الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی قبولیت دعا

مجلس انصاراللہ برطانیہ کے مجلّہ ’’انصارالدین‘‘ نومبرو دسمبر ۲۰۱۳ء میں مکرم عبدالرحمٰن شاکرصاحب کے قلم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبولیتِ دعا کے حوالے سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نواب صدیق حسن خان وزیرریاست بھوپال نے بعض اپنی کتابوں میں لکھا تھاکہ جب مہدی موعود پیدا ہوگا تو غیرمذاہب کے سلاطین گرفتارکرکے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور یہ ذکر کرتے کرتے یہ بھی بیان کردیاکہ چونکہ اس ملک میں سلطنت برطانیہ ہے اس لیے معلوم ہوتاہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت اس ملک کاعیسائی بادشاہ اسی طرح مہدی کے رُوبرو پیش کیاجائے گا۔یہ الفاظ موجب بغاوت سمجھے گئے اور یہ ان کی غلطی تھی کہ انہوں نے ایسالکھا۔ مگر چونکہ انہوں نے غیرقوموں کو صرف مہدی کی تلوار سے ڈرایا اور آخر پکڑے گئے اور نواب ہونے سے معطّل کیےگئے اور بڑی انکساری سے میری طرف لکھا کہ مَیں ان کے لیے دعا کروں۔ تب میںنے ان کو قابل رحم سمجھ کر دعا کی تو خداتعالیٰ نے فرمایا کہ سرکوبی سے اس کی عزت بچا لی گئی۔ مَیں نے یہ اطلاع ان کو اور کئی لوگوں کو بھی دےدی۔ آخر کچھ مُدّت کے بعد گورنمنٹ کا حکم آگیا کہ صدیق حسن خان کی نسبت نواب کا خطاب قائم رہے۔ گویا یہ سمجھا گیا کہ جو کچھ اس نے بیان کیا ایک مذہبی پرانا خیال ہے ان کی بغاوت کی نیت نہ تھی۔ نواب صدیق حسن خان پر جو یہ ابتلا پیش آیا وہ میری ایک پیشگوئی کا نتیجہ ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ انہوں نے میری کتاب براہین احمدیہ کو چاک کرکے واپس بھیج دیا تھا۔ میںنے دعا کی تھی ان کی عزت چاک کر دی جائے۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔ (ماخوذ از حقیقۃالوحی)

نواب سیّدصدیق حسن خان صاحب ۱۴؍اکتوبر۱۸۳۲ء کو بریلی میں پیدا ہوئے۔ ابھی پانچ سال کے تھے کہ آپ کے والد اولادحسن خان کاانتقال ہوگیا۔ وہ حضرت سیّد احمد شہیدؒ بریلوی کے مرید اور بہت پرہیزگار آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے شیعہ والدکی لاکھوں روپے کی جائیداد لینے سے انکار کردیا جو ورثے میں ان کاحق بنتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خاندان کے دوسرے شرکاء مالامال ہوگئے اور صدیق حسن معہ برادران غریب ہوگئے۔ آپ کی والدہ نے بچوں کوبڑی تنگی سے پالا، مختلف مقامات پربھجوا کر حدیث فقہ وغیرہ علوم اسلامیہ کی تعلیم دلوائی۔ آخر کار آپ اپنے گھرکی حالت دیکھ کر ملازمت کی نیت سے بھوپال پہنچے۔ مگر کسی کاوسیلہ نہ تھا اس لیے کوئی کام نہ مل سکا۔ آخر آپ نے مدارالمہام سیدجمال الدین صاحب کو درخواست پیش کی تو تیس روپے ماہوار کی ملازمت مل گئی مگر وہ اخراجات کے لیے کافی نہ تھی۔ تاہم آپ بہت محنت سے کام کرتے رہے اور کچھ عرصہ بعد میر دبیر بنادیے گئے تو تنخواہ پچاس روپے ماہوار ہوگئی۔ مگر بعض حاسدین نے سازش کرکے آپ کووہاں سے نکلوادیا۔ پھر آپ کانپور چلے آئے لیکن وہاں پہنچتے ہی ۱۸۵۷ء کا سانحہ پیش آگیا اور بڑی مشکل سے پُرخطر حالات میں اپنے وطن قنوج پہنچے۔ مالی حالت بالکل صفر تھی۔ تاہم والدکے دوست ان کی مددکرتے رہے۔

ان حالات میں نواب سکندربیگم صاحبہ والیۂ بھوپال نے آ پ کو بھوپال بلوالیا۔ مگرگروہِ حاسدین نے ان کے پائوں نہ جمنے دیے تو آپ مایوس ہوکر ٹونک چلے گئے۔ وہاں سید جمال الدین صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ نے خطوط میں آپ سے اپنے سابقہ رویے پر معافی مانگی اور کہا کہ آپ پھر بھوپال آجائیں۔ چنانچہ اگست ۱۸۵۹ء میں آپ تیسری مرتبہ بھوپا ل آئے اور تاریخ بھوپال لکھنے پر مامورہوئے۔ وہیں پر ۱۸۶۰ء میں ذکیہ بیگم صاحبہ بنت سیدجمال الدین صاحب سے آپ کی شادی ہوگئی اور آپ ریاست کے عمائدین میں شمار ہونے لگے۔ ۱۸۶۹ء میں حج کی توفیق پائی۔

نواب سکندربیگم کے بعد جب نواب شاہ جہاں بیگم ملکہ بھوپال ہوئیں تو انہوں نے مولوی صدیق حسن صاحب کو اپنا پرائیویٹ سیکرٹری مقررفرمالیا اورخان صاحب کا خطاب بھی عطا کیا۔ چونکہ یہ ملکہ جوانی میں ہی بیوہ ہوگئی تھیں اور مولوی صاحب کی پہلی بیوی بھی فوت ہوچکی تھیں لہٰذا ۸؍مئی ۱۸۷۱ء کو دونوں نے گورنمنٹ آف انڈیاکی اجازت سے عقدِثانی کرلیا۔ ملکہ نے اپنے مرحوم خاوندکے خطابات ناظرالدولہ، نواب والا جاہ اور امیرالملک مولوی صاحب موصوف کے لیے گورنمنٹ سے منظور کرواکر ۷۵ ہزار روپے کی جاگیر بھی ان کے نام کردی۔ گورنمنٹ آف انڈیانے نواب صاحب کے لیے ۱۷ توپ کی سلامی کی بھی منظوری دےدی۔

نواب صاحب فرقہ اہلحدیث کے مشہور لیڈر تھے۔ آپ نے قریباً ۹۰ دینی کتب لکھیں جن میں ’حجج الکرامہ فی اثارالقیامہ‘ بہت مشہور ہے۔ اُنہی دنوں مشہورانقلابی مفکر سیدجمال الدین افغانی جو ’پان اسلام ازم‘ کے بانی تھے اور جن کو کوئی مسلم حکومت پناہ دینے کے لیے تیارنہ تھی۔ وہ دورہ پر ہندوستان آئے تو بھوپال میں بھی تین چار لیکچر دیے۔ یہ وہ زمانہ تھاجبکہ انگریزوں کو روس کے حملے کا خطرہ لاحق رہتا تھا اور اگرکوئی شخص لفظ جہاد، مہدی، پان اسلام ازم وغیرہ کا نام لے لیتا تو انگریز خوفزدہ ہوجاتے۔ اُن دنوں انگلستان کا وزیراعظم ولیم گلیڈ سٹون سخت معانداسلام تھا۔ وہ ٹرکی (ترکی)کی حکومت کو وحشی اور غیرمہذب حکومت سمجھتا تھا۔ ٹرکی کی مرغی کواسی نے رواج دیا تھا جس کے بغیر انگلستان میں کرسمس کی ضیافت ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ اُس کے اشارے پر جمال الدین افغانی کو بھوپال سے نکال دیاگیا لیکن اس شبہ پرکہ وہ نواب صدیق حسن خان سے بھی ملے ہوں گے اور انگریزوں کے خلاف گفتگو ہوئی ہوگی انگریز نواب صاحب سے بدظن ہوگئے۔ انہی دنوں آپ نے مہدی سوڈانی محمد احمد کو بھی کچھ مالی امداد دی۔ پھر آپ پر ریاست کے مہاجنوں کو تنگ کرنے اور اپنے رشتہ داروں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کے الزام لگے۔ درباری سازشیں بھی درپردہ کام کررہی تھیں۔ نیز نواب شاہ جہان بیگم کی پہلے خاوندسے بیٹی ولیہ عہد نواب سلطان جہاں بیگم بھی نواب صاحب کے سخت خلاف تھیں۔ چنانچہ بھوپال کے ریذیڈنٹ سرلیپل گریفن (مصنف پنجاب چیفس) کی رپورٹ پر گورنمنٹ آف انڈیا نے نواب صاحب کے خطابات ضبط کرکے آپ کو ’نورمحل‘ میں قید کردیا۔ صرف رات گزارنے کے لیے وہ والیہ کے ’تاج محل‘ میں جاسکتے تھے۔ آٹھ ماہ تک یہی حالت رہی تو پھر والیہ بھوپال نے کلکتہ جاکروائسرائے لارڈ ڈفرن سے نواب صاحب کی طرف سے معافی مانگی توصرف اتنی اجازت ملی کہ نورمحل میں ملکہ اورمولوی صاحب اکٹھے رہ سکتے ہیں۔

اسی زمانے میں حضرت مرزاغلام احمدصاحب نے اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ چار جلدوں میں شائع فرمائی۔ حضورؑ کے پاس چونکہ اس قدر فنڈ نہ تھا۔ چنانچہ دعا کرنے پر الہام ہوا کہ وَھُزِّ اِلَیْکَ بِجِزْعِ الۡنَّخۡلَۃِ تُسَاقِطۡ عَلَیْکَ رُطَبًا جَنِیًّا۔ اس حکم الٰہی پر عمل کرتے ہوئے حضورؑ نے خلیفہ محمدحسن صاحب وزیراعظم ریاست پٹیالہ کو خط لکھا تو انہوں نے پانچ صد روپے بھجوادیے اور کتاب باوجود نومیدی کے چھپ گئی۔ پھر حضورؑ نے کئی رئوساءکو خطوط لکھے اور اکثر نے حضورؑ کی تحریک پر توجہ دی مثلاً مرزا محمد علاؤالدین صاحب رئیس لوہارو ۴۰؍روپے، نواب سر وقار الامراء اقبال الدولہ صاحب حیدرآباد دکن ۱۰۰؍روپے، محمد افضل خان صاحب ۱۱۰؍روپے، نواب صاحب مالیرکوٹلہ ۱۰۰؍روپے، شیخ محمد بہاؤالدین صاحب وزیراعظم جوناگڑھ ۱۰۰۰؍روپے۔

حضرت اقدسؑ کے خط لکھنے پر نواب صدیق حسن صاحب نے پہلے تو کتب کی خریداری کا وعدہ کیا مگر بعد میں دستکش ہوگئے۔ حضورؑ تحریر فرماتے ہیں: ’’نواب صاحب کی خدمت میں کہ جوبہت پارساطبع اورمتقی خصائل حلمیہ اورقال اللہ اور قال الرسول سے بدرجہ غایت خبر رکھتے ہیں کتاب براہین احمدیہ کی اعانت کے لیے لکھا تھا۔ سو اگر نواب صاحب اس کے جواب میں لکھتے کہ ہماری رائے میں یہ کتاب ایسی عمدہ نہیں ہے جس کے لیے کچھ مددکی جائے افسوس نہ تھامگرصاحب موصوف نے پہلے تویہ لکھا کہ پندرہ بیس کتب ضرورخریدیں گے اورپھردوبارہ یاددہانی پریہ جواب آیاکہ دینی مباحثات کی کتابوں کاخریدنایاانہیں کچھ امداددیناخلاف منشاءگورنمنٹ انگریزی ہے اس لیے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی امید نہ رکھیں۔ سوہم بھی نواب صاحب کوامیدگاہ نہیں بناتے۔بلکہ امیدگاہ خداوندکریم ہی ہے اوروہی کافی ہے۔ خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب سے بہت راضی رہے۔‘‘

حضورعلیہ السلام کو زیادہ رنج اس وجہ سے ہوا کہ نواب صاحب نے پہلے توکتابوں کاپیکٹ وصول کرلیا۔مگرکھول کرجب پڑھا تو کچھ ایسے بگڑے کہ دوبارہ نہایت بُری طرح پیکٹ بناکر واپس بھیج دیا۔ نہ معلوم خودغصہ سے کتابیں پھاڑ دیں یااس لاپروائی سے پیکٹ بنوایا کہ کتابیں پھٹ گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پھٹی ہوئی کتابوں کا پلندا جب حضرت اقدسؑ کو وصول ہوا تو اُن کی حالت دیکھ کرآپؑ کوبہت رنج ہوا۔ اس کتاب کی اشاعت کے لیے حضورؑ نے بڑی تکلیف اٹھائی تھی۔ کاپیاں کاتب سے لکھوا کر خود پڑھتے۔ پھر ان کو لے کر امرتسر جاتے بعض دفعہ ۳۶میل کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا۔ عیسائیوں کے پریس پر زیادہ اجرت دے کر چھپوائی۔ شیخ حامدعلی صاحب ؓ بیان کرتے ہیں کتب کواس بُری طرح پھٹا دیکھ کر رنج اورغصہ سے آپؑ کا چہرہ متغیر اور سرخ ہوگیا۔ آپؑ چہل قدمی فرمارہے تھے اور خاموش تھے کہ اچانک آپؑ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اچھاتم اپنی گورنمنٹ کوخوش کرلو۔

خداجانے کس دردسے آپؑ کے دل سے یہ کلمہ نکلاکہ ۱۹؍اکتوبر ۱۸۸۵ء کو نواب صاحب کے تمام خطابات ضبط کرلیے گئے۔ غرض اس وقت سے نواب صاحب کے مصائب کاآغاز ہوا۔ جب چاروں طرف سے مایوسی اور ناکامی نے آن گھیرا تونواب صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کے ایک پرانے ملنے والے حافظ محمدیوسف صاحب امرتسری ضلعدار نہر (جوکہ خود نواب صاحب کی طرح اہلحدیث تھے)کو قادیان بھجوایا اور معافی کی درخواست کی۔ حافظ صاحب نے نواب صاحب کی سفارش کی اوردعاکے لیے عرض کیا۔ پہلے تو حضرتؑ نے انکار فرمایا مگر حافظ صاحب نے بھی پیچھا نہ چھوڑا اور بار بار عرض کرتے رہے۔ آخر حضورؑ نے دعا کا وعدہ کرتے ہوئے فرمایا :’’میں نے دعاکی ہے۔ نواب صاحب کوچاہیے کہ خودبھی توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا ہے وہ رحم فرمائے گااوروہ حکومت کے اخذ سے بچ جائیں گے۔‘‘

اس کے بعد حافظ صاحب نے نواب صاحب کی طرف سے’’براہین احمدیہ‘‘کی خریداری کی درخواست کی مگر حضورؑ نے منظورنہ فرمایا۔حافظ صاحب نے ہرچندعرض کیا مگر حضورؑ راضی نہ ہوئے اورفرمایاکہ ’’میں نے رحم کرکے دعا کردی ہے اورخداتعالیٰ کے فضل سے وہ عذاب سے بچ جائیں گے۔ میرایہ فعل شفقت کانتیجہ ہے۔ایسے شخص کوجس نے اس کتاب کواس حالت کے ساتھ واپس کیا، اب کسی قیمت پربھی دینانہیں چاہتا۔یہ میری غیرت اورایمان کے خلاف ہے۔ ان لوگوں کوجوتحریک کی تھی توخداتعالیٰ کے مخفی امورکے ماتحت اوران پررحم کرکے کی تھی کہ یہ لوگ دین سے غافل ہوتے ہیں براہین کی اشاعت میں اعانت کرکے گناہوں کاکفارہ ہوجائے اورخداتعالیٰ انہیں کسی اَورنیکی کی توفیق دے۔ورنہ مَیں نے تو ان لوگوں کوکبھی امیدگاہ نہیں بنایا۔ہماری امیدگاہ تواللہ تعالیٰ ہی ہے اوروہی کافی ہے۔‘‘ (مجدد اعظم صفحہ ۱۰۳)

بہرحال گورنمنٹ نے ملکہ بھوپال کی منت سماجت پر بالآخر نواب صاحب پرسے پابندیاں اٹھانے اور تمام خطابات واپس دینے کے احکام جاری کر دیے مگر یہ احکام پہنچنے سے قبل ہی نواب صاحب بقضائے الٰہی ۲۰؍فروری ۱۸۹۰ء کو مرض استسقاء سے فوت ہوگئے۔ اُن کی وفات کے بعد ۱۲؍اگست ۱۸۹۰ء کولارڈ لینڈون وائسرائے نے مولوی صاحب کو مرحوم نواب صاحب لکھنے کی اجازت دے دی۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button