شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
سلسلۂ بیعت کا آغاز
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کو صوفی احمد جان صاحب کے مکان واقع محلہ جدید میں بیعت لی اورحضرت منشی عبداللہ سنوری صاحبؓ کی روایت کے مطابق بیعت کے تاریخی ریکارڈ کے لئے ایک رجسٹر تیار کیاگیا جس کا نام ’’بیعت توبہ برائے تقویٰ و طہارت‘‘ رکھاگیا۔
اس زمانہ میں حضور علیہ السلام بیعت کرنے کے لئے ایک کمرے میںہرایک کو الگ الگ بلاتے تھے اور بیعت لیتے تھے۔چنانچہ سب سے پہلی بیعت آپ نے حضرت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ کی لی۔ بیعت کرنے والوں کو نصائح فرماتے ہوئے حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں : ’’ اس جماعت میں داخل ہو کر اول زندگی میں تغیر کرنا چاہئے۔کہ خدا پر ایمان سچا ہو اور وہ ہر مصیبت میں کام آئے۔ پھر اس کے احکام کو نظر خفت سے نہ دیکھا جائے بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جائے اور عملاً اس تعظیم کا ثبوت دیا جائے۔ ‘‘
’’ہمہ وجوہ اسباب پر سرنگوں ہونا اور اسی پر بھروسہ کرنا اور خدا پر توکل چھوڑ دینا یہ شرک ہے اور گویا خدا کی ہستی سے انکار ۔ رعایت اسباب اس حد تک کرنی چاہئے کہ شرک لازم نہ آئے۔ ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رعایت اسباب سے منع نہیں کرتے مگر اس پر بھروسہ کرنے سے منع کرتے ہیں ۔ دست درکار دل بایار والی بات ہونی چاہئے۔‘‘
آپؑ فرماتے ہیں:’’دیکھو تم لوگوں نے جو بیعت کی ہے اور اس وقت اقرار کیا ہے اس کا زبان سے کہہ دینا تو آسان ہے لیکن نبا ہنا مشکل ہے ۔ کیونکہ شیطان اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ انسان کو دین سے لاپروا کر دے۔ دنیا اور اس کے فوائد کو تو وہ آسان دکھاتا ہے اور دین کو بہت دور۔ اس طرح دل سخت ہو جاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدتر ہو جاتا ہے۔ اگر خدا کو راضی کرنا ہے تو اس گناہ سے بچنے کے اقرار کو نبھانے کے لئے ہمت اور کوشش سے تیار رہو۔ ‘‘
فرمایا:’’ فتنہ کی کوئی بات نہ کرو ۔ شر نہ پھیلائو۔ گالی پر صبر کرو۔ کسی کا مقابلہ نہ کرو۔ جو مقابلہ کرے اس سے بھی سلوک اور نیکی کے ساتھ پیش آئو۔ شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلائو۔ سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا راضی ہو جائے۔ اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کر کے یہ شخص وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ مقدمات میں سچی گواہی دو۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پورے دل ،پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جائے۔‘‘(ذکر حبیب۔ صفحہ ۴۳۶ تا ۴۳۸)
مارچ ۱۹۰۳ء میں ۔عید کادن تھا ،چند احباب بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپؑ نے فرمایا :’’دیکھوجس قدر آپ لوگوں نے اس وقت بیعت کی ہے(لگتاہے بیعت کے لئے لوگ آئے ہوئے تھے) اور جو پہلے کر چکے ہیں ان کو چند کلمات بطور نصیحت کے کہتاہوں۔چاہئے کہ اسے پوری توجہ سے سنیں۔‘‘
’’آپ لوگوںکی یہ بیعت ، بیعتِ توبہ ہے۔ توبہ دو طرح ہوتی ہے۔ ایک تو گزشتہ گناہوں سے یعنی ان کی اصلاح کرنے کے واسطے جو کچھ پہلے غلطیاں کر چکاہے ان کی تلافی کرے اور حتّی الوسع ان بگاڑوں کی اصلاح کی کوشش کرنا اور آئندہ کے گناہوں سے باز رہنا اور اپنے آپ کو اس آگ سے بچائے رکھنا۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ توبہ سے تمام گناہ جوپہلے ہو چکے ہیں معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ وہ توبہ صدق دل اور خلوص نیت سے ہو اور کوئی پوشیدہ دغا بازی دل کے کسی کونہ میں پوشیدہ نہ ہو۔وہ دلوں کے پوشیدہ اور مخفی رازوں کو جانتاہے۔ وہ کسی کے دھوکہ میں نہیں آتا۔پس چاہئے کہ اس کو دھوکہ دینے کی کوشش نہ کی جاوے اور صدق سے ، نہ نفاق سے، اس کے حضور توبہ کی جاوے۔ توبہ انسان کے واسطے کوئی زائد یا بے فائدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صرف قیامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسان کی دنیا اور دین دونوسنور جاتے ہیں۔اور اسے اس جہان میں اور آنے والے جہان دونو میں آرام اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔‘‘ (ملفوظات، جلد پنجم صفحہ ۱۸۷-۱۸۸)
پہلی شرط بیعت
’’ بیعت کنندہ سچے دل سے عہداس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو شرک سے مجتنب رہے گا‘‘۔
خدا تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا۔
اللہ تعالیٰ سورۃ النساء آیت ۴۹ میں فرماتاہے: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ۔ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرٰٓی اِثْمًا عَظِیْمًا۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ یقیناً اللہ معاف نہیں کرے گا اس کو کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اوراس کے علاوہ سب کچھ معاف کردے گا جس کے لئے وہ چاہے۔ اورجو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو یقیناً اس نے بہت بڑا گناہ افتراکیاہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس ضمن میں فرماتے ہیں: ’’اسی طرح خدانے قرآن میں فرمایا وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ …الخ یعنی ہر ایک گناہ کی مغفرت ہوگی مگر شرک کوخدانہیں بخشے گا۔پس شرک کے نزدیک مت جائو اور اس کو حُرمت کا درخت سمجھو‘‘۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن۔ جلد۱۷۔ صفحہ ۳۲۳۔ ۳۲۴ حاشیہ)
پھر فرمایا: ’’یہاں شرک سے صرف یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جائے بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبودات دنیا پر زور دیا جاوے۔ اسی کا نام شرک ہے‘‘۔ (الحکم جلد۷۔ نمبر۲۴۔ مورخہ ۳۰ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱)
پھر قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے: وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِہٖ وَھُوَ یَعِظُہٗ یٰـبُـنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ ۔اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْْمٌ (لقمٰن آیت ۱۴)اس کا ترجمہ یہ ہے :اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا جب و ہ اسے نصیحت کررہاتھا کہ اے میرے پیارے بیٹے اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرا یقیناً شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔
آنحضرتﷺکو اپنی امت میں شرک کا خدشہ تھا۔ چنانچہ ایک حدیث ہے: عبادہ بن نسی نے ہمیں شدادبن اوس کے بارہ میں بتایا کہ وہ رو رہے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رورہے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا ۔مجھے ایک ایسی چیز یاد آگئی تھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی تھی اس پر مجھے رونا آگیا۔ میں نے رسول اللہﷺسے سنا تھا آپؐ نے فرمایا۔ میں اپنی امت کے بارہ میں شرک اور مخفی خواہشوں سے ڈرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک میں مبتلا ہو جائے گی؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ ہاں! البتہ میری امت شمس وقمر، بتوں اور پتھروں کی عبادت تو نہیں کریں گے۔ مگر اپنے اعمال میں ریا ء سے کام لیں گے اور مخفی خواہشات میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اگر ان میں سے کوئی روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے گا پھر اس کو اس کی کوئی خواہش معارض ہو گئی تو وہ روزہ ترک کر کے اس خواہش میں مبتلا ہو جائے گا۔ (مسند احمد بن حنبل، جلد۴صفحہ۱۲۴۔ مطبوعہ بیروت)
شرک کی مختلف اقسام
گو جس طرح اس حدیث سے ظاہر ہے کہ ظاہری شرک، بتوں، مورتیوں، چاند کی عبادت کرکے نہ بھی ہو تو ریاء اور خواہشات کی پیروی بھی شرک ہے ۔ اگر ایک ماتحت اپنے افسر کی اطاعت سے بڑھ کرخوشامد کی حد تک اس کے آگے پیچھے پھرتاہے اور خیال کرتاہے کہ اس سے میری روزی وابستہ ہے تویہ بھی شرک کی ہی ایک قسم ہے۔ اگر کسی کو اپنے بیٹوں پر ناز ہے کہ میرے اتنے بیٹے ہیں اور یہ بڑے ہو رہے ہیں اور کام پر لگ جائیں گے ، کمائیں گے ، مجھے سنبھالیں گے اوراب مَیں آرام سے اپنی بقیہ عمر گزاروں گا۔یا میرے ان جوان بیٹوں کی وجہ سے میرے شریک میرا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ (برصغیر میں بلکہ ساری تیسری دنیا میں شریکے کی ایک بڑی گندی رسم ہے)۔ مکمل انحصار ان بیٹوں پر ہے ۔اور وہ ناخلف نکلتے ہیں یا کسی حادثہ میں فو ت ہوجاتے ہیں یا معذور ہو جاتے ہیں تو ایسے شخص کے تو تمام سہارے ختم ہوگئے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں۔ بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر بھروسہ رکھتا ہے جو خداتعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے۔ ان سب صورتوں میں وہ خداتعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔ بت صرف وہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے اور ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بت ہے۔ … یاد رہے کہ حقیقی توحید جس کا ا قرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو، خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکرفریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔ کوئی رازق نہ ماننا۔ کوئی مُعِزّ اور مُذِلّ خیال نہ کرنا۔ کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا۔ اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا۔ اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا۔ اپنا تذلل اسی سے خاص کرنا۔ اپنی امیدیں اسی سے خاص کرنا۔ اپنا خوف اسی سے خاص کرنا۔ پس کوئی توحید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہوسکتی۔ اوّل ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہالکۃ الذات اور باطلۃ الحقیقت خیال کرنا۔ دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا۔ اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض رسان نظر آتے ہیں یہ اسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔ تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا اور اسی میں کھوئے جانا۔‘‘ (سراج الدین عیسائی کے چارسوالوں کا جواب۔ روحانی خزائن۔ جلد۱۲ صفحہ۳۴۹-۳۵۰)
اس کی پہلے مَیں نے مختصر وضاحت کردی ہے۔
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۹ تا ۱۷)
مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں



