حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا مفہوم

ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ اس فقرے سے واضح ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی دنیاوی چیز روک نہیں بننی چاہئے۔ اور دین کیا ہے؟ دین اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہو کر اپنی زندگیاں گزارنا ہے۔ اپنے ہر قول و فعل سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے بڑی تعداد یہ کوشش کرتی ہے کہ دین کے راستے میں جو چیز روک بن رہی ہو اُسے دُور کرے۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہر ایک کی کوشش ایک جیسی نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر انسان کی علمی صلاحیت بھی مختلف ہوتی ہے اور دوسری استعدادیں اور صلاحیتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ کیونکہ ہماری نیّتوں کو بھی جانتا ہے اس لئے ہر ایک کی صلاحیت کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہے۔ پس اس عہد کو پورا کرنے کے لئے بنیادی چیز نیک نیّتی ہے۔ اس میں کسی قسم کے عذر اور بہانے نہیں ہونے چاہئیں۔ دنیاوی معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان کا دائرہ مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی کوشش محدود دائرے میں ہوتی ہے کیونکہ اس کا علم اور صلاحیت اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے محدود ہے یا بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسری ترجیحات اس کے کام میں روک بن رہی ہوتی ہیں جو اسے محدود کر دیتی ہیں اور کسی کی کوشش بہت زیادہ ہوتی ہے اور صحیح رنگ میں ہوتی ہے۔ جس مقصد کو حاصل کرنا ہو صرف اسی پر نظر ہوتی ہے اور پھر وہ اسے مکمل حاصل ہو بھی جاتا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔ اس سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس کی روشنی میں مَیں کچھ بیان کروں گا۔ خاص طور پر واقعات ہیں۔ محدود دائرے کی کوشش اور مقصود کے مطابق کوشش کی ایک عام سی مثال آپ نے اس طرح دی ہے کہ بعض لوگ خواہ کتنا ضروری کام کیوں نہ ہو چلتے وقت اس بات کا خیال رکھتے ہیں، اپنے لباس کے بارے میں بڑے کانشس (Conscious) ہوتے ہیں کہ ان کے لباس ٹھیک ہوں پتلون کی کریز خراب نہ ہو جائے۔ کوٹ میں کہیں بدصورت قسم کی سِلوَٹ یا شِکن نہ پڑ جائے۔ انہوں نے کہیں جلدی بھی پہنچنا ہو تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے لباس کا جائزہ لیتے ہیں اور اس وجہ سے بعض دفعہ جلدی پہنچنے کی کوشش محدود ہو جاتی ہے۔ یہ اُس زمانے کی بات نہیں ہے۔ آج بھی ایسی مثالیں نظر آجاتی ہیں اور خاص طور پر ہمارے ایشین معاشرے میں مردوں اور عورتوں کی یہ حالت ہے کہ بعض دفعہ اپنے لباس کے بارے میں بہت زیادہ کانشس ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے پر کچھ ایسے بھی ہیں جو بیشک فیشن بڑے شوق سے کرتے ہیں، بڑے شوقین ہوتے ہیں لیکن جب ان کے سامنے کوئی مقصد ہو تو وہ اپنے رکھ رکھاؤ اور فیشن کو قربان کر دیتے ہیں۔ اگر مقصد کے حصول کے لئے اپنے لباس کے رَکھ رکھاؤ کے باوجود انہیں دوڑنا پڑے تو وہ دوڑ بھی لیں گے۔ کسی جگہ بیٹھنا پڑے تو بیٹھ بھی جائیں گے۔ حتی کہ گردو غبار میں بھی اگر ضرورت ہو تو بغیر کسی تکلّف کے اس میں چل پڑیں گے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اصل چیز ان کا مقصود اور مدعا ہوتا ہے کہ ہم نے یہ چیز حاصل کرنی ہے، یہ مقصد حاصل کرنا ہے۔ اس لئے وہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔ اعلیٰ سوٹ یا سفید لباس ان کے مقصد کے حصول میں روک نہیں بنتا۔(خطبہ جمعہ ۱۷؍اکتوبر۲۰۱۴ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۷؍نومبر۲۰۱۴ء)

مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کرنے والے کی ستّاری فرمائے گا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button