متفرق مضامین

وید

(امۃ الباری ناصر)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیرِ غور نظم سرمہ چشم آریہ صفحہ۱۷۲مطبوعہ ۱۸۸۶ء سے لی گئی ہے جو روحانی خزائن جلد دوم میں صفحہ ۲۲۰ پر درج ہے۔ درثمین اردو کی آٹھویں نظم ہے۔ اس کے کُل سات اشعار ہیں۔

۱۔ان کو سودا ہوا ہے ویدوں کا

ان کا دل مبتلا ہے ویدوں کا

وید: vaid، ہندوؤں کی مذہبی کتاب۔

Vedas, the religious book of Hindus

سودا ہونا: saudaa honaa،خبط ہونا، جنون، To be crazy for something

مبتلا:mubtalaa، پکڑا ہوا، اُلجھا ہوا، عاشق Involved, fond of something, fallen in love with afflicted with

وید ہندو مت کے قدیم الہامی کتب کے مجموعے کا نام ہے جو ممکنہ طور پر پندرھویں اور پانچویں صدی قبل مسیح کے دوران ضبط تحریر میں لائی گئیں۔ اہل ہنود کی مقدس کتب کی دو بنیادی اقسام یعنی شروتی اور سمرتی میں سے ویدوں کو اول الذکر میں داخل سمجھا جاتا ہے۔توحیدی اور فلسفیانہ تعلیمات کے برخلاف ویدوں کا مرکزی خیال منتر، ہَوَن، مذہبی رسومات، آگ اور براہمن کی تقدیس اور قربانی ہے۔(ماخوذ از وکی پیڈیا)

حضرت اقدس علیہ السلام کی بعثت کا مقصد اسلام کی آفاقی تعلیمات کو زندہ کرنا تھا۔ آپؑ نے ہر مذہب کی بنیادی تعلیمات کو تحریف اورردّو بدل کی وجہ سے فرسودہ اور ناقابل عمل قرار دیا۔

۲۔آریو! اس قدر کرو کیوں جوش

کیا نظر آگیا ہے ویدوں کا

آریہ:aareeyah، ایک قدیم قوم کا نام ہے جو ہندوستان میں آباد ہوئی۔ ہندوستان کے ایک مذہبی فرقے کا نام بھی ہےجس کے بانی سوامی دیانند سرسوتی مانے جاتے ہیں۔ یہ گروہ اپنے آپ کو قدیم آریہ قوم کے عقائد پر بیان کرتا ہے۔

An ancient race settled in India. Also the name of a religious sect in India. founded by Swami Daya Nand Sarswati. This sect claims to follow the beliefs of the ancient Aryans

ہندوستان میں وید کی پیروی کرنے والوں میں بھی صدہا فرقے تھے۔ جن میں سے خاص طور پر آریہ لوگ شدت پسند تھے۔ ان کو مخاطب کرکے حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں کہ آپ نے ویدوں میں کیا خوبی دیکھی ہے جو اس قدر جوش و خروش سے اس کی پیروی کر رہے ہو۔ وید تو محرف ہوچکا ہے۔

۳۔نہ کیا ہے نہ کرسکے پیدا

سوچ لو یہ خدا ہے ویدوں کا

ویدوں کا پرمیشر سب چیزوں کا خالق نہیں ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ہزاروں طاقتیں اور قوّتیں اور خاصیتیں جو رُوحوں اور ذرّاتِ اجسام میں ہیں وہ سب قدیم سے خودبخود ہیں پرمیشر سے وہ حاصل نہیں ہوئیں۔ ایسی ادھوری طاقتوں کے خدا کی ہستی کا ثبوت کیا ہے۔

۴۔عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو

کیوں بھروسہ کیا ہے ویدوں کا

تھوڑے سے فہم و فراست سے یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ ناخالص چیز پر بھروسہ کرنا بے فائدہ ہے۔ انسانی ذہن نے بہت ترقی کرلی ہے پرکھنے کے کئی طریق وضع ہو گئے ہیں ایسے میں غلطی پر اصرار کرنا اور اصلاح سے غافل رہنا دانشمندی نہیں۔

۵۔بےخدا کوئی چیز کیونکر ہو

یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا

ہندو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا بھگوان ہے اس نے دیگر کئی دیوی دیوتاؤں کو مختلف طاقتیں دے رکھی ہیں جو ان کے مطابق کاموں پر مقرر ہیں اس لیے ان کی بھی عبادت کرتے ہیں۔آریوں کا عقیدہ ہے کہ بت پرستی درست نہیں ایک خدا ہے مگر اس کی طاقت محدود ہے۔ اس نے روحوں کو پیدا نہیں کیا بلکہ تمام ارواح خود بخود وجود میں آگئی ہیں۔ خدا ان کا خالق نہیں ہے۔ اور وہ روحوں کو دائمی نجات بھی نہیں دے سکتا۔

۶۔ناستک مت کے وید ہیں حامی

بس یہی مدعا ہے ویدوں کا

ناستک مت :naastik mat، دہریہ مذہب Atheism

مدّعا:mudda‘aa: مقصد ، object, desire

وید کی تعلیم ایسی ہے جہاں محدود صفات کے خدا کا تصور خدا سے دور لے جاتا ہے۔ لوگ دہریہ پن کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔

۷۔ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے

کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا

کال: kaal:خشک سالی Dearth, famine

سر پر کھڑا ہونا :sar par kharaa honaa

قریب ہونا، سامنے موجود ہونا At hand, very near, close by, imminent, nigh

ایسے مذہب جن میں روحانیت نہ ہو جو دلوں کو خدا کی طرف نہ کھینچیں کسی کام کے نہیں ہوتے۔ انہیں ماننے والے کم ہوتے جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ متروک ہوجاتے ہیں۔ویدک تعلیمات کا انجام یہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ دوسری طرف ہمارا قرآن مجید ہے جو روحانی ترقی کا باعث بن کر مقبول ہورہا ہے۔ اس کی پاک تاثیر دلوں میں نور بھر دیتی ہے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button