صبر بڑا جو ہر ہے
صبر بڑا جوہر ہے۔جو شخص صبر کرنے والا ہوتا ہے اور غصے سے بھر کر نہیں بولتا اس کی تقریر اپنی نہیں ہوتی بلکہ خدا اس سے تقریر کراتا ہے۔جماعت کو چاہیے کہ صبر سے کام لے اور مخالفین کی سختی پر سختی نہ کرے اور گالیوں کے عوض میں گالی نہ دے۔جو شخص ہمارا مکذّب ہے اس پر لازم نہیں کہ وہ ادب کے ساتھ بولے۔اس کے نمونے آنحضرت کی زندگی میں بھی بہت پائے جاتے ہیں۔صبر جیسی کوئی شے نہیں۔مگر صبر کرنا بڑا مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی تائید کرتا ہے جو صبر سے کام لے۔دہلی کی سر زمین سخت ہے تاہم سب یکساں نہیں کئی آدمی مخفی ہوں گے جب وقت آئے گا تو وہ خود سمجھ لیں گے۔عرب بہت سخت ملک تھا وہ بھی سیدھا ہوگیا دہلی تو ایسی سخت نہیں۔
میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی پر حملہ کریں یا اخلاق کے برخلاف کوئی کام کریں۔ خداتعالیٰ بُردباری کا حکم دیتا ہے اور اسی کے مطابق کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کے الہامات کی تفہیم بھی یہی ہے کہ بُردباری کریں۔ہمارے پاس کوئی ایسا شربت نہیں کہ فوراً کسی کے ہاتھ پر ڈال دیں۔ابھی تو بعض ماننے والے بھی ایسے ہیں کہ وہ پورا یقین نہیں کرتے بلکہ وساوس کی قے کرتے ہیں۔ تاہم کمزوروں پر رحم کرنا چاہیے اور ہرایک کو یہ خیال کرنا چاہیے کہ میں جب نیا تھا تو میرا حال بھی ایسا ہی کمزوری کا تھا۔ شیطان ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ رفتہ رفتہ سکینت کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔کیونکہ گذشتہ معاصی کا زہر نیش زنی کرتا رہتا ہے۔کوئی سہل امر نہیں کہ یک دفعہ یہ سارا زہر نکل جائے۔رفتہ رفتہ خدا کی رحمت دستگیر ہوتی ہے۔بیمار تندرست ہوتا ہے تو نقاہت باقی رہتی ہے اور نقاہت کے لوازم میں سے ہے کہ انسان کسی وقت گر جائے بلکہ بعض دفعہ مرض عود کر آتی ہے۔مومن ولی ہوتا ہے مگر اس نعمت کا حاصل ہونا مشکل ہے۔ اسی واسطے کہا گیا ہے کہ اٰمَنَّا نہ کہو بلکہ اَسْلَمْنَا کہو۔
(ملفوظات جلد ۸ صفحہ ۴۲ و ۴۳، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی



