فضل الٰہی کے غیبی سامان

ہم انہیں دیکھ کے حیران ہوئے جاتے ہیں
خود بخود چاک گریبان ہوئے جاتے ہیں
دشمن آدم کے جو نادان ہوئے جاتے ہیں
ہائے انسان سے شیطان ہوئے جاتے ہیں
گیسوئے یار پریشان ہوئے جاتے ہیں
اب تو واعظ بھی پشیمان ہوئے جاتے ہیں
غیب سے فضل کے سامان ہوئے جاتے ہیں
مرحلے سارے ہی آسان ہوئے جاتے ہیں
حسن ہے داد طلب، عشق تماشائی ہے
لاکھ پردوں میں وہ عریان ہوئے جاتے ہیں
تیری تعلیم میں کیا جادو بھرا ہے مرزا
جس سے حیوان بھی انسان ہوئے جاتے ہیں
سینکڑوں عیب نظر آتے تھے جن کو اس میں
وہ بھی اب عاشقِ قرآن ہوئے جاتے ہیں
گورے کالے کی اٹھی جاتی ہے دنیا سے تمیز
سب ترے تابعِ فرمان ہوئے جاتے ہیں
سبحۂ اشک پروئی ہے وہ تُو نے واللہ
گبر بھی اب تو مسلمان ہوئے جاتے ہیں
مرد و زن عشق میں تیرے ہیں برابر سرشار
ہر ادا پر تری قربان ہوئے جاتے ہیں
ہے ترقی پہ مرا جوشِ جنوں ہر ساعت
تنگ سب دشت و بیابان ہوئے جاتے ہیں
بیٹھ جاؤ ذرا پہلو میں مرے آ کے آج
سب ارادے مرے ارمان ہوئے جاتے ہیں
جوشِ گریہ سے پھٹا جاتا ہے دِل پھر محمودؔ
اشک پھر قطرہ سے طوفان ہوئے جاتے ہیں
(اخبار الفضل جلد ۱۳۔ ۸؍جنوری ۱۹۲۶ء، کلام محمود صفحہ۱۲۷)
مزید پڑھیں: نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں




