خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍ دسمبر2025ء
جماعت احمدیہ جو بات کرتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے حکمت اور دلائل کے ساتھ کرتی ہے اور اس تعلیم کے مطابق کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم میں دی اور جس پر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا۔ پس اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ ہم نے جو تبلیغ کرنی ہے وہ احسن رنگ میں کرنی ہے
قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی اور بہت سی دوسری آیات میں بھی جہاں تبلیغ کرنے کی تلقین فرمائی ہے وہاں احسن رنگ میں تبلیغ کرنے کی ہدایت دی ہے اور نصیحت کرنے کی تلقین فرمائی ہے تاکہ دوسروں پر اثر بھی ہو اور اس کا فائدہ بھی ہواور وہ لوگ جو اس پر عمل کرتے ہیں ان کی تبلیغ ہمیشہ پھل لاتی ہے ،رنگ لاتی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بہت حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں
ایک مبلغ اور داعی الی اللہ کو یہ بات ہمیشہ اپنے سامنے رکھنی چاہیے کہ جب ہم نے تبلیغ کرنی ہے تو اس کے بہت سارے لوازمات بھی ہیں جو ہم نے پورے کرنے ہیں ۔ اگر یہ ہو گا تو تبھی ہم صحیح رنگ میں تبلیغ کر سکیں گے
جو لوگ تبلیغ کرتے ہوئے بعض دفعہ غصہ میں آ کر مخالف کی زبان استعمال کرنے لگ جاتے ہیں انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری تبلیغ اخلاق کے دائرے میں ہی ہو۔ ان کے پاس دلیل نہیں ہے اس لیے وہ غلط زبان استعمال کرتے ہیں لیکن اگر ہم بھی غلط زبان استعمال کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں
بعض دفعہ لوگوں سے تبلیغ میں مبالغہ ہو جاتا ہے حالانکہ تبلیغ میں کسی مبالغے کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم کو سامنے رکھیں ۔احادیث کو سامنے رکھیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے کلام کو سامنے رکھیں اور تبلیغ کریں اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑدیں
یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے فلاں مولوی یا فلاں عالِم سے تبلیغ کر کے اس کو قائل کرنا ہے یا فلاں بحث کرنے والے اور اعتراض کرنے والے کو تبلیغ کرنی ہے۔ ہمارا مقصدیہ ہے کہ دنیا میں حقیقی اسلام کا پیغام پہنچے اور دنیا کو اس بات کا قائل کرنا ہمارا مقصد ہے کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے آنا تھا وہ آ گئے ۔اس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ صرف بحثوں اور debates اور لمبے سوال و جواب میں پڑنے کی بجائے تبلیغ کے ذریعہ یہ دیکھیں کہ ہم کس طرح زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پیغام حق پہنچا سکتے ہیں اور ان کی اصلاح کر سکتے ہیں
مربیان سے مَیں یہ کہتا ہوں کہ ان کے ذمہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ انہیں صرف جماعت کی تربیت ہی نہیں کرنی بلکہ اس تربیت کے ساتھ ساتھ افرادکو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں جوڑنا ہے۔ جہاں وہ یہ کریں گے وہاں ان کا علم بھی بڑھائیں اور انہیں اس جہاد کے لیے تیار بھی کریں ۔ جب وہ یہ کریں گے تبھی اپنا عہد پورا کرنے والے ہوں گے
قرآن کریم، احادیث نبویﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات کی روشنی میں تبلیغ کے حوالے سے زرّیں نصائح
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍ دسمبر2025ء بمطابق 12؍فتح 1404 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
اس کا ترجمہ ہے کہ اپنے ربّ کے راستہ کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔ یقینا ًتیرا ربّ ہی اسے جو اس کے راستے سے بھٹک چکا ہو، سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کابھی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔
قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی اور بہت سی دوسری آیات میں بھی جہاں تبلیغ کرنے کی تلقین فرمائی ہے وہاں احسن رنگ میں تبلیغ کرنے کی ہدایت دی ہے اور نصیحت کرنے کی تلقین فرمائی ہے تا کہ دوسروں پر اثر بھی ہو اور اس کا فائدہ بھی ہواور وہ لوگ جو اس پر عمل کرتے ہیں ان کی تبلیغ ہمیشہ پھل لاتی ہے، رنگ لاتی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بہت حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
پس اس اصول کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ آجکل سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ تبلیغ بہت آسان ہے۔ جو شوق رکھتے ہیں وہ یہ کام بڑے شوق سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا بعض ایسے بھی ہیں جو پبلک جگہوں پر جا کر جہاں ان ملکوں میں اجازت ہے، پاکستان وغیرہ میں تو ویسے بھی تبلیغ کی اجازت نہیں ، تو یہ تبلیغ کرنے کا جو شوق رکھتے ہیں وہ وہاں جا کے پورا کرتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے لیکن
تبلیغ کے لیے بھی کچھ شرائط اور آداب ہیں جنہیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے ورنہ الٹا اثر ہو جاتا ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی فرمایا ہے۔ پس اس بات کو سمجھیں اور پھر تبلیغ کریں کیونکہ بعض لوگ اپنی تبلیغ سے دوسروں پر منفی اثر ڈالتے ہیں اور بجائے مثبت اثر ہونے کے الٹا اثر ہو رہا ہوتا ہے اور بعض دفعہ غیروں کو جماعت پر بھی اور جماعت کی تعلیم پر بھی اعتراض کرنے کا موقع مل جاتا ہے جو حقائق سے دور ہے۔
پھر بعض لوگ جو نئے نئے اس میدان میں آئے ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس بڑی دلیلیں ہیں تو جب دلیلیں نہیں ہوتیں اور مخالفین کو قائل نہیں کر سکتے اور جوٹھوس دلیل نہیں دے سکتے تو مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں حالانکہ مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کے فضل سے دلائل ہیں ۔ ہاں! یہ اَور بات ہے کہ کسی کے پاس اس کی سمجھ نہ ہو اور بیان نہ کر سکتا ہو۔
جماعت احمدیہ جو بات کرتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے حکمت اور دلائل کے ساتھ کرتی ہے اور اس تعلیم کے مطابق کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم میں دی اور جس پر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا۔ پس اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ ہم نے جو تبلیغ کرنی ہے وہ احسن رنگ میں کرنی ہے۔
ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس بارے میں یعنی تبلیغ کے بارے میں ایک بڑی اہم ہدایت فرمائی۔ آپؑ نے فرمایا کہ
’’مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ امریکہ اور یورپ میں تعلیم اسلام پھیلانے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ کیا یہ مناسب ہے کہ بعض انگریزی خوان مسلمانوں میں سے یورپ اور امریکہ میں جائیں اور وعظ اور منادی کے ذریعہ سے مقاصد اسلام ان لوگوں پر ظاہر کریں ‘‘ زبان آتی ہے تبلیغ کریں ۔ آپؑ فرماتے ہیں ’’لیکن میں عموماً اس کا جواب ہاں کے ساتھ کبھی نہیں دوں گا۔ ‘‘یہ بڑی اہم بات ہے۔ کیونکہ جیساکہ آپؑ نے فرمایا کہ صرف انگریزی خوانی ہی یا کسی زبان کے آنے سے ہی دین کا علم نہیں آ جاتا بلکہ اس کے اَور بھی بہت سارےلوازمات ہیں ۔ اس میں علم بڑھانے کی ضرورت ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے۔ یہاں بھی مختلف جگہوں پر لوگ تبلیغ کرتے ہیں لیکن مخالفین کے سوالوں کے مکمل جواب اور مکمل علم کے ساتھ جواب نہیں دے سکتے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں ۔
پس
پہلے ہر داعی الی اللہ اور تبلیغ کا شوق رکھنے والے کو اپنا علم بڑھانا چاہیے۔ اعتراضوں کو جمع کریں
عموماً جماعتی لٹریچر میں اس کے جواب موجود ہیں اور اگر نہ ہوں تو پھر جو ملک میں تبلیغ کی ٹیم بنی ہوئی ہے ان سے رابطہ کریں، ان سے فائدہ اٹھائیں اور اس ٹیم میں بھی علم رکھنے والے جو لوگ ہیں ان سے مدد لیں ۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ میں تو کبھی ہاں میں جواب نہیں دوں گا۔ پھر آگے آپؑ فرماتے ہیں کہ
’’میں ہرگز مناسب نہیں جانتا کہ ایسے لوگ جو اسلامی تعلیم سے پورےطور پر واقف نہیں اور اس کی اعلیٰ درجوں کی خوبیوں سے بکلّی بے خبر اور نیز زمانہ حال کی نکتہ چینیوں کے جوابات پر کامل طور پر حاوی نہیں ہیں اور نہ روح القدس سے تعلیم پانے والے ہیں ۔‘‘ یہ بھی بڑی ضروری چیز ہے کہ مبلغ کا، تبلیغ کرنے والے کا روح القدس سے تعلیم پانا اور اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی ہونا چاہیے۔ فرماتے ہیں :’’وہ ہماری طرف سے وکیل ہو کر جائیں ۔‘‘یہ تو نہیں ہو سکتا۔ فرمایا کہ میرے مبلغوں کو اللہ تعالیٰ سے بھی ایک خاص تعلق ہونا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ پھر ان کی تائید فرمائے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ’’میرے خیال میں ایسی کارروائی کا ضرر اس کے نفع سے اقرب اور اسرع الوقوع ہے۔ الّا ماشاء اللہ۔ ‘‘
(ازالۂ اوہام، روحانی خزائن جلد3صفحہ 516-517)
مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ایسی بات کریں گے تو اس کا نفع کم اور ضرر زیادہ ہے۔ الّا ماشاء اللہ۔ بعض موقعوں پر بعض دفعہ فائدہ بھی ہو جاتا ہے، ایک دو مثالیں مل جاتی ہیں۔ لیکن عمومی طور پر یہی ہے کہ منفی اثر ہوتا ہے۔ پس
ایک مبلغ اور داعی الی اللہ کو یہ بات ہمیشہ اپنے سامنے رکھنی چاہیے کہ جب ہم نے تبلیغ کرنی ہے تو اس کے بہت سارے لوازمات بھی ہیں جو ہم نے پورے کرنے ہیں ۔ اگر یہ ہو گا تو تبھی ہم صحیح رنگ میں تبلیغ کر سکیں گے۔
تبلیغ کے بارے میں پہلی بات ہمیں یہ یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ واحد نبی ہیں جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام لے کر آئے جو تمام دنیا کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تمام لوگوں اور تمام دنیا کے لیے، تمام قوموں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اور نبی بنا کر بھیجا ہے لیکن آج تک کی تاریخ دیکھ لیں کہ مسلمانوں کی کُل آبادی آج بھی دنیا کی آبادی کے چوتھے حصے سے بھی کم ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ حکمت سے تبلیغ نہیں کی گئی اور وہ پیغام صحیح طور پر پہنچایا نہیں گیا۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ جہاد سے ہم اسلام کا پیغام پہنچا دیں گے حالانکہ جہاد کی اجازت تو صرف اس صورت میں ہے جب دشمن حملہ کرے۔ جب مسلمانوں کو جہاد کرنے اور تلوار اٹھانے کی اجازت ملی تو وہ بھی اس وقت ملی تھی جب کافروں یا غیرمسلموں نے اسلام پر حملہ کر کے اسے مٹانا چاہا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی سورہ حج میں فرمایا تھا کہ اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔ (الحج:40) یعنی وہ لوگ جن سے بلا وجہ جنگ کی جا رہی ہے ان کو بھی جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔ یہ بڑی بات ہے۔ اور پھر تاریخ نے دیکھا تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی اور اس پر قادر ہوا۔ پس اللہ تعالیٰ نے جب جنگ کی اجازت دی تو اس وجہ سے دی کہ ظلم ہو رہا تھا لیکن آجکل کا جو زمانہ ہے وہ اس قسم کے جہاد کا نہیں ہے۔ دین کی خاطر کوئی جنگ نہیں ہو رہی چاہے بہانوں سے مسلمانوں پر ظلم بھی ہورہا ہے لیکن دین کا نام نہیں لیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قرآن کریم کے جہاد کو ہی جہاد اکبر قرار دیا ہے۔ (الفرقان:53)
پس یہ مسلمانوں کی عمومی حالت ہے جس کی وجہ سے آج بھی ہم جو مسلمان ہیں وہ دنیا کی آبادی کے چوتھے حصے سے بھی کم ہیں ۔
ہمیں اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے اور آپؑ سے عہد بیعت باندھا ہے۔ ہم نے اس بات پر عمل کرنا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بھی پیدا کریں۔ اس کی تعلیم سیکھیں اور اس پر عمل کرتے ہوئے دنیا کو بھی یہ پیغام پہنچائیں۔
بعض لوگ نیک نیتی سے کام کرتے ہیں جیسا کہ میں نے شروع میں کہا ہے لیکن انہیں پوری طرح علم نہیں ہوتا یا تعلق باللہ کا وہ معیارقائم نہیں ہوتا جو ایک داعی الی اللہ کا ہونا چاہیے جس کے نتیجہ میں پھر انہیں مایوسی ہوتی ہے۔
اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تبلیغ کے لیے حکم دیے ہیں اور بعض ہدایات فرمایا کرتے تھے۔
بہت ساری روایتیں ملتی ہیں ۔
ایک روایت حضرت ابن عباسؓ سے ہے کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق بات کریں ۔
(کنز العمال جلد5جزء10صفحہ105حدیث29268مکتبہ دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
پہلی بات یہی ہے کہ
جس کی جتنی عقل ہے ،جتنا اس کا علم ہے یا جس مزاج اور مذہب کا وہ آدمی ہے اس کے مطابق اس سے بات کی جائے۔
مثلاً مسلمانوں کو اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا بتانا ہے تو ان کو قرآن اور حدیث اور ان کے بزرگوں کی کتب سے بتانا چاہیے۔
تبلیغ کرنے والوں کو آپؐ نے یہ بھی فرمایا۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے۔ اس میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ
مظلوم کی بددعا سے بچنا۔ تبلیغ کرنے والوں کے لیے یہ بھی بڑا ضروری ہے۔ ہمیشہ اس کے اپنے اخلاق اچھے اور اعلیٰ ہوں اور حقوق العباد کا وہ معیار ہو کہ وہ کبھی کسی مظلوم کی بددعا لینے والا نہ ہو بلکہ ہمیشہ مظلوم کی دعائیں لینے والا ہو۔ جب وہ دعائیں لینے والا ہو گا تو کاموں میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا۔
فرمایا :اس لیے بچنا چاہیے کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں ہے۔
پس ہمیشہ اس بات کو سامنے رکھنا چاہیے۔
یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میںمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’خدا نے ہم پر فرض کر دیا ہے کہ جھوٹے الزامات کو حکمت اور موعظت حسنہ کے ساتھ دور کریں۔اور خدا جانتا ہے کہ کبھی ہم نے جواب کے وقت نرمی اور آہستگی کو ہاتھ سے نہیں دیا۔‘‘ یعنی ہمیشہ نرمی استعمال کی ہے۔ خود اپنا حال بیان فرما رہے ہیں کہ میں تو ہمیشہ نرمی اور آہستگی سے جواب دیتا ہوں۔ یہی میرا اصول ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہے ’’اور ہمیشہ نرم اور ملائم الفاظ سے کام لیا ہے‘‘
پس تبلیغ کا یہ طریقہ ہے جو ہمیں اختیار کرنا چاہیے۔ پس
جو لوگ تبلیغ کرتے ہوئے بعض دفعہ غصہ میں آ کر مخالف کی زبان استعمال کرنے لگ جاتے ہیں انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری تبلیغ اخلاق کے دائرے میں ہی ہو۔ ان کے پاس دلیل نہیں ہے اس لیے وہ غلط زبان استعمال کرتے ہیں لیکن اگر ہم بھی غلط زبان استعمال کریں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں ۔
بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی سختی کی ہے۔ پہلی بات تو وہی ہے جو میں نے بیان کی کہ آپؑ نے سختی نہیں کی اور جہاں آپؑ نے سختی کی وہاں آپؑ نے لوگوں کو یہ جواب دیا کہ
’’بجز اس صورت کے کہ بعض اوقات مخالفوں کی طرف سے نہایت سخت اور فتنہ انگیز تحریریں پاکر کسی قدر سختی مصلحت آمیز اس غرض سے ہم نے اختیار کی کہ تا قوم اس طرح سے اپنا معاوضہ پاکر وحشیانہ جوش کو دبائے رکھے۔‘‘نیت یہاں بھی نیک تھی۔’’ اور یہ سختی نہ کسی نفسانی جوش سے اور نہ کسی اشتعال سے بلکہ محض آیت…وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ پر عمل کر کے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال میں لائی گئی ‘‘ہے۔ یہ سختی جو میں نے کی ہے کوئی دل کی رنجشیں نہیں تھیں ۔ یہ تو ایک سبق دینے کے لیے تھا اور دوسرا یہ کہ مسلمانوں میں سے جو لوگ جوش میں آ جاتے ہیں ان کے جوش کو دبانے کے لیے تاکہ اگر میں جواب دے دوں تو مسلمان لوگ بھی غلط قسم کا قدم نہیں اٹھائیں گے اور مار دھاڑ پر نہ آجائیں۔ فرمایا کہ’’اور وہ بھی اس وقت کہ مخالفوں کی‘‘توہین، تحقیر اور بدزبانی کی انتہا پر ہم نے کی ہے۔ جو کہیں میرا کوئی سخت لفظ لکھا ہوا نظر آتا ہے تو کیونکہ اس وقت جو مخالفت ہو رہی تھی جب وہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’توہین اورتحقیر اور بدزبانی انتہا تک پہنچ گئی‘‘ اور جب وہ انہوں نے اس وقت انتہا تک پہنچا دی تو ان کی بدزبانی کی وجہ سے سختی کی ہے۔ فرمایا کہ ’’اورہمارے سیّد و مولیٰ سرور کائنات، فخرِ موجودات کی نسبت ایسے گندے اور پُرشر الفاظ ان لوگوں نے استعمال کئے کہ قریب تھا کہ ان سے نقضِ امن پیدا ہو۔ تو اس وقت ہم نے اس حکمت عملی کو برتا۔ ‘‘
(البلاغ،روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 385)
پس
آپؑ نے اپنی مختلف کتب میں سخت الفاظ سے جماعت کو روکا ہے اور یہی فرمایا ہے کہ بعض جگہ میں نے یہ الفاظ بعض مجبوریوں کی وجہ سے استعمال کیے ہیں لیکن تم لوگوں نے نرمی کرنی ہے ،تم لوگوں نے سخت الفاظ استعمال نہیں کرنے۔ اور آپؑ نے اس سختی میں ان کی تاریخ کے حوالے سے باتیں کی ہیں۔ ان کی طرح گالیاں اور غلیظ زبان استعمال نہیں کی۔
پھر اسی طرح اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ہمارے لیے قرآن کریم میں یہ حکم ہے کہ وَ لَا تُجَادِلُوۡۤا اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ‘‘یہ سورہ عنکبوت کی آیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر اس دلیل سے جو بہترین ہو’’ اور دوسری جگہ‘‘ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ’’یہ حکم ہے کہ اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ اس کے معنے یہی ہیں کہ نیک طور پر اور ایسے طور پر جو مفید ہو عیسائیوں سے مجادلہ کرنا چاہیےاور حکیمانہ طریق اور ایسے ناصحانہ طور کاپابند ہونا چاہیے کہ ان کو فائدہ بخشے‘‘ اور یہی اصول ہر مذہب کے ماننے والے، تبلیغ کرنے والے کے لیے ہے چاہے وہ یہودی ہو ،عیسائی ہو ،ہندو ہو یا آجکل مسلمانوں میں سے جو مسیح موعود علیہ السلام کو مسلمان نہیں مانتے ان کو تبلیغ کے لیے بھی یہی نصیحت ہے کہ حکیمانہ طریق اور ناصحانہ طور پر کاربند ہونا چاہیے۔ فرمایا:’’لیکن یہ طریق کہ ہم گورنمنٹ کی مدد سے یا نعوذ باللہ خود اشتعال ظاہر کریں ۔‘‘ یہ غلط طریق ہے جو’’ ہرگز ہمارے اصل مقصود کو مفید نہیں ہے۔ یہ دنیاوی جنگ و جدل کے نمونے ہیں اور سچے مسلمان اور اسلامی طریقوں کے عارف ہرگز ان کو پسند نہیں کرتے کیونکہ ان سے وہ نتائج جو ہدایت بنی نوع کے لیے مفید ہیں پیدا نہیں ہو سکتے۔ ‘‘
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 317-318)
حضرت مصلح موعودؓ نے بھی تفسیر کبیر میں اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ کی وضاحت کی ہے۔
آپ نے حکمت کے معنی لغت کے لحاظ سے بتائے ہیں۔ مختلف لغات میں لغت کے حساب سے اس کے معنی کیا ہیں؟ فرماتے ہیں کہ
حکمت کے معنی حلم کے بھی ہوتے ہیں اور یہ کہ نرمی کے ساتھ اور عقل سے کام لیتے ہوئے بات کیا کرو۔
اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ کیونکہ جوشخص ایسا نہیں کرتا وہ جلد تیز ہوکر غصے اورجو ش میں آجاتاہے وہ دوسرے کو ہرگز سمجھا نہیں سکتا۔
اسی طرح حکمت کے ایک معنی نبوت کے بھی ہوتے ہیں
اور ان معنوں کی روسے مطلب یہ ہوگا کہ الٰہی کلام کی مدد سے لوگوں کو دین کی طرف بلاؤ۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کلام دیا ہے اور جودلائل خود قرآن کریم نے دیے ہیں انہی کو پیش کرو۔ اپنے پاس سے ڈھکونسلے نہ پیش کیا کرو۔ آپؓ نے بڑی حسرت سے فرمایا تھا کہ اگر اس گُر کو مسلمان سمجھتے تویہودیت اورعیسائیت کو کھا جاتے۔ ہمارا ہتھیار قرآن کریم ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتاہے۔ وَجَاھِدْھُمْ بِہ۔ اس قرآن کی تلوار لے کر دنیاسے جہاد کے لیے نکل کھڑے ہو۔ لیکن افسوس کہ آج دنیا کی ہرچیز مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے جو دولت مند ملک ہیں لیکن اگر نہیں تویہی تلوار جسے لے کر نکل کھڑے ہونے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ یعنی تبلیغ کے لیے قرآن کریم کے دلائل سے نکلو۔ تیل کی دولت ہے، بہت ساری تجارتیں ہیں ۔بہت سارے ممالک ہیں مسلمانوں کے۔ چوّن ملک مسلمانوں کے ہیں لیکن اسلام کی تعلیم کے ساتھ جو جہاد جس طرح کرنا چاہیے تھا انہوں نے اس طرح نہیں کیا۔
پھر آپؓ نے یہ بھی فرمایا لغت کی رو سے کہ
حکمت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو جہالت سے روکے۔
اب اس کی روسے آیت کایہ مطلب بنے گا کہ تم ایسے طریق سے کلام کیاکرو جس کو دوسراسمجھ سکے اوراس سے اس کی غلط فہمی دُورہوسکے۔ یعنی وہ بات ہونی چاہیے جوجہالت کاقلع قمع کرے اور مخاطب کے فہم کے مطابق ہو۔ چنانچہ حدیث میں بھی آتاہے۔ امرنا رسول اللّٰہِ صلی اللّٰہ عَلیہِ واٰلِہ وسلم ان نکلِم الناس علی قدرِ عقولھِم۔کہ ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگوں سے ان کے فہم اورادراک کے مطابق کلام کیا کرو۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی یہ حدیث بتائی ہے۔ بعض لوگ لیکچردیتے ہیں توموٹے موٹے لفظ اور اصطلاحات استعمال کرکے رعب ڈالنا چاہتے ہیں ۔ ان تقریروں سے جاہلوں پر رعب توضرور پڑ جاتا ہو گا شاید مگر فائدہ تقریروں سے کوئی نہیں اٹھاتا۔اب یہاں بھی یہی ہوتا ہے۔ غیروں سے یا بعض دفعہ علماء سے ہم باتیں کرتے ہیں تو وہ بھی اس قسم کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں لیکن اگر اس طرح ہم نے باتیں کیں تو ان کو تو پتہ نہیں فائدہ ہونا ہےیا کہ نہیں لیکن عوام الناس کو اصل چیز سمجھ نہیں آتی۔ وہ بس لفاظی کے چکر میں ہوتے ہیں ۔ جب آسان زبان میں سمجھائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ سننے والوں میں سے بہت سے ایسے لوگ ہوں جن کو آسان زبان میں بات سمجھ آ جائے اور وہ ان لفاظی کرنے والوں کی بجائے آپ کی بات سن کر اس پر زیادہ توجہ دینا چاہیں ۔
پھر آپؓ نے فرمایا کہ
موافق الحق کلام کوبھی حکمت کہتے ہیں ۔
یہ بھی لغت میں لکھا ہے۔ ان معنوں کے روسے اس آیت کامطلب یہ ہوگاکہ ایسی بات کیا کرو جو سچی اور واقعات کے مطابق ہو۔ بعض لوگ یہ سمجھ کر کہ ہم سچے دین کی طرف ہی بلارہے ہیں بعض غلط باتوں کو بھی بیان کردیتے ہیں ۔
بعض دفعہ لوگوں سے تبلیغ میں مبالغہ ہو جاتا ہے حالانکہ تبلیغ میں کسی مبالغے کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم کو سامنے رکھیں ۔ احادیث کو سامنے رکھیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے کلام کو سامنے رکھیں اور تبلیغ کریں اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑدیں۔
فرمایاکہ یہ طریق غلط ہے کہ غلط باتوں کو بیان کیا جائے۔ دشمن کے مقابلہ میں جوبات کہوسچی کہو۔ دوسروں کو ہدایت دیتے دیتے خود ہی گمراہ نہ ہوجاؤ۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَيْتُمْ۔ (المائدہ:106)اگرتم ہدایت پر قائم رہتے ہو تو اس کی پرواہ نہ کرو کہ دوسراگمراہ ہوتا ہے کہ نہیں ۔ دوسرے کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اپنے آپ کو بچاؤ۔ یعنی کوئی ایسی بات جو گناہ ہو، غلط ہو اس خیال سے نہ کروکہ اس کے ذریعہ سے میں دوسرے کو ہدایت دوں گا ۔جب تمہاری ہدایت اوردوسرے کی ہدایت ٹکرا جائے توا س وقت تم اپنی ہدایت کی فکر کرو اور دوسرے کی ہدایت کو خدا پر چھوڑ دو کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ مومن کافر ہو جائے اور کافر مومن ہو جائے۔ وہ تودوسروں کو ہدایت دینا چاہتا ہے۔
پھر آپؓ نے اسی حکمت کے لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لغات میں سے یہ بھی کہا کہ
محل و موقع کے مناسب کلام کو بھی حکمت کہتے ہیں ۔
ان معنوں کے روسے آیت کا مطلب یہ ہو گاکہ تبلیغ میں برمحل بات کرنی چاہیے۔ اگربعض دلائل سے دشمن کے برانگیختہ ہونے یا غصہ میں آنے کااندیشہ ہو اور یہ خطرہ ہو کہ وہ اس طرح سے تمہار ی بات نہیں سنے گا تو یہ مناسب نہیں کہ بلاوجہ اس کو چڑاؤ۔ تم اس کے سامنے دوسرے دلائل بیان کروجن کو وہ ٹھنڈے دل سے سن سکے۔ گویابات کرتے وقت پہلے مزاج شناسی کر لو۔ اگرتم ان کو خوامخواہ بھڑکاؤ گے توایسی تبلیغ کا کوئی فائد ہ نہیں ہو گا۔محض اپنی بڑائی بیان کرنے اور یہ بتانے کے لیے کہ ہم سچے ہیں، مسیح موعودؑ سچے ہیں، اسلام سچا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یقیناًتمام دنیا کے لیے نبی ہیں۔ یہ باتیں اگر بغیر دلیل کے کرو گے توان سے اشتعال ہی پیدا ہوگا۔ حکمت سے بات کرو تا کہ لوگوں کو ان باتوں کی سمجھ بھی آئے۔
پس
یہ ہے خوبی کہ اللہ تعالیٰ نے مختصر الفاظ میں تبلیغ کے سارے گُر بیان کر دیے ہیں اور یہی وہ طریقہ ہے کہ اگر ہم تبلیغ کرنے والے اس پر عمل کریں تو ان شاء اللہ کامیابیاں بھی ملیں گی۔
اَلۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ ۔یعنی وہ کلام جو دلوں کو نرم کر دیتا ہے اور ان پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اس نصیحت کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ توجہ دلائی ہے کہ خشک دلیلوں سے کام نہیں چلایا کرو۔
اب آج یہ جماعت احمدیہ کا کام ہے کہ وہ اسلام کا یہ پیغام دنیا کو بتائیں۔ ہر ایک جس سے بھی مخالف یا مقابل کے طور پر بات چیت ہو اس کو یہ بتایا جائے کہ دین میں محض خشک دلیلیں نہیں ہیں بلکہ نصیحت کے مختلف پہلو ہیں جن پر عمل کرنا چاہیے۔
پھر فرمایا کہ جذبات ابھارنے والی باتیں بھی کیا کرو اور حکمت کے ساتھمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِکو بھی شامل رکھا کرو ۔اور حَسَنَۃکا لفظ رکھ کر بتا دیا کہ جھوٹی غیرتیں نہ دلاؤ جیسا کہ آجکل کے جاہل علماء لوگوں کو بلا وجہ راستبازی کے خلاف بھڑکاتے ہیں ۔
وَجَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ۔ کہہ کر یہ بتایا کہ ان سے جھگڑا کرتے وقت یعنی
بحث کرتے وقت یہ بھی مدّنظر رکھا کرو کہ مختلف دلائل میں سے جو سب سے اعلیٰ اور مضبوط دلیل ہو اس کو بطور بنیاد اور مرکز کے قائم کیاکرو اور باقی دلائل کو اس کے تابع رکھو کیونکہ تائیدی دلیل کے ٹوٹ جانے سے اصل دلیل کو کوئی ضعف نہیں پہنچتا ۔اس کے برخلاف اگر مرکزی نقطہ کمزور ہو تو مضبوط تائیدی دلائل بھی کوئی زیادہ فائدہ نہیں دیتے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
اِنَّ رَبَّكَ ہُوَاَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِہٖ وَہُوَاَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِيْنَ۔ یقیناً تیرا ربّ ہی اسے جواس کے راستے سے بھٹک چکا ہے سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کا بھی علم رکھتا ہے۔ پس اس میں بتلایا کہ تم اچھی طرح سے تبلیغ کرتے رہو لیکن اگرلوگ نہ مانیں تواس سے یہ نتیجہ نکا ل کر مایوس نہ ہو جانا کہ ہمیں تبلیغ کرنی ہی نہیں آتی کیونکہ ممکن ہے کہ تمہاری تبلیغ میں کوئی نقص نہ ہو مگر مخاطب کے دل پر اس کے گناہوں کا ایسا زنگ ہو کہ خدا تعالیٰ اس کے لیے ہدایت کی کھڑکی نہ کھولے۔غرض
تبلیغ میں منہمک رہنا چاہیے۔ یہی اصل چیز ہے۔ ہمارا کام تبلیغ کرتے رہنا ہے۔ نتیجہ نکالنا اوراثر پیداکرنا خدتعالیٰ کاکام ہے۔
(ماخوذ ازتفسیر کبیر جلد 4 صفحہ 271-274، ایڈیشن ربوہ)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ’’ بہت سے مولوی اور علماء کہلا کر منبروں پر چڑھ کر اپنے تئیں نائب الرسول اور وارث الانبیاء قرار دے کر وعظ کرتے پھرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ تکبر، غرور اور بدکاریوں سے بچو مگر جو ان کے اپنے اعمال ہیں اور کرتوتیں ‘‘ہیں ۔ جو ’’وہ خود کرتے ہیں ان کا اندازہ اس بات سے کر لو کہ ان باتوں کا اثر تمہارے دل پر کہاں تک ہوتا ہے۔‘‘ جو نیک فطرت ہیں ان پر کہاں اثر ہوتا ہے ان کا۔ پس اگر تمہارے دلوں پر ان مولویوں کی تبلیغ کا اثر نہیں ہوتا تو پھر اپنا حال دیکھ لو۔ اگر تم بھی ایسی باتیں کرو گے تو تمہاری باتوں کا کہاں اثر ہو گا۔ اس سے اندازہ کر لو کہ اگر تم تبلیغ کر رہے ہو تو تمہیں پہلے اپنے عمل کو درست کرنا چاہیے اور خدا سے تعلق پیدا کرنا چاہیے۔ اگر یہ ہو گا تو تب ہی تمہاری تبلیغ صحیح ہوگی۔ کامیاب اور کارآمد ہو گی۔ آپؑ نے فرمایا کہ’’… اگر اس قسم کے لوگ عملی طاقت بھی رکھتے اور کہنے سے پہلے خود کرتے تو اللہ کو قرآن شریف میں ‘‘لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ کی کیا ضرورت تھی۔’’لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ (الصف:3)کہنے کی کیا ضرورت پڑتی؟ یہ آیت ہی بتلاتی ہے کہ دنیا میں کہہ کر خود نہ کرنے والے بھی موجود تھے اور ہیں اور ہوں گے‘‘آئندہ بھی۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے لوگ ہوں گے جو تبلیغ کرتے ہیں تو ان کی دلیلیں سن کر لوگ بعض دفعہ قائل تو ہو جاتے ہیں لیکن پھر جب ان کے عمل دیکھتے ہیں تو بدک جاتے ہیں۔ لیکن
اگر تم تبلیغ کرنا چاہتے ہو تو پھر اپنے قول و فعل کو برابر رکھو تبھی تمہاری تبلیغ کامیاب ہوگی اور اس میں برکت بھی پڑے گی۔
پھر فرمایا کہ ’’…تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔ اسی سے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صداقت معلوم ہوتی ہے کیونکہ جو کامیابی اور تاثیر فی القلوب آپؐ کے حصہ میں آئی۔‘‘ جس طرح کامیابی ہوئی اور دلوں میں تاثیر آپ نے پیدا کی’’اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ میں نہیں ملتی اور یہ سب اس لیے ہوا کہ آپؐ کے قول اور فعل میں پوری مطابقت تھی۔‘‘
(ملفوظات جلد 1صفحہ 68،67،ایڈیشن1984ء)
پس اگر ہم نے تبلیغ کا عمل کرنا ہے اور پیغام پہنچانا ہے تو آپ کو اس طریق پر عمل کرنا پڑے گا ۔ ہمیں اس طریق پر عمل کرنا پڑے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنا پڑے گا اور اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرنا پڑے گا۔
پھر اسی بات کو بیان کرتے ہوئے کہ لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَحضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک اَور جگہ فرماتے ہیں کہ مومن کو دو رنگی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیشہ اپنے قول اور فعل کو درست رکھو اور ان میں مطابقت رکھو۔ جب صحابہؓ نے اپنی زندگیوں میں دکھایا تم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے صدق اور وفا کے نمونے دکھاؤ تب ہی تبلیغ میں بھی برکت پڑے گی۔
(ماخوذ ازملفوظات جلد 1 صفحہ 374)
صرف یہ دیکھ لینا کہ آج میرے پاس میڈیا آ گیا تو میں تبلیغ کر لوں اس سے تبلیغ کے نتائج پیدا نہیں ہو سکتے۔
پھر آپؑ نے وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ کی تشریح ایک جگہ اس طرح فرمائی کہ
’’جسے نصیحت کرنی ہو اسے زبان سے کرو۔ ‘‘یعنی زبان سے نصیحت کرنی ہے کرو۔ ’’ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرایہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرایہ میں دوست بنا دیتی ہے۔‘‘ الفاظ ایک ہی طرح کے ہیں۔ ایک ہی بات کہنی ہے لیکن ایک بات ایک طرز سے کی جائے تو دشمن بنا دیتی ہے اور نرم الفاظ میں کی جائے تو دوست بنا دیتی ہے۔’’ پس جَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔ اسی طرز ِکلام کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے یُؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ۔‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 127،ایڈیشن1984ء)
یعنی جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے۔
پھر آپؑ نے فرمایا کہ
’’اسلام کی حفاظت اور سچائی کے ظاہر کرنے کے لئے سب سے اول تو وہ پہلو ہے کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ۔‘‘
(ملفوظات جلد 8 صفحہ 323،ایڈیشن1984ء)
پس پہلی چیز یہی ہے۔ یہ
کوئی کریڈٹ نہیں ہے کہ ہم نے تبلیغ کر دی یا ہم نے ان کو پیغام پہنچا دیا۔ پیغام پہنچانے کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ہم نے اپنی حالت میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔ صرف پیغام پہنچانا کافی نہیں ہے۔اسی پر فخر نہیں ہونا چاہیے کہ ہم احمدی ہو گئے۔ ہم نے تبلیغ کر دی اور داعی الی اللہ میں ہمارا نام آگیا۔ نہیں ! بلکہ آپؑ نے فرمایا کہ سب سے اوّل یہی وہ پہلو ہے کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلاؤ۔ ہاں! پھر جب نمونہ بن جاؤ گے تو پھر دنیا میں اُسے پھیلاؤ۔ پھر دیکھو کیا انقلاب آتے ہیں ۔ جو انقلاب دنیا میں پیسے والے نہیں پید اکر سکے وہ تم پیدا کرو گے۔
جو لوگ چند دن تبلیغ کر کے سمجھتے ہیں کہ نتیجہ ظاہر نہیں ہوا۔ اس کے بارے میں بھی آپؑ نے فرمایا کہ چاہیے کہ جب کلام کرے تو سوچ کر اور مختصر کام کی بات کرے۔ بہت بحثیں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ پس چھوٹا سا چٹکلا کسی وقت چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلا جاتا ہے۔ پھر کبھی اتفاق ہوا تو پھر سہی۔ یہ
مستقل مزاجی سے تبلیغ کرنے والی بات ہے۔ غرض آہستہ آہستہ پیغامِ حق پہنچاتا رہے اور تھکے نہیں ۔ یہ ہمارا کام ہے ۔تھکنا نہیں ۔ یہ نہیں کہ ایک دن ہم نے کیمپ یا سٹال لگالیا۔ تبلیغ کردی اور اس کے بعد کام ختم ہو گیا۔ نہیں ۔
کیونکہ آجکل خدا کی محبت اور اس کے ساتھ تعلق کو لوگ دیوانگی سمجھتے ہیں ۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ آجکل لوگ خدا کے ساتھ تعلق کو دیوانگی سمجھتے ہیں ۔ اگر صحابہؓ اس زمانے میں ہوتے تو لوگ انہیں سودائی کہتے اور وہ انہیں کافر کہتے۔ دن رات بیہودہ باتوں، طرح طرح کی غفلتوں اور دنیاوی فکروں سے دل سخت ہو جاتا ہے اور بات کا اثر دیر سے ہوتا ہے۔
آجکل تو دنیا میں بہت زیادہ دنیا دار لوگ ہیں۔ جو اُس زمانے سے جب آپؑ نے بات کی ہے اس زمانے میں دنیا داری میں بہت بڑھ گئے ہیں۔یہ دنیامیں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ ان پر کیا اثر ہونا ہے؟ اس لیے
یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے فلاں مولوی یا فلاں عالِم سے تبلیغ کر کے اس کو قائل کرنا ہے یا فلاں بحث کرنے والے اور اعتراض کرنے والے کو تبلیغ کرنی ہے۔ ہمارا مقصدیہ ہے کہ دنیا میں حقیقی اسلام کا پیغام پہنچے اور دنیا کو اس بات کا قائل کرنا ہمارا مقصد ہے کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے آنا تھا وہ آگئے ۔اس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ صرف بحثوں اور debates اور لمبے سوال و جواب میں پڑنے کی بجائے تبلیغ کے ذریعہ یہ دیکھیں کہ ہم کس طرح زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پیغام حق پہنچا سکتے ہیں اور ان کی اصلاح کر سکتے ہیں ۔
صحابہ کرامؓ نے بھی یہی کیا تھا۔ وہ تبلیغ کیا کرتے تھے لیکن آجکل چونکہ لوگ دنیاوی فکروں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ان کو سمجھانا مشکل ہے اس لیے بڑی حکمت سے انہیں سمجھانا پڑتا ہے۔ اگر ہمارے عملی نمونے میں وہی بات آ گئی ہوتو خود بخود لوگوں کی توجہ بھی ہماری طرف پیدا ہو گی۔
آپؑ نے اپنی ایک مثال دی کہ ایک تحصیلدار تھا۔ وہ میرے سے بحث کیا کرتا تھا۔ اس کو میں نصیحت کیا کرتا تھا۔ تو وہ میرا مذاق اڑاتا تھا لیکن مَیں نے بھی اس کو نہیں چھوڑا۔ میں نے کہا تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔ بتاتا رہوں گا ،نصیحت کرتا رہوں گا۔ شاید آپ نے اس کی کوئی سعید فطرت دیکھ لی ہو گی۔ تو بہرحال کہتے ہیں میں اس کومستقل مزاجی سے نصیحت کرتا رہا اور آخر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ دھاڑیں مار مار کے رونے لگ گیا اور مجھ سے معافیاں مانگنے لگ گیا۔ کہاں مذاق اڑاتا تھا ،استہزا کرتا تھا ،کہاں رونے والی حالت ہو گئی اس کی بلکہ رونا شروع کر دیا۔ تو آپؑ فرماتے ہیں کہ بعض وقت سعید آدمی ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے شقی ہو اور بدبخت آدمی لگتا ہے لیکن ہوتا وہ سعید ہے۔ جب اس کے پیچھے پڑ کے اس کی سمجھ کے مطابق اور حکمت سے کام لے کر باتیں کرتے رہو تو وہ سمجھ جاتا ہے۔ فرمایا کہ
یاد رکھو کہ ہر قفل کے لیے ایک کلید ہے۔ ہر تالے کی ایک چابی ہوتی ہے۔ بات کے لیے بھی ایک چابی ہے اوروہ مناسب طرز ہے۔ مناسب طرز سے بات کرنی چاہیے۔
آپؑ فرماتے ہیں جس طرح دواؤں میں کوئی دوا کسی کے لیے مفید ہوتی ہے اور کوئی کسی بیماری کے لیے۔ ایسے ہی ہر ایک بات ایک خاص پیرائے میں خاص شخص کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ سب سے یکساں بات کی جائے۔ بیان کرنے والے کو چاہیے کہ کسی کے بُرا کہنے کابُرا نہ منائے بلکہ اپنا کام کیے جائے اور تھکے نہیں ۔ امراء کا مزاج بہت نازک ہوتا ہے اور وہ دنیا سے غافل ہوتے ہیں ۔ بہت باتیں سن بھی نہیں سکتے۔ انہیں کسی موقع پر کسی پیرائے میں نہایت نرمی سے نصیحت کرنی چاہیے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ 119-120)
ہر طبقے کو نصیحت کرنی ہے۔ امراء کو بھی اور غرباء کو بھی۔ امراء کی تبلیغ کا یہ گُر آپؑ نے بتایا کہ موقع محل کے لحاظ سے جب دیکھو تب کوئی نصیحت کی بات کرو۔ پھر اس ضمن میں آپؑ حضرت ابن عربی کی مثال دیتے ہیں کہ وہ لکھتے ہیں کہ
’’فرعون کے لیے کیوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو نرمی کا سلوک کرنے کی ہدایت کی۔ اس میں بھید یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آخر اسے ایمان نصیب ہو جاوے گا ۔چنانچہ ‘‘وہ لکھتے ہیں کہ ’’اٰمَنْتُ کا لفظ اسی کے منہ سے نکلا۔ ‘‘
آخر جب وہ مرنے لگا اور ڈوبنے لگا تو اس نے یہی لفظ کہا تھا کہ اٰمَنْتُ۔
حضرت مصلح موعودؓ تبلیغ کے بارے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال
بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت یوسف ؑکو قید میں ڈالا گیا تو وہاں دو اَور قیدی بھی تھے۔ اس کا بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے میں عجیب حکمت سے کام لیا۔ چونکہ خطرہ تھا کہ تبلیغ کرنے پر گھبرائیں گے اس لیے پہلے انہیں تسلی دے دی کہ میں زیادہ وقت نہیں لوں گا بلکہ کھانا آنے سے پہلے ہی تم کو فارغ کردوں گا۔ یہ اس لیے کیا کہ وہ گھبرا نہ جائیں اور غور سے سنتے رہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو تبلیغ کا موقع نہیں ملتا تھا۔ انہوں نے ان کے سوال کو غنیمت جانا جو قیدیوں نے خوابوں کی تعبیر پوچھنے کے بارے میں کیا تھا اور سمجھ لیاکہ ان کی ضرورت کے پورا ہونے سے پہلے تبلیغ کروں گا تو یہ سننے پر مجبور ہوں گے۔
پھر آپؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دی۔ حضرت یوسفؑ نے نہیں ۔ یہ ایک مثال تو حضرت یوسفؑ کی ہے۔ دوسری مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ ابتدائی زمانے میں جب آپؐ نے دعویٰ پیش کیا۔ جب آپؐ اہلیانِ مکہ کو تبلیغ کرنا چاہتے تھے تو وہ لوگ اس سے کترا جاتے تھے اور تبلیغ نہیں سنتے تھے۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعوت کا انتظام کیا اور آپؐ نے کھانا کھلاکر تبلیغ کرنی چاہی مگر وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ اس پر آپؐ نے یہ تدبیر کی کہ پھر دعوت دی اور کھانا آنے سے پہلے ان کو اپنے دعویٰ سے آگاہ کر دیا۔ وہ لوگ کھانے کے انتظار میں بیٹھنے پر مجبور تھے۔ اس لیے آپؐ کو اپنی بات سنانے کا موقع مل گیا۔
اس آیت سے انبیاء کے وعظ کا طریق بھی معلوم ہوتا ہے۔ پس ان کی اتباع میں وعظ و نصیحت کرتے وقت ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بات کہی بھی جائے اور دوسروں پر گراں بھی نہ گزرے۔ یعنی ایک اصول بتا دیا کہ ایسی بات کرو جو صحیح بھی ہو لیکن اس طرح کرو کہ وہ دوسروں کو بوجھ بھی نہ لگے۔ پس حکمت سے بات کرنی چاہیے اور اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔
(ماخوذ ازتفسیر کبیر جلد 3 صفحہ 312-313)
اُس وقت جبکہ یورپ کے اسلام لانے کا خیال بھی نہیں آ سکتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے انگریزی میں اپنے مضامین ترجمہ کرا کے یورپ میں تقسیم کرائے اور جب خدا تعالیٰ نے آپ کو جماعت عطا فرمائی تو آپؑ نے انہیں ہدایت کی کہ جہاد اسلام کاایک اہم جزو ہے وہ کسی وقت بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔ جس طرح نماز ،روزہ ،حج اور زکوة اسلام کے ایسے احکام ہیں جن پر عمل کرنا ہر زمانے میں ضروری ہے اسی طرح جہاد بھی ایسے اعمال میں سے ہے جن پر ہر زمانے میں عمل کرنا ضروری ہے۔ جس پر عمل کرنا ہر زمانے میں ضروری ہے۔ پس جہاد کا یہ طریقہ ہے۔ اس زمانے میں جہاد کیا ہے؟ ہم پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم جہاد نہیں کرتے۔ ہم جہاد کرتے ہیں لیکن طریقہ بدل گیا ہے۔ اس پر بحثیں ہو رہی ہوتی ہیں ۔ غیر احمدی مسلمان ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم جہاد نہیں کرتے۔ جہاد کے منکر ہیں حالانکہ یہ جہاد ہی ہے جو ہم کر رہے ہیں ۔ یعنی تبلیغ کر کے پیغام پہنچا رہے ہیں ۔ دنیامیں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور احمدیت کے ذریعہ سے لوگوں کو اسلام کی اصل تعلیم سے آگاہ کر رہے ہیں۔ افریقہ، یورپ، ساؤتھ امریکہ ،امریکہ ،آسٹریلیا ،جزائر میں بھی ہمارے مشن موجود ہیں ۔ تو یہ سب کس لیے ہے۔ یہ وہی جہاد ہے جو ہم کر رہے ہیں ۔ اس لیے یہ کہنا کہ ہم جہاد کے قائل نہیں غلط ہے۔ ہاں! جیسا کہ میں نے کہا جہاد کا طریقہ بدل گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اب تمہارا جہاد قلم کے ذریعہ جہاد ہے۔ جو تمہارے پین کی نوکیں اور نبیں ہیں وہ تلوار کی نوکیں ہیں۔ پس اس کے ذریعہ جہاد کرو۔ یہ دین کی اشاعت کا کام ہے اور اس کا زمانہ ہے اور اس کے لیے یہ ضروری ہے۔ پس اس طرح قلم سے جہاد کرنا۔ پس اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے اور دنیا کو بتانا چاہیے کہ تم ہم سے کیا بحث کرتے ہو کہ یہ مسیح موعود نہیں ہے جس نے دعویٰ کیا ہے۔ یا مسیح موعود نے اس طرح نہیں آنا تھا۔ یہ غلط ہے۔ ایک طرف دیکھیں ۔ ان کو ہمیں صحیح طرح بتانا پڑے گا کہ قرآن اور حدیث کیا کہتے ہیں ۔ ایک طرف وہ مانتے ہیں کہ مسیح اور مہدی نے آنا ہے دوسری طرف انکار بھی کرتے ہیں ۔ ہم ان کی بحثوں کو لغوی معنوں اور جھگڑوں میں لے کر بیٹھ جائیں تو اس سے فائدہ کوئی نہیں ہو گا۔ ان سے کہنا چاہیے کہ ہمارا اصل مقصد اسلام کو دنیا پر غالب کرنا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے نبی اور رسول بن کر آئے تھے۔ آج ہماری تعداد تو دنیا کی آبادی کے چوتھے حصہ سے بھی کم ہے۔ جب تک ہم دنیا کو اسلام کے جھنڈے تلے نہیں لے آتے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بہت کام کر لیا ہے۔
آج یہ ہمارا کام ہے کہ اس طرح کا جہاد کریں اور تبھی ہمارا جہاد کامیاب ہو گا۔ ورنہ کیا یہ جہاد جو مسلمان کرنا چاہتے ہیں یہ کوئی کارآمد جہاد ہے۔ اس کا کوئی نتیجہ نکل رہا ہے۔ کچھ بھی نہیں نکل رہا۔
پس
یہ وہ جہاد ہے جو ہر احمدی کو کرنا ہے
جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہمیں بتایا ہے نہ کہ تلوار سے جس کا مسلمانوں کے لیے نتیجہ بھی کچھ نہیں نکل رہا۔ ہر جگہ سبکی اٹھا رہے ہیں لیکن عقل اور حکمت کے ساتھ یا یہ جو باتیں میں نے بتائی ہیں ان کے ساتھ تبلیغ کے ذرائع حکمت سے استعمال کریں۔ اللہ سے تعلق پید اکریں ۔
مربیان کو بھی چاہیے کہ افراد جماعت کی تربیت کر کے ایسی فوج تیار کریں جو یہ جہاد کرے اور
مربیان سے میں یہ کہتا ہوں کہ ان کے ذمہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ انہیں صرف جماعت کی تربیت ہی نہیں کرنی بلکہ اس تربیت کے ساتھ ساتھ افرادکو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں جوڑنا ہے۔ جہاں وہ یہ کریں گے وہاں ان کا علم بھی بڑھائیں اور انہیں اس جہاد کے لیے تیار بھی کریں ۔ جب وہ یہ کریں گے تبھی اپنا عہد پورا کرنے والے ہوں گے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مربیان کو نصیحت کرتے ہوئے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ
تبلیغ کس طرح کرنی چاہیے اور ایک مربی کو کس طرح ہونا چاہیے؟
بلکہ دو تین موقعوں پر آپؓ نے مربیان کو یہ نصائح فرمائی ہیں لیکن وہ تو لمبی ہیں۔ کبھی موقع ہوا تو بیان کروں گا اس وقت جو ضروری باتیں ہیں میں ان کا مختصر خلاصہ بیان کر دیتا ہوں۔
پہلی بات یہ ہے کہ ایک مربی کے اندر تزکیہ نفس ہونا چاہیے
وہ خود تزکیہ نفس کی کوشش کرے اور پھر آگے جماعت میں بھی تزکیہ نفس کرنے کی کوشش کرے۔
اسے تہجد کی عادت ہونی چاہیے
اور پھر جماعت کو بھی عبادتوں کی طرف توجہ دلائے۔
قرآن کریم کا مطالعہ خود بھی گہرائی سے کرے اور جماعت کے افراد کو بھی مطالعہ کی طرف توجہ دلائے۔
اگر داعیان الی اللہ تیار کرنے ہیں تو انداز یہ ہونا چاہیے کہ
انسان ذکر الٰہی کی طرف خود بھی توجہ کرے اور جماعت کے افراد کو بھی توجہ دلائے۔
اس طرف بھی آپؓ نے توجہ دلائی کہ
ذاتی لائبریری بھی ایک بڑی ضروری چیز ہے
کیونکہ اس سے پڑھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح
آجکل کتابوں کا رواج تو کم ہے لیکن alislam پر ویب سائٹ پر بہت ساری کتابیں ہیں اور بہت سارا جماعتی لٹریچر موجود ہے
جنہیں کتابیں خریدنے کی توفیق نہیں یا ان کو اس طرح شوق نہیں پیدا ہوتا وہ کم از کم اس طرف توجہ دیں اور مطالعہ کے لیے ایک وقت مقرر کریں ۔
پھر اسی طرح
توکل علی اللہ ہے جو بہت زیادہ ہونا چاہیے۔
انسان کو خوش آمدی نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا ذریعہ سمجھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذریعہ ہی ہمیں ہر چیز ملتی ہے۔
لوگوں سے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں ۔
ہماری پی آر بھی کمزور ہوتی ہے اس کی وجہ سے تبلیغی میدان محدود ہو جاتا ہے۔ اس طرف بھی ہمیں توجہ دینی چاہیے۔ بہت کم ہیں جن لوگوں کی تعلقات بڑھانے کی طرف توجہ ہے۔ جب ہم اس میں بڑھیں گے اور اپنی ٹیم کو بھی آگے بڑھائیں گے تو ہمارے تبلیغ کے میدان بھی مزید کھلتے چلے جائیں گے۔
پھر
بدی کی جرأت سے تردید کرنے کا بھی حوصلہ ہونا چاہیے۔
یہ بھی ایک بہت بڑی خوبی ہے جو مربی میں ہونی چاہیے اور اسے آگے جماعت میں بھی پیدا کرنی چاہیے۔
مستقل مزاجی کی عادت ہونی چاہیے۔
یہ عمل نہیں ہونا چاہیے کہ چار دن نیکیاں کر لیں ،تبلیغ کا جوش دکھا دیا یا عبادت کر لی اور اس کے بعد بھول گئے۔ نہیں !بلکہ
جہاں وہ خود مستقل مزاجی سے ان چیزوں پر قائم ہو وہاں جماعت کے اندر بھی یہ روح پیدا کریں ۔ جب مربیان خود عمل کر رہے ہوں گے تو جماعت کے اندر بھی یقیناًیہ روح پیدا ہو رہی ہو گی۔ تب ایسے داعیان الی اللہ تیار ہوں گے جو لوگوں کے جواب بھی صحیح طریق سے دے سکیں گے اور ان کی حالت سبکی والی نہیں ہو گی۔
جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا ہے کہ زبان سیکھنے والوں کو صرف تبلیغ کا طریق نہیں آ جاتا بلکہ اصل چیز علم ہے۔
پھر غور و فکر کرنے کی عادت ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق ہونا چاہیے۔
یہ بہت ساری باتیں ہیں جو ایک مربی میں جہاں ہونی چاہئیں وہاں ان کو جماعت کو سکھانے کی طرف بھی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر یہ ہو گا تو پھر ایک انقلاب عظیم ہے جو ہم لوگ پیدا کرسکتے ہیں ۔ تبھی ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانے کے قابل ہو سکتے ہیں اور تبھی ہم مسلمانوں کو بھی آنے والے مسیح موعوداور مہدی معہود کی حقیقت سے آشنا کر سکتے ہیں اور انہیں اس کی بیعت میں آنے کی دعوت دے سکتے ہیں ۔
پس
بہت ساری ذمہ داریاں ہیں جو ہمیں ادا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اس کی ضرورت ہے اور اس میں ہمارے مربیان کو بہت بڑا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق دے اور داعیان الی اللہ کو بھی توفیق دے کہ وہ صحیح علم حاصل کریں ۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق پید اکریں اور پھر اسلام اور احمدیت کے پیغام کو دنیا کے ہر کونے میں پہنچانے والے ہوں ۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 05؍ دسمبر2025ء



