صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۶)(قسط ۱۳۱)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

آرنیکا

Arnica montana

آرنیکا کی سب سے اہم علامت خون کو منجمدکرنا ہے۔یہ اثر پھٹکڑی کے اثر سے ملتا جلتا ہے اس لیےدل کی تکلیفوں میں یہ ایک لازم دوا بن جاتی ہے۔آرنیکا جمے ہوئے خون کو پگھلا دیتی ہےلیکن اس کے باوجود ایلوپیتھک دواؤں کی طرح خون کو زیادہ پتلا نہیں کرتی اور بوقت ضرورت خون کی جمنےکی صلاحیت کو بھی زائل نہیں کرتی۔دل کے حملہ میں عموما ًآرنیکا کو لیکیسس سے ملا کر دیا جاتا ہے کیونکہ لیکیسس اس سانپ کے کاٹے کی دوا ہےجس کا زہر خون کو جما کر پھٹکیاں بنا دیتا ہےاور خون منجمد ہونےکی وجہ سے دل پر حملہ ہوجاتا ہے۔ بعض سانپوں کے زہر دل کے اعصاب پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں لیکن خون پر بداثر نہیں ڈالتے۔ ایسے سانپوں میں ‘‘ناجا’’ سب سے اول نمبر پر ہے۔ اس کا زہر دل کے اعصاب پر حملہ کرتا ہے جبکہ لیکیسس خون خراب کر کے دل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ آرنیکا اور لیکیسس دونوں کا خون کے جمنے سے تعلق ہے۔ اس لیےایسی ملتی جلتی دواؤں کو ایک دوسرے کے بعد استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بعض دفعہ ان دواؤں کے اثرات ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں اور ایسا مریض ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ دو تین دواؤں کو ایک دوسرے کے بعد دینا یا ملا کر ایک نسخہ کی صورت میں دینا ایک ایسا فن ہے جو دواؤں کے مزاج کے گہرے مطالعہ اور تجربہ سے نصیب ہو تا ہے۔ اس خطرہ کے پیش نظر میں آرنیکا کو لیکیسس سے ملا کر دیتا ہوں یا پھر دونوں میں سے صرف ایک دوا استعمال کراتا ہوں۔ اگر دل کا حملہ خون جمنے کی وجہ سے ہوا ہو تو آرنیکا خون کو مناسب حد تک پتلا کرتی ہے۔(صفحہ۸۳۔۸۴)

حادثات اور چوٹوں کے لیےآرنیکا بہترین دوا ہے۔ چوٹ کھائی ہوئی جگہ نیلی یا کالی ہو جائے اور خون جم گیا ہو تو آرنیکا بلاخوف و خطر استعمال کریں۔ ایک دفعہ میرے پاس ایک ایسا مریض لایا گیا جس کا سارا جسم سر سے پاؤں تک لاٹھیوں کی ضربوں سے کالا اور نیلا ہو رہا تھا۔ حالت اتنی خطرناک تھی کہ لگتا تھا کہ جلد مرجائے گا۔ میں نے اسے آرنیکا کی بہت سی خوراکیں دے کر گھر بھجوا دیا۔ دوسرے دن شام تک جب اس کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی تو تشویش لاحق ہوئی۔ پتا کروایا تو جواب ملا کہ وہ تو رات ہی کو بالکل ٹھیک ہو گیا تھا اور اب بھاگا دوڑا پھر رہا ہے۔ الحمد للہ (صفحہ۸۴)

آرنیکا 200 کو اگر ایکونائٹ 200 سے ملا کر دیا جائے تو اکیلی آرنیکا کے مقابل پر یہ دونوں دوائیں مل کر زیادہ اچھا اور فوری اثر دکھاتی ہیں۔ ماؤف حصہ پر سرخی زیادہ نمایاں ہو تو آرنیکا کے ساتھ بیلاڈونا ملا کر دینا زیادہ مفید ہے کیونکہ یہ سرخی بتاتی ہے کہ چوٹ والی جگہ کی طرف خون کا غیر معمولی رجحان ہے۔ عموماً جس جگہ چوٹ لگے وہاں ابھار بن جا تا ہے جو چوٹ والے حصہ کو چھپا لیتا ہے۔ یہ ابھار دوران خون زیادہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہو تا ہے جو جسم کے طبعی رد عمل کے طور پر صدمہ کی اطلاع ملتے ہی تیزی سے اس طرف دوڑ تا ہے۔ چونکہ آرنیکا میں متاثرہ حصہ کی طرف خون کا رجحان بڑھانے کا مزاج نہیں پایا جاتا اس لیےآرنیکا اکیلی کافی نہیں ہوتی۔ اسے بیلاڈونا کے ساتھ ملا کر دینا چاہیے۔ ایکونائٹ بھی اس صورت حال میں عمومی طور پر مفید ہے۔ اس لیےروز مرہ کے طور پر یہ نسخہ بلا تردد استعمال کیا جائے تو کوئی نقصان نہیں۔ ہاں بعض صورتوں میں زیادہ فائدہ کی امید ہو سکتی ہے۔(صفحہ۸۴-۸۵)

آرنیکا چھوٹی طاقت سے لے کر بڑی طاقت تک یکساں کام کرتی ہے لیکن تکلیف زیادہ گہری ہو تو اونچی طاقت میں دینی بہتر ہے۔ ایک دفعہ ایک فوجی افسر میجر ممتاز ایکسرسائز کے دوران ہمالہ کی ایک برفانی چوٹی سے پچھتر فٹ گہرائی میں جا گرے تھے۔ ان کی چوٹیں اس قدر شدید تھیں کہ ڈاکٹروں نے مایوسی کا اظہار کر دیا تھا۔ میں نے انہیں آرنیکا ایک ہزار اور نیٹرم سلف ایک ہزار پوٹینسی میں پہلے دن دو دفعہ پھر روزانہ ایک دفعہ استعمال کروائی۔ اللہ کے فضل سے حیرت انگیز طور پر شفایاب ہو گئے۔ میرے ایک سابقہ مریض جو اس طرح کی سخت چوٹ کا شکار ہوئے تھے۔ ایک دفعہ مجھے لنڈن ملنے آئے تو میں انہیں پہچان نہیں سکا۔ کیونکہ جب میں نے ان کا علاج شروع کیا تھا تو ریڑھ کی ہڈی چوٹ کے صدمے سے ٹوٹ چکی تھی اور ڈاکٹروں نے فیصلہ دیا تھا کہ ساری عمر چلنے کے قابل نہیں ہو سکو گے اگر یہ مریض بچ بھی گیا تو عمر بھر بستر پر لیٹنا ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ شفا کی صورت میں وہیل چیئر (Wheel Chair) کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت ممکن نہیں ہوگی۔ میں انہیں اس لیےنہیں پہچان سکا کہ گو شکل کی عمومی مشابہت تو تھی مگر یہ میرے دفتر میں اپنے قدموں پر چل کے داخل ہوئے اور کسی سوٹی کے سہارے کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔ تب مسکراتے ہوئے انہوں نے مجھے یاد کرایا کہ میں وہی مریض ہوں جسے ڈاکٹروں نے تو لاعلاج قرار دیا تھا مگر آپ نے ہمت بندھائی تھی اور دعا کے ساتھ جو دوائیں تجویز کی تھیں میں مسلسل وہی دوائیں استعمال کر رہا ہوں اور کسی دوسری دوا کی ضرورت نہیں پڑی۔ اب خدا کے فضل سے میں سہولت سے چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا ہوں۔ مجھے یاد آگیا کہ ان کی خطرناک حالت کے پیش نظر میں نے بہت غور کے بعد ایک نسخہ سوچا تھا جس میں آرنیکا، روٹا ، ہائی پیریکم، کلکیریا فاس اور سمفا ئٹم شامل تھیں۔ ان سب دواؤں کو ملا کر 30 طاقت میں مسلسل دن میں تین چار دفعہ کھانے کی ہدایت دی تھی اور یہ بھی سمجھایا تھا کہ کچھ عرصہ بعد چند دن کا ناغہ کر دیا کریں۔ چنانچہ انہوں نے مسلسل یہی نسخہ جاری رکھا اور اللہ کے فضل سے شفا کا یہ اعجازی نشان ظاہر ہوا۔ اگر چوٹوں کے بداثرات مثلاً سوزش، درد، اینٹھن اور ابھار وغیرہ دیر تک باقی رہیں تو ان کو مٹانے کے لیےیہ بہترین نسخہ ہے۔ پہلے مریض کی دوا میں میں نے نیٹرم سلف 1000 اس لیےداخل کیا تھا کہ گدی کی خطر ناک چوٹ میں نیٹرم سلف سے بہتر کوئی دوا مجھے معلوم نہیں۔ عام طور پر ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑنے کے لیےنہایت مؤثر نسخہ حسب ذیل تین دواؤں پر مشتمل ہے۔ سمفائٹم۔ روٹا اور کلکیریا فاس۔ سالہا سال کے تجربے کی بنا پر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے ہڈی جڑنے کی رفتار توقع سے دگنی تیز ہو جاتی ہے اور اس سے ایسی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں بھی جڑ جاتی ہیں جن کے درمیان فاصلہ زیادہ ہو چکا ہو۔ رفتہ رفتہ دونوں طرف سے یہ ہڈیاں بڑھنا شروع ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتی ہیں۔(صفحہ۸۵-۸۶)

چوٹ کے علاوہ جسمانی محنت سے تھکن اور درد کا احساس ہوتو اس میں بھی آرنیکا بہت مفید ہے۔ اگر زیادہ جسمانی مشقت، سخت کھیلوں کے نتیجہ میں جسم درد سے ٹوٹ رہا ہو تو اس کے لیےتیر بہدف نسخہ آرنیکا 200 اور برائیو نیا 200 ملاکر دینا چاہیے۔(صفحہ۸۶)

عورتوں کے متفرق عوارض میں آرنیکا ایک بہت کارآمد دوا ہے۔ وضع حمل کے وقت غیر معمولی زور لگنے اور خون کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے بعض عضلات زخمی ہو جاتے ہیں اور خلیے پھٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے مستقل دردیں ٹھہر جاتی ہیں۔ اگر ولادت سے چند دن قبل آرنیکا 1000 طاقت میں دی جائے تو وضع حمل کے وقت اور بعد میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور کئی قسم کے نقصانات سے بچا لے گی۔ بچہ کی پیدائش کے ہر دور میں آرنیکا بہت مفید ہے۔ (صفحہ۸۶)

اگر پاؤں میں موچ آجائے یا پٹھہ کھنچ جائے اس وقت آرنیکا صحیح پوٹینسی میں دی جائے تو بہت جلد اثر دکھاتی ہے۔ اگر چھوٹی پوٹینسی میں استعمال کریں تو بار بار دینے سے اتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا اونچی طاقت میں ایک دفعہ دینے سے ہی غیر معمولی اثر ظاہر ہوتا ہے۔ (صفحہ۸۸)

آرنیکا کے مریض کو اپنا بستر سخت محسوس ہوتا ہےخواہ وہ کتنا ہی نرم کیوں نہ ہو۔باربارکروٹیں بدلتا ہے۔جسم کو باربار حرکت دینا اور جگہ بدلنا آرسینک اور رسٹاکس میں بھی نمایاں ہے۔لیکن آرنیکا میں یہ کروٹیں بدلنا بے چینی کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ مریض جس کروٹ بھی لیٹے جسم دکھتا ہے۔(صفحہ۸۸)

ایک دفعہ ایک خاتون موچ آ جانے کے باعث مسلسل تکلیف میں تھیں اور چند قدم چلنا بھی دو بھر تھا۔ ہومیو پیتھک دوا تو کھاتی تھیں مگر ساتھ ہی ماؤف حصے کی مالش بھی بہت کرتی تھیں۔ میں نے انہیں آرنیکا، برائیو نیا اور کاسٹیکم دی اور مالش سے پر ہیز کرنے کو کہا۔ کیونکہ اس سے عضلات پھر زخمی ہو جاتے تھے۔ ایک ہفتہ کے اندر ہی ان کی طرف سے اطلاع ملی کہ بالکل ٹھیک ہیں۔ آرنیکا کے ساتھ دوسری دوائیں اس لیےملائی تھیں کہ بعض دفعہ صرف چوٹ کا ہی اثر نہیں ہو تا بلکہ بعض عضلات کمزور ہو جاتے ہیں اور برائیو نیا عضلات کے اندر کی تکلیفیں جو چوٹ سے علاوہ ہوں ان کی بھی اچھی دوا ہے اور عضلات میں طاقت پیدا کرتی ہے۔ کاسٹیکم میں عضلات ڈھیلے ہو کر مفلوج سے ہو جاتےہیں یا ہرنیا کی علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اگر تکلیف دائیں طرف ہو تو آرنیکا، بیلاڈونا اور برائیو نیا کا نسخہ مفید ہو گا۔ بائیں طرف تکلیف کے لیےآرنیکا، لیکیسس اور لیڈم بہت بہتر نتائج پیدا کرتی ہیں۔ اگر چوٹ یا حادثے کی وجہ سے پٹھہ اپنی جگہ سے ہل جائے اور موچ کی کیفیت ہو تو عموماً آرنیکا کی اونچی طاقت سے بہتر کوئی اور دوا کام نہیں کرتی۔ چند گھنٹوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔ (صفحہ۸۸-۸۹)

اگر کمر میں کسی جھٹکے کے نتیجہ میں چُک پڑ جائے یعنی عارضی طور پر عضلات اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو یہ کیفیت خود بخود کچھ عرصہ کے بعد ٹھیک ہو جاتی ہے اور کسی مستقل بیماری کا حصہ نہیں بنتی۔ لیکن بعض دفعہ یہی مستقل بیماری بن جاتی ہے اور کمر کو جھٹکا لگنا عمر بھر کا روگ لگا دیتا ہے۔ پہلے سے کمزور عضلات اور بھی سکڑ جاتے ہیں یا ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ اس صورت میں آرنیکا مددگار ہوتی ہے مگر یہ براہ راست عضلات کی اندرونی کمزوریوں کی دوا نہیں ہے۔ اس تکلیف کو رفع کرنے کے لیےایک امکانی دوا ‘‘سمی سی فیوجا’’ بھی ہو سکتی ہے جو عضلات کی گہری تکلیفوں میں کام آتی ہے۔ اگر کمر میں درد ٹھہر جائے تو آغاز میں آرنیکا اور برائیونیا استعمال کرنی چاہیے لیکن اگر افاقہ عارضی ہو تو آرنیکا کے ساتھ برائی اونیا کی بجائے رسٹاکس ملا کر دیکھیں کیونکہ رسٹاکس عضلات کی گہری کمزوریوں کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔(صفحہ۸۹)

آرنیکا میں سیلان خون کا بھی رجحان پایا جا تا ہے اس لیےخون کی باریک رگوں کے پھٹ جانے میں یہ بہت مفید دوا ہے۔ اگر قے، دست اور بلغم میں خون آنے لگے تو اگر کسی دوسری معین بالمثل دوا کا علم نہ ہو تو آرنیکا کو موقعہ دینا چاہیے۔ بعض دفعہ بیماری بہت بڑھ جائے تو سب اندرونی جھلیاں جواب دے جاتی ہیں اور سخت بدبودار خون کے دست آتے ہیں۔ اس صورت میں اکیلے آرنیکا کے بس کی بات نہیں۔ معین بالمثل دوا کی تلاش ضروری ہے۔(صفحہ۹۰)

جب بیماری زیادہ بڑھ جائے تو آرنیکا کا مریض بھی آرسینک کے مریض کی طرح موت کے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ آرنیکا کے مریض کا سر گرم ہوتا ہے لیکن اسے ٹھنڈا کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، صرف جسم کو گرم کرنا چاہتا ہے۔ آرسینک کا مریض اس سے متضاد ہے۔ وہ بیک وقت سر کو ٹھنڈا اور جسم کو گرم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ دائمی طور پر ٹھنڈا ہونے کے لحاظ سے وہ سو رائینم کے مریض سے ملتا ہے لیکن سو رائینم میں مریض سر سے پاؤں تک ٹھنڈا ہوتا ہے۔ لیکیسس بھی سخت سردی کی دوا ہے خصوصاً اگر پاؤں ٹھنڈے ہوں۔سونے کے بعد پاؤں ٹھنڈے ہونا اس کی خاص علامت ہے لیکن لیکیسس میں ٹھنڈ دائمی نہیں ہے ، آتی ہے اور چلی جاتی ہے اور اخراجات میں دائمی تعفن کی علامت نہیں ملتی لیکن سورائینم کا مریض بدبودار مریض ہے۔ سخت سردی محسوس کرتا ہے بعض دفعہ مچھلی کی طرح جسم پر پتلے پتلے چھلکے سے نکل آتے ہیں جو بہت بھیانک ہوتے ہیں۔ آرسینک میں بھی یہ علامت ہے۔ اگر ان میں بدبو بھی ہو تو آرسینک اور سورائینم دونوں اس کی بہترین دوائیں ثابت ہو سکتی ہیں۔(صفحہ۹۰-۹۱)

جب بیماری زیادہ بڑھ جائے تو درد کا احساس کم اور غنودگی کا غلبہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ذہنی لحاظ سے آخر تک تندرست رہتا ہے۔ کوئی بات پوچھنے پر بالکل ٹھیک جواب دے گا۔ (صفحہ۹۱)

دل کی بیماری میں ایسا درد ہو تا ہے جیسے دل کو شکنجہ میں کس دیا گیا ہے اور مریض گھبرا کر دل پر ہاتھ مارتا ہے۔ نبض بے قاعدہ ہوتی ہے، محنت اور مشقت کے بعد دل کی دھڑکن بہت بڑھ جاتی ہے جو آرام کرنے سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔مریض نئی جگہ پر جانے کی خواہش کرتا ہےاور وہ سوچتا ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے سے آرام آجائے گا۔(صفحہ۹۲)

آرنیکا کو اپنڈکس کی تکلیف میں برائیونیا اور آئرس ٹینیکس (Iris Tenax) کے ساتھ ملا کر دینا بہت مفید ثابت ہو تا ہے۔ (صفحہ۹۲)

وضع حمل کی طرح ہر آپریشن سے پہلے آرنیکا ۱۰۰۰ طاقت میں دینا کئی قسم کی پیچیدگیوں سے بچالیتا ہے۔(صفحہ۹۲)

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

مزید پڑھیں: جرمنی کے شہر Nordhorn میں مسجد صادق کا بابرکت افتتاح

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button