یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِب کے عملی نظارے
حکیم عبدالرحمٰن صاحب آف گوجرانوالہ کی ایک روایت ہے کہ ان کے بیٹے مکرم عبدالقادر صاحب سے روایت ہے کہ ’’والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مَیں قادیان گیا اور دو چار روز ٹھہرنے کے بعد اجازت مانگی۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ابھی ٹھہرو۔ دو چار روز کے بعد پھر گیا۔ حضور نے پھر بھی یہی فرمایا کہ ابھی اور ٹھہرو۔ دو تین دفعہ ایسا ہی فرمایا۔ یہاں تک کہ دو اڑھائی مہینے گزر گئے۔ پھر مَیں نے عرض کیا کہ حضور! اب مجھے اجازت دیں۔ فرمایا کہ بہت اچھا۔ مَیں نے کتاب ازالہ اوہام کے متعلق حضورؑ کی خدمت میں عرض کیا۔ حضورؑ نے میر مہدی حسن شاہ صاحبؓ کے نام ایک رقعہ لکھ دیا۔ مَیں وہ رقعہ لے کر گیا تو میر صاحب نے کہا لوگ یونہی تنگ کرتے ہیں اور مفت کتابیں مانگتے ہیں حالانکہ روپیہ نہیں ہے اور ابھی فلاں فلاں کتاب چھپوانی ہے۔ مَیں نے کہا۔ پھر آپ میرا رقعہ دے دیں۔ انہوں نے رقعہ واپس دے دیا۔ مَیں حضرت صاحب سے واپسی کے لئے اجازت لینے گیا۔ حضور نے پوچھا کہ کیا کتابیں آپ کو مل گئی ہیں۔ مَیں نے عرض کیا کہ حضور! وہ تو اس طرح فرماتے تھے۔ یہ سن کر حضرت صاحب ننگے پیر میرے ساتھ چل پڑے۔ اور میر صاحب کو فرمایا کہ آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ جس کا یہ کام ہے وہ اس کو ضرور چلائے گا۔ آپ کو میرا رقعہ دیکھ کر فوراً کتابیں دے دینی چاہئے تھیں۔ آپ ابھی سے گھبرا گئے۔ یہاں تو بڑی مخلوق آئے گی اور خزانے تقسیم ہوں گے۔ اس پر انہوں نے کتابیں دے دیں اور مَیں لے کر واپس آ گیا‘‘۔ (رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ) جلد 10 صفحہ 122-123 روایات حضرت حکیم عبد الرحمان صاحبؓ)
اسی طرح ایک روایت منشی غلام حیدر صاحب سب انسپکٹر اشتمال اراضی گوجرانوالہ کی ہے۔ یہ دو روایتیں مَیں نے رجسٹر روایات صحابہ سے لی ہیں۔ انہوں نے منشی احمد دین صاحبؓ اپیل نویس گوجرانوالہ کی روایت بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں جب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا تو عموماً حضور کے سامنے ہو کر نذر پیش نہیں کیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے مجھے نصیحت کی کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ سامنے ہو کر نذر پیش کرنی چاہئے۔ کیونکہ بعض اوقات ان لوگوں کی جب نظر پڑ جاتی ہے تو انسان کا بیڑہ پار ہو جاتا ہے۔ پھر ایک دفعہ مَیں نے سامنے ہو کر مالی تنگی کی وجہ سے کم نذرانہ پیش کیا۔ حضور نے فرمایا! ’’اللہ تعالیٰ برکت دے‘‘۔چنانچہ اس واقعہ کے بعد ایک شخص نے مجھے بہت سے روپے دئیے۔ مَیں نے بہت انکار کیا۔ مگر اس نے کہا کہ مَیں نے ضرور آپ کو یہ رقم دینی ہے۔ چنانچہ اس رقم سے میری مالی تنگی دور ہو گئی۔ (رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ) جلد 10 صفحہ 125 روایات حضرت منشی غلام حیدر صاحبؓ)
(خطبہ جمعہ ۲۶؍مارچ ۲۰۱۰ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۴؍اپریل ۲۰۱۰ء)
مزید پڑھیں: اللہ سے صبر اور صلوٰۃکے ساتھ مددمانگو



