اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کرنے والے کی ستّاری فرمائے گا
مَیں ان لوگوں کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے سپرد جماعتی کام بھی ہیں خاص طور پر اصلاح کرنے والا شعبہ کہ انتہائی احتیاط سے اور ہمدردی کے جذبات رکھتے ہوئے اصلاح کے کام کریں۔ کبھی کسی بھی فرد کو یہ احساس نہیں ہونا چاہئے کہ میری کمزوری کی فلاں عہدیدار کی وجہ سے پردہ دری ہوئی، تشہیر ہوئی، لوگوں کو پتا لگا۔ اگر یہ احساس پیدا ہو جائے تو پھر اس کا ردّعمل بہت زیادہ سخت ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جن کے سپرد اصلاح کا یہ کام ہے وہ جہاں لوگوں کی پردہ دری کر کےمعاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہے ہوتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی بھی مول لے رہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو تمہیں جماعتی خدمت کا موقع دیا تھا اس لئے کہ میری صفات کو زیادہ سے زیادہ اپناؤ۔ لیکن یہاں تو تم میری ستاری کی صفت سے الٹ چل کر بے چینیاں اور فساد پیدا کرنے کا موجب بن رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ ستّاری کو کتنا پسند کرتا ہے اور ستّاری کرنے والے کو کس قدر نوازتا ہے۔ اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے یکا و تنہا چھوڑتا ہے۔ مسلمانوں کی یہ کس قدر بد قسمتی ہے کہ آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ مسلمان ہیں جو مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہیں اور کوئی نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر توجہ دے۔ بہرحال پھر آپ نے آگے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجات پوری کرتا ہے اور جس نے کسی مسلمان کی تکلیف دُور کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مصائب میں سے اس کی ایک مصیبت کم کر دے گا اور جو کسی مسلمان کی ستّاری کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی ستاری فرمائے گا۔ (صحیح البخاری کتاب المظالم والغضب باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ حدیث 2442)
(خطبہ جمعہ ۳۱؍مارچ ۲۰۱۷ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۲۱؍اپریل۲۰۱۷ء)
مزید پڑھیں: یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِب کے عملی نظارے



