کلام حضرت مسیح موعود ؑ

بے ثباتیٔ دنیا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)

عیش دنیائے دُوں دمے چندست

آخرش کار با خداوندست


اس ذلیل دنیا کا عیش چند روزہ ہے بالآ خر خدا تعالیٰ سے ہی کام پڑتا ہے


ایں سرائے زوال و موت و فناست

ہر کہ بنشست اندریں برخاست


یہ دنیا زوال موت اور فنا کی سرائے ہے جو بھی یہاں رہاوہ آخر رخصت ہوا


یک دمے رو بسوئے گورستان

و از خموشان آں به پرس نشان


تھوڑی دیر کے لئے قبرستان میں جا اور وہاں کے مردوں سے حال پوچھ

که مآں حیات دنیا چیست

ہر کہ پیدا شدست تا کے زیست


کہ دنیاوی زندگی کا انجام کیا ہے اور جو پیدا ہوا وہ کب تک جیا ہے

ترک گن کین و کبر و ناز و دلال

تا نه کارت کشد بسُوئے ضلال


کینہ، تکبر، فخر اور ناز چھوڑ دے تا کہ تیرا خاتمہ گمراہی پر نہ ہو

چوں ازیں کارگه به بندی بار

باز نائی دریں بلاد و دیار


جب تو اس دنیا سے اپنا سامان باندھ لے گا تو پھر ان شہروں اور ملکوں میں واپس نہیں آئے گا

اے ز دیں بے خبر بخور غمِ دیں

کہ نجاتت معلّق ست بدیں


اے دین سے بے خبر ! دین کا غم کھا۔کیونکہ تیری نجات دین سے ہی وابستہ ہے

ہاں تغافل مگن ازیں غمِ خویش

که ترا کار مشکل ست به پیش


خبر دار اپنے اس غم سے غفلت نہ کیجیو کیونکہ تجھے مشکل کام در پیش ہے

دل ازیں درد و غم فگار بکُن

دل چہ جاں نیز ہم نثار بکن


اپنے دل کو اس دردو غم سے زخمی کر۔دل کیا بلکہ جان بھی قربان کر دے

ہست کارت ہمہ بآں یک ذات

چوں صبوری کنی ازو ہیہات


تیرا سارا واسطہ تو اسی ایک ذات سے ہے افسوس ہے کہ پھر اس کے بغیر کیونکر تجھے صبر آتا ہے

بخت گردد چو زو بگردی باز

دولت آید ز آمدن به نیاز


جب تو اس سے برگشتہ ہوتا ہے تو تیری قسمت خراب ہوتی ہے اور عجز کے ساتھ اس کے حضور آنے سے دولت ملتی ہے

مزید پڑھیں: شناختِ حق

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button