حضرت مصلح موعودؓ اور تربیت اولاد کے چند بنیادی اصول
ہم جس دَور سے گزر رہے ہیں وہاں ہر قسم کی معلومات ہم سے صرف ایک کال کی دوری پر ہیں – آج کل بڑے بڑے ماہرِ نفسیات تربیتِ اولاد پر بہت کچھ بتاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اب اس موضوع پر سوشل میڈیا پرڈھیروں ڈھیر موادبغیرتحقیق کےڈالاجارہاہے کہ بحیثیت والدین ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں یہ سوال بار بار اٹھتاہے کہ آیا ہم اپنی اولاد کی تربیت صحیح طرز پر کر بھی رہے ہیں؟ اکثر ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ نئے دور میں تربیتِ اولاد کے قدیم اصولوں کا کوئی کام نہیں۔
اس سب کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب ہم حضرت مصلح موعودؓ کی بیان فرمودہ چند نصائح پرہی نظر ڈالیں تو حیران ہو جاتے ہیں کہ انسانی نفسیات کے بارے میں ماہرین جو اس زمانے میں دریافت کر رہے ہیں، حضورؓ نے قرآن اور حدیث پر عبور حاصل کر کے اسلامی تعلیمات سے یہ نتائج آج سے کئی برس پہلے اخذ کر کے اپنی جماعت کے سامنے رکھ د یے تھے۔
حضورؓ ایک حقیقی ”مصلح “ہونے کی حیثیت سے جماعت کو بار بار یاد دہانی کرواتے رہے کہ آئندہ نسل میں کس طرح وہ تمام خوبیاں پیدا کی جائیں کہ وہ جماعت اور انسانیت کے لیے کارآمد ثابت ہو۔پیدائش سے ہی بچے کے اندر نیکی کے بیج بوئے جا سکتے ہیں۔
اس ضمن میں حضرت مصلح موعودؓ والدین کو نصیحت فرماتے ہیں کہ جیسے پیدائش کے وقت بچہ کے کان میں اذان دے کر ہم لاشعوری طور پر اس ننھی روح میں اپنے خالق کی محبت اور اطاعت کے جذبے کو متعارف کرواتے ہیں، ویسے ہی اسی وقت سے بچہ کی ظاہری صفائی پر توجہ دے کر ہم اس کو گناہوں سے دور رکھ سکتے ہیں۔آپؓ فرماتے ہیں:
” بچہ کو صاف رکھا جائے پیشاب یا پاخانہ فوراً صاف کر دیا جائے …جو بچہ صاف نہ رہے اس میں صاف خیالات کہاں سے آئیں گے۔ جب بچہ کی ظاہری صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا تو باطنی صفائی کس طرح ہوگی ؟ لیکن اگر بچہ ظاہر میں صاف ہو تو اس کا اثر اس کے باطن پر پڑے گا اور اس کا باطن بھی پاک ہوگا۔ کیونکہ غلاظت کی وجہ سے جو گناہ پیدا ہوتے ہیں ان سے بچا رہے گا۔ “(منہاج الطالبین، انوار العلوم جلد نہم صفحہ ۲۰۲)
یہ بات جدید تحقیق سے بھی ثابت ہو چکی ہے کہ جسمانی صفائی کا انسان کے دماغ اور نفسیات سے ایک گہرا تعلق ہے۔
بچے کو غذا ئیت سےبھرپورخوراک دینی چاہیے، آپؓ اس طرف توجہ دلاتےہوئے فرماتے ہیں کہ بچے کی غذا کے مختلف پہلو اس کی آئندہ زندگی پر اثر ڈال رہے ہوتے ہیں۔
” غذا بچہ کووقتِ مقررہ پر دینی چاہیے۔ اس سے بچہ میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ خواہشات کو دبا سکتا ہے۔ اور اس طرح بہت سے گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ چوری، لوٹ کھسوٹ وغیرہ بہت سی برائیاں خواہشات کو نہ دبانے کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ ایسے انسان میں جذبات پر قابو رکھنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب بچہ رویا، ماں نے اسی وقت دودھ دے دیا۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ مقررہ وقت پر دودھ دینا چاہیے۔ اور بڑی عمر کے بچوں میں یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ وقت پر کھانا دیا جائے۔ اس سے یہ صفات پیدا ہوتی ہیں:
۱۔ پابندی وقت کا احساس۔
۲۔ خواہش کو دبانا۔
۳۔ صحت۔
۴۔ مل کر کام کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسے بچوں میں خود غرضی اور نفسانیت نہ ہوگی …
۵۔ اسراف کی عادت نہ ہوگی …
۶۔ اسی طرح غذا اندازہ کے مطابق دی جائے اس سے قناعت پیدا ہوتی اور حرص دور ہوتی ہے۔“ (منہاج الطالبین،انوارالعلوم جلد نہم صفحہ ۲۰۲-۲۰۳)اسی طرح یہ بھی راہنمائی فرماتے ہیں کہ بچے کوقسم قسم کی خوراک دی جائے۔ گوشت، ترکاریاں اور پھل دیے جائیں۔ کیونکہ غذاؤں سے بھی مختلف اقسام کے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔یہ سب نکات آجکل ڈائیٹیشنز (Dietitians) اپنی تحقیق اور تجربہ سے ثابت کر چکے ہیں۔بچے میں ضد کی عادت نہیں پیدا ہونے دینی چاہیے۔
آپؓ فرماتے ہیں: ا”گر بچہ کسی بات پر ضد کرے تو اس کا علاج یہ ہے کہ کسی اور کام میں اسے لگا دیا جائے۔ اور ضد کی وجہ معلوم کر کے اسے دور کیا جائے۔ “ ( منہاج الطالبین،انوارالعلوم جلد نہم ؍ صفحہ ۲۰۵)
اس ضمن میں ضروری ہے کہ بچے کو اپنی ہر بات فوراً منوانے کی عادت نہ ڈالی جائے۔ اگر اس کی ہر خواہش فوراً پوری کی جائے گی، تو ضد کے ساتھ ساتھ اس میں لالچ اور حرص جیسی برائیاں بھی جنم لیں گی۔
اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”بچے کو زیادہ پیار بھی نہیں کرنا چاہیے۔ زیادہ چومنے چاٹنے کی عادت سے بہت سی برائیاں بچے میں پیدا ہوتی ہیں۔ جس مجلس میں وہ جاتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اسے پیار کریں۔ اس سے اس میں اخلاقی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔“ ( منہاج الطالبین،انوارالعلوم جلد نہم صفحہ ۲۰۴)
بچے میں کھیلوں اور جسمانی ورزش کی عادت ضروری ہے۔آج کل جب نئی نسل کا رجحان گیمنگ، فون کے استعمال اور نشے کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسے میں یہ نصیحت والدین کے لیے اور بھی ضروری اور کارآمد ثابت ہوگی۔آپؓ فرماتے ہیں : ”جتنی اچھی یا بری عادات ہیں وہ سب اسی عمر (بچپن) میں پڑتی ہیں ان کے لیے علیحدہ مدرسہ نہیں ہوتے۔ نہ یہ بڑی عمر میں آتی ہیں۔ بلکہ انہی مدرسوں اور اسی عمر میں آتی ہیں۔ اور یہ باتیں کھیلنے کودنے میں سیکھی جاتی ہیں۔ اس عمر میں عادات سیکھنے کے لیے مصلیٰ بچھا کر بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کھیلنے کودنے کے میدانوں میں سیکھی جاتی ہیں۔ “(زریں ہدایات ( برائے طلباء) جلد سوم صفحہ۵۴)
طلباءسے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”یہ تمہارا بہت قیمتی وقت ہے۔ تم اس وقت اخلاق کی درستی میں مصروف ہو جاؤ…ابھی سے کھیل کے میدان میں تم ان تمام فرائض اور اعلیٰ اخلاق کو سیکھ سکتے ہو جو آئندہ عمر میں تمہیں بہترین انسان بنائیں۔ تمہارے لیے فٹ بال کا میدان ہی اخلاق سکھانے کا میدان ہے۔ اس میں تم وسیع القلب، بردبار، جفاکش، صداقت شعار، راستی پر جان دینے والے بن سکتے ہو اور ایثار کرنا اسی میں سیکھ سکتے ہو۔ “ (زریں ہدایات ( برائے طلباء ) صفحہ۶۹-۷۰)
بچے سے کلام میں احتیاط
بچے سے ادب سے بات کرنی چاہیے۔ بچہ نقال ہوتا ہے اگر تم اسے تُو کہہ کر مخاطب ہوگے تو وہ بھی تُوکہے گا۔ بچے کے سامنے جھوٹ، تکبر اور ترش روئی وغیرہ نہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ وہ بھی یہ باتیں سیکھ لے گا۔مزید فرماتے ہیں: ”بچہ کے دل میں یہ بات ڈالنی چاہیے کہ وہ نیک اور اچھا ہے۔رسول کریمﷺ نے کیا نقطہ فرمایا ہے کہ بچہ کو گالیاں نہ دو کیونکہ گالیاں دینے پر فرشتے کہتے ہیں ایسا ہی ہو جائے اور وہ ہو جاتا ہے …جب بچہ کو کہا جاتا ہے کہ تو بد ہے تو وہ اپنے ذہن میں یہ نقشہ جما لیتا ہے کہ میں بد ہوں اور پھر وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ “ (منہاج الطالبین،انوارالعلوم جلد نہم صفحہ ۲۰۵ ) ”بچہ کو اس کی عمر کے مطابق بعض ذمہ داری کے کام دئیے جائیں تاکہ اس میں ذمہ داری کا احساس ہو۔ ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے تھے۔ اس نے دونوں کو بلا کر ان میں سے ایک کو سیب دیا اور کہا بانٹ کر کھا لو۔ جب وہ سیب لے کر چلنے لگا تو باپ نے کہا۔ جانتے ہو کس طرح بانٹنا ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ باپ نے کہا، جو بانٹے وہ تھوڑا لے اور دوسرے کو زیادہ دے۔ یہ سن کر لڑکے نے کہا، پھر دوسرے کو دیں کہ وہ بانٹے۔معلوم ہوتا ہے اس لڑکے میں پہلے ہی بری عادت پڑ چکی تھی۔ لیکن ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امر کو سمجھ گیا تھا کہ اگر ذمہ داری مجھ پر پڑی تو مجھے دوسرے کو اپنے پر مقدم کرنا پڑے گا۔ “(منہاج الطالبین،انوارالعلوم جلد نہم صفحہ ۲۰۵ ) اسی طرح بچے کو کچھ مال کا مالک بنانا چاہیے۔ اس سے بچے میں درج ذیل صفات پیدا ہوتی ہیں :
”۱۔ صدقہ دینے کی عادت۔
۲۔ کفایت شعاری
۳۔ رشتہ داروں کی امداد کرنا۔
مثلاً بچہ کے پاس تین پیسے ہوں تو اسے کہا جائے۔ ایک پیسے کی کوئی چیز لاؤ اور دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر کھاؤ۔ ایک پیسے کا کوئی کھلونا خرید لو اور ایک پیسہ صدقہ میں دے دو۔ “(منہاج الطالبین،انوارالعلوم جلد نہم صفحہ ۲۰۷ )
غرض حضورؓ نے معرفت اور حکمت سے پُر ایسے بے شمار نکات ہمارے سامنے واضح طور پر کھول کر بیان کر دیے ہیں، جن پر عمل کر کے ہم اپنی آئندہ نسلوں میں وہ تمام اخلاق اور صفات پیدا کر سکتے ہیں جو ان کی جسمانی، نفسیاتی اور روحانی ترقی کا سبب بنیں۔
خدا کرے کہ ہم تربیت اولاد سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والے بنیں اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے ان بچوں کو باخدا وجود بنانے والے ہوں جو آسمانِ احمدیت کے چمکتے ستارے بنیں۔ آمین ثم آمین۔
مزید پڑھیں: تربیت اولاد کے لیےمسلسل جہاد کی ضرورت ہے




