صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل (آنکھ کے متعلق نمبر ۹آخری) (قسط ۶۸)

(ڈاکٹر تاشف وقار بسرا)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

سینگونیریا

Sanguinaria

(Blood Root)

سر درد گدی سے شروع ہوتا ہے اور عام طور پر دائیں کنپٹی یا دائیں آنکھ میں آکر ٹھہر جاتا ہے۔ اگر درد بائیں آنکھ میں اپنا مقام بنا لے تو وہ سپائی جیلیا (Spigelia)کی علامت ہے۔(صفحہ۷۳۱)

سینیشواورس

Senecio aureus

(Golden Ragwort)

سردرد میں تیزی نہیں پائی جاتی مگر بد حواس سا کر دیتی ہے۔ بعض دفعہ بائیں آنکھ میں تیز درد اٹھتا ہے جو بائیں کنپٹی کی طرف بڑھتا ہے۔(صفحہ۷٤۱-۷٤۲)

سیپیا

Sepia

(Inky Juice of Cuttle Fish)

مزاجی مماثلت ہو تو آنکھ کی ہر قسم کی تکلیفوں میں سیپیا مفید ہے۔(صفحہ۷٤۷)

عضلاتی کمزوری کی وجہ سے نظر کمزور ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کے سامنے سیاہ دھبے تھرکتے ہیں۔ کمزوری اور رحم کی خرابیوں کے نتیجہ میں آنکھوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔ پپوٹے بو جھل ہو کر نیچے لٹک جاتے ہیں۔(صفحہ۷٤۸)

سلیشیا

Silicea

(Silica-Pure Flint)

سلیشیا میں سردرد گدی سے شروع ہوتا ہے۔ عموماً صبح کے وقت درد کا آغاز ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے جلسیمیم سے اسے ممتاز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دونوں ٹھنڈے مزاج کی دوائیں ہیں۔ سلیشیا میں درد گدی سے آگے کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ ماتھے اور آنکھوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر یہ علامت واضح ہو تو سلیشیا سے علاج شروع کرنا چاہیے۔ اس کا سردرد صبح شروع ہو کر رات تک جاری رہتا ہے۔(صفحہ۷٥٥)

سلیشیا آنکھوں کی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔ کو رنیا کے السر میں بھی جو علاج کے لحاظ سے ایک مشکل مرض ہے سلیشیا بالمثل ہو تو غیر معمولی فائدہ دیتی ہے۔(صفحہ۷٥٦)

سپائی جیلیا

Spigelia)Pink Root)

آنکھوں کا درد جو اعصاب سے تعلق رکھتا ہو اور سردی لگنے سے شروع ہو اس میں درد کی لہریں آنکھ کے اعصاب میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ سپائی جیلیا کے درد سارے جسم میں دوڑتے پھرتے ہیں۔(صفحہ۷٦۲)

سپائی جیلیا میں درد دائیں اور بائیں دونوں طرف ہوتے ہیں لیکن عام طور پر سپائی جیلیا بائیں طرف کی دوا ہے اور سینگو نیریا دائیں طرف کی۔ سپائی جیلیا سے اثر پذیر ہونے والا جو درد گدی سے شروع ہوتا ہے وہ کبھی دائیں طرف اپنا مقام بناتا ہے اور کبھی بائیں طرف اور اس میں دھڑکن ہوتی ہے اور درد کی لہریں دوڑتی پھرتی ہیں۔ یہ درد ماتھے پر آکر کبھی دائیں اور کبھی بائیں آنکھ میں ٹھہر جاتا ہے۔ درد کے ساتھ یہ احساس ہوتا ہے کہ سر پر کس کر کپڑا بندھا ہوا ہے۔(صفحہ۷٦۲)

سپائی جیلیا میں آنکھیں بہت بڑی محسوس ہوتی ہیں، نظر ایک جگہ نہیں ٹھہرتی اور بعض دفعہ ایک چیز اپنی اصل جگہ سے ہٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ آنکھوں میں درد کے ساتھ سخت دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ آنکھ کا ڈیلا ہلائیں تو درد بڑھ جاتا ہے۔ اس میں سرخی نہیں ہوتی۔ صاف ستھری آنکھ میں درد ہو تو اکثر اعصاب کا قصور ہوتا ہے۔ آنکھ ہلانے سے بھی سر چکرانے لگتا ہے۔(صفحہ۷٦۳)

آنکھیں روشنی سے زود حس ہوتی ہیں۔ آنکھوں سے پانی بہتا ہے۔ چہرے کا اعصابی درد رخساروں کی ہڈیوں، آنکھوں، آنتوں اور کنپٹیوں تک پھیل جاتا ہے۔ جھکنے سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ (صفحہ۷٦۳)

سپونجیا ٹوسٹا

Spongia tosta

(Roasted Sponge)

سپونجیا کا مریض معمولی سی جسمانی محنت سے تھک جاتا ہے۔ سر کی طرف دوران خون ہوتا ہے اور سردرد شدید ہوتا ہے اور آنکھوں سے لیس دار رطوبت نکلتی ہے۔(صفحہ۷٦۷)

سٹرونشیم کاربونیکم

Strontium carbonicum

سٹرو نشیم کارب آنکھوں کے لیے بھی اچھی دوا ہے۔ اگر آنکھوں میں درد اور سرخی پائی جائے اور پانی بہتا ہو اور آنکھ کھولنے اور پڑھنے سے تکلیف میں اضافہ ہو جائے اور جلن بھی ہو تو پھر سٹرونشیم کا رب بھی مفید دوا ثابت ہو سکتی ہے۔(صفحہ۷۷۸)

سلفر

Sulphur

(Sublimated Sulphur)

سر کی چوٹی، آنکھوں، چھاتی اور دونوں کندھوں کے درمیان جلن ہوتی ہے۔بعض اوقات جسم سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔(صفحہ۷۸۱)

آنکھوں کے سامنے چنگاریاں اور شعلے ناچتے ہیں۔ کبھی سر اوپر اٹھانے سے تارے نظر آنے لگتے ہیں۔ مختلف قسم کے رنگوں کے دھبے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ عام طور پر سر درد شروع ہونے سے پہلے ایسا ہوتا ہے۔ اگر شروع میں سلفر دے دی جائے تو سر درد ہوگا ہی نہیں۔(صفحہ۷۸٥)

ٹیرینٹولا ہسپانیہ

Tarentula hispania

(Spanish Spider)

ٹیرینٹولا کا مریض گھبراہٹ سے سر تکیے پر رگڑتا ہے۔ سر پر وحشت سوارہوتی ہے، آنکھیں نہیں کھلتیں اور روشنی سے زودحسی کے ساتھ کنپٹیوں اور گدی میں بہت درد ہوتا ہے۔(صفحہ۷۹۳-۷۹٤)

آنکھ کی بیماریوں کا اثر دائیں طرف زیادہ ہو تا ہے۔ دائیں آنکھ میں دھند اور نظرکی کمزوری کے علاوہ دائیں آنکھ سے مواد نکلتاہے۔(صفحہ۷۹٤)

زنکم

Zincum metallicum

Zinc

آنکھوں کی متعدد تکالیف میں بھی زنک بہت کام آتا ہے۔اگر آنکھوں کے چھپر آہستہ آہستہ پھول کر بڑے ہو جائیں اور آنکھوں میں رفتہ رفتہ سرخی بڑھنے لگے اور مزمن ہو جائے، اس کے ساتھ اندرونی علامتیں بھی ظاہر ہونے لگیں اور نظر دھندلا جائے اور بصری اعصاب متاثر ہوں تو ان تکالیف میں زنک بہت کار آمد ثابت ہو گا۔ زنکم سلف سفید موتیا کی بہترین دواؤں میں سے ہے۔ میں نے ایک نوے سالہ بوڑھے مریض کو جس کی آنکھوں میں سفید موتیا کی علامتیں ظاہر ہو کر کافی آگے بڑھ چکی تھیں، ایک لاکھ طاقت میں زنکم سلف کی ایک خوراک دی۔ اس مریض کو ایک سرجن نے میرے پاس بھجوایا تھا کہ اس عمر میں ہم اس کا آپریشن نہیں کر سکتے۔ زنکم سلف کی ایک لاکھ طاقت کا یہ حیرت انگیز اثر میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں چند مہینے کے اندر شیشے کی طرح شفاف ہو گئیں۔ بعد ازاں وہ کئی سال زندہ رہا لیکن اس کی وفات تک اسے یہ تکلیف نہیں ہوئی۔(صفحہ۸۰۸-۸۰۹)

آنکھ میں پیدا ہونے والے وہ تمام مادے جو نظر کو دھندلا دیتے ہیں یا جم کر موتیا کی طرح شکل اختیار کر لیتے ہیں، ان سب میں زنک اچھی دوا ہے۔ لیکن اگر مرض نصف سے آگے بڑھ چکا ہو اور سختی کی طرف مائل ہو تو اس وقت زنک دینے کی بجائے آپریشن کروا لینا ہی بہتر ہے کیونکہ اگر موتیا میں سختی شروع ہو چکی ہو تو زنک دینے سے وہیں رک جائے گا اور مریض نہ آپریشن کے قابل ہو سکے گا نہ اس کی بینائی ٹھیک ہو گی۔ لہٰذا ایسے مریض کو موتیا پکنے ہی دینا چاہیے تاکہ جلد آپریشن کے ذریعہ اسے اس جھنجھٹ سے نجات ملے۔(صفحہ۸۰۹)

زنک کے ساتھ کلکیریا فلور X٦میں کھلانا بہت مفید رہتا ہے۔اسی طرح آنکھ میں ٹپکانے کے لیے Cineraria Maritima Sussex کا لوشن بہت فائدہ مند ہے۔ دن میں تین بار اس کا ایک ایک قطرہ ماؤف آنکھ میں ٹپکایا جائے تو افاقے کی رفتار اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔ روزمرہ کے طور پر زنکم سلف ۲۰۰ ہفتہ میں ایک دو بار استعمال کروانا چاہیے۔ اگر CM طاقت میں دیا جائے تو مہینے سے پہلے اسے نہیں دہرانا چاہیے۔ اور اگر دہرانا بھی ہو تو ایک دفعہ دے کر بند کر دیں۔(صفحہ۸۰۹)

اگر آنکھ میں سفید سی جھلی پھیلنے لگے تو زنک کی دو سو طاقت بہت فائدہ دیتی ہے۔ آنکھوں کے چھپر میں اگر ایسی بیماری ہو جائے کہ پلکوں کے بال مڑ کر آنکھ کے چھپر میں داخل ہونے شروع ہو جائیں تو وہ قدرتی طور پر بڑھتے ہوئے چھپروں کے اندر ہی گول چھلوں کی شکل میں بڑے ہونے لگتے ہیں اور بہت تکلیف دیتے ہیں۔ عموماً اس کا علاج جراحی ہے لیکن ایک جراحی کے بعد پھر کوئی دوسرا بال مڑکر اندر چلا جائے گا اور یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آئے گا۔ اس کا مستقل علاج زنکم سلف ہے اور میں نے اسے اکثر۲۰۰ طاقت میں بہت مفید پایا ہے۔(صفحہ۸۰۹-۸۱۰)

آنکھ میں ناخونا (Pterygium )کو بھی زنک ۲۰۰ بہت جلد ٹھیک کر دیتا ہے اورکسی آپریشن کی ضرورت نہیں رہتی۔(صفحہ۸۱۰)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button