سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے والے طالبانِ حق کے لیے دس شرائطِ بیعت

امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اختتامی خطاب جلسہ سالانہ قادیان فرمودہ ۲۸؍ دسمبر ۲۰۲۵ء میں شرائط بیعت کے حوالے سے فرمایا: ’ایسی جگہ پر رکھیں جہاں نظر پڑتی رہے۔ لوگ بہت ساری چیزیں فریم لگا کر رکھتے ہیں اگر یہ بھی لگا کے رکھ لیں تو اس سے فائدہ ہی ہوگا۔‘
اوّل: بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔
دوم: یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہوگا۔ اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔
سوم: یہ کہ بلاناغہ پنج وقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا۔ اور حتّی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریمﷺ پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔
چہارم: یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔
پنجم: یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عُسر اور یُسر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہو گا اور ہر ایک ذِلّت اور دکھ کے قبول کرنے کے لیے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔
ششم: یہ کہ اتباعِ رسم اور متابعتِ ہواوہوس سے باز آجائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلّی اپنے سر پر قبول کرلے گا اور قَالَ اللّٰہ اور قَالَ الرَّسُوْل کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔
ہفتم: یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلّی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اورحلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔
ہشتم: یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردئ اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔
نہم: یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض لِلّٰہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔
دہم: یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض لِلّٰہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیردنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔
(اشتہار تکمیل تبلیغ ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل)
مزید پڑھیں: کیاسالِ نوصرف ہندسوں میں تبدیلی لانےکانام ہے؟




