متاثر یا جاں بحق ہوئے۔ وہیں اس سے زائد ۱۸۰؍شہریوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی۔ گویا اللہ تعالیٰ کا رحم اس کے غضب پر حاوی رہا۔ اس انذار کے ساتھ بشارت کا پہلو کام کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کے زلزلے سے زیرو زبر ہونے والے متاثرین سے زیادہ، سعید لوگوں کے دلوں کی نرم زمین کو جنبش دے کر پلٹ دیا۔

لیکن یہ زلزلہ دوسری اقوام کے معتد اور اثیم لوگوں کو پیغام دیتا ہے کہ کمزور اور جاہل سمجھی جانے والی ان اقوام نے جب زلزلہ کا نشان مانگا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ نشان دکھادیا۔ پھر نشان دیکھنے کے بعد وہ کفارِ مکہ کی طرح اور قادیان کے ہندوؤں کی طرح اپنے کفر پر اور دلیر نہیں ہوئے بلکہ ایک عاجز قوم کی طرح ان کے دل جھک گئے اور یہ لوگ حضرت یونسؑ کی قوم کی مانند خدا تعالیٰ کی خشیت کے سبب اس نشان کو نشان سمجھ کر توبہ کرتے ہوئے حق کی طرف راغب ہوگئے اور اللہ بھی ان پر رجوع برحمت ہوا۔ ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء

اِسْمَعُوْا صَوْتَ السَّمَاءِ جَاءَ الْمَسِیْح جَاءَ الْمَسِیْح

نیز بِشنو از زمیں آمد امامِ کامگار

آسماں بارد نشان اَلْوَقت مے گوید زمیں

ایں دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بیقرار

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعودؓ اور تربیت اولاد کے چند بنیادی اصول

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button