نظم

میں اپنے پیاروں کی نسبت

میں اپنے پیاروں کی نسبت

ہرگز نہ کروں گا پسند کبھی

وہ چھوٹے درجہ پہ راضی ہوں

اور اُن کی نگاہ رہے نیچی

وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر

شیروں کی طرح غراتے ہوں

ادنیٰ سا قصور اگر دیکھیں

تو منہ میں کَف بھر لاتے ہوں

شمشیرِِ زباں سے گھر بیٹھے

دشمن کو مارے جاتے ہوں

میدانِ عمل کا نام بھی لو

تو جھینپتے ہوں گھبراتے ہوں

اے میری الفت کے طالب!

یہ میرے دل کا نقشہ ہے

اب اپنے نفس کو دیکھ لے تُو

وہ اِن باتوں میں کیسا ہے؟

میں واحد کا ہوں دل دادہ

اور واحد میرا پیارا ہے

گر تُو بھی واحد بن جائے

تو میری آنکھ کا تارا ہے

تُو ایک ہو ساری دنیا میں

کوئی ساجھی اور شریک نہ ہو

تُو سب دنیا کو دے لیکن

خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو

(کلام محمود مع فرہنگ صفحہ 202-203)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button