امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کے ورجینیا ریجن کے ایک وفد کی ملاقات
ہم نے ہی آواز اُٹھانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ absolute justice ہونا چاہیے۔ پورا انصاف ہو تو تبھی دنیا میں تم لوگ انصاف قائم کر سکتے ہو اور بدلے نہ لو اور یہ نہیں ہے کہ ایسا ہو کہ ایک کے لیے کچھ اَور پیمانہ ہے اور دوسرے کے لیے کچھ اَور ہے۔ہر جگہequality ہونی چاہیے اور وہ جب ہوگی تو تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ صحیح انصاف قائم ہوا۔ یہی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور یہی ہمیں کرنا چاہیے اور جس حدّ تک آپ اپنے ماحول میں، جو آپ کی اپنی کمپنی ہے، جو آپ کے ارد گرد لوگ ہیں،surroundingہے، اس میں جتنا آپ اس بات کو کر سکتے ہیں عام کریں
مورخہ ۲۹؍ دسمبر ۲۰۲۵ء، بروزپیر، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کے ورجینیا ریجن کے پندرہ(۱۵) رکنی وفد کو شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےامریکہ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔جب حضور انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
ملاقات کے آغاز میں تمام شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔

بعد ازاں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ انسان والدین کی عزت کرنے کے فریضے کو کس طرح اپنے مذہبی اور دنیاوی معاملات میں آزادانہ فیصلے کرنے کے حق کے ساتھ متوازن رکھ سکتا ہے؟
اس پر حضور انور نے قرآنِ مجید کے احکامات کی روشنی میں والدین کی عزت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ اگر والدین سخت مزاج ہوں اور ڈانٹ بھی دیں، تو تب بھی انسان کو کبھی اُن سے سختی سے بات نہیں کرنی چاہیے۔ قرآنِ کریم میں حکم ہے کہ والدین کے لیے کسی بھی قسم کا حقارت آمیز لفظ بھی نہ بولا جائے۔
مزید برآں حضور انور نے اطاعت کی حدود اور والدین کے احسانات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح فرمایا کہ اطاعت کا واحد استثنا یہ ہے کہ جب والدین کسی کو مذہبی فرائض سے روکیں یا شریعت کے خلاف کوئی حکم دیں تو ایسی صورت میں انسان کو اس مخصوص حکم کی پیروی نہیں کرنی چاہیے لیکن تب بھی اسے خاموش رہنا چاہیے اور اپنے کام کو بغیر بے ادبی کے جاری رکھنا چاہیے۔حضور انور نے یاد دلایا کہ والدین اپنی اولاد کو پیدا کرنے، پرورش کرنے اور تعلیم دلانے میں جو بےپناہ مشکلات جھیلتے ہیں، ان کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا خداتعالیٰ کے شکر کے بعد قرآن والدین کی شکرگزاری اور احترام کا بھی حکم دیتا ہے۔
علاوہ ازیں حضور انور نے دنیاوی معاملات میں حقِ خودمختاری کی وضاحت فرمائی کہ جہاں تک دنیاوی معاملات میں آزادی کی بات ہے تو انسان کو انتخاب کا حق حاصل ہے۔ مثال کے طور پر تعلیم میں اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ انجینئر بنے، لیکن بچہ کمپیوٹر سائنس یا فنانس میں دلچسپی رکھتا ہو تو بچہ اپنی دلچسپی کے مطابق انتخاب کر سکتا ہے۔ اسی طرح شادی کے معاملے میں اگر والدین کسی رشتہ کی تجویز کریں تو دعا کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے لیکن اگر محسوس ہو کہ یہ شادی ناکام ہو سکتی ہے اور دونوں کے لیے زندگی کو مشکل بنا سکتی ہے تو اسے والدین کو شائستگی اور عزت کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔
جواب کےآخر میں حضور انور نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات کی حدود میں رہتے ہوئے انسان آزادانہ فیصلے کر سکتا ہے، لیکن والدین سے بات کرنے کا طریق ہمیشہ وقار، احترام اور شائستگی سے بھرپور ہونا چاہیے۔
ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ مَیں اپنی دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ جماعتی کتب کو کیسے پڑھ اور سمجھ سکتا ہوں اور مَیں کس کو زیادہ ترجیح دوں؟
اس پر حضور انور نے وقت کی مناسب تقسیم اور روزمرّہ کی عمومی مصروفیات کی بابت عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ چوبیس گھنٹوں میں سے تم چھ گھنٹے سوتے ہو اور چھ گھنٹے بہت ہیں۔ دو گھنٹے تم کھانے پینے میں لگا دیتے ہو اور اس طرح آٹھ گھنٹے ہوگئے۔ پھر اگر تم نماز وغیرہ پڑھتے ہو اور بہت اچھی طرح نماز پڑھتے ہو، تو دو گھنٹے میں نماز پڑھ لیتے ہو گے۔ اوّل تو مجھے پتا ہے کہ تم آدھے گھنٹے میں ہی پانچوں نمازیں پڑھ لیتے ہو گے لیکن اگر دل لگا کے پڑھو تو دو گھنٹے لگتے ہیں۔ تو اس طرح دس گھنٹے ہو گئے اور باقی چودہ گھنٹے رہ گئے۔ یونیورسٹی میں تم جاتے آتے اورcommuteکرتے ہو، آدھا گھنٹہ جانے اور آدھا گھنٹہ آنے کا اوراس طرح سے ایک گھنٹہ ہو گیا۔ یونیورسٹی میںmaximum six hoursہوتے ہیں اور وہاں سے آنے کے بعد اگر پڑھنے کا شوق ہے تو تم دو تین گھنٹے پڑھ لیتے ہو گے۔ توten hours ہیں، تو تمtwenty four hoursمیں سے اس میں ایک گھنٹہ بھی نہیں نکال سکتے؟
حضور انور نے عبادت اور دینی مطالعہ کو معمولِ زندگی بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشادفرمایا کہ صبح فجر کے وقت نماز پڑھتے ہو، تو نماز پڑھنے کے بعد کم از کم تین، چار رکوع قرآنِ شریف کی تلاوت کرو۔ اور اسی طرح اگر وقت نکالنا چاہو تو وقت نکل سکتا ہے کہ پندرہ بیس منٹ یا آدھا گھنٹہ اَور کتب بھی پڑھ لو، نہیں تو رات کو سونے سے پہلے یہhabitبنا لو کہ مَیں نے آدھا گھنٹہ کوئی بھی کتاب پڑھنی ہے، چاہے جو جماعت کا لٹریچر ہو یا کوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ہو یا حدیث یا قرآنِ کریم کی تفسیر ہو۔ اس طرح تم اگر پڑھو تو وقت نکل سکتا ہے۔ لوگ اس طرح کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں اور اگر تم کہو کہ مَیں پڑھائی کر کے تھک گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری پہلی preference(ترجیح) دنیا ہو گئی ہے اور دین سیکنڈ preferenceپر چلا گیا۔ مَیں پہلے بھی کئی خطبے دے چکا ہوں اور کل بھی مَیں نے یہی کہا، میری کل کی تقریر سنی تھی؟خادم کے اثبات میں جواب عرض کرنے پرحضور انور نے زندگی کو منظّم کرنے، ترجیحات متعیّن کرنے اور دینی شوق پیدا کرنے کے اصول واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اُس میں بھی یہی ہے کہ تمہاری preferenceکیا ہے، preference آرڈر بناؤ اور اپنی زندگی کوregulate(منظم) کرنے کے لیے اپنا properایک چارٹ بناؤ۔ زندگی regulate کرنے کا طریقہ ایک ہی ہے کہ آپ کے پاس plan ہو۔ اگر انسان کا پورا plannerبنا ہو تو وقت نکل سکتا ہے۔ اگر آدھا،پونا گھنٹہ، یا گھنٹہ بھی نکالو توچلو اس عمر میں وہی تمہارے لیےکافی ہے اورآہستہ آہستہ پھر شوق پیدا ہوگا اور بڑھتا جائے گا اور weekendپر جہاں تم اگرخدام الاحمدیہ یا جماعت کا کوئی کام کر رہے ہو تو وہاں تم studyکرنےاور لٹریچر پڑھنے میں دو گھنٹے بھی دے سکتے ہو۔تو یہ تو ایکinterest develop کرنے کی بات ہے۔ اگر لٹریچر یا دینی کُتب پڑھنے میں تمہارا interest develop ہو گیا تو پھرکوئی مسئلہ نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں ہے اور کہو کے اوہو!بڑی سستی ہے، بڑی سستی ہے تو انسان پھر ایسے ہی لگا رہے گا اور یہی ہوگا۔
ایک خادم نے تاریخ میں اپنی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ اس دلچسپی کو جماعتی خدمت میں کس طرح بروئے کار لا سکتا ہے؟
اس پر حضور انورنے اس دلچسپی کو سراہتے ہوئے ارشادفرمایا کہ تاریخ کا اچھا اور گہرا علم انسان کو جماعت کی مؤثر خدمت کے قابل بناتا ہے۔ حضور انور نےاس خادم کو نصیحت فرمائی کہ وہ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرے اور آثارِ قدیمہ کے میدان میں تحقیق کرے۔ مزید برآں حضور انور نے علمِ تاریخ کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ تاریخ ایک دلچسپ مضمون ہے جو انسان کو ماضی، ظہورِ اسلام، مسلم اَدوار، بادشاہوں، فاتحین اور خلافت کی تاریخ سے جوڑتا ہے۔اسی طرح جواب کے آخر میں حضور انور نے خادم کوعمومی اسلامی تاریخ کے ساتھ ساتھ تاریخِ احمدیت کا علم حاصل کرنے اور جو کچھ بھی انگریزی زبان میں دستیاب ہے اسے پڑھنے کی بھی تلقین فرمائی۔
ایک خادم نے حضور انور کی خدمتِ اقدس میں اپنی خاندانی نسبت کی بابت عرض کیا کہ وہ مولانا عطاءاللہ کلیم صاحب کا پوتا ہے، نیز عرض کیا کہ کیا پیارے حضور ان کے ساتھ وابستہ کوئی یادیں بیان فرما سکتے ہیں، علاوہ ازیں ذاتی تربیت کے حوالے سے بھی راہنمائی کی درخواست پیش کی کہ وہ کس طرح ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اسلام احمدیت کا ایک مخلص خادم بن سکتا ہے؟
اس پر حضور انور نے مولانا عطاء الله کلیم صاحب کے حوالے سے فرمایا کہ مَیں نے ان کے ساتھ کام تو نہیں کیا۔ اگرچہ مَیں نے کچھ وقت گھانا میں گزارا ہے، لیکن جب مَیں وہاں گیا تو وہ پہلے سے ہی جا چکے تھے۔ لیکن مَیں نے دیکھا ہے اور مَیں نے سنا ہے کہ وہ بڑےdevotedوقفِ زندگی تھے۔ پوری طرح انہوں نے کام کیا ہے، اس کے بعد شاید جرمنی میں بھی رہے ہیں اور ہر جگہ انہوں نے بڑی اچھی طرح کام کیا۔
حضور انور نے ان کی ذاتی عبادت، دعا اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دوسری بات یہ ہے کہ ایک ان کا وصف یہ تھا جو مَیں نے سنا ہے کہ وہ روزانہ نمازِ تہجد پڑھتے تھے اور جماعت، لوگوں اور اپنے کام کے لیے دعا کرتے تھے۔ اسی ضمن میں پھرخادم کو تلقین فرمائی کہ ایکfirm belief ہونا چاہیے اور اگر تمہارا الله تعالیٰ کے اُوپر firm belief ہے تو پھراللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی نیک بنائے اور مَیں جماعت کاصحیح طرح کام کر سکوں۔ اورsincereہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ پرپوری طرحtrust ہونا چاہیے اور وہ ان میں تھا۔
علاوہ ازیں حضور انور نے صبر، توکّل اورنامساعد حالات کے بالمقابل ثابت قدمی کی مثال بیان کرتے ہوئے راہنمائی فرمائی کہ جیسے بھی حالات تھے،economicحالات بڑے اچھے نہیں تھے،وہاں سےeconomically ان دنوں میں گھاناdeteriorateکر رہا تھا اورآہستہ آہستہ اس کیsituationبہت زیادہ خراب ہو رہی تھی لیکن انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا اور مَیں نے جہاں تک ان کو تھوڑا بہت دیکھا کہ ہمیشہ وہ ہنستے مسکراتے بات کرتے تھے اور الله پر بڑا توکّل تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ آج اس مقام پر کھڑے ہیں اور سارے بچے ان کے بڑے پڑھے لکھے ہیں اورسب کچھ ہے۔
اِسی طرح جواب کے آخر میں حضور انور نےسوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں اسلام احمدیت کا ایک مخلص خادم بننے کے حوالے سے ان ضروری امور پر زور دیا کہ اللہ پرتوکّل،نمازیں، دعا اور ایک بڑاfirm faithہو اور جو کام کرنا ہے، اس کے لیے determination ہو، تو سب ہو جاتا ہے۔
[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ مولانا عطاء الله کلیم صاحب مورخہ ۲۵؍ ستمبر ۱۹۲۲ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والدمکرم میاں سراج الدین صاحب کے ١٩١٦ء میں قبولِ احمدیت کی برکت سے ہوا تھا۔مولو ی صاحب نے ابتدائی تعلیم مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ سے حاصل کی۔مورخہ ۳؍جون ۱۹۴۹ء کو مولوی فاضل کے امتحانات پاس کیے اور پھر مختصر عرصے کے لیے فرقان فورس میں خدمات انجام دیں۔ بعدازاں بی اے کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے مکمل کی۔آپ کی جماعتی خدمات کا عرصہ تقریباً نصف صدی پر محیط ہے۔ ابتدا میں آپ کو گھانا بھجوایا گیا، جہاں ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۵ء اور پھر ۱۹۵۹ء سے ۱۹۷۰ء تک بطورمبلغ خدمات انجام دیں اور بعد ازاں امیر و مبلغ انچارج گھانا مقرر ہوئے۔ اِس دوران آپ زون ویسٹ افریقہ کے انچارج بھی رہے۔مرکز میں آپ نے حدیقۃ المبشرین کے پہلے سیکرٹری اور بعد ازاں سیکرٹری مجلس نصرت جہاں کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد آپ امیر و مبلغ انچارج امریکہ، نائب پرنسپل جامعہ احمدیہ اور کچھ عرصہ قائم مقام پرنسپل رہے۔بعد ازاں آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی ہدایت پر سورینام، گیانا اور ٹرینیڈاڈ میں مرکزی نمائندے کے طور پر خدمت کی، پھر مبلغ انچارج جرمنی اور آخر میں امیر و مبلغ انچارج فلسطین (کبابیر، حیفا) کے طور پر فرائض انجام دیے۔
سنہ ۲۰۰۰ء کی ابتدا میں گرتی ہوئی صحت کے باعث حضرت خلیفۃ المسیح الرّابع رحمہ الله نے آپ کی ریٹائرمنٹ کی درخواست منظور فرما لی تھی۔مورخہ ۷؍جنوری ۲۰۰۱ء کویہ نافع النّاس اور مخلص خادمِ دین وجود لاہور پاکستان میں وفات پاگیا۔ ان کی سوانح حیات سرگزشتِ کلیم کے نام سے مرتّب کی گئی ہے۔]
ریجنل ناظم وقارِ عمل نے حضور انور کی خدمتِ اقدس میں اپنے شعبے کے حوالے سے درپیش ایک چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ کچھ خدام محنت والے کام یا ایسے کام جن میں ہاتھ گندے ہوتے ہیں، ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، نیز اس سلسلے میں راہنمائی طلب کی کہ ایسے خدام میں وقار ِعمل کی روح کیسے پیدا کریں؟
اس پر حضور انور نے وقارِ عمل کی حقیقی روح کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ وقارِ عمل کا نام انگلش میں کیا رکھا ہوا ہے؟ اس لیےdignity of labourرکھا ہوا ہے کہ تم اُن کو بتاؤ یہ تمہاری dignityہے۔
حضور انور نےحضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کے مبارک عملی نمونہ کی روشنی میں ہاتھ سے کام کرنے کی عظمت کو اُجاگر فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو صاف اور نفاست پسند اور بہت زیادہ صفائی کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں تھا اور جب ایسےحالات آتے تھے تو وہ بھی کام کرتے تھے۔ اب ایک جنگ کا واقعہ ملتا ہے کہ وہاں لوگ جبtrench کھود رہے تھے تو آنحضرتؐ بھی ساتھ کھود رہے تھے اور پتھر بھی اُٹھا اُٹھا کے رکھ رہے تھے، آپؐ کے مٹی بھی پڑی ہوئی تھی۔ بلکہ قمیض اُتاری ہوئی تھی، تو پیٹ پر بھی مٹی تھی اور سر پر بھی اور مٹی کے غبار اُڑ رہےتھے۔ تو ان سے کہو کہ اگر آنحضرتؐ یہ کام کر سکتے ہیں، تو ہم کیا چیزہیں، ہم کیوں نہیں کر سکتے ؟اس لیے ہمیں کرنا چاہیے، اس طرح ان کو سمجھاؤ کہ ہم مسلمان ہیں، تو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو followکرنا چاہیے۔
جواب کےآخر میں حضور انور نے وقارِ عمل کے روحانی اور جسمانی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئےتوجہ دلائی کہ اس سے تو عزت بنتی ہے کہ جماعت کی خاطر کام کر رہے ہو۔ ایک کام کر رہے ہو اور دوسرے جماعت کے لیے کام کر رہے ہو تو تمہیں ثواب ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کا reward دیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ hardwork کر رہے ہو تو اس سےتمہاری صحت بھی اچھی ہوتی ہے تو جب صحت کے لیے اچھا ہے تو اچھی صحت کے لیے انسان کو محنت کرنی چاہیے۔
ایک خادم نے حضور انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ مَیں مستقبل میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں، نیز اس سلسلے میں راہنمائی کی عاجزانہ درخواست پیش کی کہ تعلیم اور پروفیشنل کامیابی کے ساتھ ساتھ دین اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کس طرح مضبوط رکھا جائے تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو؟
اِس پر حضور انور نے اِظہارِ خوشنودی فرمایا کہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ تم ڈاکٹر بننا چاہتے ہو۔ بہت سارے ڈاکٹر ہیں۔ اور وہ ڈاکٹر بڑے نمازی بھی ہیں، تہجد گزار بھی ہیں اوردین کا کام بھی کرتے ہیں۔جماعت میں بھی ایسے ڈاکٹر ہیں، کچھ تو وقف ہیں اور کچھ وہ بھی کہ جو وقف نہیں ہیں۔
بعدازاں حضور انور نے ایک معروف جماعتی بزرگ ہستی حضرت ڈاکٹر سیّد عبدالستّار شاہ صاحب رضی الله عنہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کےاعلیٰ اخلاق اور صبر و تحمل کے ذریعے عملی تبلیغ کی ایک مؤثر مثال پیش فرمائی کہ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں سیّد عبدالستّار شاہ صاحب رضی الله عنہ ڈاکٹر تھے، hospital میں کام کرتے تھے۔ حضرت خلیفةالمسیح الرّابع رحمہ الله کے نانا تھے۔ تو وہ وقت دیتے تھے اور دین کی تبلیغ بھی کیا کرتے تھے۔ بلکہ ان کا ایک واقعہ ہے کہ ایک دن مسجد میں وہاں اپنے علاقے میں ایک آدمی کو تبلیغ کر رہے تھے۔ مسجدوں کے ساتھ غسل خانے ہوتے ہیں، تو وہاں لوٹا پڑا ہوا تھا، مٹی کا بھاری سا لوٹا تھا۔ اس نے غصّے میں آ کے وہ ان کی طرف پھینکا اوران کا سر پھٹ گیا۔ اب وہ وہاں کے علاقے کے بڑے ڈاکٹر تھے اور پولیس کو کہتے تو پولیس اس آدمی کو پکڑ لیتی۔وہ خیر ان کا سر پھٹ گیا اوروہ ہاتھ رکھ کے چلے گئے اورہسپتال جا کے ڈریسنگ وغیرہ کی اور پٹّی لگائی۔ اور جب واپس آئے تو وہ بندہ ہاتھ جوڑ ے بیٹھا معافی مانگ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں، تم نے اپنا کام کر لیا ہے،اب میری تبلیغ بھی سن لو۔ تو وہ اتنا متاثر ہوا کہ اتنے بڑے ڈاکٹر ہیں اور بڑےresourcefulآدمی ہیں اور ابھی پولیس کو بلاتے تو وہ مجھے پکڑ کے لے جاتے اور اندر کروا دیتے، لیکن انہوں نے مجھے معاف کر دیا۔ اور اگر یہ اتنے اچھے اخلاق والے ہیں، تو یقیناً احمدیت اچھی اخلاق والی چیز ہے اور وہاں اس نے بیعت کر لی۔ تو ان کے اسی عمل سے ہی، باتیں سن کے احمدی نہیں ہو رہا تھا، لیکن اخلاق دیکھ کے وہ احمدی ہو گیا۔
[قارئین کی معلومات کے لیے اس بزرگ ہستی کا مختصر تعارف بطور تحدیثِ نعمت تحریر کیا جاتا ہے کہ حضرت سیّد عبد الستّار شاہ صاحب رضی الله عنہ کلر سیّداں تحصیل کہوٹہ، راولپنڈی میں۱۸۶۲ء میں پیدا ہوئے۔ سیہالہ شریف میں آپؓ کا خاندان صدیوں سے نیکی اور بزرگی میں مشہور و معروف چلا آ رہا تھا۔ آپؓ کے والد کا اسمِ گرامی سیّد باغ حسن شاہ صاحب تھا جو کہ انتہائی پاک طبع اور صوفی منش انسان تھے اور وہ آپؓ کے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔آپؓ کو باقاعدہ اپریل ۱۹۰۱ء میں قادیان دارالامان جا کر سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارک پر شرفِ بیعت حاصل ہوا تھا۔
آپؓ کی اہلیہ کا نام سیّدہ سعیدۃ النساء بیگم صاحبہ رضی الله عنہا تھااورخدا تعالیٰ کے فضل سےآپؓ اور آپؓ کی اہلیہ ابتدائی موصیان میں شامل ہیں۔ الله تعالیٰ نے ان کے بطنِ مبارک سے آپؓ کو تین بیٹیوں اور پانچ بیٹوں سے نوازا۔ جن میں (۱) حضرت سیّدہ زینب النساء بیگم صاحبہؓ، (۲)حضرت سیّدہ خیر النساء بیگم صاحبہؓ،(۳) حضرت سیّد زین العابدین ولی الله شاہ صاحبؓ جو کہ جماعت کے مشہور و معروف بزرگ تھے اور آپؓ کو دیگر خدماتِ دینیہ کے ساتھ ساتھ شرح بخاری تالیف کرنے کی غیر معمولی سعادت بھی حاصل ہوئی، (۴)حضرت حافظ سیّد ڈاکٹر حبیب الله شاہ صاحبؓ، (۵)حضرت حافظ سیّد عزیز الله شاہ صاحبؓ، (۶)حضرت حافظ سیّد محمود الله شاہ صاحبؓ، ان کے ایک بیٹے سیّد داؤد مظفر شاہ صاحب کےعقد میں حضرت مصلح موعودؓ کی صاحبزادی امۃ الحکیم بیگم صاحبہ آئیں اور الله تعالیٰ نےان کو بشمول دیگر بچوں کے ایک بیٹی سیّدہ امۃالسّبوح بیگم صاحبہ مدظلّہا بھی عطا فرمائیں جو کہ ہمارے موجودہ پیارے امام سیّدناحضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ الله تعالیٰ کی اہلیہ محترمہ ہیں،(۷) مکرم سیّد عبدالرزاق شاہ صاحب اور (۸)حضرت سیّدہ مریم النساء بیگم صاحبہؓ المعروف اُمِ طاہر شامل ہیں، جوکہ حرم حضرت مصلح موعودؓ تھیں اور آپؓ ہی کے بطنِ مبارک سے ایک عظیم المرتبت ہستی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرّابع رحمہ الله نے جنم لیا۔
۱۹۲۱ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپؓ مستقل طور پر قادیان دار الامان میں ہی سکونت پذیر ہوگئے۔ آپؓ نے مورخہ۲۳؍ جون ۱۹۳۷ء کو بعمر۷۵؍ سال قادیان میں ہی وفات پائی، سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی الله تعالیٰ نے آپؓ کے جنازے کو کندھا بھی دیا اور آپؓ کی نمازِجنازہ بھی پڑھائی، نیز آپؓ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان کے قطعۂ خاص میں عمل میں آئی۔]
نیز اسی پس منظر میں حضور انور نے خادم کو توجہ دلائی کہ تم اگر اپنے مریضوں کو ڈاکٹر بننے کے بعد اچھے اخلاق دکھاؤ، غریبوں کی خدمت کرو اور ان کی اچھی طرحtreatment کرو، تو تم اچھے ڈاکٹر بھی بن جاؤ گے، اچھے مبلغ بھی بن جاؤ گے اور اچھے احمدی بھی بن جاؤ گے۔
مزید برآں حضور انور نے دیگر اکابرینِ جماعت کی غیر معمولی اوردرخشندہ مثالیں پیش کرتے ہوئے مالی قربانی، خدمتِ خلق اور عاجزی کی اہمیت واضح فرمائی کہ خلیفہ رشیدالدین صاحب رضی الله عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے، وہ بھی انگریزوں کے زمانے میں ایک سول سرجن تھے اور اس زمانے میں جو تنخواہ ملتی تھی، ابھی تو چار پانچ سو روپے کی کوئی valueنہیں، اس زمانے میں پانچ سو روپیہ بھی پانچ لاکھ روپے کے برابر یا زیادہ ہی ہوتا ہو گا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب بھی کہتے تھے کہ کوئی لٹریچر شائع کرنا ہے اور تبلیغ کا کوئی موقع پیش آتا، تو چندے کی تلقین کرتے، باقاعدہ سسٹم تو اس وقت نہیں شروع ہوا تھا، تووہ رقم بھیج دیا کرتے تھے۔ وہ اتنا چندہ دیا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ ان کو کہنا پڑا کہ آپ اپنا سارا کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جب مسیح موعود کو اسلام کی ضرورت ہے تو میری ذاتی ضرورتیں کوئی چیز نہیں۔ تو وہ اس طرح دیا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ بہت دیتے ہیں، کچھ ہاتھوں کو کنٹرول رکھیں، اپنے لیے بھی رکھا کریں۔ بلکہ آپ نہ بھی دیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے پہلے ہی اتنا دیا ہے۔تو اسی طرح حضرت خلیفہ اوّل رضی الله عنہ حکیم تھے، وہ حکمت سے جو کماتے تھے، اسلام کی خاطر خرچ کرتے تھے۔ لیکن غریبوں کی خدمت کرتے تھے، غریبوں کا مفت علاج کرتے تھے اور ان سے ہمدردی کرتے تھے۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض کیا جاتا ہے کہ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب رضی الله عنہ۱۸۶۶ء میں پیدا ہوئے اور آپؓ کا حسب و نسب حضرت ابوبکر صدیقؓ سے جاملتا ہے اور آپؓ کے والدِ ماجد خلیفہ حمیدالدین صاحب انجمن حمایتِ اسلام لاہور کے بانیوں میں سے تھے۔ آپؓ حافظِ قرآن تھے۔ اس خاندان کی یہ خصوصیت تھی کہ ان کےسب لڑکے اور لڑکیاں حافظِ قرآن تھے۔آپؓ کو سیّدناحضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دستِ مبارک پر مورخہ ۲؍جنوری۱۸۹۲ء کو بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔
سکول کی تعلیم کے بعد آپؓ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تعلیم پائی۔آپؓ نے زمانۂ طالب علمی میں ینگ مین محمڈن ایسوسی ایشن (Young Men Mohammaden Association) کی بنیاد رکھی۔لاہور اور آگرہ کے میڈیکل کالج میں بطور پروفیسر ملازمت کرتے رہے۔ ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان دارالامان آ گئے اور نُور ہسپتال میں کئی سال تک بطور انچارج خدمات کی توفیق پائی۔
آپ کی دو ازواج تھیں، پہلی اہلیہ حضرت عمدہ بیگم صاحبہؓ سے الله تعالیٰ نے آپؓ کو نو بیٹے بیٹیوں سے نوازا، جبکہ دوسری اہلیہ حضرت مراد خاتون صاحبہؓ سے الله تعالیٰ نے انہیں پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں عطا فرمائیں۔
آپؓ کی پہلی اہلیہ میں سے ہی ایک صاحبزادی حضرت رشیدہ بیگم صاحبہ رضی الله عنہا المعروف حضرت محمودہ بیگم صاحبہؓ ۱۹۰۳ء حضرت مصلح موعودؓ کے عقدِ مبارک میں آئیں۔آپؓ کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ آپؓ سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھرکی پہلی بہو ہونے کے ناطے آپؑ کے الہام خواتینِ مبارکہ میں بھی شامل ہوئیں۔ اس طرح سے آپؓ ہی کے بطنِ مبارک سے حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثّالث رحمہ الله پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے آپؓ اُم ّناصر کے نام سے معروف ہوئیں، اسی طرح ان ہی کی سب سے بڑی صاحبزادی سیّدہ ناصرہ بیگم صاحبہ ہمارے موجودہ پیارے امام حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ کی والدہ ماجدہ ہیں۔
آپؓ مورخہ یکم؍ جولائی ۱۹۲۶ء کو اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے اورآپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں عمل میں آئی۔]
جواب کے آخر میں حضور انور نے ایک مثالی ڈاکٹر کے اوصاف کو اُجاگر کرتے ہوئے خاموش عملی تبلیغ کی جانب توجہ دلائی کہ اگر غریب تمہاری ڈاکٹر کی باتیں سن کے satisfy ہو جاتا ہے، اگراچھے ڈاکٹر ہو تو آدھی بیماری تو مریض کی اس وقت ہی ختم ہو جاتی ہے کہ جب تم اچھے ہنس کے اس سے بات کرتے ہو۔ لیکن اگر اس سے گھور گھور کے باتیں کرو، مریض پر رُعب ڈالو تو مریض دَوڑ جائے گا۔ وہ جو پہلے بیمار تھا، تواس کی بیماری اَور بڑھ جائے گی۔ اس لیے اس طرح سے ڈاکٹر کو بڑا ہی humbleاور بڑاpoliteہونا چاہیے اور غریبوں کا خاص خیال رکھو اور امیروں سے پیسے لینے ہیں، تو لو، فیس ہے۔تو اس طرح تبلیغ بھی ہو جاتی ہے، یہ ایک silent تبلیغ ہے، جو اپنے عمل سے تم کر رہے ہو اور اس سے اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوتا ہے کہ جب تم غریبوں کی خدمت کر رہے ہو اور اس طرح کام کر رہے ہو، جماعت کی خدمت کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ کو خوش کر رہے ہو اور لوگوں کو بھی خوش کر رہے ہو اور پیسے بھی کما رہے ہو۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ دنیا میں سیاسی نا انصافی کے خلاف ہم کیسے آواز اُٹھا سکتے ہیں اور انسانی حقوق کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں؟
اس پر حضور انور نے ناانصافی کے خلاف عالمی سطح پر آوازبلند کرنے کے حوالے سے جماعت احمدیہ کی جدوجہد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جتنی ہماری پہنچ ہے اتنا تو ہم کررہے ہیں۔ جہاں تک میری پہنچ ہے، مَیں جا کے کر دیتا ہوں اور جہاں تک آپ کی پہنچ ہے، تو آپ کرتے رہیں۔آپ کے امریکہ میں بھی، جب Capitol Hill میں مجھے تھوڑا سا موقع ملا تھاتووہاں بھی مَیں نے جا کے یہی کہا تھا۔ ایک سینیٹر مجھے بعد میں آ کے کہنے لگا کہ تم نے جس طرح آرام سے باتیں کر دی ہیں، ہمیں ایسی باتیں سنا دی ہیں، تم نے بڑی اچھی باتیں کی ہیں اورآج کل دنیاکوان کی ضرورت بھی ہے، لیکن یہ باتیں ہم نے سن تو لی ہیں اور ہمیں اچھی بھی لگی ہیں لیکن ہم اس پر عمل نہیں کر سکتے۔ مَیں نے کہا کہ یہی تو مَیں کہہ رہا ہوں کہ تھوڑا سا عمل کرو۔
حضور انور نے سیاسی مفادات، لابنگ اور عالمی سطح پر انصاف کے راستے میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ تو ان کے political vested interests ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے وہ اس پر عمل نہیں کر سکتے۔آج کل تو لابی کام کر رہی ہے، وہ آپ کو پیسے دیتی ہے، بےشمار پیسہ خرچ اور invest کر رہے ہیں۔ اب یہاں سے انہوں نے بہت سارے بڑے گروپ عیسائیوں کے چرچ کےpriest اسرائیل بلائے ہیں، اسی طرح ڈاکٹر بلائےہیں، politicians بلائے ہیں، وہاں لے کے جاتے ہیں اور پھر ان کو وہاں سارا کچھ دکھاتے ہیں، ان کو ہوٹلنگ وغیرہ اور پوری عیاشی کرواتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ تم نے جاکے ہماری favour میں بولنا ہے، تو اس طرح سے انصاف تو قائم نہیں ہو سکتا۔
جواب کے آخر میں حضور انور نے حقیقی انصاف اور مساوات کے قیام کے سلسلے میں ہر فردِ جماعت پر عائد ہونے والی انفرادی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کے لیے ہم نے ہی آواز اُٹھانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ absolute justice ہونا چاہیے۔ پورا انصاف ہو تو تبھی دنیا میں تم لوگ انصاف قائم کر سکتے ہو اور بدلے نہ لو اور یہ نہیں ہے کہ ایسا ہو کہ ایک کے لیے کچھ اَور پیمانہ ہے اور دوسرے کے لیے کچھ اَور ہے۔ہر جگہequality ہونی چاہیے اور وہ جب ہوگی تو تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ صحیح انصاف قائم ہوا۔ یہی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور یہی ہمیں کرنا چاہیے اور جس حدّ تک آپ اپنے ماحول میں، جو آپ کی اپنی کمپنی ہے، جو آپ کے ارد گرد لوگ ہیں،surroundingہے، اس میں جتنا آپ اس بات کو کر سکتے ہیں عام کریں۔
ایک شریکِ مجلس نے حضور انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ کچھ اہلِ تشیع حضرات اہلِ بیت اور آلِ رسول صلی الله علیہ وسلم کو خلافت پر ترجیح دیتے ہیں، نیز اس تناظر میں راہنمائی کی عاجزانہ درخواست پیش کی؟
اس پر حضور انور نے سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں واضح فرمایا کہ خلافت پر کیا،وہ تو نبوت پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ بعض اہلِ تشیع کا تو ایسا گروپ بھی ہے کہ جو کہتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کو غلطی لگی تھی، نبوت تو حضرت علی رضی الله عنہ پر اُتارنی تھی مگر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتار دی اور وحی نازل ہو گئی۔ تو ہم کیا کہیں گے کہ جبرائیل علیہ السلام یا اللہ تعالیٰ نے غلط کیا؟
حضور انور نے اہلِ تشیع کے خلافتِ راشدہ کے بارے میں پائے جانے والے فاسد عقیدے کی نشاندہی کرتے ہوئےقرآنی تعلیم کی روشنی میں اہلِ بیت کو فوقیت دینے کے دعویٰ کی بابت درست تفہیم بیان فرمائی کہ وہ پہلے تین خلفاء حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی الله عنہم کو کہتے ہیں کہ یہ غلط خلفاء ہیں اور حضرت علی رضی الله عنہ کو خلافت ملنی چاہیے تھی۔ توسوال یہ اُٹھتا ہے اورآپ کو سوال یہ کرنا چاہیے تھا کہ جو خلافت راشدہ ہے، اُس وقت سے یہ سوال اُٹھ رہا ہے اور وہ فتنہ پردازوں نے سوال اُٹھایا تھا اور اس کے بعد سے فتنہ بڑھتاہی چلا گیا۔ تو کہتے ہیں کہ قرآن ِشریف کہتا ہے کہ میرے اہل ِبیت جو ہیں، میرے قریبی رشتہ داروں کو آنحضرتؐ نے فرمایا کہ ان پر فوقیت دو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ تم اتنا میری باتوں کو سنو کہ جتنا تم اپنے قریبیوں کی بات سنتے ہو۔ اس آیت کی یہ لوگ بالکل غلط تشریح کرتے ہیں۔یہ چیزیں تو اس وقت سے چلتی آ رہی ہیں تو اُن کواب ہم آہستہ آہستہ ہی سمجھا سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں حضور انور نے اسی ضمن میں ایک شیعہ نوجوان کی احمدیت قبول کرنے کے نتیجہ میں اصل حقیقت سے واقف ہونے کے بعد غلط عقائد سے رجوع کرنے کی مثال بھی پیش فرمائی کہ ایک شیعہ نوجوان بڑی مضبوط شیعہ فیملی سے ہے، اس نے چند سال ہوئے کہ احمدیت قبول کر لی، پھر اُس کی بیوی بھی احمدی ہو گئی، وہ بھی شیعہ تھی۔ ماں باپ نے اس کو چھوڑ دیا، لیکن وہ بہرحال یہاں آگیا، پڑھا لکھا آدمی ہے، فرانس میں کام کرتا ہے۔ ماں باپ اس کو کہتے رہتے ہیں کہ یہ نہیں کیا اور وہ نہیں کیا۔ تو وہ کہتا ہے کہ اب آ کے مجھے اصل حقیقت پتا لگ رہی ہے اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح عشق ہے تو ہم کسی کا انکار نہیں کر سکتے۔
مزید برآں حضور انور نے خلفائے راشدین اور اہلِ بیت کے مقام کی وضاحت کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے لکھا ہے کہ چاروں خلفاء خلفائے راشدین ہیں اور ہم ہر ایک کو مانتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بھی مقام ہے اور حضرت عمر رضی الله عنہ کا بھی مقام ہے۔حضرت علی رضی الله عنہ خود کہتے ہیں کہ جب جنگوں کا زمانہ یا کوئی ایسا وقت ہوتا تھا، اور مَیں کئی دفعہ اپنے پچھلے خطبات میں اسی لیے بتا رہا ہوں تاکہ ہسٹری بھی تم لوگوں کو پتا لگے، کہ جو سب سے خطرناک جگہ ہوتی تھی توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ہوتے تھے اور جو سب سے قریب ان کے رہنے والا حفاظت کرنے والا ہوتا تھا، علیؓ کہتے ہیں کہ مَیں نہیں وہاں ہوتا تھا اورمَیں وہاں نہیں جا سکتا تھا کہ جہاں ابوبکر پہنچ جاتا تھا۔ تو حضرت علی رضی الله عنہ خود اس بات کا اقرار کر رہے ہیں۔
علاوہ ازیں حضور انور نے اختلافات کی ابتدا اور فتنہ پردازوں کے کردار کی طرف بھی توجہ دلائی کہ تو یہ کہو کہ اگر ہسٹری پڑھیں تو ٹھیک ہے، باقی بحث کرنے کی ضرورت کوئی نہیں۔ انہیں کہو کہ ہم حضرت علی رضی الله عنہ کو بھی مانتے ہیں، ان کا ایک مقام ہے اور حضرت امام حسن، امام حسین رضی الله عنہم کو بھی مانتے ہیں، ان کا ایک مقام ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یزید پلید نے ہمارے نبی ؐکے نواسوں کو شہید کر کے بہت زیادتی کی ہے، تو وہاں یزید پلید کا لفظ استعمال کیا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی الله عنہم صحیح نہیں تھے۔ اور جھگڑا تو اس وقت خارجیوں نے شروع کیا تھا کہ جب حضرت عثمان رضی الله عنہ کو پہلے شہید کیا اور پھر کہہ دیا کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ کا بدلہ نہیں لیا گیا، اس لیے حضرت علی رضی الله عنہ فوری بدلہ لیں۔ پھر حضرت علی رضی الله عنہ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو بھی ان کے خلاف اُٹھوا دیا۔
پھر حضور انور نے اسلام میں اختلافات کے آغاز کے پس منظر کو جاننے کے لیےمطالعہ تاریخ اور جماعتی لٹریچر کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہ صرف ایک یہی جھگڑا نہیں ہے۔ اسلام میں اختلافات کا آغاز حضرت خلیفة المسیح الثّانی رضی الله عنہ کی کتاب ہے وہ پڑھو۔ اُردو پڑھنی آتی ہے، تو وہ پڑھ لو، اُس میں بہت ساری باتیں نکل آئیں گی۔ بڑی لمبی ہسٹری پتا لگے گی۔ زیادہ موٹی کتاب نہیں ہے، چھوٹی سی ہے، اس سے آپ کو پتا لگ جائے گا۔ اور اس طرح حضرت علی رضی الله عنہ کے اُوپر بھی ایک چھوٹی سی کتاب ہے، وہ بھی پڑھ لیں، اس سے بھی بنیادی چیزیں پتا لگ جائیں گی۔
اسی تناظر میں حضور انور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے پہلا بنا دیا،وہ پہلا ہی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار احادیث ملتی ہیں کہ ابوبکر میرے رفیق کو کیوں تنگ کرتے ہیں۔ قرآنِ شریف میں ذکر آیا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا، جب وہ غار میں بیٹھے تھے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ تو حضرت ابوبکر رضی الله عنہ تھے، حضرت علی رضی الله عنہ تو نہیں تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی الله عنہ کو وہاں اپنی چارپائی پر لٹا کر مرنے کے لیے چھوڑ آئے تھے۔ شیعہ یہ دلیل دیتے ہیں۔ اور جب انہوں نے حضرت علی رضی الله عنہ کو دیکھا تومارا تو نہیں، ان کو تھوڑا سا زدوکوب کیا اور اس کے بعد حضرت علی رضی الله عنہ بھی وہاں سےmigrateکرگئے۔ لیکن جو خطرناک حالت تھی، وہ تو اس وقت تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اکٹھے تھے۔ تو اس میں بہت ساری دلیلیں ہیں، جو پیش کی جا سکتی ہیں،آپ تلاش کریں اور لٹریچر پڑھیں۔ تو بہت کچھ مل جائے گا۔ بہت ساری باتیں تو مَیں نے اپنے خطبوں میں ہی دے دی ہیں، اگر غور سے وہ خطبے سنیں تو پتا لگ جائے گا۔ اسی لیے خطبے دیے تھے کہ تاریخ پتا لگ جائے۔
ایک خادم نے راہنمائی کی درخواست کی کہ آج کے دَور میں ہم کیسے جماعت اور پوری دنیا کے لیے اعلیٰ نمونہ بن سکتے ہیں تاکہ لوگ ہمیں دیکھ کر ہماری طرح بننا چاہیں اور ہم انسانیت کے مستقبل کو بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکیں؟
اس پر حضور انور نے مسکراتے ہوئے یاد دلایا کہ نمونہ کیا ہے؟ ابھی کل ہی مَیں نے باتیں کی ہیں کہ نمونہ کیا ہے، آپ شرائطِ بیعت پرعمل کرلیں تو وہی نمونہ ہے اور اسی سے بیعتیں ہو جائیں گی۔
[قارئین کی دلچسپی کے لیے ذکر کیا جاتا ہے کہ یہاں حضورانور نے شرائطِ بیعت پر عمل کرنے کے حوالے سے جن باتوں کو نمونہ قرار دیا ہے، وہ بیش قیمت نصائح قادیان دارالامان میں بھارت کے ۱۳۰ویں جلسہ سالانہ سے حضورانور کے بصیرت افروز اختتامی خطاب فرمودہ مورخہ ۲۸؍دسمبر ۲۰۲۵ء، بمقام ایوانِ مسرور، اسلام آباد (ٹِلفورڈ) برطانیہ کے خلاصے میں شامل ہیں، جو روزنامہ الفضل انٹرنیشنل کے شمارہ مورخہ ۳؍جنوری ۲۰۲۶ء میں شائع ہوچکا ہے اور اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔]حضور انور نےعملی نمونوں کی روشنی میں غیروں پر مرتّب ہونے والے غیر معمولی اثرات کا تذکرہ فرمایا کہ بہت سارے لوگ آتے ہیں اور بعض لوگ مجھے لکھتے بھی ہیں کہ ہم نے توصرف احمدیوں کا عمل اور نمونہ دیکھ کے بیعت کر لی ہے اور لٹریچر بعد میں پڑھنا شروع کیا ہے۔ میرے پاس بعض یہاں آتے ہیں، مجھ سے مل کے جاتے ہیں، تقریریں سنتے ہیں اور اس کے بعد جا کے بیعت کر لیتے ہیں کہ ہم نے آپ کی فلاں بات سنی حالانکہ ان کو مَیں نے کوئی تبلیغ نہیں کی۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا۔ پچھلے دنوں دو تین ہفتے پہلے مَیں نے دعوتِ اِلی اللہ پر خطبہ دیا تھا اس میں بھی مَیں نے یہی کہا تھا کہ اپنا نمونہ دکھاؤ اور علم پیدا کرو تو پھر تبلیغ کا طریقہ بھی آ جائے گا، صرف زبان آنے سے تو کچھ نہیں ہوتا۔
[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم، احادیثِ نبوی صلی الله علیہ وسلم اور ارشاداتِ عالیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روشنی میں تبلیغ کے حوالے سے زرّیں نصائح پر مبنی مذکورہ خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍دسمبر ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد(ٹِلفورڈ) برطانیہ کا مکمل متن روزنامہ الفضل انٹرنیشنل کی اشاعت مورخہ۲؍جنوری ۲۰۲۶ء کی زینت بن چکا ہے اور اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔]مزید برآں حضور انور نے عملی نمونہ کی حقیقی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے توجہ مبذول کروائی کہ اصل چیز نمونہ ہے، اگر ہم اسلام کا حقیقی نمونہ دکھائیں گے کہ یہ اسلام کی تعلیم ہے اور یہ اس کا نمونہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مولویوں کی باتیں سنو کہ کیسی دھواں دار تقریر کرتے ہیں، لیکن جب گھر جا کے ان کو دیکھو تو ان کے عمل بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی ان کی بات اس لیے تمہارے پر اثر نہیں کرتی۔ تو جب یہ حالت ہو جائے تو پھر کسی پرکیا اثر ہونا ہے؟ اس لیے عمل ہونا چاہیے۔ نیز اسی تناظر میں بیان فرمایا کہ ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ایک مولوی تھا، اس نے بڑی تقریر کی کہ دین کی خاطر قربانی کرنی چاہیے، مالی قربانی کرنی چاہیے، یہ کرنا چاہیے اور وہ کرنا چاہیے۔ اس کی بیوی سن رہی تھی، مسجد کے ساتھ گھر تھا۔ گھر گیا تو بیوی نے متأثر ہو کے اپنے سونے کے کڑے اُتار کے دیے کہ یہ بھی چندہ دو، دین کی خاطر قربانی کرو، مسجد بناؤ یا جو بھی کام کرنا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ یہ تو مَیں نے لوگوں کو جذبات اُبھارنے کے لیے تقریر کی تھی۔تمہارے لیے نہیں تھی، سو سونا سنبھال کے رکھو، ہم نے دولت اکٹھی کرنی ہے۔ تو ایسے مولویوں کا پھر کیا ہو سکتا ہے؟
آخر میں حضورانور نے ذاتی عملی نمونے دکھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم میں سے تو ہر ایک قربانی کرنے والا ہے، جس جس کی جتنی توفیق ہے، ہم دیتے ہیں۔ مَیں بھی دیتا ہوں، آپ بھی دیتے ہیں اور دوسرے بھی دیتے ہیں۔ تو ہم ہر ایک کو جب یہ عملی نمونے دکھائیں گے تو پھر اس کا اثر بھی ہوتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو حضور انور کے دستِ مبارک سے ازراہِ شفقت قلم کا تحفہ بطورِ تبرک حاصل کرنے اور اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
آخر پر حضور انور کے دعائیہ کلمات ’’چلو پھر الله حافظ ہو‘‘ پر یہ بابرکت نشست اختتام پذیر ہوئی۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعودؓ اور تربیت اولاد کے چند بنیادی اصول



