اداریہ

سنہ۲۳ء، کون جیتا کون ہارا

آج ۳۰ دسمبر اور ۲۰۲۳ء کا آخری ہفتہ ہے۔ آج کے دن اس سال کا آخری شمارہ شائع ہو رہا ہے۔ یہ سال ہر سال کی طرح بہت سے واقعات کا گواہ بنا، بہت سے سنگ ہائے میل طے ہوئے، بہت سی ایسی ایجادات ہوئیں جن سے مخلوقِ خدا فائدہ اٹھائے گی، بہت سی مثبت باتیں ہوئیں اور بہت سے ایسے حادثات بھی ہوئے جن کے بارے میں دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ کاش یہ نہ ہوئے ہوتے!

الفضل اخبار کو ہی دیکھیں تو امسال حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اسے سہ روزہ سے روزنامہ کر دیا اور اللہ کے فضل سے تب سے ادارے کو بڑی باقاعدگی کے ساتھ اسے پرچے، ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا پر شائع کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس ادارے کو اپنے پیارے امام کی منشائے مبارک کے مطابق خدمت و تبلیغِ دین اور احبابِ جماعت کی تربیت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

دنیاوی حالات و واقعات پر نظر ڈالیں تو اب تک فروری ۲۰۲۲ء سے جاری یوکرین رشیا جنگ اختتام کو نہیں پہنچی۔ میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ رشیا اور یوکرین کے کتنے فوجی اب تک کام آ چکے ہیں یا کس کا کتنا سامانِ جنگ تباہ ہو چکا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس جنگ میں دونوں اطراف لاکھوں ’انسان‘ ہلاک اور اربوں ڈالرز کا نقصان ہو چکا۔ بعض رپورٹس یہ بھی عندیہ دیتی ہیں کہ اس وقت اس جنگ سے رشیا کو فائدہ اور یوکرین کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

بعض تجزیہ نگار اس بات کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ ۲۳ء کے دوران دنیا میں جمہوریت کی مقبولیت میں مزید کمی واقع ہوئی۔ امریکہ اور چائنا کے سفارتی تعلقات میں پایا جانے والا سکوت جو سال کے آغاز میں ٹوٹتا دکھائی دیتا تھا، ایک ’موسمیاتی غبارے‘ کی وجہ سے جوں کا توں قائم رہا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں قومیت پرستی کا رجحان بڑھتا ہوا دکھائی دیا، ہالینڈ کے انتخابات کے نتائج اس کا ایک ثبوت ہیں۔ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام میں مزید پیش رفت دیکھنے میں آئی جس کے سبب امریکہ اور دیگر ممالک کے تحفظات میں اضافہ ہوا۔

موسمیاتی لحاظ سے دیکھیں تو جہاں یہ سال مختلف خطوں میں درجہ حرارت کے گذشتہ ریکارڈ توڑنے کی مناسبت سے بھی یاد رکھا جائے گا وہاں موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین اس کے سدِّباب کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی ایک فیصد اشرافیہ دنیا میں بسنے والے ۶۶ فی صد لوگوں کے برابر کاربن emissions کے ذمہ دار ہیں۔

اس سال کے دوران کورونا وائرس کے بعد ہونے والی بین الاقوامی معاشی بحالی اگرچہ بہتری کی طرف مائل رہی لیکن اس کی رفتار نسبتاً سست تھی۔ ماہرین کو اس بات کا ڈر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اور پھر رشیا یوکرین اور اسرائیل حماس جنگیں بھی بین الاقوامی معیشت پر دور رس منفی اثرات مترتب کر رہی ہیں۔

اس سال کا سب سے افسوس ناک باب اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ ہے جس میں ۷؍ اکتوبر سے اب تک اکیس ہزار سے زائد فلسطینی جن میں ایک بڑی تعداد معصوم بچوں، عورتوں اور عمر رسیدہ لوگوں کی تھی اور گیارہ سو سے زائد اسرائیلی اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ ایک اخبار کے مطابق اس جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے چند ہفتوں میں شہید کیے جانے والے بچوں کی تعداد گذشتہ تئیس سال میں شہید ہونے والے تمام بچوں سے زیادہ ہے۔الامان!

جدید دنیا کا ایک مسئلہ سائبر کرائم یا سوشل میڈیا فراڈ بھی ہے۔ دھوکا دینے والے افراد بذریعہ فون یا ای میل یا کسی سوشل میڈیا کے ذریعہ رابطہ کر کے آپ کو شیشے میں اتار لیتے ہیں اور اندازہ تب ہوتا ہے جب وہ آپ کی جمع پونجی پر ہاتھ صاف کر چکے ہوتے ہیں۔ امسال پہلے چھ ماہ میں صرف برطانیہ میں ہی دھوکا دہی کے ذریعے معصوم لوگوں کی ساڑھے پانچ کروڑ پاؤنڈز سے زائد رقم ہتھیا لی گئی۔ دنیا بھر میں رقم کی یہ مقدار اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے ۷۶ ممالک میں مسیحیوں کو پرسیکیوشن کا سامنا ہے۔ یورپ، امریکہ اور انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات میں اضافہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں احمدیوں کی پرسیکیوشن کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری رہا۔ مذہبی شدّت پسندوں کی جانب سے متعدد مساجد کے منارے مسمار کر دیے گئے، معصوم اور نہتے احمدی مسلمانوں کے خلاف سرکاری مشینری حرکت میں آتی دکھائی دی اور انہیں روزمرہ امور کی بجا آوری کے علاوہ عیدین پر بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اس وقت بھی دنیا کے بڑے مسائل میں غربت، صاف پانی، صحت مند فضا اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی شامل ہیں۔ اخلاقی انحطاط بھی اپنی ذات میں ایک بہت بڑا حل طلب مسئلہ ہے۔ ان مسائل پر بات کرنے لگیں تو اسی پر بہت سا وقت لگ جائے۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ پرسوں صبح ۲۰۲۴ء کا پہلا سورج اپنی کرنیں بکھیرتا ہوا طلوع ہو گا۔ اس نئے سال کے آغاز پر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دنیا اس سال کو پچھلے سے بہتر پائے اور اپنے خالق و مالک کو راضی کرتے ہوئے اس تباہی سے بچ جائے جس کی طرف یہ کشاں کشاں بڑھ رہی ہے، جیسا کہ حضرت امیرالمومنین ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز متعدد مرتبہ دنیا کو متنبہ فرما چکے ہیں کہ ’’آج کل جو حالات ہیں کہ دنیا آگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ظاہری جنگوں کی طرف بھی بڑھ رہی ہے اس کی وجہ سے بھی تباہی آنی ہے اور اخلاقی برائیاں بھی جو انتہا کو پہنچ چکی ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جس طرح یہ لوگ چھوڑ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والے نہ یہ بن جائیں اور اس کی وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ ان پر نازل ہو۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۲۴؍ مارچ ۲۳ء، الفضل انٹرنیشنل ۱۴؍ اپریل ۲۳ء صفحہ ۷)

اس پُرفتن دور میں وہی امن میں ہو گا جو خدا کی گود میں ہو گااور جو خدا سے دور ہو گا وہ درندوں کے نرغے میں ہو گا:

آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے

جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button