ربوہ کا موسم(۲۶؍دسمبر۲۰۲۵ءتا یکم جنوری ۲۰۲۶ء)
۲۶؍دسمبر جمعۃ المبارک کو صبح کے وقت ہلکی دُھند چھائی ہوئی تھی۔ دوپہر سے قبل آسمان پر ہلکے بادل موجود تھے جس کی وجہ سے دھوپ کم تھی، جب بادل چھٹے تو دھوپ بحال ہوگئی۔ ہفتہ کو صبح ہی سے آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا، دھوپ نہ نکل سکی، عصر کے بعد بادل غائب ہوئے تو دھوپ کو زمین پر آنے کا راستہ مل گیا۔ لیکن سورج ڈھلنے پر یہ بھی چلی گئی۔ اتوار کو صبح ہی سے شدید دُھند پھیلی ہوئی تھی جو دن بارہ بجے تک کچھ ہلکی ہوگئی اور پھر ختم ہوگئی اور سورج نمودار ہوکے دھوپ لے آیا۔ تاہم عصر کے وقت کچھ دیر کے لیے بادل پھر آسمان پر چھا گئے اور آفتاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سوموار کو فجر کے وقت گہری دُھند چھائی ہوئی تھی، نزدیک کی چیز بھی نظر آنا محال تھا، صبح دس بجے یہ کچھ کم ہوئی اور پھر ختم ہوگئی چند گھنٹوں کے لیے سورج نکلا اور لوگوں نے دھوپ خوب سینکی۔ بعد دوپہر بادلوں کی ہلکی تہ سورج کے سامنے آگئی۔ جو شام کے وقت ختم ہوگئی۔
منگل کو ہلکے بادلوں سے مطلع ڈھکا ہوا تھا۔ دن بھر دھوپ بھی ہلکی رہی، ساتھ ٹھنڈی ہوا بھی رواں دواں رہی۔ بدھ کو سارا دن آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، ساتھ ہوا نے کافی ٹھنڈ بنادی، ساتھ ٹھنڈی ہوانے سردی میں اضافہ کردیا۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو دس بجے سے ساری رات بارش ہوتی رہی اور شہر بھر میں کافی چھڑکاؤ ہوگیا۔ جس سے مٹی بیٹھ گئی جس کی وجہ سے وبائی امراض میں کمی واقع ہوگئی۔ نزلہ، زکام، کھانسی اور گلا خراب کی شکایتیں کم ہوگئیں۔ پنجاب بھر میں گذشتہ دو ماہ سےبے پناہ فلو، زکام، بخار اور کھانسی، وہ بھی خشک پھیلی ہوئی تھی۔
پنجاب اور سندھ میں حکومت کی طرف سےاحتیاطی تدابیر کے لیے اشتہاری مہم بھی جاری رہی لیکن خاطر خواہ طبی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے قابل ذکر فرق نہ پڑسکا۔ اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بارانِ رحمت برسنے اور مٹی بیٹھنے کی وجہ سے ان امراض میں کمی ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ نئے سال کی پہلی صبح بارش میں نہا کر نمودار ہوئی۔ اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سے زیادہ ۱۸؍ اور کم سے کم ۷؍ درجہ سینٹی گریڈ رہا۔(ابو سدید)




