اطلاعات واعلانات
نوٹ: اعلانات صدر؍ امیر صاحب حلقہ؍جماعت کی تصدیق کے ساتھ آنا ضروری ہیں
سانحہ ارتحال
فرخ شبیر لودھی صاحب نمائندہ الفضل انٹرنیشنل لائبیریا تحریر کرتے ہیں کہ عفت حلیم صاحبہ نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ لائبیریا اہلیہ ڈاکٹر عبدالحلیم صاحب واقفِ زندگی و انچارج احمدیہ مسلم کلینک سنکور (Sinkor) منروویا، لائبیریا، مورخہ ۲۱؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو قریباً ۵۹؍برس کی عمر میں ہالینڈ میں وفات پا گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
چند ماہ قبل مرحومہ میں برین ٹیومر کی تشخیص ہوئی تھی۔ علاج کے لیے ابتداءً جرمنی اور بعد ازاں ہالینڈ منتقل کیاگیا۔
مورخہ ۳۰؍دسمبر کو نعیم احمد وڑائچ صاحب مبلغ انچارج ہالینڈ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین ایمسٹرڈیم کے قبرستان کے احمدیہ سیکشن میں عمل میں آئی۔
مرحومہ جولائی ۲۰۰۴ء میں اپنے خاوند ڈاکٹر عبدالحلیم صاحب کے ساتھ لائبیریا آئیں اور ۲۱؍سال سے زائد عرصہ یہاں گزارا۔ اس دوران انہیں دو مختلف ادوار میں سات سال سے زائد عرصہ تک بطور نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ لائبیریا خدمت کرنے کی توفیق ملی اور تا وقت وفات وہ اسی خدمت پر مامور تھیں۔
مرحومہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ (۳/۱) تھیں۔ تہجدگزار، صوم و صلوٰۃ پر سختی سے کاربند اور باقاعدگی سے تلاوتِ قرآن کریم کرنے والی ایک نہایت متقی اور باعمل خاتون تھیں۔ خلافت سے بےپناہ محبت اور اطاعت کا جذبہ رکھتی تھیں اور اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کو غیر معمولی درد، اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتی رہیں۔
مالی قربانی میں مرحومہ نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ تمام لازمی و طوعی چندہ جات میں باقاعدگی اور پیش قدمی سے حصہ لیتیں اور صدقہ و خیرات میں بے دریغ خرچ کرنے والی خاتون تھیں۔
مرحومہ خوش اخلاق، نرم گفتار،ملنسار اور نہایت مہمان نواز تھیں۔ احباب جماعت، واقفین زندگی، اُن کی بیگمات اور بچوں سے بے پناہ محبت رکھتی تھیں اور تحائف و تواضع کے ذریعے اپنے خلوص کا عملی اظہار کیا کرتیں۔ ان کا گھر ہر خاص و عام کے لیے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ لائبیریا کی ممبرات لجنہ اماءاللہ اور بچوں نے انہیں ایک مشفق اور بےلوث محبت کرنے والی ماں کےالفاظ میں بیان کیا ۔ مقامی و غیر مقامی، احمدی و غیر احمدی ہر ایک سے بلا امتیاز محبت کا سلوک کرتیں اور ہر فرد یہ محسوس کرتا تھا کہ مرحومہ کا تعلق بس اسی سے خاص ہے۔
بطور صدر لجنہ اماء اللہ،وہ ایک مثالی، معاملہ فہم اور محبت کرنے والی قائد تھیں جو پیار، حوصلہ افزائی اور ذاتی نمونہ کے ذریعے سب کو ساتھ لے کر چلتی تھیں۔ لجنہ و ناصرات کی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں اور خلیفۂ وقت اور مرکز سلسلہ کی ہر ہدایت کی تعمیل میں خاص درد اور غیر معمولی جذبہ کا اظہار ان کی شخصیت سے ہوتا تھا۔
ان کے پسماندگان میں خاوند کے علاوہ دو لے پالک بچے شامل ہیں۔ایک بیٹی، عزیزہ فریحہ عارف صاحبہ عمر ۱۴؍سال (بنت مرحوم عبدالسلام عارف صاحب، برادرڈاکٹر عبدالحلیم صاحب) اور ایک لائبیرین بیٹا، عزیزم احمد مسرور سنگباہ (Ahmad Masroor Singhbah) جو سات سال کی عمر میں ان کے پاس آئے اور اِس وقت جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا میں درجہ خامسہ کے طالب علم ہیں ۔
مرحومہ کی وفات جماعت احمدیہ لائبیریا کے لیے ایک گہرے صدمہ اور خلا کا موجب ہے۔
احباب جماعت سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ سے مغفرت و شفقت کا خاص سلوک فرمائے ،درجات بلند فرمائے، آپ کے پسماندگان اور جملہ عزیز و اقارب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
اعلان ولادت
انعام الحق صاحب صدر جماعت احمدیہ سمارک ریجن روانگ، ملائیشیا تحریر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے خاکسار کو بھانجی سے نوازا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت نومولود کا نام طوبیٰ رحمان عطا فرمایا ہے۔
نومولود، عزیز الرحمٰن صاحب کی پوتی اور امتیاز احمد صاحب کی نواسی ہے۔
احباب جماعت سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ نومولود کو والدین کے ليے آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور جماعت احمدیہ کے ليے مفید وجود ثابت ہو۔ آمین



