مکتوب جنوبی امریکہ(نومبر ۲۰۲۵ء)
(بر اعظم جنوبی امریکہ کےتازہ حالات و واقعات کا خلاصہ)
فٹبال ورلڈ کپ تک رسائی پانے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ملک
ڈیڑھ لاکھ آبادی والے ملک Curacaoنےفٹبال ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کےلیے کوالیفائی کرکے اس کھیل کی دُنیا میں نئی تاریخ رقم کر دی۔ایک لاکھ ۵۶؍ہزار افراد پر مشتمل کیریبین آئی لینڈ کیوراساؤ آبادی کے لحاظ سے فٹ بال کھیلنے والا سب سے چھوٹا ملک ہے جس نے ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کی ہے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز ساڑھے تین لاکھ آبادی والے ملک آئس لینڈ کے پاس تھا۔ ورلڈ کپ تک رسائی کے لیے کھیلے جانے والے آخری میچ میں کیوراساؤ کا مقابلہ جمیکا سے تھا،جس میں جمیکا کو میگا ایونٹ کےلیے کوالیفائی کرنے کے لیے جیت کی ضرورت تھی لیکن مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہنے کی وجہ سے کیوراساؤ نے اسی برس ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا اور آبادی کے لحاظ سے یہ اعزاز حاصل کرنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ملک بن گیا۔ دس سال پہلے کیوراساؤ فیفا کی عالمی درجہ بندی میں ۱۵۰ویں نمبر پر تھا اب وہ ۸۲ویں نمبر پر ہے۔ ۲۰۲۶ء کے ورلڈ کپ میں ۳۲؍کے بجائے ۴۸؍ممالک کی ٹیمیں شامل ہوں گی۔
کولمبین فوج کی مشتبہ باغیوں کے کیمپ پر بمباری
ملک کی فوج کے ترجمان کے مطابق کولمبیا کے صوبے Guaviare میں باغیوں کے ایک مشتبہ کیمپ پر فضائی حملے میں کم از کم ۱۹؍افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں فارک باغی گروپ(Farc rebel) کے ایک دھڑے کو نشانہ بنایا گیا جو منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔
کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو ماضی میں باغیوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہوائی حملے کرنے سے گریزاں رہے تھے لیکن امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور مسلح گروپوں کے ساتھ امن مذاکرات میں ناکامی کے بعد انہوں نے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔یہ فضائی حملہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیٹرو پر منشیات کے کاروبار کو پھیلانے کی اجازت دینے کے الزام کے بعد ہوا ہے، جس کی کولمبیا کے صدر نے تردید کی ہے۔کولمبیا کے وزیر دفاع پیڈرو سانچیز نے کہا کہ صدر پیٹرو نے عام آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور سیکیورٹی فورسز کو لاحق خطرے کو کم سے کم کرنے کے بعد فضائی حملے کی اجازت دی تھی۔
کولمبیا کے سب سے طاقتور باغی گروپ کی قیادتIván Mordisco نامی کمانڈر کر رہا ہے۔
اسے کولمبیا کا سب سے طاقتور باغی راہنما سمجھا جاتا ہے، جن کا گروپ غیر قانونی کان کنی اور بھتہ خوری کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہے۔وزیر دفاع سانچیز نے مورڈیسکو کو ملک میں سب سے خطرناک مجرموں اور منشیات کے اسمگلروں میں سے ایک قرار دیا۔
فوجی آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے تین افراد کو حراست میں لیا اور تین بچوں کو بازیاب کیا جو جبری مشقت کے لیے بھرتی کیے گئے تھے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق کولمبیا میں حالیہ برسوں میں مسلح گروہوں کی طرف سے بچوں کی جبری بھرتی میں اضافہ ہوا ہے، دستاویز کے مطابق نو سال سے بھی کم عمر بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے، یا جھوٹے وعدوں کے ذریعے انہیں ان کے والدین سے دور کیا جاتا ہے۔
کولمبیا کے صدر پیٹرو نےحلف اٹھانے کے بعدملک میں مکمل امن قائم کرنے کی مہم کو پورا کرنے کی کوشش میں متعدد مسلح گروپوں کے ساتھ امن مذاکرات شروع کیے تھے۔پیٹرو پر امریکہ کی طرف سے منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے دباؤ ہے۔کولمبیا دنیا میں سب سے زیادہ کوکین پیدا کرنے والا ملک ہے اور امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ صدرنے منشیات کے کارٹلوں کو پنپنے کی اجازت دی ہے اور ان کی سرگرمیوں پر روک لگانے سے انکار کیا۔ گذشتہ ماہ امریکی حکومت نے کولمبیا کے صدر پر مالی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔پیٹرو نے اس الزام کے جواب میں ریاستہائے متحدہ کی حکومت پر کیریبین اور بحرالکاہل میں مبینہ طور پر منشیات لے جانے والی کشتیوں پر امریکی حملوں پر قتل عام کا الزام لگایا ہے۔
بس کھائی میں گرنے سے کم از کم ۳۷؍افراد ہلاک ہو گئے
پیرو میں ایک بس کے ۲۰۰؍میٹر گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم ۳۷؍افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔یہ واقعہ Pan-American Highway کے ایک ناہموار حصے پر پیش آیا جو ملک کے جنوبی علاقے اریکیپا میں پیرو کو چلی سے ملاتی ہے۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ بس ۶۰؍مسافروں کو لے کر جا رہی تھی جب یہ ایک موڑ پر ایک پک اپ ٹرک سے ٹکرا گئی اوردریائے اوکونا کے کنارے پر گر گئی۔پیرو میں بس کے حادثات عام ہیں خاص طور پر رات کے وقت اور پہاڑی شاہراہوں پر۔ یہ اکثر سڑک کی خراب حالت ضرورت سے زیادہ رفتاراور حفاظتی اشاروں کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
لاموساس کمپنی کی طرف سے چلائی جانے والی یہ بس صوبہ کاراویلی کے ایک قصبے چالا سے اریکیپا جا رہی تھی۔مبینہ طور پر دونوں ڈرائیور اس حادثے میں بچ گئے جو پین امریکن ہائی وے ساؤتھ کے کلومیٹر ۷۸۰؍پر ہوا۔ حادثے کے مقام پر فائر فائٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی میڈیا کو بتایا کہ چھتیس افراد جائے وقوعہ پر ہلاک ہوئے اور ایک اور شخص بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ حکام کے مطابق ۲۵؍افراد جن میں تین نابالغ بھی شامل ہیں ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور پک اپ ٹرک کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سنگین جرائم میں سزا یافتہ قیدیوں کے درمیان پُرتشدّد جھڑپیں
ایکواڈور کی جیلیں ایک بار پھر موت اور دہشت کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کو رکھنے والی ایک جیل میں دو پرتشدد واقعات میں مجموعی طور پر ۳۱؍قیدی ہلاک اور ۳۴؍زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے ۳۱؍قیدیوں میں سے ۲۷؍قیدیوں کو پھانسی دے کر ہلاک کیا۔ قومی سروسز کے ادارے کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے گروہوں کے درمیان یہ فسادات ایکواڈور کے جنوب میں موجود مچالا جیل میں پیش آئے ہیں۔
یاد رہے کہ قبل ازیں نومبر میں ہی ایکواڈور کی تین مختلف جیلوں میں ہونے والے ہنگاموں کے بعد ۱۲؍قیدی مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ ایکواڈور کی جیلیں قیدیوں کے گروہوں کے درمیان پرتشدد اور خونی جھڑپوں کے باعث بدنام ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۱ءکے بعد سے مختلف جیلوں میں جرائم پیشہ گروہوں کے مابین جھڑپوں میں کم سے کم ۵۰۰؍قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔اس کے ساتھ ملک میں منظّم جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایکواڈور میں منشیات کی سمگلنگ کے کاروبار کا ایک بڑا حصہ جیلوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ صدر ڈینیئل نوبوا کی حکومت نے منظم جرائم اور گینگ وار کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، تاہم ملک بھر میں جیلوں کے اندر طاقت کے حصول کی جنگ نے صورتِ حال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایکواڈور کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں سے بھری ہوئی ہیں اور گینگز کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ اور طاقت کے تنازع نے انہیں جنگی میدان میں تبدیل کر دیا ہے۔
لاطینی امریکہ میں انتہائی کشیدہ صورتحال
لاطینی امریکہ کے قریب سمندر میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی آمد امریکہ اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے۔یہ ۱۹۸۹ء میں پاناما پر حملے کے بعد سے لاطینی امریکہ میں امریکی فوج کی سب سے بڑی موجودگی ہے۔ فورڈجسے ۲۰۱۷ءمیں کمیشن کیا گیا تھا امریکہ کا سب سے نیا اور دنیا کا سب سے بڑا ایئرکرافٹ کیریئر ہےجس پر پانچ ہزار سے زائد اہلکار موجود ہیں۔ پینٹاگون نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کی آمد سے منشیات کی اسمگلنگ میں خلل ڈالنے اور بین الاقوامی مجرمانہ تنظیموں کو کمزور اور ختم کرنے میں مدد ملے گی۔وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز نے ملک بھر میں زمینی، سمندری، فضائی، دریائی اور میزائل افواج کے ساتھ ساتھ سویلین ملیشیاؤں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کا اعلان کیا تاکہ نکولس مادورو کی حکومت کو درپیش خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے۔ ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک پیغام میں کہا گیا کہ نکولس مادورو نے آپریشن کے لیے تقریباً دو لاکھ فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
امریکی ’’سپر کریئر‘‘ کی آمد کو وینزویلا میں متحرّ ک مبینہ منشیات فروشوں کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شروع کی گئی فوجی مہم کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں پہلے ہی کشتیوں اور نیم آبدوز جہازوں پر سوار ۷۵؍سے زیادہ افراد کی جان جا چکی ہے۔
امریکی اور چینی صدر کی شمولیت کے بغیر عالمی ماحولیاتی کانفرنس
گذشتہ تین دہائیوں میں عالمی درجۂ حرارت سے نمٹنے کے لیے منعقد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی کانفرنسوں میں سے کوپ ۳۰ ایک متنازعہ اجلاس ثابت ہوا ہے۔ برازیل کے شہر بیلیم (Belém) میں منعقد ہونے والی اس اہم عالمی کانفرنس میں امریکہ اور چین کے صدور شامل ہی نہیں ہوئے، جبکہ پہلی بار ایسا ہوا کہ امریکہ کی طرف سے کوئی وفد بھی اس اجلاس میں شمولیت کے لیے نہیں بھجوایا گیا۔ اس کانفرنس میں بہت سے ممالک اس بات پر برہم دکھائی دیے کہ حتمی اعلامیہ میں فوسل فیولز (تیل گیس کوئلہ) کا ذکر تک شامل نہیں کیا گیا، جبکہ ایسے ممالک جنہیں ان ایندھنوں کی مسلسل پیداوار سے فائدہ ہے وہ نتیجے سے مطمئن تھے۔یہ اجلاس اس حقیقت کا واضح اظہار تھا کہ دنیا اب موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے معاملے پر مشترکہ پالیسی تشکیل دینے کی صلاحیت کھو رہی ہے۔
ذیل میں اس کانفرنس کے پانچ اہم نکات پیش ہیں۔
۱۔ برازیل کی کارکردگی متاثر کن نہیں تھی: برازیل میزبانی کے باوجود فوسل فیول کے خاتمے پر کوئی مضبوط اتفاقِ رائے نہ لا سکا۔ صدر لولا کی خواہشات اور عملی سفارتی کارکردگی میں واضح فرق دکھائی دیا جس سے کانفرنس کا نتیجہ متاثر ہوا۔
۲۔یورپی یونین کی ناکامی: یورپی یونین چاہتی تھی کہ ایک واضح روڈ میپ شامل ہو جس میں بتایا جائے کہ دنیا کس رفتار سے تیل، گیس اور کوئلے سے نکلے گی۔ لیکن شدید عالمی مخالفت کے باعث ای یو اپنے مطالبات منوانے میں ناکام رہی۔
۳۔ کوپ کا مستقبل غیر یقینی: متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی مذاکرات محض سخت زبان اور نرم فیصلوں تک محدود ہو گئے ہیں۔ بڑے ملک عملی اقدامات سے گریزاں ہیں، جس سے کوپ کا مقصد اور افادیت سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
۴۔ پہلی بار تجارت مرکزی نکتہ: یورپی یونین کے’’کاربن بارڈر ٹیکس‘‘ نے چین، انڈیا اور کئی ترقی پذیر ممالک کو ناراض کیا ہے جس کے بعد عالمی تجارت اور موسمیاتی پالیسی پہلی بار مرکزی بحث بنیں۔ یہ ایک ایسا رخ ہےجو مستقبل کی کانفرنسوں کو بھی متاثر کرے گا۔
۵۔ امریکہ کی غیر موجودگی، چین کی خاموش فتح: صدر ٹرمپ کی غیر حاضری نے سفارتی خلا پیدا کیا جسے چین نے پُر کر دیا۔ صاف توانائی، الیکٹرک وہیکلز اور گرین ٹیک میں چین کی برتری سامنے آئی۔
برازیل نے اس کانفرنس کے لیے سفری سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے ایمازون برساتی جنگل کے کچھ حصوں کو کاٹ کر سڑک بنائی جس پر مقامی لوگوں نے شدید تنقید کی کیونکہ اس اقدام نے ماحولیات کے تحفظ کے لیے برازیل کے عزم کے بارے میں سوالات اٹھائے، خاص طور پر چونکہ کانفرنس موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔ بہت سے مقامی لوگ اور ماہرین ماحولیات اس سے ایمازون کے جنگلات کو پہنچنے والے نقصان سے پریشان ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ درختوں کو کاٹنا موسمیاتی کانفرنس کے مقصد کے خلاف ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ۲۰۲۶ء میں ہونے والے چند اہم عالمی پروگرام




